Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 18

ماضی
عائشہ خان اس دنیا میں سب سے زیادہ محبت اپنے بڑے بھائی سے کرتی تھی جس نے اسے ماں باپ بن کر پالا تھا۔وہ دونوں تو بچپن میں ہی یتیم ہو گئے تھے لیکن اس کے بھائی نے اس چیز کا کبھی احساس ہی نہیں ہونے دیا تھا۔لیکن اتنی ہی محبت وہ حسن شاہ سے بھی کرتی تھی۔حسن آرمی میں کیپٹن تھا اور اسکی پوسٹنگ ان کی یونیورسٹی کی حفاظت پر لگی تھی۔پہلے تو عائشہ اسے نظر انداز کرنے کی مکمل کوشش کرتی تھی لیکن حسن کے بے پناہ عشق اور محبت نے عائشہ کے دل کو اس کے لیئے پگھلا دیا تھا۔
حسن نے اس سے وعدہ لیا تھا کہ وہ اپنے گھر والوں سے بات کریں گے اور اگر وہ مانے تو ٹھیک ورنہ وہ دونوں کورٹ میرج کر لیں گے۔اسے عائشہ کو اس بات پر منانے کے
لیئے دو ماہ لگے تھے ۔حسن عائشہ کے معاملے میں کوئی رسک نہیں لینا چاہتا تھا وہ عائشہ سے بے پناہ محبت کرتا تھا اور اسے ہر حال میں پانا چاہتا تھا۔
عائشہ نے بھی فیصلہ کیا تھا کہ وہ اپنے بھائی سے حسن کے بارے میں بات کر کے رہے گی۔اس لئے اس وقت وہ ان کے سامنے بیٹھی اپنے ہاتھ مسل رہی تھی۔
‘کب سے بولا ہے تم نے کہ بات کرنا ہے اب بولو بھی کیا چاہئے تم کو۔’ ہاشم اس سے بہت محبت سے پوچھ رہا تھا۔
‘لالا وہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لالا میں۔۔۔۔۔۔۔میں ایک لڑکے کو پسند کرتی ہوں ۔وہ آرمی میں کیپٹن ہے اور ہم شادی کرنا۔۔۔۔۔’
عائشہ نے بہت ہمت باندھ کر کہا تھا کیونکہ وہ اپنے بھائی کے غصے اور ضد سے واقف تھی۔لیکن ہاشم کے چہرے پر غصہ دیکھ کر اسکی بولتی بند ہو گئی تھی
‘تم پاگل ہو گئی ہو؟جانتی بھی ہو کہ میں نے تمہاری منگنی اپنے دوست کے ساتھ پکی کر دی تھی اور وہ تم سے کتنی محبت کرتا ہے اسکا اندازہ ہے تمہیں۔میں اسے کیا جوب دوں گا کہ منگنی کے وقت میری بہن نے ہاں بول دیا تھا لیکن اب اسے کوئی اور لڑکا پسند آ گیا ہے۔’
عائشہ سر جھکائے اس کی باتیں سن رہی تھی۔
‘منع کر دو اس لڑکے کو ،اب تمہاری ایک نادانی کی وجہ سے میں اپنے دوست کے سامنے شرمندہ نہیں ہوں گا۔سمجھی تم۔’
ہاشم اپنی بات ختم کر کے وہاں سے جانے لگا تھا جب اسکے کانوں میں عائشہ کی آواز پڑی۔
‘میں اس سے بہت محبت کرتی ہوں لالا۔نہیں رہ پاؤں گی اس کے بغیر۔’
‘عائشہ بس اپنی یہ باتیں بند کرو ۔تمہاری منگنی میرے دوست سے ہوئی ہے اور اب ایک ہفتے کے اندر تم دونوں کا نکاح بھی کروا دوں گا۔’
اس بات پر عائشہ بری طرح سے رونے لگی تو ہاشم اسکے پاس آ کر بیٹھا۔
‘دیکھو میری گڑیا یہ لڑکے بس دکھاوے کی محبت کرتے ہیں ،زندگی بھر ساتھ نہیں نبھا سکتے۔لیکن سلمان کی آنکھوں میں میں نے تمہارے لئے بے انتہا پیار دیکھا ہے ۔وہ تمہیں بہت خوش رکھے گا ۔اس لیئے اب میں اس بارے میں کوئی بات نہیں سنوں گا اور اس جمعہ کو تمہارا نکاح ہو گا سلمان کے ساتھ۔’
ہاشم اپنی بات کہہ کر جا چکا تھا جبکہ عائشہ وہاں بیٹھی روتی رہی تھی۔اسے تو لگا تھا کہ اسکے بھائی کی محبت اسکی انا اور ضد سے کہیں زیادہ ہے ۔لیکن وہ غلط تھی اور یہاں وہ بری طرح سے مات کھا گئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھر والے تو حسن کے بھی نہیں مانے تھے۔اس کے گھر والے وڈیروں کے خاندان میں سے تھے اور وہ اسکی شادی خاندان میں ہی کرنا چاہیتے تھے ۔اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ عائشہ سے کورٹ میرج کرے گا۔مگر عائشہ کتنے ہی دنوں سے یونیورسٹی نہیں آئی تھی اور یہ بات اسے پریشان کر رہی تھی۔لیکن جب اسے پتہ چلا کہ عائشہ کا بھائی اس جمعہ اسکا نکاح کر رہا ہے تو وہ برداشت نہیں کر سکا تھا۔
اس نے عائشہ سے بات کرنے کی بہت کوشش کی تھی لیکن اسکے گھر کا فون پتہ نہیں کون اٹھاتا تھا ۔آخر کار ایک دن عائشہ نے فون اٹھایا تو اس نے عائشہ کو گھر سے بھاگ جانے کا کہا تھا۔
عائشہ نے فوراً منع کر دیا تھا وہ اپنے بھائی کو بدنام نہیں ہونے دے سکتی تھی اور ویسے بھی کل اسکا نکاح تھا۔حسن نے اسے صاف الفاظ میں دھمکی دی تھی کہ اگر وہ کل اس کے پاس کورٹ میں نہ آئی تو وہ خودکشی کر لے گا۔اتنا کہہ کر حسن نے فون بند کر دیا تھا اور جہاں تک عائشہ اسے جانتی تھی وہ ایسا ہی کرے گا۔ساری رات عائشہ نے رو کر گزاری تھی اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کرے۔
دو لوگوں کی محبت میں سے وہ صرف ایک کو چن سکتی تھی اور اسکا فیصلہ وہ صبح تک کر چکی تھی۔
۔۔۔۔۔
سلمان شیخ کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ اسکی محبت اسے ملنے جا رہی تھی۔عائشہ کو جب اپنے سب سے اچھے دوست کے گھر پہلی دفع دیکھا تھا تب ہی وہ اس سے محبت کر بیٹھا تھا۔
آج آخر کار اسکا عائشہ کے ساتھ نکاح ہونے جا رہا تھا۔سلمان کو تو بہت خوشگوار حیرت ہوئی تھی جب ہاشم نے خود سے نکاح کا پوچھا تھا۔اسے لگا تھا کہ خوابوں نے خود اسکے دروازے پر دستک دی ہے۔عائشہ کے ساتھ منگنی پر تو اس کو پوری دنیا مل گئی تھی لیکن اب نکاح کی خوشی اسے ہواؤں میں اڑانے کے لیئے کافی تھی۔
سب لوگ ہاشم کے گھر بیٹھے نکاح شروع ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔اچانک ملازمہ ہانپتی ہو وہاں آئی تھی اور انہیں عائشہ کی غیر موجودگی کے بارے میں بتایا تھا۔ہاشم اور سلمان بھاگ کر اس کے کمرے میں گئے تھے جہاں پر کوئی بھی نہیں تھا۔ہاشم کو صرف ایک خط ملا تھا۔
‘بھائی ہو سکے تو مجھے معاف کر دیں۔لیکن میں یہ نکاح نہیں کر سکتی۔میں حسن کے بغیر نہیں رہ سکتی۔مجھے امید ہے آپ سمجھ جائیں گے۔آپکی عائشہ۔’
عائشہ کی یہ حرکت اور اسکے الفاظ ہاشم کو اندر تک ختم کر گئے تھے۔اسے تو لگتا تھا کہ عائشہ کو اس دنیا میں اس سے بڑھ کر کوئی عزیز نہیں لیکن اس نے اپنے بھائی کی عزت اور محبت کو روند کر کسی اور کو چنا تھا۔اس کل کے انسان کی محبت کو وہ اپنے بھائی کی محبت پر فوقیت دے گئی تھی۔
سلمان نے ہاشم کے ہاتھ سے وہ خط چھین کر پڑھا تھا جسے پڑھتے ہی اس کے دل کی دنیا اجڑ گئی تھی۔اس کا دل کر رہا تھا کہ سب کچھ تہس نہس کر دے۔اس حسن کو جس کی اس نے شکل بھی نہیں دیکھی تھی ،وہ اسے قتل کر دینا چاہتا تھا۔عائشہ ایک شخص کی محبت میں سب کچھ تباہ کر گئی تھی۔
‘یہ سب کیا ہے ہاشم؟’ سلمان نے غصے سے پوچھا لیکن ہاشم کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ہوتا بھی کیسے اس کی سگی بہن نے اسکے بولنے کا اور سر اٹھانے کا حق اس سے چھین لیا تھا۔
‘آج کے بعد تیرا میرا کوئی تعلق نہیں۔سب ختم۔تم جیسوں کے ساتھ تو کوئی تعلق بھی کسی کو بدنام کرنے کے لیئے کافی ہے۔’سلمان سے زیادہ اسکی بکھری ہوئی انا بول رہی تھی۔ہاشم کے جھکے ہوئے سر پر آخری نگاہ ڈال کر وہ وہاں سے جانے لگا۔
‘اگر تیری جگہ میں ہوتا نا تو کبھی اسکی شکل بھی نہیں دیکھتا۔’سلمان نے جاتے ہوئے رک کر کہا تھا اور ہاشم کی ناراضگی کو نفرت میں بدل گیا۔
۔۔۔۔۔
حسن اور عائشہ نکاح کر چکے تھے۔جہاں حسن اس نکاح سے بے انتہا خوش تھا وہیں عائشہ بہت زیادہ ڈری ہوئی تھی وہ نہیں جانتی تھی کہ اب کیا ہو گا۔اس نے سوچا تھا کہ اسکا بھائی اسے معاف کر دے گا کیونکہ وہ عائشہ سے بہت محبت کرتا تھا۔عائشہ کو شرمندگی بھی ہو رہی تھی مگر وہ کیا کرتی،وہ حسن کو مرتے ہوئے بھی تو دیکھ نہیں سکتی تھی۔
حسن عائشہ کے کہنے پر اسے اپنے ساتھ اسکے گھر لے کر جا رہا تھا۔حالانکہ وہ ایسا نہیں کرنا چاہتا تھا۔وہ تو بس اپنی عائشہ کو سب سے دور لے جا کر اپنے پاس رکھنا چاہتا تھا۔
عائشہ گھر پہنچ تو گئی تھی لیکن اندر جانے کی ہمت نہیں کر پا رہی تھی۔حسن نے اسکا ہاتھ پکڑ کے اسے ہمت دی تھی اور اس کے ساتھ چلتا ہوا گھر میں داخل ہوا تھا۔
‘وہیں رک جاؤ۔’
وہ دونوں ابھی ہال میں داخل ہی ہوئے تھے جب انہیں ہاشم کی گرج دار آواز سنائی دی تھی۔
‘کیا لینے آئے ہو اب یہاں۔اس سے پہلے کہ گولی مار دوں تم دونوں کو دفع ہو جاؤ یہاں سے۔’ہاشم انتہائی غصے سے بولا تھا۔
‘لالا۔۔۔۔ ‘
‘مر گیا تیرا لالا۔مار دیا تو نے اسے اور میں تجھے اپنے جنازے میں شرکت کی اجازت نہیں دیتا۔’
عائشہ کی بات کاٹ کر ہاشم انتہائی غصے سے بولا تھا۔جبکہ عائشہ اس کے ایسا کہنے پر تڑپ اٹھی تھی۔وہ بھاگتے ہوئے ہاشم کے پاس گئی اور اس کے پاؤں پکڑ لیئے۔
‘مجھے معاف کر دیں لالا خدا کے لیئے معاف کر دیں۔’
عائشہ بری طرح سے رو رہی تھی۔ایک پل کو ہاشم کے دل میں اپنی بہن کی محبت بہت زوروں شور سے آئی تھی لیکن اس کو ہاشم کی انا نے بے رحمی سے ڈھانپ دیا تھا۔
ہاشم نے سختی سے اپنے پاؤں اس سے چھڑائے تھے۔
‘نہیں معاف کروں گا تجھے عائشہ کبھی بھی نہیں۔اس لڑکے کو لے اور یہاں سے دفع ہو جا۔آج کے بعد اگر سامنے بھی آئی نا میرے تو جان لے لوں گا خود کی۔’
‘لالا۔۔۔۔۔۔۔۔’
عائشہ اس بات پر تڑپ اٹھی تھی لیکن ہاشم بے دردی سے اسے خود سے دور کر کے وہاں سے جا چکا تھا۔حسن نے یہ سب کیسے برداشت کیا تھا یہ وہی جانتا تھا۔اگر وہ عائشہ کا بھائی نہ ہوتا تو اسکی عائشہ کو اتنا رلانے کے لیئے وہ اسے مار چکا ہوتا۔
حسن روتی ہوئی عائشہ کے پاس آیا تھا اور اسے بازؤں سے پکڑ کر کھڑا کیا تھا۔
‘چلو عاشی۔’
وہ عائشہ کو اپنے ساتھ لے جا رہا تھا جبکہ عائشہ کی نظریں ابھی بھی وہیں پر تھیں جہاں ہاشم جا چکا تھا۔
جبکہ اندر موجود انسان بھی اپنی جان سے پیاری بہن کے ساتھ ایسا سلوک کر کے اور اسے جاتا دیکھ کر ہزار موت مرا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عائشہ نے کبھی بھی سوچا نہیں تھا کہ اسکی زندگی اس قدر حسین ہو جائے گی۔وہ تو ڈرتی تھی کہ حسن اپنے وعدوں کو پورا نہیں کرے گا۔لیکن حسن نے اسے سہی معنوں میں ملکہ کی طرح رکھا ہوا تھا۔حسن کے ماں باپ نے اسے تو معاف کر دیا تھا لیکن عائشہ کو قبول نہیں کیا تھا۔حسن کو اس سے کوئی غرض بھی نہیں تھا ۔اس نے عائشہ کو لاہور علیحدہ گھر میں رکھا تھا اور کبھی کبھار اپنے گھر والوں سے ملنے کراچی چلا جاتا تھا۔
عائشہ نے ہاشم سے کئی بار معافی مانگنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ ہمیشہ اسے نظر انداز کرتا رہا ۔جس کی وجہ سے عائشہ بہت زیادہ دکھی ہو جاتی تھی اس لیئے حسن نے اسے وہاں لے کر جانا چھوڑ دیا۔
پھر ان کی زندگی میں شایان کی آمد ہوئی تھی جس نے ان کی خوشیوں کو چار چاند لگا دیے تھے۔شایان کی پیدائیش عائشہ کے لیئے کافی مشکل ثابت ہوئی تھی۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ عائشہ کے لیئے پھر سے بچے کی پیدائیش خطرناک ہو سکتی ہے اور اسے ڈپریشن سے جتنا ہو سکے دور رکھا جائے۔لیکن حسن کی سچی محبت نے اس پر غموں کا سایہ بھی نہیں آنے دیا تھا۔
ایک دن حسن اپنے ساتھ ایک دوست کو لے کر گھر آیا تھا۔عائشہ حیران ہوئی تھی کیونکہ حسن کبھی بھی کسی غیر کو گھر نہیں لایا تھا۔لیکن حسن کے ساتھ سلمان کو دیکھ کر بہت ذیادہ پریشان ہو گئی تھی۔
‘عائشہ یہ میرے کافی اچھے دوست ہیں سلمان شیخ اور سلمان یہ ہے میرا وہ جہان جس کی میں تم سے باتیں کرتا تھا۔’حسن نے عائشہ کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تھا۔
‘قابل رشک ہے تمہاری زندگی۔’
سلمان نے کہا تو حسن کو تھا پر نظریں اس کی عائشہ پر تھیں اور عائشہ بھی خود کو اسکا مجرم سمجھ رہی تھی۔
‘چلو آؤ بیٹھو ،ابھی تو میں تمہیں اپنے صاحبزادے سے ملاتا ہوں۔’
حسن مسکراتا ہوا کمرے کی طرف چلا گیا۔سلمان نے ایک نظر عائشہ کو دیکھا جو سر جھکائے کھڑی تھی۔
‘سلمان وہ۔۔۔۔۔’
‘نہیں عائشہ تمہیں کوئی بھی صفائی دینے کی ضرورت نہیں ہے ،تم خوش ہو میرے لئے یہی کافی ہے۔میرے کافی خواب تھے تمہیں لے کر پر کوئی بات نہیں جو خدا کو منظور۔اس لیئے میں یہی چاہوں گا کہ تم پرانی باتیں بھولا کر خوش رہو اور ہم دوست تو رہ ہی سکتے ہیں نا۔’سلمان نے مسکرا کر کہا تو عائشہ بھی مسکرانے لگی۔
‘بلکل ہو سکتے ہیں۔مجھے سمجھنے کا شکریہ۔”عائشہ نے دل سے کہا تھا۔
‘ارے تم لوگ ابھی تک وہیں کھڑے ہو آ کر بیٹھو یہاں۔’
حسن شایان کو لے کر باہر آیا تھا۔سلمان اس کی طرف چل دیا تو عائشہ بھی مسکراتے ہوئے ان کے پیچھے چل دی تھی۔سلمان کی باتوں نے اسے مطمئین کر دیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فاطمہ عائشہ کے گھر کام کرتی تھی وہ چھوٹی سی نازک سی لڑکی عائشہ کو بہت پسند تھی۔غریب خاندان سے تعلق رکھنے کی وجہ سے اسے سولہ سال کی عمر میں بھی کام کرنا پڑتا تھا۔لیکن عائشہ اسکا کافی خیال رکھتی تھی۔لیکن آج صبح جب فاطمہ آئی تھی تو وہ بہت ذیادہ رو رہی تھی اور اس نے جو عائشہ کو بتایا تھا وہ بات عائشہ کو شدید غصے میں مبتلا کر گئی تھی۔فاطمہ کا سوتیلا باپ اسکی پینتالیس سالہ آدمی سے شادی کرنے جا رہا تھا۔عائشہ چاہتی تو اسکے باپ کو جیل میں بھجوا دیتی لیکن اس سے فاطمہ کو تحفظ نہیں ملنا تھا۔عائشہ کا مقصد اس معصوم لڑکی کو مکمل تحفظ دلانا تھا۔
یہ سوچتے ہی عائشہ نے سلمان کو ضروری بات کرنے کے لیئے بلایا تھا اور اب سلمان وہ بات جاننے کے لیئےاس کے سامنے بیٹھا تھا۔
‘پلیز سلمان میں آپ سے جو مانگوں گی آپ مجھے وہ دیں گے وعدہ کریں آپ مجھ سے۔’عائشہ بہت بے چینی سے بول رہی تھی۔
‘جان حاضر ہے تم حکم کرو۔’سلمان نے مسکراتے ہوئے کہا تھا۔
‘سلمان پلیز آپ فاطمہ سے شادی کر لیں۔’ عائشہ کے ان الفاظ نے سلمان کے چہرے کی مسکراہٹ کو غائب کر دیا تھا۔
‘نہیں عائشہ تم نے آج تک جو بھی کیا وہ میں نے برداشت کر لیا مگر اب بس۔تم چاہے میرے جزبات کو سمجھ نہ سکو لیکن وہ بہت کھرے ہیں اور میری زندگی میں کبھی بھی کوئی بھی شامل نہیں ہوگا۔’سلمان اتنا کہہ کر وہاں سے جانے لگا۔
‘سلمان آپ کو میری قسم ہے،آپ کو اپنی محبت کی قسم ہے ۔’ عائشہ کی اس بات نے سلمان کے چلتے قدم روکے تھے۔اس نے مڑ کر عائشہ کو دیکھتا تھا جو آنکھوں میں آنسو لیئے اسے دیکھ رہی تھی۔
‘ٹھیک ہے عائشہ مگر ایسا صرف تمہارے لئے کر رہا ہوں۔’ایک طویل عرصے کے بعد یہ الفاظ کہہ کر سلمان وہاں سے چلا گیا تھا۔جبکہ عائشہ یہ اسکی رضامندی جان کر مسکرا دی تھی۔اس نے سوچا کہ فاطمہ اپنی فرمابرداری اور پاکیزگی سے سلمان کو خود سے محبت کرنے پر مجبور کر دے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سلمان نے فاطمہ سے شادی تو کر لی تھی لیکن اسے اپنی بیوی کا درجہ کبھی بھی نہیں دیا تھا۔وہ اسے ہمیشہ یہی احساس دلاتا تھا کہ اسکی ساری محبتیں صرف اور صرف عائشہ کے لیئے ہیں اور فاطمہ بھی عائشہ کی ہی محبت کا نتیجہ ہے۔فاطمہ نے اس کی محبت حاصل کرنے کے لیئے جی جان سی کوشش کی تھی لیکن سلمان ہمیشہ اس کے جذبات کو بے رحمی سے کچل دیتا۔
جب حمنہ پیدا ہونے والی تھی تب ہی سلمان نے بیٹے کی خواہش کا اظہار کیا تھا جو اسکے بزنس کا وارث ہو۔لیکن حمنہ کی پیدائیش پر انہوں نے فاطمہ کو بہت بری طرح سے بے عزت کیا تھا۔حمنہ کو تو سلمان نے کبھی پیار بھی نہیں کیا تھا۔تین سال بعد فاطمہ کو پھر سے امید ہوئی تو سلمان کی خواہش اس مرتبہ بھی بیٹا ہی تھا۔
فاطمہ بھی یہی سوچتی تھی کہ شاید بیٹے کی پیدائیش سلمان کو خوش کر دے اور اس وجہ سے اس نے بہت زیادہ دعائیں کی تھیں۔لیکن خدا کو کچھ اور ہی منظور تھا۔جانان کی پیدائیش پر عائشہ بھی شایان اور حسن کے ساتھ موجود تھی۔جانان کو سب سے پہلے باہوں میں عائشہ نے ہی اٹھایا تھا اور اسے بہت پیار سے دیکھ رہی تھی۔
‘ماما یہ کتنی پیاری ہے نا بلکل ڈول کی طرح۔’شایان اسکے چھوٹے سے گال کو چھوتے ہوئے بول رہا تھا۔
‘بلکل بہت پیاری ہے کتنا اچھا ہوتا نا کہ ہمارے پاس بھی ایسی پیاری سی گڑیا ہوتی۔’عائشہ نے جانان کا منہ چومتے ہوئے کہا تھا۔
‘تو تم اسے لے لو میں اڈاپشن پیپرز تیار کروا دیتا ہوں۔’سلمان نے فاطمہ کے جزبات کی پرواہ کئے بغیر عائشہ کو کہا تھا ۔
‘نہیں سلمان یہ تم دونوں کی بیٹی ہے اور تمہارے پاس ہی رہے گی۔میں اسے لوں گی تم لوگوں سے لیکن کسی اور طریقے سے۔کیوں شایان رکھنا چاہو گے تم اس گڑیا کو ہمیشہ کے لیئے پاس۔’عائشہ نے مسکراتے ہوئے شایان کو کہا تو اس نے جلدی سے ہاں میں سر ہلایا اور دوبارہ سے جانان کے ننھے ہاتھوں سے کھیلنے لگا۔عائشہ نے سوالیہ نظروں سے حسن کو دیکھا۔
‘جو آپ کا حکم جناب عالیہ۔’حسن نے مسکرا کر کہا تھا۔
‘تو پھر یہ میرے شایان کی دلہن بنے گی۔منظور ہے تم دونوں کو؟’عائشہ نے سلمان سے پہلے فاطمہ کو دیکھا تھا جس نے مسکرا کر ہاں میں سر ہلایا۔
‘تو پھر اپنی بیٹی کا نام بھی میں خود ہی رکھوں گی۔آج سے اس کا نام جانان ہے میرے شاہ کی جانان۔’عائشہ نے مسکرا کر شایان اور جانان کو دیکھا تھا۔
‘جانان کا کیا مطلب ہوتا ہے ماما؟’ شایان نے دلچسپی سے پوچھا۔
‘محبوب۔’ عائشہ نے پیار سے جانان کے گال کو چوما۔
‘اور محبوب کا کیا مطلب ہوتا ہے؟’ شایان کے سوال پر سب نے قہقہہ لگایا۔