Safar Ishq By Harram Shah Readelle50189 Episode 14
No Download Link
Rate this Novel
Episode 14
حمنہ کل سے جانان سے بات کرنے کے بعد بہت مطمئن تھی کیونکہ اسے جانان بہت ذیادہ خوش لگ رہی تھی۔حمنہ سلامت بابا کے ساتھ لان میں بیٹھی تھی ۔اس رات والے واقع کے بعد سے عثمان جلسوں میں مصروف تھا۔حمنہ کا اس سے سامنا تو نہیں ہوا تھا لیکن اس کے بارے میں سوچنا ہی حمنہ کی دھڑکنیں تیز کرنے کے لیئے کافی تھا۔
‘آپ کو پتا ہے بیٹا کل عثمان بیٹے کی سالگرہ ہے۔’
حمنہ نے ان کی بات پر حیرانی سے انہیں دیکھا تو وہ مسکرا دیے۔
‘ارے بیٹا اتنی بھی کوئی بڑی بات نہیں۔انہیں تو یاد بھی نہیں ہو گا اس بارے میں بلکہ انہوں نے تو اپنے ماں باپ کی موت کے بعد سے اپنی سالگرہ نہیں منائی۔جب صاحب اور بیگم صاحبہ زندہ تھے تو عثمان بیٹے کسی شہزادے کی ماند ہوتے تھے۔انکی زبان سے نکلنے سے پہلے صاحب انکی ہر خواہش پوری کرتے تھے۔بس پھر نظر لگ گئی انکی خوشیوں کو۔’
سلامت بابا کی آنکھوں میں آنسو آگئے تو حمنہ بہت ہمت کر کے بولی۔
‘کیا ہوا تھا بابا؟’
‘نیکی کھا گئی ان کو ۔لوگوں کی مدد کرنے کے جزبے نے ان کی دشمنی بڑھا دی اور ان کے کسی دشمن نے ان کے جلسے میں دھماکہ کروا دیا۔عثمان بیٹا کو معلوم ہوا تو وہ بری طرح سے ٹوٹ گئے۔’
اب حمنہ کی آنکھوں میں بھی آنسو آگئے۔
‘وہ جو بننے کی کوشش کر رہے ہیں وہ بلکل بھی نہیں ہیں۔وہ صرف محبت چاہتے ہیں ۔ویسے ہی جیسے ان سے صاحب اور بیگم محبت کرتے تھے۔’
‘اور ردا؟’ حمنہ ابھی تک ردا کے بارے میں سوچ رہی تھی۔
‘اس کو تو صاحب سے زیادہ دلچسی ان کی دولت میں تھی۔ہمیشہ یہی کوشش کرتی رہیں کہ کسی طرح صاحب کی دولت حاصل کر کے اپنے اس عاشق کے پاس چلی جائے۔عثمان صاحب کو تو یہی لگا تھا کہ وہ ان سے سچی محبت کرتی ہیں مگر صاحب کے ٹوٹنے پر،انکی ماں باپ کی موت کے بعد ان کو چھوڑ کے چلی گئیں۔جب صاحب کو انکی سب سے ذیادہ ضرورت تھی۔’
حمنہ کو انکی باتیں اپنی نظروں میں گرا رہی تھیں۔اس نے عثمان کے ساتھ برا سلوک کیا تھا۔اس میں اور ردا میں کیا فرق تھا؟محبت تو اس نے بھی نہیں دی تھی عثمان کو الٹا بے رخی ہی دیکھائی تھی ۔لیکن اب اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ اسے ایک موقع دے گی ۔ آخر عثمان بھی تو اس کے لیئے اپنا وعدہ توڑ کر اتنی محنت کر رہا تھا۔تو اس کے بھی تو کچھ فرائض ہوئے۔
‘بابا اٹھیں ہمیں بہت کام ہے ،کیک بنانا ہے اور ڈیکوریشن بھی تو کریں گے ۔جلدی کریں پہلے ہی چار بج چکے ہیں۔’
حمنہ ان کو کہتی جلدی سے اٹھی تو سلامت بابا بھی خوش ہو کر اس کے پیچھے چل دیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عثمان بہت سارا کام چھوڑ کے گھر آیا تھا ۔اسے شام کو حمنہ نے کال کر کے گھر آنے کو کہا تھا اس وارننگ کے ساتھ کہ اگر وہ نہ آیا تو اسے دس دن گھر سے کھانا ہی نہیں ملے گا۔عثمان ابھی بھی اس کی وارننگ کو یاد کر کے مسکرا رہا تھا۔
اس دن ردا والے واقع کے بعد سے عثمان کے جذبات بہت حد تک بدل گئے تھے۔حمنہ کا اس پر حق جتانا اسے سر شار کر گیا تھا۔وہ اب جلد از جلد حمنہ کو اپنی محبت میں گرا کر اسے ہمیشہ اپنے پاس رکھنا چاہتا تھا اور اس کے لیئے وہ کچھ بھی کرنے کو تیار تھا۔
اس نے گھر میں قدم رکھا تو پورا گھر اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔وہ حیرت سے لائٹ جلانے کے لیئے آگے بڑھا تو لائٹ خود بخود جل گئی۔عثمان حیرانی سے سارا منزر دیکھنے لگا۔پورے لاؤنج کو بہت خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔لاؤنج کے درمیان میں ایک میز پر کیک رکھا ہوا تھا جس پر ہیپی برتھ ڈے لکھا ہوا تھا۔
‘Happy birthday to you ,happy birthday dear usman,happy birthday to you’
حمنہ بہت پیاری سی آواز میں گاتی ہوئی اس کے سامنے آکر کھڑی ہو گئی۔گہرے لال رنگ کے لباس میں ،ہلکا سا میک اپ کیئے اور بالوں کو کھلا چھوڑے وہ بہت زیادہ خوبصورت لگ رہی تھی۔
عثمان حیرانی سے اسکے خوبصورت چہرے کو دیکھ رہا تھا۔اس نے اپنے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ حمنہ اسے اس طرح سے سرپرائز کرے گی۔
‘اب مجھے ایسے دیکھ کے نظر لگائیں گے کیا ،کیک کاٹیں۔اس کیک کے چکر میں نے کھانا بھی نہیں کھایا۔’
حمنہ نے منہ بنا کر کہا اور عثمان کے ہاتھ میں چھری پکڑائی۔عثمان نے مسکرا کر کیک کاٹا اور ایک پیس نکال کر حمنہ کی طرف کیا۔حمنہ نے جلدی سے اسے کھا لیا۔حمنہ نے عثمان کو کیک کھلانے کے لیئے ہاتھ آگے بڑھایا تو عثمان نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا۔
‘کیا ہوا،آپ نے منہ میٹھا نہیں کرنا۔’
حمنہ نے حیرانی سے پوچھا تو عثمان نے اسے اپنی طرف کھینچا اور ایک ہاتھ اسکی کمر پر رکھ کر اسے خود کے قریب کر لیا۔
‘کروں گا منہ میٹھا میرے جہان لیکن اس سے نہیں۔’
‘عثمان۔۔۔۔۔’
‘نہیں حمنہ اب بس ۔اب مزید میں ہم دونوں میں دوری برداشت نہیں کروں گا۔’
عثمان اسے کمرے میں لے آیا اور پاؤں سے دروازہ بند کر کے حمنہ کو بیڈ پر لیٹا کر اس پر جھکنے لگا تو حمنہ نے اسکے سینے پر ہاتھ رکھ کے اسے خود سے دور کرنا چاہا۔عثمان نے اسکے دونوں ہاتھ اپنی گرفت میں لے لیۓ۔
‘آج تمہاری نہیں چلنے دوں گا جان جہان ۔تم نے جتنا بھی تڑپایا ہے نا آج اسکے حساب کا دن ہے۔اس لیئے خود کو مظبوط کر لو اور مجھ سے تو رحم کی توقع بلکل مت رکھنا۔’
عثمان کی بات پر حمنہ نے زور سے آنکھیں بند کر لیں۔عثمان نے مسکراتے ہوئے اسکے کپکاتے وجود کو خود میں سمیٹ لیا اور پھر پوری رات اسے اپنی محبت اور شدت کی آگ میں جلاتا رہا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حمنہ کی آنکھ ہمیشہ کی طرح نماز کے وقت کھل گئی۔عثمان کسی تکیے کی طرح اسکو خود میں بھینچے سویا ہوا تھا ۔حمنہ کو رات کا گزرا ایک ایک منظر یاد آنے لگا تو وہ گھبراتی ہوئی اٹھنے کی کوشش کرنے لگی۔
‘کہاں جانے کے ارادے ہیں جان جہاں۔’
عثمان سوئی ہوئی آواز میں بولا تو حمنہ کا چہرہ شرم سے لال ہو گیا۔
‘عثمان چھوڑیں نا۔’
‘نہیں جان جہاں ایسا سوچنا بھی نہیں۔میں تمہیں کبھی دور نہیں جانے دوں گا۔
عثمان کی پکڑ مزید مظبوط ہو گئی اور اس نے اپنا چہرہ اس کے بالوں میں چھپا کر اسکی گردن کو چومنا شروع کر دیا۔حمنہ اسے پھر سے مدہوش ہوتا دیکھ گھبرا گئی۔
‘عثمان چھوڑیں مجھے نماز پڑھنی ہے’
حمنہ کے ایسا کہتے ہی عثمان نے اسے چھوڑ دیا۔تو وہ جلدی سے واش روم میں گھس گئی۔کوئی پندرہ منٹ بعد وہ فریش ہو کر آئی اور عثمان پر نظر ڈالے بغیر نماز پڑھنے لگی۔
عثمان اسے دیکھتا سوچنے لگا کہ کیسے وہ حمنہ کو پا کر اسے جھکانا چاہتا لیکن اب پاسا پلٹ گیا تھا اور وہ خود اس کے سامنے جھک گیا تھا ۔اس کے بغیر اب وہ جینے کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔حمنہ نے اسےاپنی ،بہادری ،محبت اور پاکیزگی سے جیت لیا تھا۔
عثمان مسکراتے ہوئے حمنہ کو دیکھ رہا تھا جو کی اب دعا
مانگ کر جائے نماز طے کر رہی تھی۔
‘اگر مجھے گھورنے سے فرصت مل گئی ہو تو اٹھ کر آپ بھی نماز پڑھ لیں۔’
حمنہ کی اس بات پر عثمان کے چہرے سے مسکراہٹ اچانک غائب ہو گئی۔حمنہ نے اس کے پاس جا کر اسکا ہاتھ
تھام لیا۔
‘کیا بات ہے عثمان؟’
‘میں نماز نہیں پڑھتا۔’
عثمان کا یوں کہنا حمنہ کو حیران کر گیا۔
‘وہ تو کافی لوگ نہیں پڑھتے پر آپ کی طرح یوں کہتے بھی نہیں پھرتے۔اس لیئے بہانے چھوڑیں اور اٹھ جائیں۔’حمنہ نے اسے مذاق کیا اور اٹھ کر اسکے کپڑے لینے کیلئے جانے لگی جب عثمان نے بولنا شروع کیا۔
‘بابا کے دشمنوں نے ان کے جلسے میں دھماکہ کروا دیا۔ جب تک میں وہاں پہنچا مام کی دیتھ ہو گئی تھی مگر بابا زندہ تھے ۔وہ وینٹیلیٹر پر تھے اور ڈاکٹر نے مجھے کہا کہ سب خدا کے ہاتھ میں ہے ۔مجھے میری امی نے ہمیشہ نماز پڑھنے کی عادت ڈالی تھی حمنہ،میں نے بابا کی زندگی کے لیئے نفل پڑھے ،بہت رو رو کر دعائیں کیں اللہ تعالی سے کہ وہ بابا کو بچا لیں۔لیکن بابا نہیں بچے۔’
عثمان بولتے ہوئے ایک پل کو رکا تھا۔
میںّ اللہ تعالی سے ناراض ہو گیا۔میں نے نماز پڑھنا چھوڑ دی ۔پہلے ایک سال تک تنہائی میں رونے اور پھر ہر بری عادت میں،اپنی ضد میں سکون تلاش کرنے لگا۔لیکن وہ مجھے کہیں بھی نہیں ملا۔ جب مجھے اپنی ہٹ دھرمی کا احساس ہوا تو میں نے اللہ تعالی سے معافی مانگنے کا سوچا پر ہمت ہی نہیں ہوتی تھی۔اپنا آپ اس قابل نہیں لگتا تھا اور ایسا لگتا تھا کہ میری مغفرت نہیں ہو گی۔’
حمنہ واپس عثمان کے پاس آ کر بیٹھ گئی اور اس کے ہاتھ پکڑ کر اسکی آنکھوں میں دیکھنے لگی جس میں اب غم کی انتہا تھی۔
‘اللہ تعالی ہماری دعائیں ضرور قبول کرتے ہیں اور اگر کوئی رد بھی ہو جائے تو اسکے پیچھے کو مصلحت ہوتی ہے۔آپ کو کیا لگتا ہے کہ آپ کے بابا اس دنیا میں خوش رہ لیتے جہاں ان کی محبت نہیں تھی اور کیا آپ ان کو روزانہ روتے دیکھ کر سکون محسوس کرتے؟رہی بات معاف کرنے کی تو وہ تو اللہ تعالی منکروں کو بھی کر دیتے ہیں بس ایک بار معافی مانگ کر تو دیکھیں۔چلیں اب اٹھیں اور نماز پڑھ لیں انشاءاللہ آپ کا سکون آپ کو واپس مل جائے گا۔’
حمنہ نے اسے محبت سے کہا تو عثمان نے اسکا ہاتھ تھام کر ہونٹوں سے لگایا۔
‘کوئی نیکی تو کی نہیں میں نے پھر بھی نا جانے تم جیسی فرشتہ صفت لڑکی کیسے مل گئی مجھے؟’ عثمان انتہائی محبت سے پوچھ رہا تھا۔
‘نیکی کا تو پتہ نہیں مگر میں آپکی ضد کا نتیجہ ضرور ہوں اب بھکتیں۔’
حمنہ شرارت سے کہتی ہوئی وہاں سے اٹھ کر چلی گئی تو عثمان بھی مسکراتا ہوا فریش ہونے واش روم میں چلا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
‘سردار کام ہو گیا۔’
بہرام بادشاہ کے پاس آ کر اسے بتانے لگا۔بادشاہ نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
‘میں نے سب سوچ لیا ہے ۔ایک بم دھماکے کا بندوبست کریں گے۔لیکن وہ دھماکہ صرف اور صرف دارا کو پھسانے کے لیئے کیا جائے گا۔ایک بھیڑ بھاڑ والے علاقے میں دھماکے کا ناٹک کریں گے ۔وہاں پر ہمارا ہر آدمی ہو گا اور اپنی ہی ایک لڑکی کو دھماکہ خیز مواد پہنا کر اس بھیڑ میں بھیجیں گے۔جیسے ہی دارا اسے بچانے کی کوشش کرے گا وہ لڑکی اور باقی آدمی مل کر دارا کو پکڑ لیں گے۔اس بار وہ نہیں بچے گا۔’
بادشاہ بہرام کے منصوبے سے کافی خوش تھا۔
‘واہ بہرام ترکیب تو کمال ہے۔لیکن یہاں کا کیا؟سب کو وہاں بھیج دیں گے تو ادھر ہر چیز کی حفاطت کون کرے گا؟’
‘میں ہوں نا سردار۔کچھ دیر کی بات ہے پھر ہر آدمی واپس۔’ بادشاہ نے بہرام کی بات پر اثبات میں سر ہلایا۔
‘جو بھی ہو جائے بہرام اسے زندہ لانا میرے پاس۔’
‘جی سردار۔تیاری شروع کروا دیتا ہوں پھر دارا تک خبر پہنچا دیں گے۔’
بہرام چہرے پر شیطانیت سجائے بول رہا تھا۔
‘جگہ کونسی چنی ہے؟’ بادشاہ نے اس سے پوچھا۔
‘یہیں سردار تربت میں ۔تا کہ اس کے پاس بھاگنے کا موقع نہ ہو’
بادشاہ نے بھی ہاں میں سر ہلایا۔بہرام واقعی اس کے لیئے بہت کار آمد ثابت ہوا تھا۔بادشاہ جانتا تھا کہ اس بار اسکا پلان بہت مظبوط تھا اور دارا ضرور اسکی گرفت میں ہو گا۔پھر وہ دارا کی موت کو ان سب کے لیئے عبرت بنائے گا جو اسکے خلاف کھڑے ہوں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جانان نے سارا دن گل اور ہاشم صاحب کے ساتھ گزارا تھا وہ دراب سے بہت زیادہ ناراض تھی کیونکہ اس نے سعد کو کافی دنوں کے لیئے کام پر بھیج دیا تھا اور وہ اس سے مل بھی نہ سکی ۔دراب نے بہت دفعہ اس سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن جانان نے اسے کوئی موقع ہی نہیں دیا تھا۔دراب اس وجہ سے کافی غصے میں تھا اوپر سے سعد نے بھی اسے فون کر کے بتایا تھا کہ جانان پر گولی چلانے والا شخص مر چکا تھا ۔کل کے ہونے والے ٹارچر کو وہ برداشت نہیں کر سکا۔دراب کے نزدیک اسکی جان جلدی چھوٹ گئی تھی۔
ابھی بھی جانان گل کے ساتھ کچن میں نہ جانے کیا کر رہی تھی۔دراب غصے سے اسکے پاس گیا۔
‘جانان میری براؤن کلر کی چادر نہیں مل رہی آکر مجھے دو۔’
دراب نے جانان کو بولا تو وہ گھبرا کر گل کو دیکھنے لگی۔
‘لالا وہ تو ہم نے دھلوانے کے لیئے دھوبی کو دیا تھا۔’گل نے جانان کا اترا ہوا چہرہ دیکھ کر جھوٹ بولا۔
‘غلی اوسئ او دروغ ودروئ گل۔'(چپ رہو اور جھوٹ بولنا بند کرو گل)
دراب نے آہستہ سے اسے کہا تو گل نے سر جھکا لیا۔جانان کو سمجھ تو نہیں آیا تھا کہ دراب نے کیا کہا لیکن اسے گل کا اترا ہوا چہرہ اچھا نہیں لگا تھا۔
دراب نے آگے ہو کر جانان کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے ساتھ کمرے میں لے آیا۔
‘آپ بلکل اچھے نہیں ہیں،آپ نے گل کو ڈانٹا بات ہی نہیں کروں گی آپ سے اب میں۔’جانان منہ بنائے دراب کو کہہ رہی تھی۔
‘میں نے گل کو نہیں ڈانٹا ،صرف سمجھایا ہے اور قصور سارا تمہارا ہے ۔مجھے تم سے باتیں کرنی ہیں اور تم باقی سب کے ساتھ وقت گزارو گی سوائے میرے۔’
دراب نے اسے بیڈ پر اپنے پاس بیٹھاتے ہوئے کہا۔
‘آپ سے باتیں نہیں کروں گی۔مجھے گل نے بتایا کہ آپ نے سعد بھائی کو یہاں سے بھیج دیا اس لیئے بہت ذیادہ ناراض ہوں آپ سے اب جب منائیں گے پھر باتیں کروں گی۔’
جانان نے اترا کے کہا تو دراب بھی شرارت سے مسکرانے لگا۔
‘میں نے سوچا تھا کہ باہر چلیں گے اور میں تمہیں سیر بھی کرواوں گا ۔لیکن اب تو تم ناراض ہو ۔۔۔۔۔۔چلو پروگرام کینسل۔’
جانان منہ کھول کر اسے دیکھنے لگی۔
‘ارے ایسے کیسے کینسل۔میں نے باتیں کرنے سے منع کیا ہے سیر تو آپ کروا ہی سکتے ہیں بس چپ رہیے گا ۔زیادہ بولنے سے سر دکھنے لگتا ہے۔’
جبکہ دراب یہ سوچ رہا تھا کہ جانان اس سے بات نہ کرنے کا وعدہ کر کے خود ہی اتنا کیسے بول سکتی ہے۔
‘چلیں پھر؟’
دراب نے پوچھا تو جانان چادر لینے چلی گئی۔
‘جی چلیں ۔۔۔۔اور ہاں مجھے منانے کے لیئے کچھ سپیشل کریئے گا آخر کار نئی نویلی بیوی پہلی دفعہ ناراض ہوئی ہے۔’
دراب جانان کی بات سن کر مسکرانے لگا۔تم فکر مت کرو جانانِ دراب میں تمہیں بہت سپیشل طریقے سے مناؤں گا۔
دراب اپنے ذہن میں طریقہ بھی سوچ چکا تھا کیونکہ وہ اپنی جانان کو بہت اچھی طرح سے جانتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حمنہ نے سوچا بھی نہیں تھا کہ عثمان اسے اتنی زیادہ محبت اور عزت دے گا۔وہ تو اپنی قسمت سے بہت زیادہ ڈری ہوئی تھی۔اسے لگا تھا کہ وہ بھی اپنی ماں کی طرح ایک انسان کے ہاتھ کی کٹ پتلی بن کر رہ جائے گی۔لیکن عثمان کی توجہ نے اسے خود کی قسمت پر رشک کرنے پر مجبور کر دیا۔
وہ کھانا بنا رہی تھی جب اچانک کسی نے پیچھے سے اس کی کمر پر ہاتھ رکھ کر اپنی طرف کھینچا تو حمنہ چینخ مار کر ہاتھ میں پکڑی چھری سے اس پر حملہ کرنے لگی۔
اس سے پہلے کہ وہ چھری سے اس کے کندھے کو چیرتی ،عثمان نے اسکا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا۔
‘کیا بات ہے ،لوگوں کی بیویاں شوہر کی بلائیں لیتی ہیں اور میری خود کو بیوہ کرنا چاہ رہی ہے۔’
عثمان نے شرارت سے کہا تو حمنہ نے آنکھیں چھوٹی کیے اسے گھورنے لگی۔
‘آپ کا ہی قصور ہے جان نکال دی میری۔’
عثمان نے مسکراتے ہوئے اسکے گال کو چوم لیا۔
‘اب ٹھیک ہے؟’
عثمان کے ایسا کہنے پر حمنہ نے شرم سے منہ پھیر لیا۔
‘آپ جا کر فریش ہو جائیں میں کھانا بنا لوں۔’حمنہ نے شرماتے ہوئے کہا۔
‘نہیں یار یہ چھوڑو اور باہر چلتے ہیں آج کھانا کھانے ۔ایک کمال کی جگہ ہے تمہیں بھی اچھا لگے گا۔تم جا کر تیار ہو بس۔’
عثمان نے اسکے ہاتھ سے چھری لیتے ہوئے کہا۔حمنہ بھی خوشی سے تیار ہونے چلی گئی۔تقریباً آدھے گھنٹے کے بعد وہ کالے رنگ کے سوٹ میں تیار ہو کر ،ہاتھ میں چادر پکڑے آئی۔
‘چلیں؟’
حمنہ نے پرجوشی سے پوچھا تو عثمان نے موبائیل سے دھیان ہٹا کر اسے دیکھا اور پھر نظریں ہٹانا ہی بھول گیا۔
وہ بے خود سا ہو کر حمنہ کے پاس آیا اور اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں پکڑ لیا۔
‘اتنا خوبصورت لگ کے باہر نہیں کمرے میں جایا جاتا ہے جان جہاں۔’
عثمان نے معنی خیز انداز میں کہا تو حمنہ نے منہ بنا لیا۔
‘نہیں جی ابھی ہم باہر ہی جائیں گے ۔مشکل سے تو آپ کو وقت ملتا ہے۔چلیں’
حمنہ اسکا ہاتھ پکڑ کے اسے باہر کو کھینچنے لگی تو وہ بھی مسکراتا ہوا ساتھ چل دیا۔حمنہ نہیں جانتی تھی کہ وہ کہاں جا رہے ہیں لیکن عثمان نے جب گاڑی سلمان صاحب کے گھر کے باہر روکی تو حمنہ حیرانی سے اسے دیکھنے لگی۔
‘حمنہ جب ہمارے درمیان سب ٹھیک ہو گیا ہے تو اپنے بابا سے بھی ناراضگی ختم کر دو۔ماں باپ بہت قیمتی ہوتے ہیں یار ۔ان کی قدر کرنی چاہیے ۔’عثمان نے اسے سمجھانے والے انداز میں کہا۔
‘عثمان میں ان سے صرف اس وجہ سے نہیں بلکہ انکے اس سلوک کی وجہ سے ناراض ہوں جو انہوں نے بچپن سے ہمارے ساتھ کیا ہے۔انہوں نے ہمیشہ صرف خود سے پیار کیا ہے وہ بھی اتنا کہ ہماری محبت انہیں کبھی نظر ہی نہیں آئی۔’حمنہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
‘یار اب ایسا نہیں ہے انہیں پچھتاوا ہے۔وہ مجھ سے معافی مانگنے آئے تھے ۔وہ تم سے اور جانان دونوں سے معافی مانگنا چاہتے ہیں۔ایک موقع تو دو میری خاطر۔’
عثمان نے انتہائ محبت سے کہا تو حمنہ نے ہاں میں سر ہلایا۔
‘چلو اب’
عثمان اسکا ہاتھ تھامے گھر میں داخل ہوا۔فاطمہ بیگم حمنہ کو دیکھتے ہی اس کے پاس آکر گلے لگ گئیں۔حمنہ بھی ماں اور بہں کو دیکھ کر بہت زیادہ خوش ہوئی۔
سلمان صاحب کچھ فاصلے پر کھڑے سب دیکھ رہے تھے۔حمنہ فاطمہ بیگم سے جدا ہو کر ان کے پاس چلی گئی۔
‘اسلام و علیکم بابا۔’
حمنہ کے ایسا کہتے ہی سلمان صاحب نے اس کے سامنے ہاتھ جوڑ دیے۔
‘مجھے معاف کر دو بیٹا ۔جانے انجانے بہت غلط کیا ہے میں نے۔بہت تکلیف دی ہے تم سب کو۔تم مجھے معاف کر دو تو میں جانان سے بھی معافی مانگ لوں گا۔’
سلمان صاحب کے ایسا کہنے پر حمنہ نے انکے ہاتھ تھام لیئے۔
‘نہیں بابا آپ پلیز ایسا کہہ کے مجھے گناہ گار نہیں کریں۔پلیز۔’
سلمان صاحب نے حمنہ کو سینے سے لگا لیا تو حمنہ کے آنسو مزید روانی سے بہنے لگے۔
‘چلیں داماد شادی کے بعد پہلی دفعہ آیا ہے اسے یہیں کھڑا رکھیں گے کیا۔’
فاطمہ بیگم نے ایسا کہا تو سب مسکراتے ہوئے لاؤنج میں چلے گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
