Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 2

جانان جب سے سلمان صاحب کے پاس سے آئی تھی تب سے بس روئے جا رہی تھی اور حمنہ پریشانی سے پاس بیٹھی وجہ پوچھ رہی تھی۔
‘آپی۔۔۔۔۔۔مم۔۔۔۔ میں نے۔۔۔۔ ان سے وو۔۔۔۔۔۔۔وعدہ کیا تھا۔’
جانان بس اتنا ہی بول پائی تھی اور پھر سے رونا شروع ہو گئی۔اب تو فاطمہ بیگم اور زرش بھی ان کے پاس پریشانی سے کھڑی تھیں۔
‘مگر جانو ہوا کیا ہے ؟’
حمنہ نے پوچھا تو جانان نے وہ کاغذات اس کو دیے۔جن کو دیکھتے ہی حمنہ نے بھی پریشانی سے اپنی ماں کی طرف دیکھا۔
‘ یہ سب کیا ہے امی؟’ بابا ایسا کیوں چاہتے ہیں؟’
حمنہ کے سوالوں نے فاطمہ بیگم کو شرمندہ کر دیا اور وہ سر جھکا گئیں۔
‘آپ اس بارے میں جانتی تھیں؟’
فاطمہ بیگم نے حمنہ کے سوالوں کو نظرانداز کیا اور جانان کے پاس آ کر بیٹھ گئیں۔
‘دیکھو بیٹا اگر آپ نے اس سے وعدہ کیا تھا تو اسے بھی تو وعدہ پورا کرنا چاہئے نا بہتر یہی ہے کہ آپ اپنے بابا کی بات مان لو۔’ ان کی بات پر جانان کے رونے میں مزید روانی آ گئی۔
‘اپنا وعدہ ۔۔۔۔۔۔۔بھول جاؤں؟’ جانان کے سوال نے فاطمہ بیگم کو مزید شرمندہ کر دیا۔
‘ہاں بھول جاؤ۔زندگی میں بہت سے ایسے موڑ آ تے ہیں کہ انسان اپنے وعدے بھول کر راہ بدل لیتا ہے۔تم بھی بدل لو۔’ لیکن اس بات سے حمنہ کو شدید غصہ آ گیا تھا۔
‘مگر بابا ایسا چاہتے ہی کیوں ہیں؟ ابھی تو جانان ویسے بھی صرف انیس سال کی ہے۔ آ جائیں گے شایان بھائی بھی۔’
حمنہ پھر سے پوچھنے لگی۔
‘تم جاؤ اپنے کمرے میں جانو آرام کرو ابھی, زری تم بھی جاؤ ساتھ۔’
انہوں نے جانان سے کہا تو وہ اٹھ کر چلی گئی اور زرش بھی اس کے پیچھے جانے لگی۔ان کے جاتے ہی حمنہ نے سوالیہ نظروں سے فاطمہ بیگم کی طرف دیکھا۔
‘تمہارے ابا جانان کا رشتہ طے کر رہے ہیں عثمان ملک سے۔’
فاطمہ بیگم نے حمنہ پر بم پھوڑا۔
‘وہ عثمان ملک جو ان کے مخالف الیکشن پر کھڑا ہوا ہے؟’
حمنہ کے سوال پر فاطمہ بیگم نے ہاں میں سر ہلایا۔
‘ایسا کیسے کر سکتے ہیں بابا عثمان ملک بہت بڑا ہے
جانان سے اور پہلے شادی کر کے طلاق بھی دے چکا ہے۔’
‘اس کا کہنا ہے کہ جانان اسے بہت پسند ہے۔’
فاطمہ بیگم نے حمنہ کو بتایا۔
سب جانتی ہوں میں کہ اس جیسے آوارہ لوگوں کو جانان جیسی لڑکیاں کیوں پسند آتی ہیں ۔بابا یہ سب نہیں سوچتے وہ کیسے مان سکتے ہیں؟ وہ جانان کو کسی کو بھی نہیں دے سکتے۔’
نا چاہتے ہوئے بھی حمنہ کی آواز بلند ہو رہی تھی۔
‘بیٹیاں تو ہوتی ہی پرائی ہیں حمنہ،انکو کسی اور کا ہو جانا ہوتا ہے۔’فاطمہ بیگم نے گھایل آنکھوں سے حمنہ کو دیکھا۔
‘جی سب بیٹیاں پرائی ہوتی ہیں مگر جانان تو جب سے پیدا ہوئی ہے تب سے ہی شایان شاہ کی امانت ہے ۔اس پر کسی اور کا حق نہیں۔آپ ایسا نہیں ہونے دیں گی ،آپ بابا کو منع کر دیں۔’ حمنہ نے گویا فیصلہ سنایا تھا۔
‘تمہیں کیا لگتا ہے میں نے نہیں روکا انہیں اور کیا تمہارے باپ نے کبھی ہماری سنی ہے ؟ہم کچھ نہیں کر سکتے حمنہٰ بس دعا کرو جانان کے لئے بہت معصوم ہے وہ۔’
فاطمہ بیگم کی آنکھوں میں آنسو آگئے وہ کبھی اپنی بچیوں کے لیئے کچھ نہیں کر پائیں تھیں۔وہ ان کے باپ کے سامنے ہمیشہ کمزور پڑھ جاتی تھیں اور اسی بات سے سلمان صاحب کو مزید جرآت ملتی تھی۔
نہیں آپ غلط ہیں! حمنہٰ نے صرف سوچا تھا کیونکہ وہ بھی جانتی تھی کہ اس کی ماں ان کے معاملے میں ہمیشہ کمزور رہی ہیں اور پھر وہ غصے سے وہاں سے چلی گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جانان کو اپنے اور شایان کے نکاح کے بارے میں کچھ زیادہ یاد نہیں تھا وہ بس اتنا جانتی تھی کہ اس نے شایان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس کا انتظار کرے گی اور شایان نے بھی وعدہ کیا تھا کہ وہ ضرور اس کے پاس آئے گا وہ بس شایان کو نہیں بھولے گی ۔اسے تو ٹھیک سے شایان کا چہرہ بھی یاد نہیں تھا۔ہو سکتا تھا کہ وہ اسے بھی بھول جاتی مگر جہاں اس کی بہنوں کے نام کے ساتھ سلمان صاحب کا نام لگتا تھا وہیں اس کے نام کے ساتھ شایان کا نام لگتا تھا اور شایان جاتے ہوئے اسے S لیٹر کا ایک لاکٹ دے کر گیا تھا جسے دیکھ کر جانان روز اسے یاد کرتی تھی۔اسے اپنا وعدہ یاد تھا تو کیا شایان بھول گیا تھا۔مگر شایان تو تب پندرہ سال کا تھا پھر وہ کیسے بھول گیا۔
جانان نے اس لاکٹ کو اپنی مٹھی میں پکڑا اور پھر سے رونے لگی۔ اچانک دروازہ کھلا اور حمنہٰ اس کے پاس آئی۔
‘جانو اٹھو’
جانان نے ٹائم دیکھا تو رات کے بارہ بج رہے تھے۔
‘کیا ہوا آپی؟’
حمنہ نے اس کے پاس ایک بیگ رکھا ،ایک چادر اس کے سر پر ڈالی اور کچھ پیسے اس کے ہاتھ میں دیے۔
‘یہ سب کیا ہے آپی؟’
جانان حیرت سے سب دیکھ رہی تھی۔
‘میری بات سنو جانو تم یہاں سے جا رہی ہو جو بابا چاہتے ہیں وہ نہیں ہو گا یہ پیسے پاس رکھو تم ۔باہر میری دوست اپنے بھائی کے ساتھ انتظار کر رہی ہے وہ تمہیں کراچی کی ٹرین پر بیٹھا دیں گے اور یہ کرنل حسن شاہ کے گھر کا ایڈریس ہے تم وہاں شایان کے پاس چلی جانا اس کے علاوہ بیگ میں تمہاری ضرورت کی ساری چیزیں ہیں اور تمہار آئی ڈی کارڈ بھی۔’
‘مگر میں کیسے ان کے پاس جا سکتی ہوں؟’
”کیوں نہیں جا سکتی؟ شوہر ہے وہ تمہارا اور تمہارے لئے یہی بہتر ہے۔چلو اب وقت ضائع نہیں کرو اور ہاں چاہے کچھ بھی ہو جائے جب تک شایان بھائی کے پاس نہ پہنچ جاو تب تک گھر فون مت کرنا ۔’
وہ جانتی تھی کہ اس سب سے جانان کا پتہ لگایا جا سکتا ہے اس لیے اس نے اسے موبائیل بھی نہیں دیا۔حمنہٰ نے جانان کو کھڑا کیا۔
‘پر آپی میں اکیلے کیسے کراچی جاؤں گی؟’
جانان بہت گھبرای ہوئی تھی۔
‘بہادر بنو جانو تمہارے پاس اور کوئی راستہ نہیں۔ میری جان وہ شخص تمہارا محافظ ہے اور کسی پے بھروسہ مت کرنا۔’
‘تو پھر نکاح کے بعد کبھی آئے کیوں نہیں؟’جانان نے منہ بنا کر پوچھا۔
‘وہ میں نہیں جانتی جانو تم بس جاؤ یہاں سے ورنہ بہت برا ہو گا تمہارے ساتھ اور میں یہ نہیں ہونے دوں گی۔’
حمنہٰ اس کا ہاتھ پکڑ کے اسے باہر لےکر جانے لگی۔
حمنہٰ پہلے سے ہی گارڈز کے کھانے میں نیند کی دوائی ملا چکی تھی جس کے زیر اثر وہ سو رہے تھے۔انہوں نے آہستہ سے گیٹ کھولا اور باہر کھڑی کار کے پاس آ گئیں جہاں حمنہٰ کی سہیلی عاشی اسکا انتظار کر رہی تھی ۔
حمنہ نے جانان کو خود میں بھینچا تو جانان اور زیادہ رونے لگی۔
‘آپی۔۔۔۔۔۔۔’،
اس سے پہلے کہ جانان کچھ کہتی حمنہ نے اسے خود سے دور کیا اور اپنی نم آنکھوں کو صاف کرنے لگی۔
‘جاؤ جانو ،اللّہ تعالیٰ تمہاری حفاظت کریں۔’
جانان کے آنسوؤں میں مزید روانی آ گئی۔حمنہ نے اسے کار میں بیٹھایا اور اپنی دوست کا شکریہ ادا کرنے لگی اور پھر جانان پر ایک آخری نظر ڈال کے واپس گھر کے اندر چلی گئی۔
کچھ دیر بعد کار ریلوے اسٹیشن کی طرف روانہ ہو گئی تھی جبکہ جانان کی نظریں ابھی بھی اپنے گھر کی طرف تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کے اس پہر بھی دارا اپنے شکار پر نظریں گاڑے بیٹھا تھا۔دارا کو معلوم ہوا تھا کہ اس آدمی نے دارا کو پکڑنے کے لیئے جال بچھایا تھا۔ لیکن اپنا یہ خواب پورا کرنے کے لیئے زندہ بچے گا تو نا۔دارا نے اپنی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھا جو اپنے آپ کو شراب کے نشے میں پوری طرح ڈوبا رہا تھا۔جبکہ وہ یہ جانتا بھی نہیں تھا کہ ایسا کرنے سے وہ اپنی ہی موت کو دعوت دے رہا ہے۔نا جانے کیوں آدمی اپنے ہوش کا قتل کر کے،اپنے آپ کو کمزور کر کے تسکین محسوس کرتا ہے ۔یہ بات دارا کی سمجھ سے باہر تھی وہ بس اتنا جانتا تھا کہ آج وہ اس کی موت بن کے آیا ہے۔
کچھ دیر بعد وہ حسین لڑکی جس کو دارا نے پیسے دیے تھے، اسکے شکار کو کمرے میں لے جانے لگی مگر آج اس کے نصیب میں گناہ کی لذت نہیں تھی۔
دارا دروازہ کھول کر کمرے میں داخل ہوا تو وہ آدمی اس لڑکی کے ساتھ غیر اخلاقی حرکات میں اتنا مصروف تھا کہ اسے کسی کی آمد کا اندازی ہی نہیں ہوا۔لیکن دارا کو دیکھ کے وہ لڑکی اس سے دور ہوئی اور کمرے سے باہر نکل گئی۔آخر کار اس کی نظر دارا پہ پڑی۔
‘کون ہے رے تو۔۔۔۔۔۔’
دارا اس کی طرف بڑھنے لگا تو وہ آدمی بھی لڑکھڑاتے قدموں پر کھڑا ہو گیا۔
‘ارے کیا مسلئہ ہے تیرے ساتھ جانتا نہیں مجھے؟’
دارا کے تاثرات خوفناک ہو گئے اور وہ اسکے قریب پہنچ گیا۔
اس نے دارا پر حملہ کرنے کی ناکام سی کوشش کی تھی جس کو دارا نے اس کے پیٹ میں مکا مار کے ناکام کر دیا تھا اور اس کے پیچھے آ کر اسکی گردن کو دبوچ لیا۔
‘میں نے تو سوچا تھا کہ سامنے آؤں گا تو پہچان جائے گا مجھے۔’
‘د د۔۔۔۔۔ دارا۔۔۔۔۔۔۔۔’
وہ اب کافی ڈر گیا تھا۔
‘ واہ یاداشت تیز ہے تیری مگر افسوس تیرا یہ دماغ کچھ ذیادہ ہی چلنے لگا ہے۔دارا کو پھنسانے کے منصوبے بنانے لگا ہے اس لیئے اب اسکی مدت ختم ۔’
‘ن۔۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔۔۔’
دارا نے پسٹل نکال کر اسکے سر کے پیچھے رکھی۔اسے مزید بولنے کا موقع دیے بغیر دارا نے گولی چلا دی جو اسکی کھوپڑی کے آر پار ہو گئی تھی۔دارا نے اسکے بے جان وجود کو زمین پر پٹکا اور ایک نفرت بھری نگاہ اس پر ڈال کر کمرے سے باہر نکل گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔