Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 20

11سال بعد
میجر شایان کی ساری ٹیم جشن منانے میں مصروف تھی ابھی کچھ دنوں پہلے ہی تو انہوں نے ایک بہت بڑی دہشتگرد پارٹی کو ہرا کر ان کا ایک اہم آدمی پکڑا تھا۔
اس وقت سب جشن منا رہے تھے جبکہ شایان کیمپ سے کافی دور تنہائی میں بیٹھا اپنی جانان کے بارے میں سوچ رہا تھا۔بس ایک اور سال میری جان پھر ہمیشہ کے لیئے تمہیں اپنے پاس لے آؤں گا۔تیار رہنا جانان شاہ کوئی تمہارا بہت شدت سے انتظار کر رہا ہے۔وہ سوچ کر مسکرایا تھا۔
‘ہائے کاش ہمارا بھی کوئی اپنا ہوتا جس کے بارے میں ہم یوں سوچ کر مسکرایا کرتے۔’
شایان اپنے قریب سے آتی سعد کی آواز سن کر مسکرایا تھا جو دل پر ہاتھ رکھے انتہائ ڈرامائی انداز میں بات کر رہا تھا۔ سعد اس کا سب سے اچھا دوست تھا۔ وہ بچپن سے ہی ایک یتیم خانے میں پلا بڑھا تھا۔اسی لیئے اس نے اپنی زندگی کو اپنے وطن کے لیئے وقف کرنے کا سوچا تھا۔سعد اور علی ہی شایان اور اسکی جانان کے بارے میں سب جانتے تھے۔
‘اس کے پاس جانے کے ارادے بھی ہیں میجر یا صرف اسے یاد کر کے ہی دیوداس بنے پھرتے رہیں گے۔’سعد نے شرارت سے کہا تھا۔
‘نہیں کیپٹن ابھی وہ صرف سولہ سال کی ہے کالج میں پڑھتی ہو گی۔میرے جزبات کو سمجھنے سے قاصر ہو گی ابھی وہ۔ زرا آزادی اینجوائے کر لے آنا تو اسے میرے پاس ہی ہے۔’شایان کی بات پر سعد نے قہقہہ لگایا تھا۔
‘چلیں ٹھیک ہے لیکن میرے خیال میں اب ہمیں فنکشن کا رخ کرنا چاہیئے۔کہیں بریگیڈیئر صاحب برا نہ مان جائیں۔’
سعد کہتا ہوا اٹھ کر چل دیا تو شایان بھی اسکے پیچھے چل دیا۔
وہ لوگ آرمی کی Investiture ceremony میں شامل ہونے کے لیئے راولپنڈی آئے تھے۔شایان ہال میں داخل ہوا تو اسے حسن صاحب برگیڈیئر سے بات کرتے ہوئے نظر آئے۔شایان مسکراتا ہوا ان کی طرف گیا اور انہیں سیلیوٹ کیا۔
‘ارے میجر شایان شاہ ہم آپ کی بات ہی کر رہے تھے۔آپ نے جو کام کیا ہے اس سے ہمارے ملک کو بہت زیادہ فائدہ ہو گا اور مجھے آئندہ بھی آپ سے ایسے ہی عظیم کارناموں کی امید ہے۔’ بریگیڈئیر صاحب نے دل کھول کر شایان کی تعریف کی تھی۔
‘شیور سر۔’شایان نے مسکراتے ہوئے کہا تھا۔
‘کرنل صاحب آپ کو تو میجر شایان پر فخر ہو گا۔’
‘فخر نہیں شایان میرا غرور ہے۔’
حسن صاحب نے شایان کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے مسکرا کر کہا تھا۔تبھی ان کے پاس شاہرام آ کر سیلیوٹ مار کر کھڑا ہوا تھا۔اسے دیکھ کر بریگیڈیئر صاحب مسکرائے۔
‘کیپٹن شاہرام شاہ مجھے امید ہے کہ آپ بھی اپنے بھائی کی طرح عظیم کام کریں گے۔’
‘انشا اللہ سر۔’ شاہرام نے مسکرا کر کہا تھا لیکن وہ مسکراہٹ اس کی آنکھوں تک نہیں پہنچی تھی۔
شایان اور اس کے تعلقات میں کوئی بہتری نہیں آئی تھی وہ ایک دوسرے سے بات بھی نہیں کرتے تھے۔لیکن شایان کو اس سے کبھی کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔فنکشن کافی دیر کے لیئے چلتا رہا تھا۔شایان اور اسکی ٹیم کو بہترین کارکردگی کے لیئے اعزاز دیا گیاتھا۔اس کی وجہ سے حسن صاحب نے جس فخر سے شایان کو دیکھا تھا وہ اسے سر خرو کر گیا تھا۔
فنکشن کے بعد برگیڈیئر صاحب نے شایان اور حسن صاحب کو اپنے پاس بلایا تھا۔
‘ہماری انٹیلیجنس سے ہمیں خبر ملی ہے کہ لاہور کی ایک بہت بڑی پارٹی کے سربراہ آج سے ایک ہفتے بعد ایک جلسہ نکالیں گے۔جس میں بہت زیادہ عوام ہو گی۔ویسے بھی فواد ملک صاحب عوام کو کافی پسند ہیں اس لیئے ان کی حفاطت کی ذمہ داری ہم پر ہے۔آپ کی بہترین کارکردگی کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ کام ہم نے آپ کی نگرانی میں دینے کا فیصلہ کیا ہے میجر شایان شاہ۔’
‘او کے سر۔’شایان نے مکمل پروفیشنل انداز میں کہا تھا۔
‘ہمیں آپ پر مکمل اعتماد ہے میجر،کل تک آپ کو ساری انفارمیشن دے دی جائے گی۔’ بریگیڈیئر صاحب نے انہیں جانے کا اشارہ کیا تو وہ واپس آ گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شایان نے اپنی پوری ٹیم کے ساتھ مل کر فواد ملک کی حفاطت کی پوری تیاری کی تھی اور اس سب میں انہوں نے پورا ہفتہ دن رات محنت کی تھی۔
لوگ جلسے کی جگہ پر آنا شروع ہو گئے تھے۔شایان نے چاروں طرف سپاہی تعینات کیے تھے اور کوئی بھی آدمی مکمل تلاشی کے بغیر اندر داخل نہیں ہو سکتا تھا۔فواد صاحب کافی ایماندار اور اچھے سیاست دان تھے اور اسی وجہ سے وہ عوام کے دلوں میں بستے تھے۔اس بار جلسے میں ان کی بیوی بھی ساتھ آئی تھی جو سٹیج پر بیٹھی تھیں۔فواد صاحب نے اپنی تقریر کا آغاز کیا تھا۔
شایان کچھ فاصلے پر کھڑا ہر چیز کا جائزہ لے رہا تھا۔تبھی اچانک سٹیج کے پاس آیک بہت بڑا دھماکہ ہوا تھا ۔جس کے بعد بری طرح سے بھگدڑ مچ گئی۔لوگ باہر جانے کی کوشش میں تھے۔جبکہ شایان کی ٹیم کے کچھ سپاہی لوگوں کو نکال رہے تھے تو کچھ مزید دھماکہ خیز مواد کی تلاش میں تھے۔شایان بھاگ کر سٹیج کی طرف گیا تھا۔آگ کی پروا کیۓ بغیر وہ فواد ملک کے پاس پہنچنے کی کوشش کرنے لگا۔اس نے جا کر انہیں چیک کیا تو ان کی سانسیں ابھی چل رہی تھیں۔اس نے فوراً انہیں سعد کے ساتھ ہسپتال پہنچا دیا۔لیکن ان کی بیوی اور سٹیج پر موجود باقی لوگ بچ نہیں پائے تھے۔
شایان نے زندہ لوگوں کی مدد کرنے کی کوشش کی جو بہت نازک حالت میں تھے۔ہر طرف خون ،آگ اور تباہی کہ سوا کچھ نہیں بچا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دھماکے میں فواد ملک ،ان کی اہلیہ اور ان کے علاوہ تقریباً تین سو لوگوں کی جانیں چلی گئیں۔جن میں پانچ آرمی کے سپاہی شامل تھے۔کل تک جو لوگ اور میڈیا شایان شاہ کی کارگردگی پر داد دے رہا تھا۔آج وہی سب اسے کوسنے پر لگے ہوئے تھے۔وہاں پر موجود سپاہیوں نے دو مشتبہ افراد کو پکڑا تھا جن سے ابھی پوچھ گچھ جاری تھی۔شایان کا ذہن ہر لحاظ سے سوچ سوچ کر ماؤف ہو چکا تھا لیکن اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ دہشت گرد داخل کیسے ہوئے تھے اور ان کی نظروں سے بچ کر اتنا سب کچھ کیسے کر گئے تھے۔کہیں انہیں اندر سے تو مدد۔۔۔۔
ابھی شایان نے یہ سوچا ہی تھا جب ملازمہ نے اسے حسن صاحب کا پیغام دیا ۔
شایان لاؤنج میں آیا تو وہاں پر حسن صاحب اور شاہرام کے ساتھ کئی آرمی والے کھڑے تھے۔ایک آرمی والا شایان کے پاس آیا اور بولا۔
‘لاہور جلسے میں ہونے والے دھماکےمیں دہشتگردوں کی مدد اوروطن کے ساتھ غداری کے جرم میں آپ کو گرفتار کیا جاتا ہے۔’
شایان کے اعصاب پر یہ الفاظ ہتھوڑوں کی طرح پڑے تھے۔اس نے تو ایسا کچھ بھی نہیں کیا تھا جو یہ لوگ کہہ رہے تھے۔
‘کیا ثبوت ہے آپ کے پاس؟’شایان نے غصے سے پوچھا تھا۔
‘ثبوت عدالت میں آپ کے سامنے آ جائیں گے فلحال یہ رہا آپ کا وارنٹ۔’
اس فوجی نے ایک کاغذ شایان کے سامنے کیا تھا۔جسے شایان نے اس سے لے کر پڑھنا شروع کیا تھا۔شایان پریشانی سے حسن صاحب کے پاس گیا تھا۔
‘بابا میں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔’شایان نے بے چینی سے کہا تھا۔
‘جانتا ہوں بیٹا تم فکر مت کرو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔میں جانتا ہوں کہ تم بے قصور ہو اور یہی عدالت میں بھی ثابت ہو گا۔’حسن صاحب نے شایان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا تھا۔
‘چلیں ۔’اس فوجی نے شایان کو ہتھ کڑی پہناتے ہوئے کہا تھا اور پھر اسے گاڑی میں بیٹھا کر فوجی جیل کی طرف لے جایا گیا۔جبکہ شایان کو تو سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کہ اسکے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حسن صاحب نے سب سے بہترین وکیل شایان کے کیس پر لگایا تھا۔لیکن سب کچھ بے سود تھا۔ہر ثبوت شایان کے خلاف تھا۔جن دو دہشتگردوں کو پکڑا گیا تھا انہوں نے شایان شاہ کو اپنا ساتھی بتایا تھا۔شایان کے آئی پی اے ایڈریس سے ان دہشتگردوں کے ساتھ کانٹیکٹ ہوتا رہا تھا۔اس کے علاوہ ایسی بہت سی میلز اور ڈاکیومینٹ شایان کے کمرے سے ملے تھے جن کی بناہ پر اسے دہشتگردوں کا ساتھی سمجھا جا رہا تھا۔اب تو حسن صاحب بھی تھک چکے تھے اور شایان پر سے انکا اعتبار بھی ہٹنے لگا تھا۔
دو مہینے تک شایان کا کیس عدالت میں چلتا رہا تھا۔آخر کار فیصلہ بھی آ گیا تھا جس میں شایان شاہ کو غدار اور دہشت گرد کہا گیا تھا۔سعد اور اسکی ٹیم نے شایان کو بے گناہ ثابت کرنے کی ہر ممکن کوشش کی تھی لیکن اتنے پختہ ثبوتوں کے سامنے ان کے دلائل کچھ نہیں کر پائے تھے۔
شایان کو چھے ماہ کے لیئے جسمانی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا تھا۔جانے سے پہلے حسن صاحب اس کے پاس گئے تھے اور ایک زور دار تھپڑ اسکے منہ پر مارا تھا۔
‘تم میرا غرور تھے شایان اور تم نے ہی وہ غرور توڑ دیا۔کیوں کیا ایسا شایان کیوں۔’
شایان کے اندر جو ہمت باقی تھی حسن صاحب کے الفاظ سے وہ بھی ختم ہو گئی تھی۔حسن صاحب نے آرمی میں اپنے اچھے تعلقات استمعال کر کے اس خبر کو میڈیا تک جانے سے بچا لیا تھا۔لیکن شایان کے جانے کے بعد انہوں نے ریٹائرمنٹ لے لی اور پھر وہ زیادہ تر بیمار رہتے تھے۔
ابھی اسکو جیل آئے کچھ عرصہ ہی ہوا تھا جب شاہرام اس سے ملنے آیا جو شایان کے لیئے بہت حیران کن بات تھی۔شاہرام اس کے پاس کھڑا اسے مصنوعی رحم سے دیکھ رہا تھا۔
‘چچچ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم نے تو بابا کا غرور مٹی میں ملا دیا شایان وہ تو اب تمہارا نام بھی سننا پسند نہیں کرتے ۔’شایان سر جھکائے بیٹھا تھا۔شہرام اس کے پاس آیا اور اسکے کان کے پاس ہو کر بولا۔
‘کیسا لگا مجھ سے میرے باپ کی محبت چھیننے کا انجام،۔مجھے پل پل غصہ دلانے کا انجام،میری ماں کے لیئے اذیت بننے کا انجام۔اب تم اس سب کی سزا بھگتو شایان شاہ اس جرم کی شکل میں جو تم نے کیا ہی نہیں۔’
‘اسکا مطلب تم۔۔۔۔۔۔۔۔’ شاہرام نے اسکی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی زور دار قہقہہ لگایا۔
‘ہائے میرا معصوم بھائی۔اپنی اچھائی اور بہادری پر بہت غرور تھا نا۔لیکن کاش ان کے ساتھ تھوڑے چالاک بھی ہوتے تو میں تو کیا تمہیں کوئی بھی پھنسا نہیں سکتا۔لیکن تم ایسے ہی رہنا بے وقوف ۔’ شایان صرف اپنی مٹھیاں بھینچ کر رہ گیا تھا۔شاہرام اس کے پاس سے اٹھ کر دروازے کی طرف چلا گیا۔
‘اور ہاں بابا کی فکر مت کرنا میں ہوں ان کے پاس اور اب انکی محبت مان اور غرور سب میرے لیئے ہو گا۔تمہارے لئے کچھ نہیں۔بلکل جیسے تم نے گیارہ سال پہلے کیا تھا ۔مزے کرو۔’ شاہرام ہنستا ہوا وہاں سے چلا گیا تھا اور شایان اپنا غصہ ضبط کیۓ وہیں بیٹھا رہا۔
شایان کو چھ ما تک سخت قسم کی جسمانی ریمانڈ پر رکھا گیا تھا۔ہر ممکن طریقے سے اسے ٹارچر کیا جاتا۔کبھی اسکے جسم پر برف والا ٹھنڈا پانی ڈالا جاتا تو کبھی اسے باندھ کر گھنٹوں اسے مارا جاتا۔لیکن اس سب کا کوئی فائدہ نہیں ہوا تھا کیونکہ شایان نے اپنا منہ ہر تکلیف کے باوجود بند رکھا تھا۔شایان کی ریمانڈ بڑھتی ہوئی ایک سال تک چلی گئی تھی۔لیکن ہر طرح کے ٹارچر کے باوجود شایان کچھ بھی بتانے سے قاصر تھا۔وہ کچھ جانتا تو شاید بتا بھی دیتا لیکن اس سے پوچھے گئے سوالوں کا شایان کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا تھا۔
کال کوٹھری میں ایک سال تک پڑے رہنے کے دوران وہ کبھی اپنی بدلی زندگی کے بارے میں سوچتا،کبھی اپنی ماں کو یاد کرتا تو کبھی جانان کو،بلکہ سب سے زیادہ وہ جانان کے بارے میں ہی سوچتا تھا جسے دیکھنے کی خواہش اب ہمیشہ خواہش ہی رہنے والی تھی۔آخر کار جب اتنے عرصے کے ٹارچر کا بھی کوئی فائدہ نہ ہوا تو شایان شاہ کو غداروں کے لیئے عبرت بنانے کی غرض سے عدالت نے اسے پھانسی کی سزا سنا دی تھی اور شایان کو اپنی عبرت ناک زندگی کی بجائے یہ موت کی سزا آزادی ہی لگی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج شایان کی اس جیل میں آخری رات تھی۔صبح ہوتے ہی اسے پھانسی دے دی جانی تھی۔شایان فرش پر لیٹا الگ ہی دنیا میں تھا۔
مجھے بھول جانا جانان شاہ اپنے اس وعدے کو بھول جانا کیونکہ میں اپنا وعدہ پورا نہیں کر پاؤں گا۔
شایان اپنے ذہن میں جانان سے مخاطب تھا۔اسے اگر اس سب میں کسی چیز کا افسوس تھا تو وہ جانان کو کبھی نہ دیکھنے کا تھا۔اس نے سوچ لیا تھا کہ صبح ہوتے ہی سعد یا علی میں سے کسی کی ذمہ داری لگائے گا کہ وہ جانان کو اس کی موت کے بارے میں بتا دیں۔
اچانک باہر سے کچھ شور سنائی دیا تھا جسے سن کر شایان کھڑا ہوا تھا۔کسی نے اسکی جیل کا دروازہ کھولا تھا۔شایان سامنے موجود سعد کو دیکھ کر حیران ہوا تھا۔
‘سر چلیں ہمارے پاس ذیادہ وقت نہیں ہے۔’سعد نے اسکا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا تھا۔
‘سعد پاگل ہو کیا؟جانتے بھی ہو کہ کتنی بڑی مصیبت میں پڑو گے۔’شایان نے غصے سے کہا تھا۔
‘سعد جلدی کر۔’علی نے سائیڈ پر کھڑے ہو کر اسے کہا تو وہ شایان کا ہاتھ تھام کر اسے اپنے ساتھ لے جانے لگا۔شایان کی جیل کے باہر موجود سپاہیوں کو وہ بے ہوش کر چکے تھے۔لیکن باقی سپاہیوں کی نظروں سے چھپ چھپا کر باہر جانا کافی مشکل کام تھا۔اچانک ایک سپاہی ان دونوں کے سامنے آیا لیکن اس سے پہلے کہ وہ باقیوں کو اگاہ کرتا کسی نے پیچھے سے اس کے سے میں بندوق ماری تھی جس سے وہ بے ہوش ہو کر گرا تھا۔
‘چلو’
وہ آدمی ان دونوں کو کہتا جلدی سے آگے بڑھ گیا تو سعد اور شایان بھی اس کے پیچھے چل دیے۔ شایان حیرانی سے اس آدمی کو دیکھ رہا تھا کیونکہ وہ اسے بلکل بھی نہیں جانتا تھا۔
آخر کار سب سے چھپ چھپا کر وہ دونوں شایان کو باہر لانے میں کامیاب ہو گئے تھے۔باہر دو آدمی انکا انتظار کر رہے تھے جو فوراً ان کو ایک گاڑی میں بیٹھا کر خود ایک بائیک پر بیٹھ کر انکی گاڑی کے پیچھے آ رہے تھے۔شایان حیرت سے سب دیکھ رہا تھا۔
‘سعد یہ سب کیا ہے اور کون ہیں یہ لوگ؟’شایان نے سعد سے پوچھا تھا جو اس کے مقابل بیٹھا تھا۔
‘میرا نام وجدان خان اور باقی ساری باتیں گھر پہنچ کر تمہیں پتہ لگ جائیں گی۔’سعد کی بجاۓ ڈرائیو کرتے وجدان نے اسے جواب دیا تھا۔
‘ان لوگوں نے cctv میں تم لوگوں کو دیکھ لیا ہو گا۔’شایان نے انہیں بتانا ضروری سمجھا تھا۔
‘آپ اسکی فکر نہ کریں سر ہمارے ایک آدمی نے انکا سارا سسٹم ہیک کر لیا تھا ۔انہیں صبح سے پہلے آپکے غائب ہونے کی خبر نہیں ہو گی۔بس اس سے پہلے ہمیں پشاور پہنچنا ہے۔’
سعد نے ساری بات شایان کو بتائی تھی لیکن وہ ابھی بھی مطمئن نہیں ہوا تھا اور وہ جانتا بھی نہیں تھا کہ سعد نے کس قسم کے لوگوں کو اپنے ساتھ ملایا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح ہونے تک وہ پشاور پہنچ چکے تھے۔وجدان نے ایک عالی شان گھر کے باہر جا کر ہارن دیا تو ملازم نے دروازہ کھولا۔شایان اور سعد گاڑی سے اتر کر وجدان کے ساتھ گھر میں داخل ہوئے تھے۔
لاؤنج میں بیٹھے ہاشم صاحب کی نظر جب ان لوگوں پر پڑی تو وہ جلدی سے اٹھ کر شایان کے پاس آئے اور اسے گلے سے لگا لیا۔
‘تم ٹھیک تو ہو نا۔’شایان نے ان کے گلے سے ہٹ کر سعد کو سوالیہ نظروں سے دیکھا تھا۔
‘یہ آپ کے ماموں ہیں ہاشم خان اور وجدان انہی کا بیٹا ہے۔’سعد نے اس کی مشکل آسان کی تھی۔
ایسا نہیں تھا کہ شایان اپنے ماموں کے بارے میں جانتا نہیں تھا۔اسکی ماں بہت ذیادہ اپنے بھائی کا ذکر کرتی تھی۔لیکن اس نے سوچا نہیں تھا کہ وہ انہیں یوں ملے گا۔
‘تمہاری آنکھیں بلکل میری گڑیا کے جیسی ہیں۔بہت غلط کیا میں نے اس کے ساتھ شاید اس سے وہ مجھے معاف کر دے۔’انہوں نے اپنے آنسو پونچھتے ہوئے کافی پیار سے شایان کا ماتھا چوما تھا ۔
‘جاؤ جا کے آرام کرو پھر تفصیل سے بات کریں گے۔’
انہوں نے شایان کو کمرے میں بھیج دیا تھا۔فریش ہونے اور ریسٹ کرنے کے بعد سعد اسے رات کے کھانے کے لیئے بلانے آیا تھا۔
‘آپ کو میرے بارے میں کیسے پتا چلا؟کیسے کیا آپ نے یہ سب کچھ؟’ شایان نے اپنے ذہن میں آنے والے سوال پوچھ ڈالے تھے۔
‘میں نے اور علی نے کچھ ساتھیوں کے ساتھ مل کر بہت مرتبہ آپ کو آزاد کروانے کی کوشش کی لیکن ہر دفعہ ہمیں ناکامی کا سامنا ہوا تھا۔لیکن جب ہمیں آپ کی پھانسی کی سزا کے بارے میں پتہ چلا تو ہم نے مدد کے لیئے آپ کے اپنوں کے پاس جانے کی کوشش کی۔آپ کے بابا تو یہ خبر سن کر مکمل طور پر ٹوٹ گئے تھے اور شاہرام پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا تھا۔اس لیئے ہم آپ کے ماموں کا پتہ لگا کر ان کے پاس مدد کے لیئے آئے۔’سعد نے اسے ساری بات سے آگاہ کیا۔
‘وجدان نے اپنا ایک گینگ بنایا ہوا ہے تا کہ وہ برے لوگوں کا پتہ لگا کر انہیں ان کے انجام تک پہنچا سکے۔جب سعد میرے پاس آیا تو میں نے اسے تمہاری مدد کے لیئے بھیجا۔’
اس بار ہاشم صاحب بولے تھے۔
شایان حیران تھا کہ کس طرح وہ اسے بچانے کے لیئے آرمی سے بھڑے تھے۔
‘اب آگے کیا سوچا ہے؟کیا کرو گے اب تم؟’وجدان نے شایان سے پوچھا تھا۔
شایان نے اس سوال کے بارے میں بہت سوچا تھا۔
‘اس شخص کا پتہ لگاؤں گا جس نے وہ دھماکہ کروا کر معصوم لوگوں کی جانیں لیں اور آرمی میں موجود ان غداروں کا بھی پتہ لگاؤں گا جنہوں نے شاہرام کا ساتھ دے کر الزام مجھ پر لگایا۔’شایان نے مٹھیاں بھینچتے ہوئے کہا۔
‘تو ہم شاہرام کو اٹھا کر اس کے منہ سے سب اگلواہ لیں گے۔’سعد نے کہا تھا۔
‘اس کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ہمارے پاس ثبوت نہیں ہیں شاہرام کے خلاف اور اس کے خلاف ثبوت ہمیں اسی آدمی سے ملیں گے جس نے وہ دھماکہ کروایا تھا۔’ شایان نے انہیں بتایا تو وجدان نے بھی ہاں میں سر ہلایا۔
‘یہ کام تم شایان شاہ بن کے نہیں کر سکتے تمہیں آرمی ہر جگہ ڈھونڈ رہی ہو گی۔ہمیں تمہیں ایک نئی پہچان اور ایک نیا نام دینا ہو گا۔’وجدان نے اسے بتایا تھا۔
‘تو تم ہی نام بتا دو اس سب میں ایکسپرٹ ہو گے تم۔’شایان نے اس وجدان سے پوچھا تھا۔
وجدان نے کچھ دیر سوچا اور پھر بولا ۔
‘دراب خان ہو اب سے تم ۔’ وجدان نے اتنا ہی اسے بتایا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وجدان نے شایان کو ہر طرح سے دراب خان بننے میں اسکی مدد کی تھی۔اسکا حلیہ مکمل طور پر بدل دیا تھا ۔شایان کا کوئی بہت قریبی ہی اسے پہچان سکتا تھا۔اسے دراب خان کے ناٰم کا نقلی آئی ڈی بھی بنوا کر دیا تھا۔سعد نے شایان کا ساتھ دینا چاہا تو اس نے منع کر دیا۔اس کے مطابق سعد پہلے سے ہی اس کی وجہ سے بہت مشکل اٹھا چکا تھا۔لیکن سعد نے بھی اسے کہہ دیا تھا کہ وہ یہ سب شایان کے لیئے نہیں بلکہ اپنے ملک کے دشمنوں اور غداروں کو پکڑنے کے لیئے کر رہا ہے۔
سعد نے اپنا نام بھی نہیں بدلا تھا۔بس اس نے رفیق کو ہٹا کر اپنے نام کے ساتھ خان لگا لیا تھا۔
وجدان نے بم دھماکے میں ملوس ایک آدمی کا پتہ لگوایا تھا۔جس سے شایان نے ساری معلومات لے کر اسے بہت بے رحمی سے مار دیا اور اس کے ماتھے پر دارا لکھ دیا۔جس کے بعد دارا کا نام ہر طرف مشہور ہو گیا تھا۔لیکن کوئی بھی اسے پہچان نہیں سکتا تھا۔
اس نے اور سعد نے مل کر بادشاہ کا پتہ لگایا اور پھر اسکے ہر چھوٹے بڑے آدمی کا شکار کرنا شروع کر دیا۔
دارا بادشاہ کے ہر منصوبے کے آڑے آتا تھا اور اسکا ہر طرح کا غیر قانونی کاروبار برباد کرتا گیا اور ایسا کرنے پر بہت بار اس کام کو کروانے کا الزام دارا پر آ گیا۔اب آرمی بھی دارا کو پکڑنا چاہتی تھی لیکن دارا کے نام کے علاوہ کوئی اور انفارمیشن کبھی کسی کے ہاتھ نہیں آئی تھی۔دارا کی منزل بادشاہ کو پکڑنا اور اس سے ان غداروں کے ناموں کو اگلوانا تھا کیونکہ اس کا کوئی بھی آدمی فوج میں چھپے غداروں کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا ۔اس سب کی معلومات صرف بادشاہ کے پاس تھی اس لیئے وہی دارا کا سب سے بڑا ٹارگٹ تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دراب کی معمول سے چلتی زندگی میں بدلاؤ اس دن آیا جب وہ بہاولپور سے کراچی جانے کے لیئے ٹرین پر چڑھا تھا اور اس کی نظر ایک سہمی سی لڑکی پر پڑی جو سامنے موجود لڑکوں سے گھبرا رہی تھی۔دراب نے سعد کو اشارہ کیا تو وہ اس لڑکی کے ساتھ بیٹھ گیا۔
دراب کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ لڑکی کیوں اسکا دھیان کھینچ اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔لیکن اس کا جواب اسے اس لڑکی کا نام جانتے ہی مل گیا تھا۔دراب بہت غصے میں تھا کیونکہ اسکی سب سے بڑی خواہش اور جنون اسکے سامنے موجود تھا لیکن اب وہ کچھ اور ہی بن چکا تھا۔
پھر اسکے غصے میں اضافہ تب ہوا جب جانان ان انجان لوگوں پر بھر میں بھروسہ کر بیٹھی تھی۔دراب یہ جانتا تھا کہ اس کے گھر پہنچ کر جانان کو اسکے بارے میں سب معلوم ہو جائے گا اور اسے یہی بہتر لگا تھا۔لیکن جانان کا اپنا وعدہ پورا کرنے کا جنون اور شایان کو لے کر اسکی معصوم سی خواہشیں دراب کے دل کی دنیا ہلانے کے لیئے کافی تھیں۔
دراب کے دل میں خواہش پیدا ہونے لگی کہ جانان اس کے بارے میں کبھی بھی کچھ غلط نہیں جانے۔اسی لئے اس نے جانان کو واپس لاہور جانے کے لیئے مجبور کیا۔مگر یہاں بھی اسکی ضد نے دراب کو مجبور کر دیا۔
دراب کے لیئے اس سے دوری اختیار کرنا مشکل ہوتا جا رہا تھا۔اس لیئے اس نے دونوں کے راستے الگ کرنے کا سوچا۔لیکن پھر سے قسمت نے انہیں ایک ہی راستے پر چلنے کے لیئے مجبور کر دیا۔
وہ سفر دراب کی زندگی کا سب سے حسین تجربہ رہا تھا۔مگر ہر گزرتے دن کے ساتھ اس میں جانان کو پانے کی تڑپ بڑھتی جا رہی تھی۔آخر کار وہ وقت بھی آ گیا جب دراب نے اسے حسن صاحب کے گھر چھوڑا تھا۔وہ یہ جانتا تھا کہ اب جانان کی محبت اسکی چاہت سب ختم ہو جائے گی اور اس دن بہت عرصے کے بعد دراب نے اپنی قسمت کو کوسا تھا۔
دراب نے سوچا تھا کہ حسن صاحب اسے سب سچ بتا کر واپس بھیجوا دیں گے۔مگر اس سڑک کے کنارے جانان کو روتے دیکھ کر وہ بہت حیران ہوا تھا۔اس نے نہیں سوچا تھا کہ اس کے بابا اتنے ظالم بھی ہو سکتے تھے۔
لیکن جب جانان نے اسے طلاق کے کاغذات دیکھائے تو دراب کا پارہ ہائی ہو گیا تھا۔وہ ان کاغذات کو دیکھتے ہی سمجھ گیا تھا کہ یہ فیک ہیں۔اس کے تو سائن تک اصلی نہیں تھے۔وہ سمجھ گیا تھا کہ یہ فریحہ اور شاہرام کا کام ہے ۔وہ دونوں دراب سے اس کی آخری خوشی بھی چھیننا چاہ رہے تھے۔
دراب نے جانان کو واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا۔لیکن جانان نے اس کو بچانے کے لیئے اپنی جان کو داؤ پر لگایا تو دراب نے سوچ لیا تھا کہ وہ اب اس سے کسی بھی صورت دور نہیں رہے گا۔وہ سب کچھ جانان سے چھپا کر اسے ہاشم صاحب کے پاس محفوظ رکھے گا ۔لیکن اب اس سے مزید دوری وہ برداشت نہیں کر سکتا تھا کیونکہ جانان کے وجود اور اس کے کردار نے شایان شاہ کی چاہت اور خواہش کو عشق میں بدل دیا تھا اور دراب کا عشق جانان کی ہر سانس پر اپنی ملکیت چاہتا تھا۔اس لیئے اس نے جانان کے ساتھ شایان شاہ کی بجاۓ دراب خان بن کر رہنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔