Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17

عثمان کو پتہ لگ گیا تھا کہ حمنہ کو کہاں رکھا گیا تھا۔اپنے وعدے کے مطابق خان نے دو گھنٹوں میں اسے ساری معلومات دے دی تھی ۔انہوں نے حمنہ کو ایک خالی گودام میں رکھا تھا۔ عثمان پولیس کے ساتھ اس گودام کے باہر کھڑا تھا اور سب خاموشی سے داخل ہو رہے تھے تا کہ ان لوگوں کو پولیس کے آنے کی خبر نہ ہو۔
وہاں پر پولیس کو پانچ غنڈے ملے تھے جنہیں پولیس نے بہت آسانی سے زیر کر دیا تھا۔عثمان اس گودام میں پہنچ کر ہر جگہ حمنہ کو ڈھونڈنے میں مصروف تھا۔
‘سر یہاں دیکھیں۔’
ایک پولیس کانسٹیبل کی آواز پر عثمان بھاگ کر وہاں پہنچا تھا اور سامنے کا منظر اس کے حواس پر حاوی ہو گیا تھا۔
حمنہ فرش پر الٹا گری ہوئی تھی اور اسکے وجود میں ہلکی سی بھی حرکت نہیں ہو رہی تھی۔عثمان بھاگ کر اس کے پاس گیا اور اسکا سر اٹھا کر اپنی گود میں رکھا۔
‘حمنہ’
حمنہ کا چہرہ بری طرح سے سوجا ہوا تھا اور اس کے سر سے خون بہہ رہا تھا۔عثمان کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کرے۔
‘سر انہیں ہاسپٹل لے کر چلنا چاہیے۔’
انسپیکٹر کی بات پر عثمان کو ہوش آیا تو اس نے جلدی سے حمنہ کو اپنی گود میں اٹھایا اور گاڑی کی طرف بھاگنے لگا۔پولیس والے بھی اس کے ساتھ تھے۔عثمان حمنہ کو لیئے گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھا تھا اور ڈرائیور بھی پوری رفتار سے گاڑی چلانے میں مصروف تھا۔
‘حمنہ یار پلیز آنکھیں کھولو ۔تم جانتی ہو کہ تمہیں کچھ ہو گیا تو میں مر جاؤں گا۔’
عثمان حمنہ کی منتیں کر رہا تھا۔وہ بس اتنا جانتا تھا کہ حمنہ بہت دیر کے بعد اسکی زندگی میں کوئی خوشی بن کر آئی ہے اور وہ اب اسے کھونے کی ہمت نہیں رکھتا تھا۔
کچھ دیر بعد ہی وہ ہسپتال پہنچ گئے تھے۔ڈاکٹرز حمنہ کی حالت کو دیکھتے ہی فوراً اسے آئی سی یو میں لے گئے تھے۔
عثمان پر ہر گزرتا سیکنڈ بھاری تھا اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ سب کچھ ختم کر دے۔سلامت بابا نے شاید سلمان صاحب کو اطلاع کر دی تھی اس لیئے وہ فاطمہ بیگم اور زرش کے ساتھ وہاں پہنچ گئے تھے۔
‘کہاں ہے حمنہ وہ ٹھیک تو ہے نا؟’
فاطمہ بیگم عثمان سے روتے ہوئے پوچھ رہی تھیں۔لیکن عثمان ایک بت کی مانند کھڑا تھا۔کوئی جواب نہ پا کر فاطمہ بیگم مزید رونے لگیں ۔سلمان صاحب نے فاطمہ بیگم کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور انہیں لا کر کرسی پہ زرش کے ساتھ بیٹھا دیا جو ایسے لگ رہی تھی کہ ابھی بے ہوش ہو جائے گی۔
ایک انسپکٹر عثمان کے پاس آیا۔
‘سر جن پانچ غنڈوں کو ہم نے پکڑا ہے ان سے ہمیں معلوم ہوا ہے کہ انہیں ایک آدمی اور ایک لڑکی نے انہیں پیسے دیے تھے میم کو اغواء کرنے کے لئے۔لیکن ان کے بارے میں وہ کچھ نہیں جانتے کہ وہ لوگ کون تھے اور سر وہاں پر کوئی کیمرہ بھی موجود نہیں تھا جس سے ان کا پتہ چلتا۔آپ کے گارڈ غفار کی بھی ہمیں وہاں سے لاش ملی ہے۔اب تو میم کے ہوش آنے پر ہی کچھ۔۔۔۔۔۔’
عثمان نے اپنا ہاتھ اوپر کیا اور اسے مزید بولنے سے روک دیا۔عثمان کے لیئے حمنہ کی صحت سے ذیادہ ابھی کچھ ضروری نہیں تھا۔ایک بار وہ ٹھیک ہو جائے تو وہ انہیں جہنم سے بھی ڈھونڈ نکالے گا اور عبرت ناک انجام ہو گا انکا۔
جبکہ انسپکٹر کی بات سن کر سلمان صاحب کی پریشانی میں مزید اضافہ ہو گیا تھا۔حمنہ جانتی تھی کہ اسے سلمان صاحب نے بلایا تھا۔اگر اس وہ ٹھیک ہو گئی تو ان کا بچنا ناممکن تھا۔ان کے دماغ پر اس وقت حمنہ کی خیریت سے ذیادہ یہ سوچ سوار تھی۔
کافی دیر بعد ایک ڈاکٹر باہر آئی تھی اور سیدھا عثمان کے پاس چلی گئی۔عثمان اسے بے چینی سے دیکھ رہا تھا۔فاطمہ بیگم بھی ان کے پاس آ گئی تھیں۔
‘مسٹر ملک آپ کی بیوی پر کافی تشددد کیا گیا ہے۔بہت زیادہ مارا پیٹا گیا ہے انہیں۔ہم نے مکمل کوشش کی لیکن۔۔۔’ڈاکٹر ایک پل کے لیئے رکی تھی۔
‘لیکن کیا؟’عثمان غصے سے دھاڑا تھا ۔
‘سوری مسٹر ملک لیکن ہم آپ کے بچے کو نہیں بچا سکے۔’
‘بچہ؟’عثمان نے صدمے سے پوچھا تھا اسے لگ رہا تھا اس کی سانسیں تھم جائیں گی۔
‘جی آپ کی وائف پریگننٹ تھیں۔’
عثمان سے اب مزید کھڑا نہیں ہوا جا رہا تھا وہ ایک بار پھر سے سب کچھ کھونے جا رہا تھا۔اپنا بچہ تو وہ کھو چکا تھا اور اب حمنہ۔۔۔۔
‘حمنہ کیسی ہے؟پلیز ڈاکٹر اسے بچا لیں آپ جو چاہیں گی آپ کو ملے گا پلیز اسے کچھ نہیں ہونا چاہیے۔’عثمان ہاتھ جوڑے ڈاکٹر کی منتیں کر رہا تھا۔
‘پلیز مسٹر ملک آپ مجھے شرمندہ نہیں کریں۔ہم اپنی مکمل کوشش کر رہے ہیں آپ بس اللہ سے دعا کریں۔’
عثمان کافی دیر بت بنا وہاں کھڑا رہا پھر حمنہ کی زندگی کا سوچ کر وضو کرنے چلا گیا۔وہ اپنے رب کے حضور گڑگڑا کر بھیک مانگے گا۔اپنی حمنہ مانگے گا۔بلکل جیسے تین سال پہلے اس نے اپنے باپ کو مانگا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دراب ساری رات جاگتا رہا تھا اور جانان کے چہرے کو دیکھتے ہوئے یہی دعا مانگتا رہا کہ جانان اس سے نفرت نہ کرے۔دور تو دراب اسے خود سے کبھی بھی ہونے نہیں دے گا۔پھر چاہے اسے جانان کے ساتھ زبردستی ہی کیوں نہ کرنی پڑتی۔لیکن وہ اس کی نفرت بھی برداشت نہیں کر سکتا تھا۔فجر کا وقت ہوا تو دراب جانان کے سر پر بوسہ دے کر نماز پڑھنے چلا گیا ۔
نماز پڑھنے کے بعد وہ دوبارہ سے جانان کے پاس آکر لیٹ گیا اور اس کے چہرے سے بال ہٹا کر اسے دیکھنے لگا۔اپنے چہرے پر ہاتھوں کو لمس محسوس کر کے جانان ہوش کی دنیا میں آئی۔پر جیسے ہی اس کی دراب پر نظر پڑی تو وہ خوف سے چیخ مارتے ہوئے اس سے دور ہوئی۔دراب کو لگا تھا کہ جانان کی نفرت تکلیف دہ ہو گی لیکن اس کی آنکھوں میں دراب کے لیئے یہ خوف اس تکلیف سے بھی کئی گنا زیادہ تھا۔
‘جانانِ دراب میری بات تو سنو۔’
دراب بہت نرمی سے کہتا ہوا اس کے قریب ہوا۔تو جانان بیڈ سے اتر کر ایک کونے میں کھڑی ہو گئی۔
‘دور رہیں مجھ سے۔’جانان کی آواز خوف سے کانپ رہی تھی۔دراب اٹھ کر اس کے پاس جانے لگا۔
‘جانان میری بات تو سنو۔’دراب نے اس کے پاس آ کر اسے اس کے بازؤں سے پکڑا جنہیں جانان نے بے رحمی سے چھڑایا تھا۔
‘ہاتھ مت لگائیں مجھے۔نفرت ہو رہی یے مجھے آپ سے بھی اور خود سے بھی۔میں آپ کو اس دنیا کا سب سے اچھا انسان سمجھتی رہی۔جس نے ایک لڑکی کا فائدہ اٹھائے بغیر نہ صرف اسکی مدد کی تھی بلکہ اسکی حفاظت بھی کی۔لیکن مجھے کیا پتہ تھا کہ آپ انسان کی شکل میں ایک شیطان ہیں جس نے پتہ نہیں کتنے گھر اجاڑے۔کتنے لوگوں کو مار ڈالا۔مجھے خود سے نفرت ہو رہی ہے کہ میں نے آپ جیسے حیوان سی محبت کی۔’
جانان اپنے الفاظ سے نہ صرف دراب کے دل بلکہ اس کی روح تک کو چھلنی کر رہی تھی۔دراب نے آنکھوں میں آئے آنسوؤں کو واپس دھکیلتے ہوئے پھر سے کوشش کی۔
جانان پلیز ایک بار میری بات سن تو لو۔’
‘کیا سن لوں۔آپ کو کیا لگتا ہے کہ وہ سب آپکے منہ سے سننے کہ بعد میں اب آپ پر یقین کر لوں گی۔کبھی بھی نہیں۔کسی اور سے سنا ہوتا تو میں تو اسے جھوٹا ہی کہتی مگر اچھا ہوا کہ اپنا سچ آپ خود سامنے لے آئے۔’
جانان وہاں سے جانے لگی تو دراب نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا۔
‘پلیز صرف ایک بار میری بات سن لو۔’دراب نے بھیک مانگی تھی۔
‘نہیں سننا مجھے کچھ اور نہ ہی میں آپ کے پاس رہوں گی ۔میں واپس چلی۔۔۔۔۔۔’
جانان کے الفاظ ابھی اس کہ منہ میں ہی تھے جب دراب نے سختی سے اسے اپنی طرف کھینچا اور ایک ہاتھ سے اسکی نازک گردن کو دبوچ لیا۔
‘بس اب ۔میں سب کچھ برداشت کر لوں گا لیکن اگر یہاں سے جانے کی بات کی تم نے تو تمہاری ٹانگیں توڑ دوں گا۔’
دراب غصے سے دھاڑا تھا ۔جانان سہم کر اسے دیکھنے لگی لیکن پھر ہمت کر کے بولی۔
‘مم۔۔۔۔۔۔۔۔میں آپ جیسے آدمی کے پپ۔۔۔پاس نہیں رہوں گی۔میں بھاگ جج۔۔۔۔جاؤں گی یہاں سے اور پھر کبھی نہیں ملوں گی آپ کو۔’
دراب کا دل کیا کہ اسکا منہ تھپڑوں سے لال کر دے ۔اس نے جانان کا گلا چھوڑ کر اسکے منہ کو سختی سے دبوچا اور خونخوار آنکھوں سے اسے دیکھا۔وہ اب اسکا دراب نہیں تھا وہ دارا تھا۔
‘تم دنیا کہ کسی بھی کونے میں چلی جاؤ دارا تمہیں ڈھونڈ نکالے گا۔اگر تم دراب خان کی محبت اور اسکا عشق ہو تو تم دارا کا جنون اور دیوانگی بھی ہو۔یہ تمہارا خواب ہے کہ تم یہاں سے جا سکو گی اس لیئے اسے اپنے چھوٹے سے ذہن سے نکال دو۔’
جانان نے دراب کا یہ روپ کبھی نہیں دیکھا تھا اور اب وہ اس سے بری طرح سے ڈر چکی تھی۔
‘مم۔۔۔۔میں آا۔۔۔۔۔۔۔آپ سے نفرت کک۔۔۔۔۔۔کرتی ہوں۔’
دراب جو جانان کو سب کچھ بتانا چاہتا تھا اس کے ایسا کہنے پر اسے جھٹکے سے چھوڑ کے وہاں سے چلا گیا۔وہ سمجھ چکا تھا کہ اب وہ کچھ بھی کہ لے جانان اسکا یقین نہیں کرے گی۔جانان کا اعتبار وہ مکمل طور پر کھو چکا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عثمان نے ساری رات اللہ کے حضور دعائیں کرتے ہوئے گزاری تھی۔ساری رات وہ سجدوں میں روتے ہوئے حمنہ کی زندگی مانگتا رہا تھا اور ابھی فجر کے بعد سلامت بابا اس کے پاس آئے تھے۔
‘بیٹا حمنہ کو ہوش آ گیا ہے ڈاکٹروں نے کہا ہے وہ خطرے سے باہر ہے۔’
بس اتنا سننا تھا عثمان بھاگتا ہوا آئی سی یو کی طرف گیا۔ڈاکٹرز نے اسے اندر جانے کی اجازت دے دی تھی ۔عثمان آہستہ سے حمنہ کے پاس گیا تھا۔حمنہ کی آنکھوں میں اسے دیکھتے ہی آنسو آگئے تھے۔جو عثمان نے انتہائی نرمی سے صاف کیئے تھے اور اسے مسکرا کر دیکھا تھا۔حمنہ دوائیوں کے زیر اثر دوبارہ نیند میں چلی گئی تھی۔ڈاکٹر نے عثمان کو باہر آنے کا اشارہ کیا تھا۔
‘آپ کی وائف اب مکمل طور پر خطرے سے باہر ہے ابھی ہم انہیں وارڈ میں شفٹ کر دیں گے۔’
ڈاکٹر کی بات سن کر عثمان مسکرایا اور پھر سنجیدگی سے ڈاکٹر کو کہنے لگا۔
‘ڈاکٹر صاحبہ آپ حمنہ کو ہمارے بچے کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں ہونے دیں گی۔میں نہیں چاہتا کہ وہ پریشان ہو۔’
ڈاکٹر نے عثمان کی بات پر اثبات میں سر ہلایا اور وہاں سے چلی گئیں۔عثمان نے اپنے ساتھ کھڑے انسپکٹر کو دیکھا۔
‘حمنہ کو ہوش آتے ہی اسکا بیان لینا اور اسکے بعد ان لوگوں کو جہنم سے بھی ڈھونڈ کر لانا پڑے وہ مجھے اپنے سامنے چاہیں۔’
‘جی سر۔’ پھر انسپکٹر بھی وہاں سے چلا گیا تو عثمان بھی فاطمہ بیگم کی طرح اللہ کا شکر ادا کرنے چلا گیا۔
حمنہ نے سچ کہا تھا کہ اللہ تعالی دل سے کی التجا کو کبھی بھی نہیں جھٹلاتے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جانان سارا دن کمرے میں بیٹھی روتی رہی تھی ۔اس نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ اس کی زندگی ایسا موڑ بھی لے گی۔وہ جانتی تھی کہ دراب اس سے بہت محبت کرتا ہے لیکن وہ کیسے اس انسان کے ساتھ محبت کر سکتی تھی جو نا جانے کتنے معصوم لوگوں کا قاتل تھا۔یہ سوچتے ہی اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ دراب کو کبھی بھی معاف نہیں کرے گی۔
ہاشم صاحب اور سعد کئی بار اس سے ملنے آئے تھے لیکن وہ کسی سے بھی نہیں ملی تھی۔وہ جانتی تھی کہ وہ دونوں اسے دراب کے بارے میں صفایاں پیش کریں گے اور اب جانان جھوٹ سن کر اکتا چکی تھی۔
اچانک سے اس کے کمرے کا دروازہ کھلا اور دراب اس کے پاس آیا۔اس کے ساتھ گل بھی تھی جس نے جانان کے پاس کھانا رکھا تھا۔جانان دراب سے منہ پھیرے بیٹھی ہوئی تھی۔
‘جانان کھانا کھا لو تم نے صبح سے کچھ بھی نہیں کھایا۔’دراب نے بہت نرمی سے کہا تھا۔لیکن جانان نے کوئی جواب نہیں دیا۔
‘جانان پلیز یار اس معاملے میں ضد نہیں کرو۔دیکھو کھانا کھا لو۔’دراب نے اس مرتبہ پہلے سے بھی ذیادہ پیار سے کہا تھا۔ جواب میں جانان وہاں سے اٹھ کر جانے لگی تو دراب نے سختی سے اس کو بازو پکڑا اور اسے بیڈ پر بیٹھا دیا۔
‘چپ چاپ کھانا کھاؤ ورنہ اچھا نہیں ہو گا۔’
دراب نے اسکا منہ دبوچتے ہوئے سختی سے کہا تھا۔پتہ نہیں اس کی آنکھوں میں ایسا کیا تھا جسے دیکھ کر جانان کی روح تک خوف سے کانپ گئی تھی۔اس نے روتے ہوئے کھانا کھانا شروع کر دیا۔دراب اس کے پاس بیٹھا اسے خاموشی سے دیکھ رہا تھا۔جب اس کو تسلی ہو گئی کہ جانان نے ٹھیک سے کھانا کھا لیا ہے اس نے گل کو بلایا جو خاموشی سے برتن واپس لے گئی۔دراب جانان کے پاس آ کر بیٹھا۔
‘میں جانتا ہوں کہ میں تمہیں کچھ بھی کہہ لوں تم اس پر یقین نہیں کرو گی۔بس ایک بات کبھی مت بھولنا جانان ،تم میری محبت ہو اور میں اپنی آخری سانس تک تم سے ہی محبت کروں گا۔پھر مجھے بدلے میں تمہاری نفرت ہی کیوں نہ ملے۔’
جانان سر جھکائے اس کی بات سن رہی تھی۔دراب اٹھا اور ایک فائل اس کے پاس رکھی۔
‘اگر ہو سکے تو اسے پڑھ لینا۔شاید تمہاری نفرت میں تھوڑی کمی ہو جائے۔’ دراب نے جانان کا چہرہ ٹھوڈی سے پکڑ کر اوپر کیا اور اسکی جھکی ہوئی آنکھوں کو دیکھنے لگا۔
‘میں جا رہا ہوں جانان ۔تم یہیں رہو گی اور کوئی بھی بیوقوفی کر کے خود کو یا کسی کو تکلیف مت دینا۔سمجھی۔’
اتنا کہہ کر دراب نے انتہائی نرمی سے اس کی آنکھوں کو چوما تھا جن سے اب آنسو بہنے لگے تھے۔پھر بھی جانان ایک پتھر بنی ہوئی تھی۔دراب نے اسکا چہرہ چھوڑا اور باہر کی طرف چل دیا۔
‘خدا حافظ۔’دراب اتنا کہہ کر وہاں سے جا چکا تھا اور جانان پھر سے بری طرح رونے لگی تھی۔اس کی نظر دراب کی دی ہوئی فائل پر گئی تو اس نے بے دردی سے اسے اٹھا کر فرش پہ پھینکا اور بری طرح سے رونے لگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حمنہ دو دن تک اس معاملے میں کوئی بات نہیں کر سکی تھی وہ اس سب کو یاد بھی نہیں کرنا چاہتی تھی۔عثمان کے علاوہ باقی سب نے بھی اس سے پوچھا تھا لیکن حمنہ نے کچھ بھی نہیں بتایا تھا۔آخر کار عثمان نے اسے اپنی قسم دی تو حمنہ پولیس کو بیان دینے کے لیئے تیار ہو گئی۔اب اس وقت پولیس حمنہ سے بیان لے رہی تھی ۔سلمان صاحب وارڈ کے باہر عثمان کے ساتھ کھڑے انتظار کر رہے تھے۔وہ جانتے تھے کہ پولیس ابھی انہیں گرفتار کر کے لے جائے گی لیکن اب انہیں اس بات کا کوئی بھی ڈر نہیں تھا۔جو سب وہ کر چکے تھے اس کے بعد وہ چاہتے تھے کہ پولیس انہیں جیل میں ڈال دے۔
آخر کار انسپیکٹر باہر آیا اور عثمان کے پاس کھڑا ہو گیا۔
‘میم نے بتایا ہے کہ آپ کی پہلی بیوی ردا بیگ اور ان کے خاوند عمر بیگ نے ان کو اغوا کیا تھا۔ردا بیگ کا مقصد آپ کو بلیک میل کر کے آپ کی پراپرٹی حاصل کرنا تھا۔سلمان صاحب کا موبائیل چرا کر ردا بیگ نے میم کو کال کر کے بلایا تھا اور یہ کہا تھا کہ ان کی امی کی طبیعت خراب ہے۔لیکن جب وہ اس گاڑی میں بیٹھیں تو غفار کو مار کے انہوں نے میم کو بے ہوش کر دیا تھا۔’
پولیس والے نے ساری بات عثمان کو بتائیں تو غصے سے اس کی رگیں تن گئیں۔
‘ان کو ڈھونڈ نکالو انسپیکٹر وہ بچنے نہیں چاہئے۔’
انسپیکٹر ہاں میں سر ہلا کر چلا گیا اور عثمان واپس حمنہ کے پاس کمرے میں چلا گیا تھا۔جبکہ سلمان صاحب بت بنے کھڑے تھے۔حمنہ کیسے ان کو اتنی آسانی سے معاف کر سکتی ہے اس نے تو کہیں بھی ان کا نام بھی نہیں آنے دیا تھا۔وہ نہ چاہتے ہوئے بھی حمنہ کے وارڈ کی طرف گئے۔
‘کیا میں حمنہ سے اکیلے میں بات کر سکتا ہوں؟’
عثمان جو حمنہ کی کسی بات پر مسکرا رہا تھا سلمان صاحب کی آواز پر مڑ کے انہیں دیکھنے لگا اور پھر ہاں میں سر ہلاتا ہوا باہر چلا گیا۔حمنہ سر جھکائے بیٹھی تھی۔
‘تم جانتی تھی نہ کہ تمہارے اغواء ہونے میں میرا بھی ہاتھ ہے پھر کیوں نہیں بتایا پولیس کو اس بارے میں؟’
حمنہ نےان کی بات پر اپنا چہرہ اٹھا کر گھائل نظروں سے ان کو دیکھا۔پھر طویل خاموشی کے بعد بولی۔
‘آپ ایک بیٹی نہیں نا ،آپ نہیں سمجھیں گے۔آپ نے اپنی ناکام محبت کی وجہ سے امی کو سزا دی،بیٹے کی خواہش پوری نہ ہونے پر اپنی بیٹیوں کو سزا دی،الیکشن کا خواب ٹوٹنے پر مجھے سزا دی۔شاید آپ بھول گئے تھے کہ بیٹا نہ سہی لیکن آپ کی اولاد تو ہوں۔۔۔۔۔۔۔’
حمنہ اتنا بول کر بری طرح سے رونے لگی تھی۔جبکہ اس کی باتیں سلمان صاحب کو اندر تک جھنجوڑ رہی تھیں۔
‘لیکن دیکھیں نا پھر بھی میں نہیں بھول سکی کہ آپ میرے بابا ہیں۔کیونکہ میں ایک بیٹی ہوں جو ایک بیٹے کی طرح خواہش نہیں ،ذمہ داری ہوتی ہے۔لیکن وہ اپنے ماں باپ کو اس دنیا میں سب سے اونچا مقام دیتی ہے۔
میں آپ کو کیسے اس مقام سے گرنے دیتی بابا۔اس لیئے میں نے آپ کو معاف کیا۔’
حمنہ روتے ہوئے بولی تو سلمان صاحب اسکے پیروں میں بیٹھ گئے اور اپنے ہاتھ اسکے پیروں پر رکھے جن کو ہٹانے کی حمنہ نے کوشش کی۔
‘بابا آپ کیا کر رہے ہیں۔’حمنہ پریشانی سے بولی تھی۔
‘مجھے سزا چاہیے حمنہ تمہاری معافی کے قابل نہیں ہوں۔تم کیسے مجھے معاف کر سکتی ہو۔۔۔نہیں مجھے سزا چاہیے تم سے صرف سزا۔’سلمان صاحب بری طرح سے روتے ہوئے بولے اور اپنے ہاتھ حمنہ کے سامنے جوڑ دیے۔
‘نہیں بابا ایسا مت کہیں،میں نے آپ کو معاف کیا۔’حمنہ نے ان کے ہاتھوں کو تھاما تھا۔
‘ایسے کیسے معاف کر دیا تمہارا تو سب سے بڑا مجرم ہوں میں قاتل ہوں تمہارے بچے کا۔’اس بات پر حمنہ حیرت سے انہیں دیکھنے لگی۔
‘بچہ؟’حمنہ نے ان کے ہاتھ چھوڑ کر بے تحاشہ غم سے انہیں دیکھا۔
‘ہاں حمنہ میں قاتل ہوں اسکا۔تم ایک بیٹی ہونے کے ناطے تو مجھے معاف کر سکتی ہو۔لیکن ایک ماں ہونے کے ناطے مجھے سزا دو حمنہ سزا دو۔’
سلمان صاحب بری طرح سے رونے لگے تھے اور حمنہ کی آنکھوں سے بھی کئی آنسو ٹوٹ کر گرے تھے۔وہ تو جانتی ہی نہیں تھی کہ وہ کیا کھو چکی ہے۔
‘اس ماں نے بھی آپ کو معاف کیا اور یہی آپ کی سزا ہے۔’ ایک طویل خاموشی کے بعد حمنہ بولی تھی۔جبکہ اسکی یہ بات سلمان صاحب کو اندر تک ہلا گئی تھی۔
‘حمنہ۔۔۔۔۔۔’
‘آپ مجھے اکیلا چھوڑ دیں بابا پلیز۔’
حمنہ ان کی بات کو کاٹ کے بولی تھی۔سلمان صاحب ایک آخری نظر حمنہ پر ڈالتے ہوئے باہر چلے گئے۔ان کے دماغ میں ابھی بھی حمنہ کی کہی ہوئی باتیں گھوم رہی تھیں۔انہیں اپنے کیئے ہوئے ہر فعل پر پچھتاوا ہو رہا تھا۔اچانک سے وہ زمین پر بیٹھ کر بری طرح سے رونے لگے۔ان کے دماغ میں درد کی ٹھیسیں اٹھ رہی تھیں ۔انہوں نے اپنے سر پر ہاتھ رکھا اور وہیں لیٹتے ہوئے ہوش و ہواس سے بے خبر ہو گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دراب کو گئے ہوئے دو دن ہو گئے تھے اور ان دو دنوں میں نہ تو جانان نے کسی سے بات کی تھی اور نہ ہی وہ کمرے سے نکلی تھی۔گل اسے کمرے میں ہی کھانا دے جاتی تھی۔گل یا ہاشم صاحب اس سے بات کرنے کی کوشش بھی کرتے تو جانان بلکل خاموش رہتی تھی۔
جانان ابھی تک یقین نہیں کر پا رہی تھی کہ دراب اتنا برا ہو سکتا ہے۔جانان کو لگتا تھا کہ وہ اس دنیا کی سب سے خوش قسمت انسان ہے کیونکہ اس کے نصیب میں دراب کی محبت لکھی تھی۔لیکن وہ کیسے اس بات کو نظر انداز کر سکتی تھی کہ دراب ایک برا انسان تھا،ایک قاتل تھا۔
جانان کی نظر پاس موجود فائل پر گئی تھی جو دراب جاتے ہوئے اسے دے کر گیا تھا۔ان دو دنوں میں کئی مرتبہ جانان کی نظر اس فائل پر پڑی تھی لیکن اسے پڑھنا تو دور اس نے اسے کھول کر دیکھا بھی نہیں تھا۔جانان کے قدم نہ چاہتے ہوئے بھی اس فائل کی طرف اٹھے تھے۔
کافی دیر اسے گھورنے کے بعد آخر کار جانان نے اسے کھولا تھا۔اسکے کھولتے ہی ایک لاکٹ فرش پر گرا جسے دیکھ کر جانان کو حیرت کا جھٹکا لگا۔وہ وہی لاکٹ تھا جو چودہ سال پہلے اسے شایان شاہ نے دیا تھا اس وعدے کے ساتھ کہ وہ شایان شاہ کو یاد رکھے گی اور یہی لاکٹ تو جانان نے شایان کے گھر سے واپس آتے ہوئے پھینک دیا تھا۔لیکن جانان کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ یہ دراب کے پاس کیا کر رہا ہے؟
جانان نے فائل کو کھولا تو اس میں بہت سارے پروفیشنل ڈوکیومینٹس تھے اور وہ سارے ڈوکیومینٹس میجر شایان شاہ کے تھے ۔لیکن جو چیز جانان کے ذہن کو ماؤف کر رہی تھی وہ ان ڈوکیومینٹس پر موجود شایان شاہ کی آرمی یونیفارم میں تصویریں تھیں۔ جن کو وہ آنکھیں بند کر کے بھی پہچان سکتی تھی کیونکہ وہ اسکا دراب ہی تو تھا جو چھوٹے بالوں میں ڈاڑھی سے پاک چہرے کے ساتھ موجود تھا۔تو کیا دراب ہی شایان شاہ تھا؟ تو پھر وہ شخص کون تھا جس سے وہ ملی تھی؟جانان کے ذہن میں بہت سارے سوال گردش کر رہے تھے۔
جانان نے جلدی سے ان ڈوکیومینٹس کو ہٹایا تو ایک صاف صفحے پر چند تحریریں لکھی تھیں۔
‘مجھے امید ہے جانان کہ یہ سب پڑھ کے تمہیں مجھ پر یقین آ جائے گا۔مجھے لگا تھا کہ تم سے سب کچھ چھپا کر رکھنا بہتر ہو گا۔لیکن اسکا نتیجہ بہت برا نکلا جانان اور ویسے بھی تمہارا حق بنتا ہے سب سچ جاننے کا۔اس لئے وقت آگیا ہے کہ تمہیں سب کچھ بتا دیا جائے دراب خان کے بارے میں اور شایان شاہ کے بارے میں۔’
ان تحریروں کو پڑھتے ہی جانان نے بے چینی سے اگلے صفحات کو دیکھا جہاں بہت کچھ لکھا ہوا تھا۔جانان نے آنکھوں میں آئے آنسوؤں کو صاف کیا اور بیڈ پر بیٹھ کر پہلا صفحہ کھول کے پڑھنا شروع کر دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔