Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15

آج اتنے دنوں کے بعد سعد واپس آ گیا تھا اور اسکی سب سے زیادہ خوشی جانان کو ہوئی تھی ۔ ابھی بھی وہ لان میں ہاشم صاحب ،گل اور سعد کے ساتھ باتیں کرنے میں مصروف تھی اور ساتھ بیٹھے دراب کو مکمل اگنور کر رہی تھی۔
‘آپ لوگ میری ایک بات کا جواب دیں۔اگر ایک آدمی نے ایک دیوار چار دنوں میں بنائی ہے تو چار آدمی ایک دیوار کتنے دن میں بنائیں گے۔’
جانان نے سب کو دیکھتے ہوئے سوال پوچھا تو گل اپنی ذہانت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جلدی سے بولی۔
‘ ایک دن’
‘تم بھی ایک دم نالائق ہو گل۔جب دیوار بن گئی ہے تو وہ پاگل ہیں جو اسے دوبارہ بنائیں گے۔’
جانان اپنے سنائے لطیفے پر خود ہی ہنسنے لگی مگر باقی سب اسے ہنستے ہوئے دیکھ کر اس کے ساتھ شامل ہو گئے۔
‘رہنے دو جانان جوک پرانا ہو گیا ہے۔’
دراب نے چڑ کے کہا۔جانان اسے اتنے دنوں سے اگنور کر کے ناراضگی ظاہر کر رہی تھی جسکی وجہ سے وہ اب بہت ذیادہ چڑا ہوا تھا ۔وہ چاہتا تھا کہ جانان صرف اس سے باتیں کرے اور صرف اسی کے ساتھ وقت گزارے لیکن جانان کبھی ہاشم صاحب کے ساتھ پائی جاتی تو کبھی گل کے ساتھ۔جبکہ دراب کے ایسا کہنے پر جانان کا منہ بن گیا۔
‘بابا ان سے کہہ دیں کہ ذیادہ جیلس نہ ہوں ۔سب کو پتا ہے کہ میں ان سے ذیادہ فنی ہوں۔’
جانان نے اترا کے کہا تو ہاشم صاحب دراب کو دیکھتے ہوئے بولے۔
‘بھئی جیلس نہ ہو سب کو پتا ہے کہ ہمارا بیٹی تم سے زیادہ فنی ہے۔’
ہاشم صاحب نے جانان کی نقل اتارتے ہوئے کہا تو سب ہسنے لگے سوائے دراب کے۔
‘دا سمہ نندا بابا'(یہ صحیح نہیں ہے بابا)
دراب نے منہ بنا کر کہا تو جانان کو لگا کہ اسکے خلاف کوئی بات کی گئی ہے۔
‘بابا ان سے کہہ دیں کہ میری پشتو میں بے عزتی نہ کریں۔ورنہ مجھے بھی پنجابی آتی ہے اور اسکی سمجھ انہیں نہیں آئے گی۔’
‘او اچھا۔’
دراب نے کہا تو جانان نے بھی اسکی طرف رخ کیا۔
‘بلکل جی آپ کو کہنا چاہوں گی کہ
‘بوتھی چنگی نہ ہوئے تے بندہ گل ای چنگی کر لیندا۔'(شکل اچھی نہ ہو تو انسان بات ہی اچھی کر لیتا ہے۔)
جانان نے اترا کے کہا۔دراب آنکھیں پھاڑے اسے دیکھنے میں مصروف تھا۔جبکہ جانان بہت زیادہ خوش تھی کہ اسنے دراب کو اینٹ کا جواب پتھر سے دیا تھا۔
اچانک گل نے جانان کا بازو پکڑ کے اسے اپنی طرف کھینچا۔
‘جانو لالا کو پاکستان کی بہت سی زبانیں آتا ہے اور ان کو پنجابی بھی بولنا آتا ہے ۔کیا بول دیا تم ان کو؟’
گل کی بات سن کر جانان کے چودہ طبق روشن ہو گئے ۔اس نے ایک نظر دراب کو دیکھا جو دانت پیستے ہوئے اسے دیکھ رہا تھا ۔بس پھر جانان جلدی سے اٹھی اندر کی طرف بھاگ گئی۔دراب اسکے پیچھے لپکا اور لاؤنج میں پہنچنے تک جانان دراب کی گرفت میں تھی۔دراب نے اسے پکڑتے ہی اپنی گود میں اٹھا لیا اور کمرے کی طرف لے جانے لگا۔جانان ڈر سے کانپ رہی تھی۔
‘دراب آئی ایم سوری۔’
وہ جلدی سے بولی تو دراب مسکرا دیا اور اسے کمرے میں لا کر پاؤں سے دروازہ بند کر دیا۔
‘نہیں جانانِ دراب شوہر سے بدتمیزی کی سزا تو ملنی ہی چاہئے۔’
دراب نے شرارت سے کہا تو جانان نے خوف سے آنکھیں بند کر لیں۔دراب نے اسکے گال کو نرمی سے تھاما۔
‘سزا تو ملے گی جانان لیکن اب پہلے تمہیں مناؤں گا ۔
اتنا کہہ کے دراب اسے کانپتے ہوئے چھوڑ کر کمرے سے باہر چلا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سعد بہت زیادہ پریشان تھا ۔اسے جو خبر پتا چلی تھی وہ بہت خطرناک تھی اسکی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کرے۔اگر وہ دراب تک خبر نہ پہنچاتا تو بہت سے لوگوں کی جان کو خطرہ تھا ۔لیکن دراب نے ابھی تو جانان کے ساتھ زندگی شروع کی تھی پھر کیسے وہ اتنا بڑا خطرہ مول لیتا۔
‘کیا بات ہے سعد کافی خاموشی ہے آج تو۔’
دراب نے پیچھے سے آ کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔
‘کہاں مصروف تھے تم؟’سعد نے اس سے پوچھا ۔
‘یار تمہاری یہ جو بہن ہے نا تمہارے جانے کی وجہ سے ناراض ہو گئی تھی بس اسے ہی منانے کی تیاری کر رہا تھا۔’دراب نے مسکراتے ہوئے بتایا۔
‘دراب بادشاہ نے کافی بڑے دھماکے کا پلان کیا ہے۔’
‘کب اور کہاں؟’دراب نے اپنی مٹھیاں بھینچتے ہوئے پوچھا۔
‘تربت میں اب سے دس دن کے بعد ایک جلسہ ہے وہاں پر۔کافی زیادہ لوگ ہوں گے وہاں۔’سعد خود بھی پریشان تھا۔
‘ٹھیک ہے ہم جائیں گے وہاں ۔بادشاہ مزید لوگوں کو مارنے میں کامیاب نہیں ہو گا۔’
دراب اتنا بول کر وہاں سے جانے لگا تو سعد اس کے سامنے آیا۔
‘پاگل ہو گئے ہو دراب ۔ہم بس اتنا جان پائے ہیں کہ وہاں پر دھماکہ ہو گا کون کرے گا اور کس طرح کرے گا اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔تم نے سوچا ہے کہ یہ کتنا خطرناک ہے ۔تمہاری جان جا سکتی ہے۔’
‘پروا نہیں۔’دراب نے پھر سے جانے کی کوشش کی تھی۔
‘اور اپنے ساتھ جو زندگی جوڑ بیٹھے ہو اسکی بھی پروا نہیں؟سوچا ہے کہ کیا ہوگا جانان کا اگر تمہیں کچھ ہو گیا تو؟’
‘تم نے سوچا ہے کہ کیا ہو گا اگر دارا وہاں نہ پہنچا تو کتنے معصوم لوگ زندگی سے ہاریں گے۔’
دراب بہت چڑ گیا تھا کیونکہ جو نقشہ سعد نے کھینچا تھا وہ دراب کو اندر تک ہلا گیا تھا۔
‘ضروری تو نہیں کہ تم ہی ایسا کرو دراب ہم آرمی کو انفارمیشن دے دیں گے تو ہو سکتا ہے وہ جلسہ رد کروا دیں ۔نہیں تو صرف میں جاؤں گا وہاں۔’
سعد بھی اپنی بات منوانا چاہتا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اگر دراب کو کچھ ہو گیا تو جانان بھی جی نہیں پائے گی اور سعد اپنی بہن کے ساتھ ایسا نہیں ہونے دینا چاہتا تھا اور اس کے لیئے وہ کچھ بھی کر سکتا تھا۔
‘تمہیں لگتا ہے کہ آرمی کسی ثبوت کے بغیر اس پر یقین کر لے گی اور اگر کر بھی لے تو بہت سے جاسوس ہیں بادشاہ کے آرمی میں سعد ۔اس سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔جلسہ سیاسی معاملات کا ہے اس لیئے عوام اس میں ضرور شامل ہو گی۔وہ سیاست دان اپنا جلسہ رد بھی نہیں ہونے دے گا اور آخری بات جو تم نے کی ہے نا اس کا تو سوچنا ہی مت۔’
دراب ایک پل کے لیئے رکا اور پھر سعد کے پاس آیا۔
‘دیکھو میرے دوست میری زندگی یہی ہے میں اس سے بھاگ کر یا چھپ کر نہیں رہ سکتا اور نہ رہوں گا۔دارا دراب خان کا حصہ ہے اسے جدا نہیں کر سکتے۔’
دراب اپنی بات کر کے وہاں سے چلا گیا لیکن سعد نے بھی ٹھان لیا تھا کہ وہ دراب کو اپنی جان یوں خطرے میں نہیں ڈالنے دے گا اور اسکے لیئے وہ کچھ بھی کرنے کو تیار تھا ،دارا سے بغاوت بھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حمنہ اپنی زندگی سے بہت ذیادہ خوش تھی یہ پچھلا ایک مہینہ اس کی زندگی میں حسین ترین رہا تھا ۔اس نے سوچا نہیں تھا کہ سب کچھ اتنا اچھا ہو گا ۔بابا اور عثمان کو وہ سب سے غلط سمجھتی رہی اور اللہ تعالی نے دونوں کو سیدھی راہ دکھائی تھی۔اس کے لیئے حمنہ بہت زیادہ شکر گزار تھی۔وہ کھانے کے بعد عشاء پڑھنے چلی گئی اور عثمان کو بھی پڑھنے کا بول کر خود کمرے میں چلی گئی۔
عثمان نماز پڑھ کے آیا تو وہ ابھی بھی جائے نماز پر بیٹھی دعا مانگ رہی تھی۔عثمان اسے دیکھ کر مسکرا دیا ۔حمنہ نے اسکی زندگی بہت زیادہ حسین بنا دی تھی اور وہ اپنی ہر نماز کے بعد صرف حمنہ کے ملنے کا شکر ادا کرتا۔
حمنہ بھی دعا ختم کر کے جائے نماز رکھ کر اس کے پاس آ کر بیٹھ گئی اور سورتیں پڑھ کر اس پہ پھونکنے لگی۔
‘یہ کیا ہو رہا ہے جان جہاں۔’عثمان نے کافی محبت سے پوچھا۔
‘طلسم پڑھ کر پھونکے ہیں آپ پر تاکہ آپ میری ہر بات مانیں اور بکل فرمابردار شوہر بن کر رہیں’۔حمنہ شرارت سے بولی۔
‘اس کے لیئے کسی طلسم کی ضرورت نہیں آپ کو ہم تو پہلے ہی آپ کے غلام ہیں ملکہ عالیہ۔’
عثمان اس کے سامنے سر جھکاتے ہوئے بولا تو حمنہ کھلکھلائی۔عثمان نے اسے یوں مسکراتے دیکھ کر اپنی باہوں میں بھر لیا۔
‘محبت ہو تم میری حمنہ اور میں صرف تمہارا ہونا ہی سب سے زیادہ پسند کروں گا۔’ عثمان نے پیار سے اسکا گال تھامتے ہوئے کہا تو حمنہ مسکرا دی مگر پھر سے اپنے ذہن میں اٹھنے والے سوالوں کی زد میں آ گئی۔آج وہ جاننا چاہتی تھی کہ عثمان جانان سے شادی کیوں کرنا چاہتا تھا کیونکہ یہ ہی ایک سوال اسے سکون سے دور رکھ رہا تھا۔
‘عثمان آپ سے کچھ پوچھوں؟’ حمنہ نے عثمان کو بلایا جو اسکے بالوں میں اپنا چہرہ چھپا رہا تھا۔
‘نہیں جان جہاں اب سوالوں کا وقت ختم اب آپ چپ رہیں اور غلام کو خدمت کا موقع بھی تو دیں ملکہ عالیہ۔’عثمان ذو معنی انداز میں بولا تو حمنہ شرماتے ہوئے اس کی پناہوں میں چھپ گئی۔وہ دونوں آنے والے اندھیرے سے بے خبر حال کی روشنیوں میں بہت خوش تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جانان رات کو کمرے میں سے باہر نکلی تھی۔دراب کے جانے کے بعد اس نے خود کو کمرے میں بند ہی رکھا تھا۔گل کئی بار آئی تھی لیکن جانان شرمندگی سے کسی کے سامنے نہیں گئی۔آخر کار ہاشم صاحب خود اسے کھانے کے لیئے بلانے آئے تو جانان خاموشی سے ان کے ساتھ چل دی۔دراب کو وہاں نہ پا کر وہ کافی خوش ہوئی تھی۔
اب وہ میز پر بیٹھی کھانا کھانے میں مصروف تھی جب اس کے کانوں میں دراب کی آواز پڑی۔
‘اسلام و علیکم بابا۔’
دراب مسکراتا ہوا جانان کے پیچھے کھڑا ہو گیا اور اپنے دونوں ہاتھ اسکی کرسی پر رکھے۔جانان بے چاری نظروں سے ہاشم صاحب کو دیکھنے لگی۔وہ ابھی بھی دراب کی سزا والی بات سے ڈری ہوئی تھی۔
‘آؤ دراب خان بیٹھو۔’ہاشم صاحب جانان کی صورت شرارت سے دیکھتے ہوئے بولے۔
‘نہیں بابا میں صرف جانان کو لینے آیا تھا سوچا کافی دنوں سے گھر ہے آج اسے گھما لاؤں۔’دراب نے اب ہاتھ جانان کے کندھوں پر رکھے۔
‘ہاں ہاں کیوں نہیں بیوی ہے تمہارا۔ضرور لے جاؤ۔’ہاشم صاحب نے دل سے اجازت دی تو جانان کا منہ بن گیا۔
‘چلیں جانان۔’
دراب نے اپنا ہاتھ آگے کیا تو جانان شکوہ کناں آنکھوں سے ہاشم صاحب کو دیکھتی اس کے ساتھ چل دی۔دراب نے اسے گاڑی میں بیٹھایا اور خود ڈرائیو کرنے لگا۔
‘کہاں جا رہے ہیں؟’
جانان نے ہلکی سی آواز میں پوچھا تھا۔لیکن دراب خاموشی سے ڈرائیو کرتا رہا۔
‘دراب دیکھیں میں نے سوری بولا تھا نا مجھے نہیں پتا تھا کہ آپ اتنے ذہین ہیں۔’
جانان نے پھر سے بات کرنے کی کوشش کی تھی لیکن دراب تو ایسے ڈرائیو کر رہا تھا کہ جیسے گاڑی میں اور کوئی ہے ہی نہیں۔جانا کھڑی سے باہر دیکھتے سوچنے لگی کہ دراب اسے کیا سزا دے گا لیکن یہ سوچتے ہوئے وہ نیند کی وادیوں میں کھو گئی تھی۔
جانان کو لگا کہ وہ کسی کے بازؤں میں ہے ۔اس نے آنکھیں کھول کر ارد گرد دیکھا تو اسے پتہ چلا کہ وہ لوگ کافی اونچائی پر تھے۔شاید وہ اس وقت پہاڑوں پر تھے کیونکہ وہاں سے پشاور کی روشنیاں آسمان میں موجود ستاروں کی طرح لگ رہا تھا۔جانان اسکی خوبصورتی میں کھو گئی تھی ۔اچانک اسکے ذہن میں ایک خوفناک سا خیال آیا۔
‘کہیں پہاڑوں سے تو نہیں پھینکنے لگے مجھے۔اگر ایسے ارادے ہیں تو مجھے بتا دیں۔میں ابھی سے ہی بھاگ جاتی ہوں۔’
جانان اپنی آنکھیں بڑی کیئے بول رہی تھی۔دراب نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر بولا۔
‘آنکھیں بند کرو ۔’
‘کیا؟’جانان نے اپنی آنکھیں مزید بڑی کر دیں۔
‘جانان آنکھیں بند۔’دراب نے سختی سے کہا تو جانان نے آنکھیں بند کر لیں ۔دراب اسے کندھوں سے تھامے اپنے ساتھ چلا رہا تھا۔
‘پہاڑ سے گرانا ہیں تو آنکھیں تو کھولنے دیں بندہ کچھ پکڑ کے لٹک ہی جاتا ہے۔’جانان نے آہستہ سے کہا تو نہ چاہتے ہوئے بھی دراب کے لبوں پر مسکراہٹ آگئی۔
‘اب اپنی آنکھیں کھولو زما مینہ۔’
دراب کی آواز آتے ہی جانان نے فوراً آنکھیں کھولیں اور پھر حیرانی سے چاروں طرف دیکھنے لگی۔
وہ ایک بہت زیادہ خوبصورت سا گھر تھا ۔بلکل خوابوں کی دنیا جیسا۔جانان نے لکڑی کی چھت کو دیکھا جہاں پر ہوئی لائٹننگ ستاروں کی مانند لگ رہی تھی۔جانان گھوم کر ارد گرد دیکھنے لگی۔
‘دراب یہ تو بہت ذیادہ پیارا ہے۔’
جانان نے مسکراتے ہوئے اسکو دیکھا تو دراب اس کے قریب آ کر کھڑا ہو گیا۔
‘تو اب ناراضگی ختم؟’
دراب نے پوچھا تو جانان تھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھ کر سوچنے لگی۔
‘جی ہو گئی لیکن پوری طرح نہیں۔’وہ شرارت سے بولی تھی۔
‘تو کوئی مسئلہ نہیں جانانِ دراب ابھی پوری طرح سے ہو جائے گی۔’
اتنا کہہ کر دراب نے جانان کو اپنی باہوں میں اٹھا لیا اور ایک دروازے سے باہر بالکونی میں لے آیا جو کافی وسیع تھی۔ جانان دراب سے جدا ہو کر ریلنگ کے پاس کھڑی ہو گئی تھی ۔وہاں سے وسیع آسمان اور پورے پشاور کی روشنیاں نظر آ رہی تھیں۔ ۔ایسا لگ رہا تھا جیسے آسمان پر موجود ستارے زمین پر موجود ستاروں سے مل رہے تھے۔جانان نے اپنی زندگی میں اتنا خوبصورت کچھ نہیں دیکھا تھا۔ایک ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آیا تو دراب نے جانان کو پیچھے سے اپنی باہوں میں سمیٹ لیا۔
‘دراب یہ سب کتنا پیارا ہے۔’
‘پتا ہے جانانِ دراب تم نے کہا تھا کہ تاروں کے نیچے ،کھلے آسمان تلے رات گزارنا سب سے اچھا ہو گا ۔اس لیئے ہم یہاں باہر سوئیں گے ،کھلے آسمان تلے۔’
دراب نے انتہائ محبت سے کہا تو جانان مڑ کر اسے دیکھنے لگی۔
‘لیکن دراب یہاں تو بہت سردی ہے۔’جانان نے معصومیت سے کہا۔
‘تو کیا ہوا ہم ہیں نا ایک دوسرے کے لیئے۔’
دراب کے ایسا کہنے پر جانان نے شرما کے اسکے سینے میں چہرہ چھپا لیا۔دراب نے مسکراتے ہوئے اسے باہوں میں اٹھایا اور بالکونی میں موجود میٹرس پر بیٹھا دیا۔پھر خود بھی اسے پیچھے سے باہوں میں لے کر خود بھی اسکے قریب بیٹھ گیا اور دونوں کے گرد اچھی طرح سے بلینکٹ لپیٹ لیا۔
‘تو اب ناراضگی ختم ‘دراب نے اسکے سر پر بوسہ دیتے ہوئے پوچھا۔’
‘جی ہنڈرڈ پرسینٹ ختم۔’جانان بھی مسکرانے لگی تو دراب نے اسکا چہرہ اپنی طرف کیا۔
‘جانان آج تم مجھے بتاؤ گی کہ تم مجھ سے کتنی محبت کرتی ہو؟’جانان نے شرما کر چہرہ اس کے سینے میں چھپا لیا۔
‘ایسے کام نہیں چلے گا جانو آج تو بتانا ہی پڑے گا۔’جانان نے دہکتے گالوں کے ساتھ اسے دیکھا۔
‘آپ مت بلائیں مجھے ایسے۔ صرف آپی کے منہ سے ہی اچھا لگتا ہے۔’جانان کی بات پر دراب نے قہقہہ لگایا۔
‘اور محبت کرتی ہو نا’دراب بہت پیار سے اسکا چہرہ تھامے پوچھ رہا تھا۔
‘جی بہت زیادہ۔اتنی کہ آپ کے بغیر رہ نہیں سکتی۔’
جانان نے شرماتے ہوئے کہا ۔
‘جانان عشق کرتا ہوں تم سے جان ہو تم میری۔کبھی غلط مت سمجھنا مجھے ۔چاہے کچھ بھی ہو جائے تم مجھ پر بھروسہ کرنا۔کرو گی نا؟’
جانان نے ہاں میں سر ہلایا تو دراب نے اسے خود میں بھینچ لیا۔
‘تم میری ہو جانان صرف میری یاد رکھنا یہ۔’دراب شدت سے بھرپور لہجے میں بولا۔
‘اب آپ مان گئی ہیں تو کیوں نہ اب سزا بھی دے دی جائے۔’
دراب نے اسکے کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے اسکے کان کی لو کو چوما۔جبکہ سزا کا سن کر جانان پھر سے گھبرا گئی۔
‘دراب آپ سچ مچ مجھے سزا دیں گے۔’جانان صدمے سے بولی۔
‘بلکل تمہیں ملنی بھی چاہئے، شوہر سے کوئی ایسے بات کرتا ہے۔’
اتنا کہہ کے دراب نے اسکا رخ اپنی طرف کیا تو جانان نے زور سے آنکھیں بند کر کے اپنا گال آگے کیا۔
‘یہ کیا ہے جانان؟’دراب نے حیرانی سے پوچھا۔
‘آپ نے سزا دینی تھی نا تو مار لیں تھپڑ بس پلیز ذیادہ زور سے مت ماریے گا۔’
جانان آنکھوں کو مزید زور سے بند کرتے ہوئے بولی۔جبکہ دراب کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ اسکے معصوم سے چہرے کو چومے یا اسے سچ میں ایک تھپڑ رسید کر دے۔اس نے سوچا بھی کیسے کہ دراب اپنی جانان پر ہاتھ اٹھائے گا۔
‘ہاتھ گرم کرنے بیٹھ گئے کیا ،جلدیں کریں اب۔’
جانان کی آواز نے اسے خیالوں کی دنیا سے نکالا تو دراب نے اس کے ہونٹوں کو اپنے لبوں کی قید میں لے لیا۔
‘یہ تو تمہاری سزا کا صرف ایک نمونہ تھا زما مینہ۔ابھی تو میں نے تمہیں باقائدہ سزا دینی ہے۔’
جانان نے گھبراتے ہوئے دراب کو دیکھا اور پھر اسکی پناہوں میں چھپنے لگی۔
‘ویسے مجھ سے بچنے کے لیئے جگہ بہت اچھی چنتی ہو جانانِ دراب۔’دراب نے مسکراتے ہوئے اسکے نازک وجود پر اپنی گرفت مضبوط کی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔