Safar Ishq By Harram Shah Readelle50189 Episode 1
No Download Link
Rate this Novel
Episode 1
وہ جتنی تیز ہو سکتا تھا بھاگ رہا تھا وہ بس اتنا جانتا تھا کہ اس کے پیچھے اس کی موت ہے۔اس نے سر گھما کے دیکھا تو وہاں کوئی نہ تھا شائید وہ جا چکا تھا۔اس نے ابھی یہ سوچ کے سامنے دیکھا تو خوف سے اس کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔
‘ نن۔۔ نہیں دارا مجھے مم۔۔ معاف کر دو۔غطی ہو گگ۔۔گئ تھی’
وہ گھٹنوں پر بیٹھ کر اس سے معافی مانگے لگا۔جبکہ جواب میں دارا نے اس کے سر پر بندوق رکھ دی تو اس کے گڑگڑانے میں شدت آ گئی۔
‘ننن ۔۔۔۔۔نہیں ایک بار معاف کر دے دارا’
اس کے ایسا کہنے پر دارا کے لبوں پر خوفناک سی مسکراہٹ آ گئی۔
‘دارا نے معاف کرنا نہیں سیکھا کیونکہ سزا دینا اسکی مجبوری نہیں شوق ہے۔’
اتنا کہہ کر دارا نے بندوق اس کی ٹھوڈی کے نیچے رکھدی۔
‘خدا کے لیے دارا۔۔۔’
اس شخص نے دارا کے پیر پکڑ کر کہا تو دارا نے بندوق کو ہٹا دیا۔دارا کے ایسا کرنے پر اس نے سکھ کا سانس لیا۔
‘چل تیری مرضی سے مارتا ہوں۔’
دارا نے ایک چاقو نکال کر اسکی گردن پر رکھا تھا اور بندوق کو اس کے سر کے پاس کیا۔
‘بول اب کس سے؟’
وہ آدمی بری طرح سے رونے لگا تھا اور اس سے اب دارا کو چڑ ہونے لگی تھی اس لیئے دارا نے بندوق والے ہاتھ سے اسکا سر تھام کر تیز دھار چاقو اسکی گردن پر چلا دیا اور اسکے وجود کو تڑپتا ہوا چھوڑ کے وہاں سے چلا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
‘دیکھیں سلمان صاحب جو آپ سے بات کرنا چاہ رہا ہوں وہ آپ کے ہی فائدے کی ہے۔’
عثمان ملک اس وقت سلمان شیخ کے گھر میں موجود تھا اور اس شخص کو نا پسند کرنے کے باوجود وہ اس کو برداشت کر رہے تھے۔کیونکہ جس سیٹ کو وہ حاصل کرنا چاہتے تھے وہ عثمان ملک پہلے جیت چکا تھا اور یہ بات سلمان صاحب بھی اچھی طرح سے جانتے تھے کہ وہ اس بار بھی عثمان ملک سے ہار جائیں گے۔
‘جی ملک صاحب ایسا کیا فائدہ ہے آپکی اس بات میں؟’
سلمان صاحب بے زاری سے بولے۔
‘ارے شیخ صاحب آپ کہیں تو میں اس بار الیکشن پر کھڑا ہی نہیں ہوتا۔ اگرایسا ہو تو یہ سیٹ آپ سے کوئی نہیں چھین سکتا۔’
سلمان صاحب نے حیرت سے اس شخص کو دیکھا جو شاید پاگل ہو گیا تھا اسی لیے ایسی باتیں کر دہا تھا۔
‘مگر آپ ایسا کیوں کریں گے؟’
سلمان صاحب نے حیرت سے پوچھا۔
‘کیونکہ اس کے بدلے میں میں آپ سے کچھ مانگنا چاہتا ہوں۔’
‘کیا؟’
‘آپ کی بیٹی جانان سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔’
سلمان صاحب اچانک سے برہم ہوئے۔
یہ کیا بکواس کر رہے ہو۔تم اس سے تقریباً پندرہ سال بڑے ہو گے اور ویسے بھی جانان شادی شدہ ہے۔
‘جانتا ہوں میں اس کے بارے میں۔ پانچ سال کی عمر میں نکاح کر دیا تھا اسکا اس کرنل کے بیٹے سے اپنی دوستی کو رشتہ داری سے پکا کرنے کے لیئے۔مگر نتیجہ کیا نکلا آپکی رشتہ داری دشمنی میں بدل گئ اور جانان آج بھی اس میجر شایان شاہ کے نام کے ساتھ جڑی ہے۔جسکو چودہ سال سے اس نے دیکھا تک نہیں اور نہ ہی کوئی امید ہے۔اسکو آپ شادی کہتے ہیں؟’
ان سب باتوں کا سلمان صاحب کے پاس کوئی جواب نہ تھا کیونکہ یہ سب سچ ہی تو تھا۔
‘دیکھیں سلمان صاحب اب بس آپ جانان سے ایک کاغذ پر دستخط کروائیں تو یہ رشتہ ختم ۔مجھ سے نکاح کر دیں رانی بنا کے رکھوں گا اسے۔عمر کیا ہے بس ایک ہندسہ اور پھر اس میں آپ کا فائدہ بھی تو ہے۔ آپکا بھی خواب پورا ہو جائے گا اور میرا بھی۔’
عثمان ملک نے مسکرا کر کہا۔وہ سلمان صاحب کے چہرے پر اضطراب دیکھ سکتا تھا جو اس کی فتح کی نشانی تھی۔
‘میں سوچ کر جواب دوں گا۔’
آخر کار سلمان صاحب بولے۔
‘ضرور! آپ کے جواب کا انتظار رہے گا۔مگر ایک بات یاد رکھئے گا انکار کی صورت میں اپنے خوابوں کو بھی الوداع کہہ دینا۔’عثمان ملک اتنا کہنے کے بعد اٹھ کھڑا ہوا۔
‘خدا حافظ!’
اتنا کہہ کے عثمان ملک تو جا چکا تھا مگر وہ دونوں جانتے تھے کہ جیت کس کی ہوئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سلمان صاحب بہت عرصے سے سیاست میں تھے اور لاہور میں اپنی تین بیٹیوں اور بیوی کے ساتھ رہتے تھے۔سب سے بڑی حمنہ، پھر جانان جو حمنہ سے تین سال چھوٹی تھی اور پھر زرش جو جانان سے دو سال چھوٹی تھی۔زرش سن تو سکتی تھی لیکن بولنے سے قاصر تھی۔سلمان صاحب کی بیٹے کی خواہش ادھوری ہی رہی تھی اور اسی وجہ سے وہ گھر میں موجود کسی بھی فرد کو خاطر میں نہ لاتے۔ان کے مطابق عورت کو مرد کا ہر حکم ماننا چاہئے اسی لیے انہوں نے اپنی بیٹیوں پر بھی بے جا سختی کی تھی۔یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ وہ دوسروں سے پہلے اپنے بارے میں سوچتے تھے اور گھر میں کوئی بھی انکے فیصلے پر سوال نہیں اٹھا سکتا تھا۔
اب انہیں اپنا سیاسی جیت کا خواب پورا کرنے کا ایک موقع ملا تھا۔وہ اپنے حلقے کے MNA بننا چاہتے تھے اور اس بار وہ یہ موقع کسی حال میں نہیں گنوا سکتے تھے اور اسی سوچ کے ساتھ وہ آخری فیصلہ کر چکے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
‘بہالپور کے علاقے میں ایک آدمی کی لاش ملی جسے کسی شخص نے انتہائی سفاکی سے گردن کاٹ کے مار ڈالا بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ خطرناک دہشت گرد دارا کا کام ہے۔لیکن اس بات کی تحقیقات نہیں ہو سکی۔اس گلی میں کوئی کیمرہ موجود نہ تھا اور دارا کے نام کے علاوہ اسکی پہچان کو کوئی نہیں جانتا۔بہت سے لوگوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ ملک میں مختلف جگہوں پر ہونے والے بم دھماکوں میں بھی دارا کا ہی ہاتھ ہے۔آئے دیکھتے ہیں اپنے نمائندے کی یہ رپورٹ۔’
حمنہ کمرے میں آئی تو جانان ٹی وی کے پاس بیٹھی نیوز دیکھ رہی تھی جبکہ خوفناک تصویروں اور خبروں سے پاس بیٹھی زرش ڈر کے مارے کانپ رہی تھی۔
‘جانو کیا دیکھ رہی ہو بند کرو اسے تمہیں پتا بھی ہے کہ زری ڈر جاتی ہے۔’ حمنہ کے ایسا کہنے پر جانان نے پاس بیٹھی زرش کو دیکھا جو اب رو رہی تھی۔
‘پاگل زری سچ تھوڑی ہوتا ہے یہ سب۔جھوٹ بولتے ہیں یہ لوگ اب کون اتنا ظالم ہو گا کہ کسی کا گلا ہی کاٹ دے۔’
جانان نے زرش کو پیار سے کہا تھا۔جانان کی ایسی باتیں حمنہ کو پریشان کر دیتی تھیں کیونکہ جانان کو کسی میں بھی برائی نظر نہیں آتی تھی ۔اس کے مطابق ہر کوئی اچھا تھا۔
‘اچھا چلو کارٹون دیکھ لیتے ہیں میرا بچہ۔’جانان نے ڈری ہوئی زرش کے گال کھینچتے ہوئے کہا تو حمنہ ہنسنے لگی۔ایسا کرتے ہوئے جانان بہت کیوٹ لگ رہی تھی۔سفید رنگت اور بھرے ہوئے گلابی گالوں کے ساتھ جانان ویسے ہی بہت معصوم لگتی تھی۔لیکن اس کی شرارتیں اسکی معصوم صورت سے بلکل الگ ہوتی تھیں۔
جانان نے کارٹون کا کہہ کر دوسرا چینل لگا دیا تھا جہاں پر ایک آدمی ڈر کر الماری میں چھپا ہوا تھا۔جانان نے شرارت سے مسکراتے ہوئے ریمورٹ میں سے سیل نکال دیا اور بٹنوں کو دبانے لگی۔
‘ارے یہ ریمورٹ تو چل ہی نہیں رہا ۔’ جانان نے معصوم صورت بنا کے زرش کو دیکھا تو وہ فوراً اٹھ کر کمرے سے بھاگ گئی اور اسے بھاگتے دیکھ کر جانان ہنسنے لگی۔
‘ڈرپوک۔’ اسے پہلے کہ حمنہ جانان کو ڈانٹتی ٹی وی میں چلتی ڈراؤنی فلم دیکھ کے حمنہ مسکرا دی کیونکہ جانان کو بھوتوں سے بہت ڈر لگتا تھا۔جانان نے ہنستے ہوئے ٹی وی سکرین کو دیکھا تو اسکی چیخ نکل گئی اور اسنے دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ چھپا لیا۔
‘آپی چینج کریں اسے پلیز۔’جانان نے ڈرتے ہوئے کہا تو حمنہ ہنستے ہوئے بولی۔
‘سوری جانان ریمورٹ نہیں چل رہا۔’ حمنہ اتنا کہہ کر باہر چلی گئی تو جانان بھی بھاگتے ہوئے اسکے پیچھے آئی تھی۔
‘آپی کتنی ظالم ہیں آپ۔’ جانان نے منہ بنا کر کہا تو حمنہ نے قریب آ کر اسکے گال کھینچے۔
‘تم نے زری کو ڈرایا نا اسی کا نتیجہ ہے۔’ حمنہ نے اسے سمجھایا ۔
‘جانان بی بی آپ کو صاحب بلا رہے ہیں۔’ملازمہ نے آ کر بتایا تو جانان نے دل پر ہاتھ رکھا۔
‘ہائے کہیں زری نے شکایت تو نہیں لگا دی؟چل جانو آج تو تیرا قیمہ بنے گا اور پھر اسکے قوفتے بنیں گے۔آپی دعوت ہے آپ کی۔’جانان شرارت سے کہتی ہوئی چل دی تو حمنہ اسکی باتوں پر ہنسنے لگی۔
‘فکر نا کریں ایسی مسکین صورت بناؤں گی کہ بابا میرا چہرہ چوم کر کہیں گے چھوڑ دو اس معصوم کو۔’ جانان نے چہرہ بھی بنا کر دیکھا دیا تھا۔
‘اب جا بھی اس سے پہلے کہ بابا خود آئیں تمہیں لینے۔’
‘ہاہ بابا نے بلایا تھا امی نے نہیں۔تو بھی پاگل ہے جانو۔’
جانان نے ایک چت اپنے سر پر لگائی تھی اور پھر وہ سٹڈی کی طرف بھاگی کیونکہ اس وقت سلمان صاحب وہیں پر ہوتے تھے۔جانان نے دوپٹہ ٹھیک کیا اور سٹڈی کا دروازہ ناک کرنے لگی۔
‘آ جاؤ’
سلمان صاحب کی آواز آئی تو جانان دروازہ کھول کر اندر گئی۔
‘آپ نے بلایا بابا۔’
جانان نے ادھر ادھر زرش کو ڈھونڈا اور پھر اپنے پیروں کو دیکھتے ہوئے کہا۔
‘آؤ بیٹھو یہاں’
سلمان صاحب نے کرسی کی طرف اشارہ کیا تو جانان وہاں بیٹھ کر اپنے ہاتھ مسلنے میں مصروف ہو گئی۔
‘ان کاغذات پر دستخط کرو۔’
‘جی۔’
جانان نے جلدی سے بول کر کاغذات کو دستخط کرنے کے لئے پکڑا مگر دستخط کرنے سے پہلے اس کی نظر ان کاغذات پر جا چکی تھی اور اس کے ہاتھ پیر پھول گئے۔
‘طلاق نامہ!’
اس نے سوالیہ نظروں سے سلمان صاحب کی طرف دیکھا۔
‘ایسے کیا دیکھ رہی ہو میں نے یہ رشتہ جوڑا تھا اور میں ہی اسے ختم بھی کر رہا ہوں۔’
‘مم مگر بابا میں نہیں کرنا چاہتی۔’
اس بات پر سلمان صاحب نے غصے سے اسے گھورا۔
‘تمہاری راۓ نہیں مانگی جو کہا ہے کرو۔’
جانان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے وہ کافی دیر خاموش رہی پھر کافی سوچنے کے بعد اس نے کہا۔
‘نن ۔۔۔۔۔۔نہیں۔’
سلمان صاحب کی رگیں غصے سے تن گئیں۔وہ کرسی سے اٹھ کر اس کے پاس آئے اور ایک زوردار طمانچہ اس کے منہ پر مار دیا۔
‘کیا بکواس کی ہے تم نے ۔دفع ہو جاؤ یہاں سے اور کل تک ان کاغذات پر سائن کر دینا ورنہ بہت برا ہو گا۔’
جانان حیرت سے اپنے باپ کو دیکھنے لگی۔
‘ مم مگر۔۔۔۔’
‘دفع ہو جاؤ یہاں سے’
سلمان صاحب نے اس کی بات بھی نہ سنی۔جانان نے وہ کاغذات اٹھائے اور کمرے سے باہر نکل گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
