Safar Ishq By Harram Shah Readelle50189 Episode 4
No Download Link
Rate this Novel
Episode 4
‘آخر کہاں جا سکتی ہے وہ؟ اور کیسے کہاں مرے ہوئے تھے تم سب ‘
سلمان صاحب غصے سے پاگل ہو رہے تھے ابھی کچھ دیر پہلے انہیں پتا چلا تھا کہ جانان گھر میں موجود نہیں مگر وہ کیسے بھاگ سکتی تھی اتنی بہادر نہیں تھی وہ۔
‘دفع ہو جاؤ یہاں سے اور پتا لگاؤ اس کا کہیں سے بھی ڈھونڈ کر لاؤ اسے۔’
فاطمہ بیگم روئے جا رہی تھیں اور حمنہ انہیں چپ کروا رہی تھی۔
‘بند کرو یہ ناٹک سب تمہارا قصور ہے بچوں کی پرورش بھی ٹھیک سے نہیں کر سکی لاڈلی منہ پر کالک پوت کے چلی گئی ۔تمہاری وجہ سے سب ہوا فاطمہ ۔’
سلمان صاحب فاطمہ بیگم کو قصوروار ٹھہرا کر چلے گئے ۔
‘امی چپ ہو جائیں کچھ نہیں ہو گا جانو کو ۔’
‘ایسے کیسے پریشان نہ ہوں نا جانے کہاں چلی گئی۔اسے تو دنیا کا کچھ پتا بھی نہیں اگر کچھ ہو گیا تو ۔’
‘فکر نہ کریں کچھ نہیں ہو گا اور جو بابا اس کے ساتھ کرنے جا رہے تھے اس سے تو کچھ بھی بہتر ہو گا۔’حمنہ جل کر بولی تھی۔
‘یا اللہ میری بچی کی حفاظت کرنا ۔اسے اپنی امان میں رکھنا۔’
فاطمہ بیگم پھر سے بری طرح سے رونے لگیں تو
حمنہ ماں کو دلاسے دینے لگی مگر پریشان تو وہ بھی تھی وہ تو یہ بھی نہیں جانتی تھی کہ شایان شاہ کیسا انسان ہے کہیں جانو کے ساتھ کچھ برا نہ کرے۔حمنہ جلد بازی میں فیصلہ تو کر بیٹھی تھی لیکن اب اسکے دل میں برے خیالات آ رہے تھے۔ہا اللہ میری بہن کی حفاطت کرنا ۔حمنہ دل سے اپنی بہن کے لیئے دعا گو تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جانان نے زندگی میں کبھی اتنا سفر نہیں کیا تھا اور اب وہ حد سے زیادہ تھک گئی تھی بس وہ جلد از جلد کراچی پہنچنا چاہتی تھی۔رات بھی ہو چکی تھی اور راستے میں ٹرین کی خرابی کی وجہ سے انہیں کافی وقت لگ گیا تھا۔
دراب اس کے سامنے بیٹھا تھا اور سعد ان کے لیئے کچھ کھانے کو لینے گیا تھا۔جانان کیسے خاموش بیٹھی تھی یہ وہی جانتی تھی ۔حمنہ تو کہتی تھی کہ کچھ بھی ہو جائے جانان کی بولتی بند نہیں ہو سکتی۔بہن اور گھر کی یاد آتے ہی جانان کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
‘اب رو کیوں رہی ہو۔’
دراب نے بے زاری سے پوچھا۔
‘ گھر کی یاد آ رہی ہے۔’
‘اتنا عزیز ہوتا تمہیں گھر تو بھاگتی نہ وہاں سے۔’
تب تک سعد بھی بریانی کے ڈبے لے آیا تھا اور دراب کی بات اسے بری لگی تھی۔
‘دراب۔۔۔۔’
سعد نے کچھ کہنا چاہا مگر جانان اس کی بات کاٹ کے بولنے لگی۔
‘بھاگی نہیں میں گھر سے ۔۔۔۔’
پھر کچھ سوچنے کے بعد بولی ۔
‘ہاں ایک طرح سے بھاگی بھی ہوں مگر دوسری لڑکیوں کی طرح نہیں ایک تو مجھے میری آ پی نے بولا تھا جانے کو اور دوسرا میں اپنے شوہر کے پاس جا رہی ہوں تو یہ بری بات تو نہیں نا۔’
‘اچھا تو آ پ شادی شدہ بھی ہیں ۔چھوڑو یہ سب میرے بہنوئی کے بارے میں بتاؤ مجھے تمہارے قابل بھی ہے یا نہیں۔’
سعد نے اس کا غصہ کم کرتے ہوئے اسے باتوں میں لگانا چاہا۔
‘شایان جی آرمی میں میجر ہیں ۔باقی دکھتے کیسے ہیں یہ یاد نہیں اور اتنا پتا ہے مجھے کہ کیسے بھی ہوں کچھ لوگوں کی طرح ادرک نہیں ہوں گے جن کو لگتا ہو کہ ہسنا اور بولنا بہت مہنگا ہے اور وہ دنیا کے سب سے غریب انسان ہیں۔”
وہ بتا تو سعد کو رہی تھی مگر دیکھ دراب کو رہی تھی ۔دراب نے سارا دن جانان کو کچھ نہیں بولنے دیا جس کی وجہ سے جانان بھی اب اپنا غصہ نکال رہی تھی ۔پہلے تو جانان نے سوچا کے اٹھ کے کیبن میں موجود کسی عورت کے پاس چلی جائے مگر اسے سعد کے پاس تحفظ محسوس ہوتا تھا اور اگر وہ عورتیں بھی راستے میں اتر جاتیں تو کس منہ سے ان کے پاس واپس آتی۔ یہی سوچ کے وہ اپنی جگہ پر خاموشی سے بیٹھی رہی۔
‘کیا مطلب یاد نہیں کہ تمہارا شوہر کیسا دکھائی دیتا ہے؟’
سعد نے حیرانی سے پوچھا۔
‘میں پانچ سال کی تھی جب ہمارا نکاح ہوا تھا آپ کو پتا ہے سعد بھائی انہوں نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ مجھے لینے آئیں گے اور میں نے بھی وعدہ کیا تھا کہ میں انہیں نہیں بھولوں گی اور انتظار کروں گی۔وہ تو آئے نہیں لینے لیکن میں اپنا وعدہ کبھی نہیں توڑتی اور یہ بات تو آپی کو بھی پتا تھی اسی لیئے جب بابا نے طلاق کا کہا تو آپی نے مجھے ان کے پاس بھیج دیا۔لیکن اب میں ان کے پاس جاؤں گی اور پھر ان سے بہت لڑوں گی۔ پھر وہ معافی مانگے گیں اور پھر ہم مل کے لاہور جائیں گے اور بابا کو بھی منا لوں گی۔’
جانان بولنا شروع ہوئی تو بولتی گئی۔جبکہ دراب اس کی باتوں پر یہ سوچ رہا تھا کہ کیا ہوتا اگر زندگی اتنی آسان ہوتی۔
‘تمہارے بابا کیوں تمہارا رشتہ ختم کرنا چاہتے تھے؟’
اس دفعہ سوال دراب کی طرف سے آیا تھا۔
‘پتا نہیں ۔’
جانان افسردہ ہوئی مگر پھر اس کی نظر سعد کے ہاتھ میں موجودہ بریانی کے ڈبے پر گئی اور اس نے ایک ڈبہ لے لیا ۔
‘باتوں میں آپ نے بریانی ٹھنڈی کر دی مرغے کی روح بد دعائیں دے گی آپکو۔’
جانان کے ایسا کہنے پر دراب بھی مسکرایا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت معلوم کرنے سے بھی جانان کا کچھ پتا نہیں لگا۔سلمان صاحب فکر مند تھے لیکن زیادہ فکر انہیں عثمان ملک کی تھی کہ اسے کیا جواب دیں گے جسے وہ ہاں کر چکے تھے۔
ایک پل کو ان کے زہن میں خیال آیا کے کہیں جانان حسن کے گھر تو نہیں۔۔۔
نہیں نہیں جانان اتنی بہادر نہیں کے اکیلے کراچی چلے جائے ۔سلمان صاحب نے سوچا پھر بھی احتیاطً انہوں نے اپنے آدمی کو کراچی حسن صاحب کے گھر بھیجنے کا سوچا۔
ان کے لیئے اپنا خواب بہت اہم تھا جس کے آڑے کوئی نہیں آ سکتا ان کی اپنی اولاد بھی نہیں۔ اگر جانان شایان کے پاس بھی ہوئی تو بھی وہ اسے واپس لانے کا ارادہ رکھتے تھے۔
ابھی وہ اس بارے میں سوچ رہے تھے کہ نوکر نے انہیں عثمان ملک کی آمد کے بارے میں بتایا۔
‘ اسلام و علیکم سلمان صاحب کیسے ہیں آپ’
کمرے میں داخل ہو تے ہی عثمان ملک کی آواز سنائی دی۔مگر سلمان صاحب خاموش رہے۔عثمان ملک ان کے ساتھ صوفے پر بیٹھ گیا۔
“آپ نے رابطہ کیا نہیں اس لیئے میں نے سوچا میں خود کر لوں تو پھر بتائیں آپ کس دن آؤں نکاح کے لیئے آپ نے ہی ہاں کی تھی مگر اب اور انتظار نہیں ہوتا الیکشن بھی سر پر ہیں سوچ لیں وقت گزر گیا تو سیٹ سے ہٹنا مشکل ہو جائے گا؟’
سلمان صاحب کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کہیں آخر کب تک وہ یہ بات چھپاتے ۔مگر ان دونوں کی باتیں سنتی حمنہ اپنے باپ کا مقصد سن کے غصے سے وہاں آئی۔کیسا باپ تھا وہ اپنی ہی معصوم بیٹی کا سودا کر بیٹھا تھا۔
‘آپ بھول جائیں ملک صاحب آپ کو جانان کبھی نہیں ملے گی ۔وہ کسی اور کی ہے اور اس کے پاس جا چکی ہے اس لیے بہتر ہے کہ یہاں سے چلیں جائیں آپ۔’
‘خاموش ہو جاؤ حمنہ اور دفع ہو جاؤ یہاں سے۔’
سلمان صاحب غصے سے چلائے اور ان کی آواز سن کے فاطمہ بیگم اور زرش بھی وہیں آ گئیں۔
‘جی خاموش ہو جاؤں میں اور آپ اپنی بیٹیوں کا سودا کرتے رہیں۔’
چٹاخ،۔۔سلمان صاحب نے زور دار تھپڑ حمنہ کو مارا لیکن یہ بھی حمنہ کو چپ نہ کروا سکا۔
‘ماریں اور کر بھی کیا سکتے ہیں آپ شرم آتی ہے آپ کو اپنا باپ کہتے ہوۓ اور جو آپ دونوں کا مقصد ہے کبھی پورا نہیں ہو گا۔جانان اس آدمی کو نہیں ملے گی۔کیونکہ میں نے بھیج دیا ہے اسے اور اب تو وہ شایان بھائی کے پاس ہو گی آپ دونوں کے گھٹیا ارادوں سے دور ۔’
حمنہ نے عثمان کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا اور اپنے آنسو پونچھتے ہوئی وہاں سے چلی گئی۔ فاطمہ بیگم بھی جانان کے بارے میں جاننے کے لیئے بے چینی اس کے پیچھے چلی گئیں۔جبکہ عثمان ملک سلمان صاحب کو غصے سے دیکھنے لگا۔
‘اگر میں اپنا خواب بھول جاؤں تو آپ بھی بھول جائیں۔’
اتنا کہہ کے وہ بھی سلمان صاحب کو اکیلا چھوڑ کے چلا گیا۔جبکہ سلمان صاحب کا دل کر رہا تھا کہ وہ حمنہ کا منہ توڑ کر رکھ دیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کا سفر ختم ہونے کے بعدآخر کار وہ کراچی پہنچ گئی تھی وہ سٹیشن پر سعد اور دراب کے ساتھ تھی ۔کراچی پہنچنے سے ذیادہ خوشی اسے سفر ختم ہونے کی تھی۔پہلے ہی رات کو اسے دراب کے بلکل سامنے والی برتھ پر سونا پڑا تھا جو کہ اسے اچھا نہیں لگا تھا۔لیکن اب ساری مشکل ختم ہو چکی تھی۔
‘آپ نے میری بہت مدد کی اور خیال بھی رکھا اسکے لیئے تھینک یو ۔بس ایک آخری مدد کر دیں؟’
اس نے دراب سے کہا کیونکہ اتنا تو وہ سمجھ گئی تھی کہ سعد ہر بات دراب کی ہی مانتا ہے۔
‘بولو!’
دراب کے بولنے پر جانان نے اس کے ہاتھ میں ایک پرچی تھاما دی۔
‘یہ کرنل حسن صاحب کے گھر کا ایڈریس ہے ۔میں کیسے ڈھونڈوں گی اتنے بڑے شہر میں آپ مجھے وہاں پہنچا دیں گے؟’
جانان نے بہت امید سے دراب کو دیکھا اور دراب جسکی زبان پہ انکار تھا اس کے معصوم چہرے کی وجہ سے کہیں دب سا گیا۔وہ اس ایڈریس کو دیکھنے لگا ۔سٹیشن سے اس پتہ پر پہنچنے میں ایک گھنٹہ لگنا تھااور جہاں دراب کو جانا تھا وہ جگہ بلکل مختلف سمت میں تھی۔
دراب نے گہرا سانس لیا اور جانان کو دیکھا۔
‘چلو’
جانان کی خوشی اس کے چہرے پر چھلکنے لگی۔
‘آپ بہت اچھے ہیں۔’
جبکہ دراب نے اس کی بات پر دھیان نہیں دیا کیونکہ وہ جانتا تھا کا وہ کچھ دیر بعد اسے پھر سے برا لگے گا اتنا تو وہ اندازہ لگا چکا تھا کہ جانان زیادہ دیر اپنی رائے پر قائم نہیں رہتی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تقریبا ایک گھنٹہ شہر میں سفر کرنے کے بعد وہ آخر کار کرنل صاحب کے گھر پہنچ گئے تھے ۔جانان بہت خوش بھی تھی اور پریشان بھی وہ یہی سوچ رہی تھی کہ اگر شایان نے اسے نہیں پہچانا تو کیا ہو گا؟ پھر خود کو خودی دلاسے دینے لگی۔دراب اسے سعد کے ساتھ چھوڑ کے خود فون کرنے چلا گیا اور جانان حیران تھی کہ آج کے زمانے میں بھی کوئی ایسا ہے جو موبائل نہیں رکھتا ۔
سعد اور وہ کرنل صاحب کے گھر کے باہر کھڑے تھے سعدکے بیل بجانے پر ایک چوکیدار باہر آیا ۔
‘جی ؟۔’
‘ہمیں کرنل صاحب سے ملنا ہیں یہ ان کی مہمان ہیں لاہور سے آئی ہیں۔’
سعد نے جانان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
‘مگر کرنل صاحب تو گھر نہیں بلکہ گھر پر کوئی بھی نہیں ۔’
‘کیا شایان بھی نہیں ہیں گھر پہ کہاں گئے ہیں وہ؟’
جانان نے پریشانی سے پوچھا ایسا لگ رہا تھا کہ وہ ابھی رو دے گی۔
‘جی مجھے تو کچھ عرصہ ہوا ہے کام کرتے ہوئے اور کرنل صاحب جب دو سال پہلے ریٹائر ہوئے تھے تب سے بیمار رہتے تھے اس لیئے بیگم صاحبہ انہیں لے کر آزاد کشمیر چلی گئیں باقی ذیادہ تو کچھ نہیں پتا ان کے بچے بھی وہیں رہتے ہیں ان کے پاس۔’ شاید چوکیدار کو بھی جانان کی رونی صورت پر رحم آیا تھا۔
‘آزاد کشمیر’
جانان بس اتنا ہی بول پائی اور اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔یہ دیکھ کے سعد بھی پریشان ہو گیا۔
‘آپ کے پاس موبائل نمبر ہو گا ان کا؟’ سعد نے چوکیدار سے پوچھا۔
‘صاحب ہم تو نوکر لوگ ہیں کوئی کام ہو تو وہ خود فون کرتے ہیں ٹیلی فون پہ اور اس پہ تو نمبر نہیں آتا اور ویسے بھی جہاں وہ رہتے ہیں وہاں موبائل کے سگنل نہیں آتے ۔’
‘آپ مجھے وہاں کا اڈریس بتا دیں۔’سعد نے کہا ۔
‘جی مجھے تو نہیں پتا مگر رفیق کو پتا ہے میں اسے فون کر کے پوچھتا ہوں۔’
اتنا کہہ کے وہ واپس اندر چلا گیا اور سعد جانان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کے اسے دلاسہ دینے لگا ۔ تھوڑی دیر کے بعد چوکیدار ایک پرچی پہ پتہ لکھ کے لے آیا اور سعد کے ہاتھ میں تھما دیا۔
‘آپ کا شکریہ اگر ان کا فون آئے تو انہیں بتائے گا کہ جانان آئی تھی ۔’
جانان کے بتانے پر چوکیدار نے ہاں میں سر ہلایا اور سعد اسے لے کر وہاں سے جانے لگا ۔کچھ فاصلے پر دراب آتا ہوا نظر آیا جو جانان کو دیکھ کر حیران ہو رہا تھا۔
‘کیا ہوا؟’
دراب نے روتی ہوئی جانان کو دیکھ کر پوچھا تو سعد نے اسے سب بتایا۔جسے سن کے دراب غصے میں آ گیا۔
‘جانان تم واپس لاہور چلی جاؤ۔’
اس بات پر جانان نے انکار میں سر ہلایا۔
‘میں یہاں پر ان کا انتظار کروں گی؟۔۔’جانان نے بتانے سے زیادہ پوچھا تھا ۔
جانان وہ دو سال سے کشمیر میں رہ رہے ہیں۔ نا جانے یہاں کب آئیں گے اور تم کہاں رکو گی ایسے بند گھر میں اکیلے نہیں رہ سکتی اور نہ ہی وہ چوکیدار ان لوگوں سے پوچھے بغیر تمہیں رہنے دے گا۔بہتر یہی ہے واپس چلی جاؤ۔’
جانان اس کی باتوں پر غور کرتی سوچنے لگی اور پھر بولی۔
‘میں گھر واپس نہیں جا سکتی بابا پھر سے طلاق کی بات کریں گے اور آپی کو کتنا برا لگے گا وہ تو پہلے ہی مجھے نکما سمجھتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں ان کے پاس آزاد کشمیر جاؤں گی۔’
اور اس بات پر دراب کا پارہ ہائی ہو گیا ۔
‘پاگل ہو گئی ہو کشمیر جاو گی جانتی ہو کتنا دور ہے یہاں سے پاکستان کے ایک کونے میں کراچی ہے تو دوسرے میں کشمیر اور تم تو کسی شہر کے بارے میں کچھ جانتی بھی نہیں۔عقل سے کام لو اور واپس چلی جاؤ۔’
‘دراب سہی کہ رہا ہے گڑیا۔’
سعد نے بھی دراب کا ساتھ دیا مگر جانان بھی اپنی ضد پے قائم تھی۔
‘ٹھیک ہے بھاڑ میں جاؤ تم ہم سے توقع نہ رکھنا کہ وہاں لے کے جائیں گے اکیلی جاؤ تم۔’
دراب انتہائی غصے سے چلایا جس کی وجہ سے جانان پہلے تو سہم کے سعد کے پیچھے چھپنے لگی مگر پھر اپنا سارا غصہ او دکھ دراب پر نکالنے لگی آخر یہ اس کے لیۓ کتنا مشکل تھا یہ وہی جانتی تھی۔
‘میں نے آپ سے نہیں کہا ساتھ آنے کو ۔آپ نے میری بہت مدد کی اس کے لیئے شکریہ مگر آپ فکر نہ کریں اب آپ کو تنگ نہیں کرتی اکیلے چلی جاؤں گی میں۔ آپ بس مجھے اتنا بتا دیں کہ کیا اتنے پیسوں میں پہنچ جاؤں گی ؟ ‘
اس نے چند ہزار کے نوٹ دراب کے آگے کر کے پوچھا۔جبکہ دراب کا دل کیا کہ اس کی عقل پہ اپنا سر پیٹ لے۔
‘سعد تم اسے بس سٹیشن چھوڑ آو اور ٹکٹ بھی لے دینا۔ اب سے یہ اپنے راستے اور ہم اپنے۔جب ہماری منزلیں ہی جدا ہیں تو راستہ ایک کیوں ہو۔’دراب جانان کے پاس کھڑا اسکی آنکھوں میں دیکھ کر بول رہا تھا۔
‘کام کی جگہ پہ ملنا مجھے’
اتنا کہہ کے دراب وہاں سے چلا گیا ۔ سعد کو اس کا فیصلہ پسند نہیں آیا تھا مگر وہ چپ رہا کیونکہ دراب نے کونسا اسکی بات سن لینی تھی۔ وہ جانتا تھا کہ جانان اکیلے اتنی دور نہیں جا سکتی اس لیئے اسے پھر سے سمجھانے لگا مگر جانان نہیں مان رہی تھی اس لیئے سعد بھی مجبور ہو گیا۔
