Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

حمنہ کی طبیعت کافی دنوں سے خراب تھی ۔عثمان بھی اپنے کام کے سلسلے میں بہت مصروف ہو گیا تھا ۔الیکشن بھی بہت زیادہ قریب آرہا تھا۔صبح جب اسکی طبیعت خراب ہوئی تو سلامت بابا نے فوراً عثمان کو فون کر دیا۔جس کے نتیجے میں پندرہ منٹ کے بعد ڈاکٹر ان کے گھر آ گئی۔اس نے حمنہ کا چیک اپ کیا اور اسے دوائی دے کر چلی گئی۔حمنہ اب اپنے کمرے میں آرام کر رہی تھی جب اچانک اسکا موبائیل بجنے لگا ۔حمنہ نے فون اٹھایا تو سلمان صاحب کی آواز سنائی دی۔
‘کیسی ہو بیٹا۔’
‘بلکل ٹھیک بابا آپ بتائیں سب ٹھیک ہے نا؟’حمنہ کو ایک خوشگوار حیرت ہوئی تھی۔
‘ہاں بچہ سب ٹھیک ہے وہ تمہاری ماں کی طبیعت خراب تھی تو وہ تمہیں یاد کر رہی تھیں۔میں نے اپنا گارڈ اور ڈرائیور بھیجا ہے تم اسکے ساتھ گھر آ جاؤ۔’
سلمان صاحب آواز سے پریشان لگ رہے تھے اور یہ بات حمنہ کو بھی پریشان کر گئی۔
‘جی بابا آپ فکر نہیں کریں میں ابھی آ رہی ہوں۔’
حمنہ جلدی سے اٹھی تو اسکا سر چکرایا جسے وہ نظر انداز کرتی ہوئی اپنی چادر لینے چلی گئی۔پھر خیال آیا کہ عثمان کو بتا دے۔حمنہ نے کافی دفعہ کوشش کی لیکن عثمان فون نہیں اٹھا رہا تھا شاید وہ مصروف تھا۔حمنہ نے سوچا کہ اسے راستے میں بتا دے گی ۔وہ باہر جانے لگی تو غفار جو اسکا باڈی گارڈ تھا اس کے ساتھ چل دیا۔حمنہ نے اسے بتایا بھی کہ سلمان صاحب کے گارڈز اور ڈرائیور لینے آ رہے ہیں۔لیکن وہ پھر بھی اسکے ساتھ چل دیا۔
باہر ایک گاڑی دو گارڈزکے ساتھ انکا انتظار کر رہی تھی۔حمنہ جلدی سے اس میں بیٹھ گئی۔وہ اپنی ماں کے لیئے بہت پریشان تھی۔
اس سے پہلے کہ غفار کو کچھ سمجھ آتا اچانک سے ایک گارڈ نے اسکے سر پر انتہائی زور سے بندوق ماری جس سے وہ بے ہوش ہو گیا۔حمنہ یہ دیکھ کر چلانے لگی لیکن دوسرا گارڈ حمنہ کے منہ پر رومال رکھ کے اسے بھی بے ہوش کر چکا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عثمان کو جب سے سلامت بابا نے حمنہ کے بیمار ہونے کے بارے میں بتایا تھا وہ بہت زیادہ پریشان تھا ۔جتنی جلدی ہو سکتا تھا وہ واپس آیا اور گھر آتے ہی حمنہ کو آوازیں دینے لگا۔
‘صاحب جی بیگم صاحبہ گھر نہیں ہے؟’عثمان ملازمہ کی بات پر حیران ہوا تھا۔
‘تو کہاں گئی ہے اسکی تو طبیعت خراب تھی نا۔’عثمان غصے میں آیا تھا۔
‘صاحب جی وہ تو نہیں پتہ کہ کہاں گئی ہیں بس غفار کو ساتھ لیا اور چل دیں۔’
عثمان نے یہ سنتے ہی اپنی جیب سے موبائیل نکالا جو کہ وہ پارٹی کی میٹنگ کے دوران سائیلنٹ پر کر چکا تھا۔موبائل پر حمنہ کی کئی ساری مس کالز دیکھ کر اسے خود پر غصہ آیا تھا۔اس نے جلدی سے حمنہ کا نمبر ملایا اور اسے فون کرنے لگا۔لیکن حمنہ کا نمبر بند پا کر وہ کافی ذیادہ پریشانی میں مبتلا ہو گیا۔اس نے جلدی سے غفار کا نمبر ملایا۔لیکن اسکا بھی موبائل بند تھا۔یہ جان کر عثمان کے ہاتھ پیر پھول گئے اور اسکا دماغ ماؤف ہونے لگا۔عثمان نے سب ملازموں سے حمنہ کے بارے میں پوچھا لیکن کسی کو بھی نہیں پتہ تھا کہ وہ کہاں گئی ہے۔یہاں تک کہ سلامت بابا بھی اس سب سے بے خبر تھے۔
عثمان کا دل کر رہا تھا کہ سب کو ایک لائن میں کھڑا کر کے گولی مار دے۔
وہ پریشانی سے گاڑی میں بیٹھا اور ڈرائیور کو چلنے کا بول کر سلمان صاحب کو کال کرنے لگا مگر وہ بھی فون نہیں اٹھا رہے تھے۔عثمان نے ڈرائیور کو سلمان صاحب کے گھر جانے کا بولا۔
کچھ دیر کے بعد جب وہ وہاں پہنچے تو عثمان جلدی سے گھر میں داخل ہوا۔لیکن وہاں پر صرف فاطمہ بیگم اور زرش موجود تھے۔
‘حمنہ یہاں آئی تھی کیا؟’ عثمان نے پریشانی سے پوچھا۔
‘نہیں بیٹا کیوں کیا ہوا سب ٹھیک تو ہے نا۔’فاطمہ بیگم بہت زیادہ پریشان ہوئی تھیں۔
‘دعا کریں کہ سب ٹھیک ہو۔’عثمان نے اتنا کہہ کر جلدی سے باہر آ کر گاڑی میں بیٹھا۔جہاں جہاں حمنہ کو ڈھونڈ سکتا تھا اس نے ڈھونڈا۔وہ مسلسل حمنہ اور غفار کو کال کرنے کی کوشش بھی کر رہا تھا۔لیکن ان کا نمبر ابھی بھی بند تھا۔جب اسے کچھ سمجھ نہیں آیا تو اس نے پولیس کمشنر کو کال کی اور سارے معاملے سے آگاہ کیا۔
‘آپ پریشان نہ ہوں عثمان ملک صاحب ہم جلد از جلد آپ کی بیوی کو ڈھونڈ نکالیں گے۔’ کمشنر نے یقین دہانی کی کوشش کروائی تھی۔
‘اگر وہ نہ ملی نہ تو کسی کو نہیں چھوڑوں گا یاد رکھنا یہ۔’اتنا کہہ کر عثمان نے فون بند کر دیا۔
اسے تین سال پہلے کا واقعہ پھر سے یاد آنے لگا۔جب اس نے اپنا سب کچھ کھو دیا تھا اور آج پھر سے وہ اپنا سب کچھ کھو بیٹھا تھا۔وہ بس اتنا جانتا تھا کہ اگر حمنہ کو کچھ ہوا تو وہ بھی مر جائے گا۔وہ آج پھر سے اپنے خدا کے حضور دل کی گہرائیوں سے دعا گو تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حمنہ کی آنکھ کھلی تو وہ کسی بند سے کمرے میں موجود تھی اور اسکے ہاتھوں پیروں کو رسیوں سے باندھا گیا تھا۔حمنہ نے چلانے کی کوشش کی لیکن اس دوائی کے زیر اثر وہ چلا بھی نہیں پا رہی تھی۔وہ بہت ڈر گئی تھی۔اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کس نے اسکو اغواہ کیوں کیا ہے ۔اسے تو لگا تھا کہ گاڑی اسے بابا کی ہے پھر یہ لوگ کون تھے۔
سردی میں ٹھنڈے فرش پر پڑے اسکا جسم سن ہو رہا تھا۔وہ پہلے سے ہی بخار میں مبتلا تھی اور اب تو اسے اپنا وجود بے جان لگ رہا تھا۔حمنہ نے اللہ تعالی سے دعا کی کہ وہ اسے اس مصیبت سے نجات دلا دیں ۔کسی طرح عثمان کو یہاں بھیج دیں۔عثمان کو یاد کرتے ہی حمنہ بری طرح رونے لگی۔
‘ع ۔۔۔۔۔عثمان پلیز آ جائیں۔’
اسکو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کرے۔اس نے بہت دفعہ خود کو رسیوں سے چھڑانے کی کوشش کی تھی لیکن انہیں بہت مظبوطی سے باندھا گیا تھا۔اچانک سے دروازہ کھلا اور ایک انسان کا ہیولا حمنہ کو نظر آیا۔وہ قریب ہوا تو حمنہ اسے حیرت سے دیکھنے لگی۔
‘تم!’
ردا حمنہ کے پاس فرش پر بیٹھ کر مسکرانے لگی۔
‘ہاں میں۔تمہیں کیا لگا تھا کہ تم مجھے بے عزت کر کے نکال دو گی اور میں چپ بیٹھ جاؤں گی۔’ردا چہرے پر وحشت سجائے بول رہی تھی۔
‘ تم دیکھنا عثمان مجھے لینے آ جائیں گے اور پھر تم جیل میں جاؤ گی پاگل لڑکی۔’
حمنہ بہت غصے سے بولی تھی۔ردا اس کی بات سن کر غصے سے اس کے قریب ہوئی اور اس کے بالوں کو اپنی مٹھی میں جکڑ لیا۔
‘کیا کہا تو نے؟تیرا ابھی بھی بل نہیں گیا؟بتاتی ہوں تجھے۔’
اتنا کہ کر ردا نے حمنہ کے بالوں کو جھٹکے سے چھوڑا اور اسے بری طرح سے مارنا شروع کر دیا۔حمنہ نے مزاحمت کرنے کی کوشش کی لیکن بندھے ہونے کی وجہ سے کچھ کر نہیں پائی۔
نا جانے کتنی دیر ردا اسے جانوروں کی طرح مارتی رہی اور حمنہ کبھی چیختی تو کبھی عثمان کو بلاتی۔لیکن یہاں اس کی آہو پکار سننے والا کوئی نہیں تھا۔آخر کار حمنہ اپنے ہوش و حواس سے بے خبر ہو گئی تو ردا بھی اسے چھو ڑ کے وہاں سے چلی گئی۔
حمنہ کے جسم کا ہر حصہ درد میں لپٹا ہوا تھا لیکن اب وہ اس دنیا اور اس درد سے بے خبر ہو رہی تھی۔اس کے ذہن میں آخری خیال عثمان کا تھا ۔اسکے بعد اسکا وجود بے جان سا ہو گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جانان اور دراب صبح ہوتے ہی واپس آ گئے تھے۔جانان نے بہت زیادہ اینجوائے کیا تھا۔صبح کی نماز کے بعد ایک لڑکا انہیں وہاں ناشتہ دے کر گیا تھا اور اس کے بعد وہ ہندو کش کے پہاڑوں پر سیر کرنے چلے گئے۔جانان نے دراب کو کہہ دیا تھا کہ وہ اب دراب کو زیادہ تنگ کرے گی کیونکہ اس نے بہت اچھی طرح سے اسے منایا تھا۔اس بات پر دراب نے اسے سزا یاد کروائی تو وہ شرما دی۔
گھر واپس آتے ہی جانان گل کے پاس چلی گئی اور اسے دراب کے سرپرائز کے بارے میں بتانا تھا۔
دراب کو وجدان کی کال آئی تھی اس نے ملنے بلایا تھا ۔
دراب وجدان کے پاس چلا گیا تھا۔جانان اب گل کے پاس بیٹھی کبھی اس گھر کی تعریف کرتی، تو کبھی پہاڑوں کی۔
‘تم کو بس گھر اور پہاڑ اچھا لگا اور لالا نے تمہارے لئے اتنا کچھ کیا تو وہ سب سے اچھا ہوا نا۔’
گل کے ایسا کہنے پر جانان مسکرانے لگی۔
‘دراب تو میرے لیئے سب کچھ ہیں ان کے بغیر تو نہ پہاڑ اچھے ہیں ،نہ آسمان ،نہ یہ جہان۔گل ان کے بغیر تو میں کچھ بھی نہیں ۔ایسا لگتا ہے کہ اگر وہ مجھ سے دور چلے گئے یا ناراض ہو گئے تو میں مر ہی جاؤں گی۔’
جانان پریشانی سے بولی تو گل اس کا موڈ اچھا کرنے کی کوشش کرنے لگی۔
‘لالا آئے گا نا تو یہ سب ہم اسے بتائے گا۔’گل شرارت سے بولی تھی۔
‘نہیں بلکل نہیں۔کتنی شرم آئے گی مجھے۔’جانان اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپاتے ہوئے بولی۔
‘ہم یہ بھی بتائے گا لالا کو۔’
گل ہنستے ہوئے بولی۔جانان نے منہ بنا لیا اور ہاشم صاحب کے کمرے کی طرف چل دی۔
‘بابا کو بتاتی ہوں میں کہ میری سہیلی کو اپنے لالا سے زیادہ پیار ہے۔’
جانان کی بات پر گل ہنستے ہوئے اس کے ساتھ چل دی۔آخر اس کے لالا کی سپورٹ میں بھی تو کوئی ہو نا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔
عثمان پوری رات حمنہ کو ڈھونڈتا رہا تھا۔پولیس بھی اپنی پر ممکن کوشش کر رہی تھی کیونکہ یہاں سوال عثمان ملک کی بیوی کا تھا۔جس گاڑی میں حمنہ گئی تھی اس پر کوئی نمبر بھی موجود نہیں تھا جس کی وجہ سے اس گاڑی کا پتہ لگانا بہت مشکل ہو گیا تھا۔
عثمان حد سے زیادہ پریشان ہو رہا تھا ۔اس کا بس چلتا تو سب کچھ مٹا کر اپنی حمنہ کو ڈھونڈ لیتا۔اب شام ہونے کو تھی اور ابھی بھی وہ پولیس سٹیشن میں کمشنر کے پاس بیٹھا تھا۔
‘عثمان صاحب ہم ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں انہیں ڈھونڈنے کی ۔جس جگہ پر ان کا موبائیل فون آف ہوا تھا وہاں سے آگے بہت آبادی ہے۔ ہم نے ہر جگہ اپنے سپاہی تعینات کیے ہیں۔جیسے ہی کچھ خبر ملے گی ہم فوراً ایکشن لیں گے۔’
عثمان کمشنر کی باتیں سن کر اکتا چکا تھا۔اس نے آگے ہو کر کمشنر کی آنکھوں میں دیکھا۔
‘سن کل صبح تک اگر مجھے حمنہ نہیں ملی نا تو اپنی نوکری کو خیر آباد کر دینا۔سمجھا۔’
عثمان اتنا کہہ کے وہاں سے چلا گیا اور گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی کو پوری رفتار سے چلانے لگا۔
‘کہاں ہو حمنہ ۔پلیز یار میرے لیئے ٹھیک ہونا۔’
عثمان کی آنکھوں میں آنسو ہر منظر کو دھندلا کرنے لگے۔اس نے گاڑی کو ایک طرف روکا اور سیٹ کی بیک کے ساتھ ٹیک لگا کر آنکھیں موند لیں۔
‘یا اللہ پلیز میری حمنہ کی حفاظت کرنا۔’
اس کے ذہن میں اچانک ایک شخص کا خیال آیا۔اس نے جیب سے موبائیل نکالا اور نمبر ڈائیل کرنے لگا۔
‘ہیلو،’ عثمان کو جانی پہچانی آواز سنائی دی۔
‘مجھے تمہاری مدد چاہئے خان۔’عثمان جلدی سے بولا تھا۔
‘بولو کیا مسلئہ ہوا ہے؟’اس نے سنجیدگی سے پوچھا تو عثمان نے سب کچھ اسے بتا دیا۔اس نے حمنہ کے بارے میں جو انفارمیشن پوچھی عثمان نے بتا دی۔
‘دو گھنٹے چاہیں ملک ۔’اتنا کہہ کر خان نے فون بند کر دیا۔عثمان جانتا تھا کہ خان ایک اچھا انسان نہیں ہے لیکن اس وقت عثمان کے وہ بہت کام آ سکتا تھا۔وہ جانتا تھا کہ خان حمنہ کے بارے میں پتہ لگا لے گا۔
‘میں تمہیں ڈھونڈ لوں گا حمنہ یہ تمہارے عثمان کا وعدہ ہے تم سے۔’
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حمنہ کو اچانک سے ہوش آیا تھا لیکن سردی اور تکلیف کی شدت سے اسکا جسم ہل بھی نہیں رہا تھا۔حمنہ کی آنکھوں میں بے ساختہ آنسو آئے تھے۔وہ نہیں جانتی تھی کہ مزید کتنی تکلیف اسے اٹھانی تھی۔
حمنہ دوبارہ سے ہوش کی دنیا سے بیگانا ہو رہی تھی جب اسکے کانوں میں ایک جانی پہچانی آواز پڑی۔
‘تمہای ہمت کیسے ہوئی میری بیٹی پر ہاتھ اٹھانے کی۔’
سلمان صاحب کی آواز بند دروازے سے آئی تھی جو حمنہ کے لیئے امید کی سب سے بڑی کرن تھی۔ اس نے ہلنے کی کوشش کی تو اسکے وجود میں درد کی کئی لہریں اٹھیں۔اس کے منہ کو باندھا گیا تھا لیکن پھر بھی حمنہ چلانے کی اور سلمان صاحب کو آواز دینے کی مکمل کوشش کر رہی تھی۔
‘آواز نیچی رکھیں سلمان صاحب کہیں آپ کی لاڈلی سن نہ لے۔’ردا نے طنزیہ انداز میں کہا تھا۔
حمنہ اپنے دکھتے جسم کو ہر تکلیف میں مبتلا کر کے دروازے تک پہنچنے کی کوشش کرنے لگی۔
‘تم ایسا نہیں کر سکتی لڑکی ہمارے درمیان طے ہوا تھا کہ حمنہ کو غائب کر کے صرف عثمان سے الیکشن اور اسکی پراپرٹی کا مطالبہ کریں گے لیکن اس سب میں حمنہ کو کوئی نقصان نہیں ہو گا۔’
حمنہ دروازے تک پہنچی تھی اور اس نے دروازے سے ٹکر لگا کر اپنی طرف توجہ حاصل کرنا چاہی تھی جب اس کے کانوں میں یہ الفاظ پڑے اور وہ ایک بت کی طرح وہیں جم گئی۔
‘آپ نے جو بھی کہا ہو ۔عثمان کی پراپرٹی کے لیئے میں کسی بھی حد تک جاؤں گی ۔اس پر میرا حق ہے اور میں اسے کسی بھی قیمت پر حاصل کر کے رہوں گی۔’ردا اس بار غصے میں بولی تھی۔
‘تمہیں کیا لگتا ہے کہ عثمان حمنہ کی اس حالت کے بعد تمہیں اپنی پراپرٹی دے دے گا ۔’اس بار سلمان صاحب کی آواز حمنہ کو سنائی دی ۔
‘اب عثمان کروڑوں کی جائداد یوں ہی تو مجھے نہیں دے گا نا۔جب تک اسے اپنی پیاری بیوی سچ میں خطرے میں نہیں لگے گی وہ کچھ نہیں کرے گا۔آپ میری چھوڑ کر اپنی فکر کریں۔اگر دنیا کو معلوم ہو گیا کہ آپ نے اپنی بیٹی کو اگواہ کروایا ہے تو آپ کا کیا بنے گا۔نہ تو آپکے گھر والے آپ کو قبول کریں گے اور الیکشن میں ووٹ کی بجائے عوام سے جوتے پڑیں گے۔’ردا کسی بھی قسم کا لحاظ رکھے بغیر بولی تھی۔
‘اس لیئے بہتر یہی ہے کہ یہاں سے چلے جائیں ورنہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑوں گی۔’
ردا کی بات سن کر سلمان صاحب وہاں سے چلے گئے۔وہ مجبور تھے ۔کیونکہ انکی چال ردا نے انہیں پر الٹی چلا دی تھی اور اگر سچ میں یہ سچ باہر آتا تو وہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہتے۔
جبکہ ان کے وہاں سے جاتے ہی حمنہ بری طرح سے رونے لگی۔وہ سوچ نہیں سکتی تھی کہ اسکا اپنا باپ اس قدر خود غرض ہو سکتا ہے کہ اپنے مفاد کے لئیے اپنی بیٹی کی ساری خوشیاں ختم کرنے کو تیار ہو گیا تھا۔حمنہ وہیں فرش پر لیٹی روتی جا رہی تھی جب اچانک دروازہ کھلا اور ردا پھر سے اندر آئی۔
‘او تو جاگ گئی تم۔چلو اچھا ہے میں نے تمہارے پیارے سے عثمان کو پیغام بھی تو بھیجنا ہے۔’
اس نے حمنہ کو بالوں سے پکڑا اور حمنہ کو بری طرح مارنا شروع کر دیا اور اسکے بالوں کو کھینچنے لگی۔
ساتھ آئے آدمی نے کیمرہ سے وڈیو بنانا شروع کر دی۔
‘عثمان اگر اپنی پیاری سی بیوی کی سلامتی چاہتے ہو نا تو اپنی پراپرٹی کے پیپرز بتائی ہوئی جگہ پر لے کر حاضر ہو جانا اور اگر پولیس کو شامل کیا یا کوئی بھی ہوشیاری کی تو اپنی بیوی کی لاش دیکھو گے۔’
وہ آدمی بول رہا تھا۔ وڈیو کو اس نے یوں بنایا تھا کہ ردا کا چہرہ دیکھائی نہیں دیا تھا صرف اور صرف حمنہ ہی نظر آ رہی تھی۔کیمرہ بند ہوتے ہی ردا نے حمنہ کے بالوں کو چھوڑا اور زور سے اسکے پیٹ میں لات ماری۔حمنہ کی چیخ درد ناک تھی۔
‘صبح ہوتے ہی یہ پیغام اس گارڈ کی لاش کے ساتھ عثمان کو پہنچا دینا۔’
ردا نے اسے کہا تو وہ ہاں میں سر ہلاتا باہر چلا گیا اور ردا بھی اس کے پیچھے دروازے کو لاک کرنے لگی۔جبکہ حمنہ اب مکمل طور پر ہوش کی دنیا سے بے خبر ہو گئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اتنی رات ہو گئی تھی اور دراب ابھی تک واپس نہیں آیا تھا۔جانان کو اکیلے کمرے میں ڈر لگتا تھا اس لیئے وہ ہاشم صاحب کے پاس بیٹھ کر دراب کا انتظار کر رہی تھی۔
آج ہاشم صاحب جانان کو کچھ مختلف لگے تھے ۔وہ جانان سے مسکراتے ہوئے باتیں تو کر رہے تھے لیکن وہ مسکراہٹ صرف جانان کے لیئے ایک دکھاوا تھی اور یہ بات جانان بھی سمجھ رہی تھی۔
‘بابا آپ اپنے بیٹے کو ڈانٹتے نہیں نا اسی لیئے بگڑتے جا رہے ہیں۔’جانان نے مسکراتے ہوئے کہا تھا ۔
‘بیٹے کو تو میں واقعی ڈانٹنا بھول گیا ہوں اسی لیئے اب اپنی قیمتی چیزوں کی بھی پرواہ نہیں کرتا۔’
ہاشم صاحب بلکل صاف لہجے میں بولے تھے اور اب تک تو جانان بھی یہ سمجھ چکی تھی کہ وہ جب بھی سنجیدہ ہوتے ہیں تو ان کا لہجہ پختون نہیں رہتا تھا۔
جانان ان سے پریشانی کی وجہ پوچھنا چاہتی تھی لیکن ہمت نہیں کر پا رہی تھی۔
تبھی کمرے میں دراب داخل ہوا۔
‘اسلام و علیکم۔’
‘لیں بابا آ گئے آپ کے بیٹے اب ڈانٹ لیں انہیں اور یہ بھی بتائے گا کہ جانان کو اکیلے کمرے میں ڈر لگتا ہے اس لیئے ابھی تک سوئی نہیں۔’جانان نے گھڑی کی طرف اشارہ کیا جو بارہ بجا رہی تھی۔دراب اسکی بات پر مسکرایا۔
‘جانان بیٹا آپ کمرے میں جاؤ مجھے دراب سے بات کرنی ہے پھر میں اسے بھی بھیجتا ہوں۔’
جانان ہاں میں سر ہلاتی ہوئی وہاں سے چلی گئی لیکن کمرے کی طرف جاتے ہوئے اس نے سوچا کہ دراب تھکا ہو گا اس لیئے چائے بنا لینی چاہیے۔وہ اپنا رخ بدل کر کچن میں چائے بنانے چلی گئی۔
جانان کے جاتے ہی ہاشم صاحب نے غصے سے دراب کو دیکھا۔
‘یہ میں کیا سن رہا ہوں دراب؟تم اپنی زندگی اب اس طرح سے خطرے میں نہیں ڈال سکتے اب تمہارے ساتھ جانان کی زندگی جڑی ہے اور یقین جانو کہ وہ مجھے تم سے بھی ذیادہ عزیز ہے۔’
دراب کو سعد پر غصہ آیا ۔وہ جانتا تھا کہ یہ سب کیا دھرا اسی کا تھا۔
‘کوئی اور راستہ نہیں ہے۔آپ کیا چاہتے ہیں کہ معصوم لوگوں کی جانیں چلی جائیں۔’دراب نے نرمی سے
ان سے کہا تھا۔
‘دراب ضروری نہیں کہ سب تم ہی کرو یہ کام سعد اور وجدان پر چھوڑ دو۔’ہاشم صاحب نے اسے سمجھانا چاہا تھا۔
‘اپنی وجہ سے ان کی زندگی خطرے میں نہیں ڈال سکتا ۔بادشاہ کی دشمنی مجھ سے ہے ان سے نہیں ۔’دراب اب زرا سا چڑ گیا تھا۔
‘ٹھیک ہے پھر جانان کو سب سچ بتا دو اور پھر فیصلہ اس پر ہو گا کہ تمہیں کیا کرنا چاہیئے؟’
یہ بات دراب کو کافی غصہ دلا گئی تھی۔وہ کبھی بھی نہیں چاہتا تھا کہ جانان کو دارا کے بارے میں کچھ بھی پتا چلے وہ جانان کی نظروں میں تھوڑی سی بھی بے اعتباری برداشت نہیں کر سکتا تھا۔اس لیئے نہ چاہتے ہوئے بھی اسکی آواز بلند ہوئی تھی۔
‘آپ کو کیا لگتا ہے کہ میرا سب سے برا روپ دیکھنے کے بعد وہ مجھ سے یوں ہی محبت کرے گی۔ یہ جاننے کے بعد کہ میں ایک غدار ایک دہشت گرد ہوں جس کی وجہ سے نا جانے کتنے معصوم لوگوں کی جانیں چلی گئیں۔یا یہ بتاؤں اسے کہ میں دارا ہوں جس نے نہ جانے کتنے ہی لوگوں کو بے رحمی سے مارا ہے اور جو اس ملک کا سب سے بڑا دشمن ۔۔۔۔۔’
اس سے پہلے کہ دراب کچھ اور کہتا ان کے پیچھے سے کچھ گر کر ٹوٹنے کی آواز آئی۔دراب نے مڑ کر دیکھا تو وہاں جانان دم سادھے اور آنکھوں میں آنسو لیئےاسے بے اعتباری سے دیکھ رہی تھی ۔ہاشم صاحب بھی جانان کو دیکھ کر پریشان ہو گئے۔وہ نہیں جانتے تھے کہ جانان نے کیا سنا تھا۔
‘جانان۔۔۔۔۔’دراب اس کی طرف لپکا تھا۔
جانان کا سر بری طرح سے گھوما، اس سے پہلے کہ وہ بے ہوش ہو کر زمین بوس ہوتی دراب اسے اپنی باہوں میں تھام چکا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔