Safar Ishq By Harram Shah Readelle50189 Episode 21
No Download Link
Rate this Novel
Episode 21
Episode21
حال
جانان نے ابھی بھی وہ فائل ہاتھوں میں پکڑی تھی۔اسے دراب کو کہے گئے سب الفاظ یاد آ رہے تھے۔جانان کو خود سے نفرت ہو رہی تھی اس نے کس طرح اپنے الفاظ سے اس شخص کو گھائل کیا جو اس سے عشق کرتا تھا۔
جانان نے اپنے آنسو صاف کئے تھے۔وہ دراب سے معافی مانگے گی اور ان کو منا لے گی پھر چاہے اسے دراب کے پیر ہی کیوں نہ پڑنا پڑے۔یہ سوچتے ہی جانان جلدی سے کمرے سے باہر نکلی تھی اور ہاشم صاحب کے کمرے میں چلی گئی تھی۔
ہاشم صاحب کرسی پر بیٹھے کتاب پڑھ رہے تھے۔کسی کی موجودگی کے احساس پر انہوں نے اپنی کتاب سے نظریں ہٹا کر جانان کو دیکھا تو انہیں خوشگوار حیرت ہوئی۔جبکہ جانان ان کے دیکھتے ہی بھا گ کر ان کے پاس گئی اور انکی گود میں سر رکھ کر بری طرح سے رونے لگی۔
‘مم۔۔۔۔۔میں بہت بری ہوں بابا بب۔۔۔۔بہت ذیادہ بری۔میں نے دراب کو اتنا برا بھلا کہا۔انہوں نے مجھے اتنی بار کہا کہ ان کی بات تو سن لوں پر میں نے انکو کچھ بتانے ہی نہیں دیا تھا۔’
‘نہیں میرا بچہ تم تو بہت زیادہ اچھی ہو۔تمہاری جگہ کوئی بھی لڑکی ہوتی تو یہی کرتی۔’انہوں نے جانان کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا تھا۔
‘بابا میں دراب سے معافی مانگ لوں گی۔کہاں ہیں وہ۔’جانان نے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا تھا۔
‘آ جائے گا بیٹا کچھ دنوں میں واپس تم فکر مت کرو۔’ہاشم صاحب نے مسکرا کر کہا تھا لیکن وہ مسکراہٹ ان کی آنکھوں تک نہیں پہنچی تھی۔جانان نے انکا ہاتھ پکڑ کر اپنے سر پر رکھا۔
‘آپ کو میری قسم بابا پلیز بتائیں دراب کہاں گئے ہیں؟’جانان نے بے چینی سے پوچھا تو ہاشم صاحب نے اپنا ہاتھ اسکے سر سے ہٹا لیا۔
‘بادشاہ کے پیچھے گیا ہے وہ ۔اب یہ قصہ ختم کرنا چاہتا ہے۔’ہاشم صاحب نے بتایا تو جان پریشانی سے رونے لگی۔
‘تم پریشان نہیں ہو بیٹا بس اس کی سلامتی کی دعا کرو۔’ ہاشم صاحب نے اسکے سر پر پیار دیتے ہوئے کہا تھا۔جانان نے پھر سے انکی گود میں سر رکھ دیا اور بری طرح سے رونے لگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دراب اور سعد کو تربت پہنچے ایک دن ہو گیا تھا۔جلسے سے پہلے وہ جتنی معلومات اکٹھی کر سکتے تھے وہ کر چکے تھے۔دراب اس وقت جلسے میں کھڑا اس انسان کی تلاش میں تھا جو کسی بھی لحاظ سے مشکوک نظر آ سکتا تھا۔
اچانک اسکی نظر ایک لڑکی پر پڑی جس نے اپنے آپ کو پوری طرح سے چادر میں ڈھانپا ہوا تھا اور وہ بہت زیادہ ڈری ہوئی لگ رہی تھی۔دراب نے سعد کو ڈھونڈنے کے لیئے نظر دوڑائی تو وہ اسے کافی دور نظر آیا تھا۔دراب سب لوگوں میں سے ہو کر اس لڑکی کی طرف گیا تھا۔دراب نے اسے بازو سے پکڑ کر اپنے ساتھ لے جانا شروع کر دیا۔لڑکی اپنے آپ کو چھڑوانے کی ہر ممکن کوشش کر رہی تھی۔لیکن دراب کی پکڑ کافی مظبوط تھی۔دراب نے ایک گلی میں لا کر دیوار کے پاس کھڑا کیا اور اسکی چادر کو ہٹایا تھا۔دراب کے شک کے عین مطابق اس لڑکی کو بم والی جیکٹ پہنائی گئی تھی۔
‘سیدھی کھڑی رہو۔’دراب نے اس لڑکی سے کہا تھا جو بری طرح سے رو رہی تھی۔
دراب نے بم کا معائنہ کیا تھا جسے بہت عام سی طرض سے بنایا گیا تھا۔ایسے بم کو بے اثر کرنے کی ٹریننگ انہیں آرمی میں دی گئی تھی۔دراب نے ایک مخصوص تار کو کھینچ کر اس بم کو بند کیا تھا۔جب اچانک پیچھے سے کسی نے دراب کے سر پر ڈنڈا مارنا چاہا تھا جسے دراب نے تیزی سے مڑ کر ہوا میں ہی تھام لیا تھا۔
اس سے پہلے کہ دراب اس آدمی پر حملہ کرتا دراب کے پیچھے موجود لڑکی نے اسکے منہ پر مضبوطی سے ایک رومال رکھا تھا۔جس کی وجہ سے دراب بے ہوش ہو کر زمین بوس ہو گیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سلمان صاحب اس وقت ہسپتال میں تھے۔ان کا بی پی شوٹ کرنے کی وجہ سے انہیں فالج کا بہت برا اٹیک ہوا تھا اور انکے جسم کا دائیاں حصہ کام کرنا چھوڑ چکا تھا۔فاطمہ بیگم انکے پاس بیٹھی تسبیح پڑھ رہی تھیں۔ان کو دیکھتے ہی سلمان صاحب کو اپنے سارے ظلم اور خود غرضی یاد آئی تھی۔جس کی وجہ سے انہوں نے اپنے ہر رشتے کو تکلیف پہنچائی تھی۔
‘کیا ہوا؟آپ ٹھیک تو ہیں نا؟’ان کے اس طرح سے دیکھنے پر فاطمہ بیگم نے پریشانی سے پوچھا تو وہ رونے لگے۔
‘مم۔۔۔۔میں نے تت۔۔۔۔۔۔۔تم پر بہت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ظلم کیئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ہو سس۔۔۔۔۔۔۔۔سکے تو ۔۔۔۔۔۔معاف کر دینا۔’سلمان صاحب نے روتے ہوئے فاطمہ بیگم سے کہا تو انہوں نے انکا ہاتھ تھام لیا۔
‘آپ ایسے نہیں کہیں میں نے تو آپ کو کب سے معاف کر دیا۔’فاطمہ بیگم نے انکی آنکھوں سے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا تھا۔
‘حمنہ مم۔۔۔۔۔۔۔مجھ سے ناراض ہے نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مم ۔۔۔۔۔ملنے نہیں آئی۔۔۔۔۔۔’
آپ آرام کریں میں خود اسے لے کر آؤں گی آپ فکر نہیں کریں۔’فاطمہ بیگم نے انہیں تسلی دی تھی۔
‘ککا۔۔۔۔۔ش میں اپنی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بب۔۔۔۔۔بیٹیوں کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔اتنا پپ۔۔۔۔۔۔پیار دیتا ۔۔۔۔۔۔جتنا وہ مجھ سس۔۔۔۔۔۔سے کرتی ہیں۔’سلمان صاحب پھر سے رونے لگے تھے اور فاطمہ بیگم کے لیئے انکو سنبھالنا مشکل ہوتا جا رہا تھا۔آج انہیں اپنا ہر ظلم پچھتاوے میں مبتلا کر رہا تھا لیکن اب گذرا ہوا وقت لوٹ کر نہیں آ سکتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دراب کو ہوش آیا تو اسے ایک کمرے میں کرسی سے باندھا گیا تھا۔آہستہ سے دراب کے ذہن نے کام کرنا شروع کیا تو اسے سب کچھ یاد آنے لگا۔دراب نے اپنے آپ کو چھڑوانے کی کوشش کی تھی لیکن اسے بہت مظبوطی سے باندھا گیا تھا۔دراب یہ بھی نہیں جانتا تھا کہ سعد کہاں ہے لیکن وہ امید کرتا تھا کہ وہ خیریت سے ہو گا۔
دراب سمجھ چکا تھا کہ یہ سب صرف اسے پھسانے کے لیئے کیا گیا تھا اور اب وہ یہ بھی نہیں جانتا تھا کہ وہ اس مصیبت سے کیسے نکلے گا۔
اچانک سے دروازہ کھلا اور ایک نقاب پوش آدمی اندر آیا تھا۔ اس نے دراب کے ہاتھ پیر کھولے تھے اور دراب کو گن پوائنٹ پر رکھ کر باہر چلنے کو کہا تھا۔دراب اسکا مقابلہ کرنے کی کوشش کرتا اگر اس نے سامنے کھڑے مزید تین نقاب پوش آدمیوں کو نہ دیکھا ہوتا۔
وہ بلڈنگ دیکھنے میں کافی پرانی لگ رہی تھی شاید اسے آبادی سے کافی دور بنایا گیا تھا۔وہ لوگ دراب کو لے کر ایک ہال نما کمرے میں آئے تھے اور اسے دھکا دے کر ایک آدمی کے سامنے پھینکا تھا۔
‘تو دارا آخر ملاقات ہو ہی گئی۔’بادشاہ نے مسکراتے ہوئے کہا تھا۔
‘بادشاہ۔’دراب نے حیرانی سے اسے دیکھا تھا۔
‘ہاں بادشاہ جس کے ساتھ تو فالتو میں بھڑا اور اسے بہت ذیادہ نقصان پہنچایا۔کافی چالاک تھا تو لیکن بادشاہ سے زرا کم۔’بادشاہ نے شیطانی مسکراہٹ کے ساتھ کہا اور ایک بندوق نکال کر اسے دراب پر تانا تھا۔
‘لیکن اب تو دارا یہاں ہے میرے رحم و کرم پر ۔میں چاہوں تو تجھے ابھی مار دوں۔’بادشاہ نے وہ بندوق دراب کے سر کی طرف کی تھی۔
‘تو پھر کیا خیال ہے ایک گولی اور دارا ختم۔’بادشاہ نے ہنستے ہوئے کہا تو دراب اسے غصے سے گھورنے لگا۔
‘تیری کوئی بھی گولی دارا کو مار نہیں سکتی۔’دراب نے دانت پیستے ہوئے کہا۔
‘ایسا کیا۔’بادشاہ نے اتنا کہہ کر دراب کے سر کا نشانہ لیا اور مسکراتے ہوئے گولی چلا دی۔
