Safar Ishq By Harram Shah Readelle50189 Episode 5
No Download Link
Rate this Novel
Episode 5
سعد جانان کو بس سٹیشن کے کیبن میں چھوڑ کے آ گیا تھا۔ بس کی روانگی میں دو گھنٹے تھے اور اتنی دیر جانان کو وہیں انتظار کرنا تھا۔دراب اور وہ اس وقت ایک آدمی سے ملنے جا رہے تھے۔
‘تم نے اچھا نہیں کیا دراب وہ اتنی دور اکیلے نہیں جا سکتی۔سعد نے پھر سے دراب کو سمجھانے کی کوشش کی ۔
‘یہ اسی کا فیصلہ تھا اب کرے اپنی مرضی ۔’
‘دراب وہ بہت معصوم ہے کسی پر بھی بھروسہ کر لیتی ہے اور پہلی ملاقات میں اسے اچھا بھی بول دیتی ہے۔ اگر کسی غلط شخص کے ہاتھ لگ گئی تو جانتے ہو کیا کیا ہو سکتا ہے اس کے ساتھ۔’
سعد جانان کے لیئے بہت پریشان تھا۔
‘وہ پل بھر کی مسافر ہمارا مسلئہ نہیں ہے سعد سفر میں بہت سے لوگ ملتے ہیں اور جدا ہو جاتے ہیں۔ اس سب سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ ہماری منزل اور ہے اور اس کی منزل اور۔’
مگر سعد مطمئن نہیں تھا اس نے اپنی زندگی میں کوئی رشتہ نہیں دیکھا تھا اور جانان کو تو اس نے دل سے بہن مانا تھا اس لیئے اسکی حفاظت کے لیئے بہت فکر مند تھا۔
‘کونسا فلیٹ ہے؟
دراب کی آواز نے سعد کو خیالوں کی دنیا سے نکالا تو وہ دراب کو فلیٹ نمبر بتاتا اسکے ساتھ ساتھ چل پڑا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنے لیئے چائے بنا رہا تھا جب کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا ۔وہ پریشان ہو گیا اور اپنی پسٹل اٹھا کر دروازے کی طرف جانے لگا ۔اس نے بندوق تانے دروازہ کھولا مگر اس سے پہلے کہ اسے کچھ سمجھ آتا کسی نے اس کے ہاتھ میں موجودہ پسٹل کو ٹانگ مار کے گرایا اور ایک گھونسہ اس کے پیٹ میں مارا جبکہ دوسرا آدمی اس کے منہ پر ہاتھ رکھ چکا تھا۔
‘خاموش رہے گا تو تیرے حق میں ہی بہتر ہو گیا۔’
دارا نے اسے بولا۔ اور ایک چاقو اپنی پنڈلی کے پاس سے نکالا۔دارا کا ساتھی اس کے ہاتھ باندھنے لگا۔تب تک دارا نے دروازہ بند کر کے لاک لگا دیا۔
‘جو تجھ سے پوچھوں اس کا صاف سیدھی طرح جواب دینا ورنہ بولنے کے لیئے تجھے ان آنکھوں کی ضرورت نہیں اور اگر مجھے میرا جواب نہ ملا تو تیری زبان بھی میرے لیئے بے کار ہے۔’
دارا نے چاقو کی نوک اس کی دائیں آنکھ کے پاس کی۔
‘بادشاہ کہاں ہے؟’
‘مجھے نہیں معلوم۔’
اپنے منہ کو آزادی ملتے اس نے اتنا بولا تو دارا نے چاقو اس کی آنکھ میں گاڑھ دیا اور اس کے ساتھی نے منہ پر دوبارہ ہاتھ رکھ کے اس کی چیخ روک دی۔دارا نے چاقو نکال کے دوسری آنکھ کے سامنے رکھا ۔خون پانی کی طرح بہہ رہا تھا۔
‘ ایک اور موقع دیا ۔بادشاہ کہاں ہے؟’اور یاد رکھنا اگلی باری تیری زبان کی ہو گی اگر یہ میرے کام نہیں آئی تو کوئی مقصد نہیں اسکا۔’
‘کک ۔۔۔۔۔کوئی نہیں ج۔۔۔۔ جانتا بب۔۔۔ بادشاہ کے بارے مم۔۔۔۔ میں۔’
دارا نے چاقو کی نوک آنکھ کے بلکل پاس کی۔
‘مم۔۔۔۔۔۔۔۔۔ملک صرف ملک کک۔۔۔۔۔۔۔کو پتا ہے بب۔۔۔۔۔۔بادشاہ کا۔
‘کہاں ملے گا وہ ۔’
وہ آدمی تکلیف کے مارے بے ہوش ہونے لگا تو دارا نے ایک گھونسہ اس کے منہ پہ مارا۔
‘بول’
‘مم۔۔۔۔۔۔۔۔میر پور آا۔۔۔۔۔۔۔آزاد کشمیر۔ ہر بب۔۔۔۔برا آدمی جانتا ۔۔۔۔۔اا ۔۔۔۔اسے۔۔۔۔۔کسی سے بب۔۔۔۔۔بھی پوچھ لینا معلوم۔۔۔۔۔۔۔۔ہو جائے گا۔’
دارا نے ایک خوفناک مسکراہٹ کے ساتھ چاقو اس کے سینے میں گاڑ دیا اور اپنے ساتھی کی طرف دیکھا جو اس کے جواب سے کافی خوش نظر آ رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جانان سٹیشن پر ڈیڑھ گھنٹہ انتظار کرنے کے بعد اب بس میں بیٹھی ہوئی تھی اور وہ بھی پریشان تھی کہ اتنی دور اکیلے کیسے جائے گی ۔مگر وہ واپس بھی تو نہیں جا سکتی تھی اس کی منزل شایان تھا ۔ایسا نہیں تھا کہ شایان سے وہ بہت محبت کرتی تھی وہ تو محبت کا مطلب بھی ٹھیک سے نہیں سمجھتی تھی۔اس کی ماں نے اسے بتایا تھا کہ شوہر ہی بیوی کا سب کچھ ہوتا ہے ۔لڑکی کی وفا ،محبت ،تمنا سب کچھ اس کا شوہر ہونا چاہیے اور پھر اس نے وعدہ بھی تو کیا تھا جو کہ جانان شایان شاہ کبھی نہیں توڑتی۔
جانان کے ساتھ بیٹھی عورت کو کنڈکٹر نے کچھ کہا تو پہلے تو وہ بحث کرنے لگی پھر وہاں سے اٹھ کر چلی گئی۔جانان کو کچھ سمجھ نہیں آیا کیونکہ وہ سندھی میں بات کر رہے تھے اور جانان نے اس کے اٹھنے پر شکر کیا کیونکہ وہ عورت بھاری بھرکم ہونے کی وجہ سے جانان کی بھی آدھی جگہ لے رہی تھی۔
مگر پھر جانان کے ساتھ ایک آدمی بیٹھ گیا ۔جانان ایک پل کو گھبرا گئی مگر اس کے چہرے کو دیکھتے ہی خوش ہو گئی لیکن اس کی باتیں یاد آئیں تو منہ پھلا کے باہر کی طرف دیکھنے لگی۔ اس کی نظر پچھلی سیٹ پر بیٹھے سعد پر پڑی جسے دیکھ کے وہ مسکرانے لگی۔
جانان کی اس حرکت پہ دراب کے لبوں کو مسکراہٹ نے چھوا۔
‘سوچا تم اکیلی گم ہو جاؤ گی اس لیئے آ گئے کہ کہیں ہمیں بد دعائیں نہ دے دو ۔’خوشدراب شرارت سے بولا۔
‘سعد بھائی ان کو کہہ دیں کہ میں نے نہیں کہا تھا آنے کو اس لیئے مجھ پہ احسان نہ کریں اور میں کسی کو بددعا نہیں دیتی کیونکہ وہ لوٹ کر دینے والے کے پاس ہی آتی ہے۔’
جانان نے سعد کی طرف دیکھتے ہوئے کہا اور دراب جس کو اس کے ساتھ سفر کرنے کے لیئے ٹکٹ کی چار گنا زیادہ رقم دینی پڑی تھی اس کی بات پر حیرت سے اسے دیکھنے لگا۔
‘ٹھیک ہے اگر ایسی بات ہے تو ہم چلے جاتے ہیں آخر تم نے تو کہا ہی نہیں تھا آنے کو۔’
‘نہیں ۔۔۔۔۔’
دراب اٹھنے لگا تو جانان نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ مگر پھر اپنی حرکت پہ گھبرا کر چھوڑ دیا ۔دراب واپس بیٹھ کر مسکرانے لگا ۔
‘سعد بھائی ان کو کہہ دیں کہ آرام سے بیٹھ جائیں اور میرا مذاق نہیں اڑائیں۔’
جانان نے دراب کی مسکراہٹ کو دیکھ کر کہا تو اس کی مسکراہٹ مزید گہری ہو گئی۔جبکہ سعد نے ان کی اس لڑائی سے دور رہنا بہتر سمجھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بادشاہ کو خبر مل چکی تھی کہ کراچی میں اس کا ایک اور آدمی مارا گیا ۔بادشاہ جانتا تھا کہ یہ کام بھی دارا کا ہے ۔ وہ سوچ سوچ کر تھک گیا تھا لیکن سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ یہ دارا کون ہے اور بادشاہ کے پیچھے ہاتھ دھو کے کیوں پڑا ہے۔
بادشاہ یہ بھی جانتا تھا کہ دارا اب پھر سے اس کے کسی آدمی کے پاس جائے گا مگر کون۔بہت دیر سوچنے کے بعد اس نے اپنے سب سے خاص آدمی کو بلایا۔
‘جی سردار’ بہرام نے کمرے میں داخل ہوتے ہی بادشاہ سے پوچھا۔
‘ملک پہ نظر رکھ دارا کا شکار وہی ہو گا اب۔’
‘ پھر تو ہمیں ملک کو محتاط کرنا چاہیے۔’
بہرام کی بات پر بادشاہ کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ آئی۔
‘نہیں اب اپنے خاص آدمی کی وجہ سے ہی مجھے دارا کا پتہ چلے گا۔ ملک دارا کے لیئے چارے کا کام کرے گا سمجھ رہا ہے نا۔’
بادشاہ اپنے منصوبے پر کافی خوش اور مطمئن تھا۔بہرام ہاں میں سر ہلا کر باہر چلا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات ہو چکی تھی ۔سارا دن سفر میں رہنے کی وجہ سے جانان کا جوڑ جوڑ دکھ رہا تھا۔ٹرین میں سونے کی سہولت تو موجود تھی مگر بس میں بیٹھ کر جانان بہت تھک گئی تھی۔اب وہ راستے میں موجود ہوٹل میں کھانا کھا رہے تھے جو بہت مزے کا تھا۔
‘چائے پینے کا موڈ ہے کسی کا؟’
سعد نے پوچھا تو جانان نے اسے یوں دیکھا جیسے وہ سب سے بڑا احسان کر رہا تھا یہ پوچھ کر۔
‘سچ میں آپ اس دنیا کے سب سے اچھے بھائی ہیں۔’
‘اور تم سب سے پیاری بہن۔’
سعد بھی دل سے تعریف کرتا چائے لینے جانے لگا۔
‘جلدی کرو بس گزر گئی تو مشکل ہو گی۔’
دراب نے کہا تو سعد ہاں میں سر ہلا کے چلا گیا ۔دراب کی نظر جانان پے پڑی جو مزید سفر کے نام پر رونے والی صورت بنانے لگی۔دراب نے سوچا تھا کہ رات کہیں رک کے آرام کریں گے مگر انہیں کشمیر جلدی پہنچنا تھا۔
‘میں نے تو بتایا تھا کہ کشمیر بہت دور ہے اور ابھی بہت سفر باقی ہے۔’دراب نے جانان کی رونی صورت دیکھ کر اسے بتایا۔
‘میں پہنچوں گی تو شایان جی سے بہت ذیادہ جھگڑا کروں گی۔ میں اتنا تھک گئی اور وہ لینے بھی نہیں آ سکے۔بلکہ جھگڑا ہی کیوں تنگ بھی بہت کروں گی انہیں۔’
جانان نے منہ بناتے ہوئے کہا۔
‘جانان ۔’
دراب کے بلانے پر وہ اس کی طرف دیکھنے لگی جو بہت سنجیدہ دکھائی دے رہا تھا۔
‘اگر وہ شخص تمہارے قابل نہ ہوا تو۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر وہ اچھا نہ ہوا تو کیا کرو گی۔تمہیں تو اس کے بارے میں کچھ یاد بھی نہیں۔’
‘وہ اچھے نہیں بہت ذیادہ اچھے ہوں گے۔’جانان نے مسکرا کے کہا۔
‘اور تمہیں ایسا کیوں لگتا ہے؟’
‘کیونکہ میں اچھی ہوں اور آپ کو پتا ہے میری آپی نے بتایا تھا کہ اللہ تعالی اچھے لوگوں کے ساتھ برا نہیں ہونے دیتے۔اس لیئے مجھے پورا یقین ہے کہ وہ بہت اچھے ہوں گے اور مجھے دیکھتے ہی بہت زیادہ خوش ہو جائیں گے اور مجھے بتائیں گے کہ انہوں نے کتنا یاد کیا مجھے۔میں سوچتی تھی کہ وہ مجھے لینے کیوں نہیں آئے پھر خیال آیا کہ وہ تو آرمی میں ہیں نا اور ان کے پاس تو ٹائم ہی نہیں ہوتا اس لیئے میں خود چلی جاتی ہوں ۔ان کو میری وجہ سے مسئلہ بھی نہیں ہو گا۔’
جبکہ وہ نہیں جانتی تھی کہ اپنی باتوں سے وہ سامنے بیٹھے شخص کو کسی کی قسمت پر رشک کرنے اور اس آدمی کی جگہ پہ ہونے کی چاہ کرنے پر مجبور کر رہی تھی۔
دراب اتنا جانتا تھا کہ زندگی اتنی آسان نہیں جتنا جانان سوچتی ہے لیکن وہ اس کے معصوم دل کے لیئے دعا گو تھا کہ وہ اس دنیا کے اندھیروں سے دور رہے ۔وہ اندھیرے اس معصوم لڑکی کو ختم کر دیں گے۔
‘لو جی آگئی آپ کی چائے۔’
سعد کی آواز نے دراب کو اس کے خیالوں سے نکالا ۔جانان بھی چائے دیکھ کر ایسے خوش ہو رہی تھی جیسے کوئی خزانہ ہو۔
‘سعد بھائی آپ کو پتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔’
اس سے پہلے کہ جانان بات مکمل کرتی سعد بولا۔
‘نہیں گڑیا مجھے نہیں پتا ۔بھلا تمہارے بتائے بغیر کیسے پتا ہو گا کوئی نجومی تو نہیں نا میں۔’
جانان نے اس کی بات پہ منہ پھولا لیا اور اسکا چہرہ دیکھ کے سعد نے قہقہہ لگایا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
