Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

2nd Last Episode

گولی دراب کے سر کے پاس سے گزری تھی لیکن دراب نے کوئی خوف ظاہر نہیں کیا تھا۔بادشاہ اسے دیکھ کر مسکرانے لگا۔
‘اتنی آسانی سے نہیں دارا تیری موت تو عبرت کا نشان بنے گی بادشاہ سے بھڑنے والوں کے لیئے۔’ بادشاہ نے اسکو بالوں سے پکڑ کے ایک مکا اسکے منہ پر مارا تھا۔
‘تجھے کیا لگا میں تجھے پہچان نہیں سکوں گا میجر شایان شاہ۔بادشاہ اپنے شکار کو کبھی نہیں بھولتا اور تو نے تو میرا ساتھ دیا تھا۔’بادشاہ قہقہہ لگا کر ہنسا تھا۔
‘کیوں کیا تو نے میرے ساتھ ایسا آخر کیا دشمنی تھی تیری مجھ سے؟’دراب نے دانت پیستے ہوئے اس سے پوچھا تو بادشاہ نے ایک زور دار گھونسہ دراب کے پیٹ میں مارا تھا۔
‘دشمنی میری نہیں تھی تیرے سے کسی اور کی تھی میں نے تو بس مدد کی تھی۔اب تیرے اپنے ہی تیرے دشمن نکلے تو اس سب میں میرا کیا قصور۔’
‘کون تھا وہ؟’ دراب نےپوچھا تو بادشاہ قہقہہ لگا کر ہنسنے لگا۔
‘جان کے بھی کیا کر لے گا میجر اب تو اسکا کچھ بگاڑ نہیں سکے گا۔مگر چل تیرے پہ احسان کیا۔وہ کیا ہے نہ اسے تیری آخری خواہش سمجھ کے پورا کیا۔’ بادشاہ نے اسے اپنے پیر سے مارتے ہوئے کہا۔
‘تیرا بھائی شاہرام شاہ۔اس نے ہی تیرے طور پر مجھ سے رابطہ کیا ،تیرے بارے میں ہر معلومات مجھے دی اور جلسے میں بھی میرے آدمیوں کو اسی نے گھسایا اور اس سب کے بدلے میں اس نے صرف تیری بربادی ہی مانگی تھی۔’دراب جانتا تھا کہ شاہرام اس سے نفرت کرتا تھا اور اس نے بادشاہ کا اس معاملے میں ساتھ بھی دیا تھا لیکن اس کا اس حد تک گرنا اس کو غصہ دلا رہا تھا۔
‘اس نے تو تجھے برباد کر دیا لیکن اب میں تم لوگوں کا یہ ملک برباد کر کے دم لوں گا۔بڑا غرور ہے نا اپنے اس چمن پر اپنی فوج پر،اپنی اس آئی ایس آئی پر لیکن مجھے تو نا پکڑ سکے اور نہ روک سکے۔انہیں تو یہ بھی نہیں پتا کہ کئی جاسوس انہیں کے اندر چھپے مجھے انکے پل پل کی خبر دیتے رہے۔’ بادشاہ نے پھر سے قہقہے لگا کر ہنسنا شروع کر دیا۔
‘کون ہے تو؟’دراب نے گھبراتے ہوئے اس سے پوچھا تھا تو بادشاہ غرور سے اسے دیکھنے لگا۔
‘تم لوگوں کے سب سے بڑے دشمن ملک کا حصہ ہوں میں ،بربادی ہوں تم لوگوں کی۔تم لوگوں کی ناک کے نیچے سب برباد کر دوں گا لیکن کوئی بھی دو کوڑی کا میجر یا پاک فوج مجھے روک نہیں سکے گا۔’ بادشاہ نے بہت غرور سے کہا تھا۔
‘تیرا خواب ہے۔’
دراب نے اتنا کہا اور اس سے پہلے کہ بادشاہ کو کچھ سمجھ آتا دراب نے بادشاہ پر حملہ کر کے اسے پیچھے سے دبوچ لیا۔ دراب نے اپنے گلے میں موجود چین کو نکال کر بادشاہ کے گلے میں لپیٹ دیا تھا۔بادشاہ کے سب آدمیوں نے اس پر بندوقیں تان دی تھیں۔
‘بہت بڑی غلطی کر رہا ہے میجر مرے گا تو ۔’بادشاہ نے اسے ڈرانے کی کوشش کی لیکن دراب کے لبوں کو ایک مسکراہٹ نے چھوا تھا۔
‘تو میری نہیں اپنی فکر بادشاہ ایک سیکنڈ نہیں لگے گا مجھے تیری گردن توڑنے میں۔’دراب نے اپنی پکڑ اس پر مزید تنگ کی تھی۔بہرام بادشاہ کے پاس آیا تھا اور بندوق دراب پر تانی تھی۔
‘مار دے بہرام اسے۔”
بادشاہ نے بہرام سے کہا تو اس نے ایک نظر دراب کو دیکھا اور بندوق کا رخ بدل کر بادشاہ کی طرف کر دیا۔بادشاہ حیرت سے اسے دیکھنے لگا۔
‘پاگل ہو گیا ہے کیا تو بہرام؟’ بادشاہ چلایا تھا۔
‘بہرام نہیں آئی ایس آئی ایجنٹ وجدان خان۔’وجدان کے چہرے پر دراب نے بھی پہلی دفعہ کوئی تاثر دیکھا تھا جو کہ بھر پور فخر کا تھا۔
‘تجھے ہماری فوج ہماری سیکرٹ ایجنسی بے وقوف لگتے ہیں نا بادشاہ تو اپنے سامنے دیکھ یہ سب آدمی پاک فوج کے جوان ہیں جو اس جلسے میں سے تیرے ہر آدمی کو پکڑوا کر کے ان کی جگہ خود یہاں آئے لیکن تجھے پتہ نہیں چلا۔’دراب نے اسے چھوڑتے ہوئے کہا تھا۔
‘بے وقوف تو تو ہے بادشاہ جسے لگا کہ پاک فوج کے ہاتھ نہیں آئے گا اور پاک فوج کا ہی ایک ایجنٹ تیرا دو سال سے سب سے خاص آدمی رہا۔تجھے کیا لگا کہ میں تیرے آدمیوں سے تجھ تک پہنچ رہا تھا۔بلکلہ میں نے تو تیرے ذریعے سے تیرے ہر آدمی کو اس کے انجام تک پہنچا دیا اور اب تو تم نے آرمی میں موجود گناہ گار کا بھی بتا دیا اور باقی کا تو اب یہ فوج ہی تجھ سے پتہ لگوائے گی۔’
وجدان بادشاہ کو پکڑ کر کھڑا کیا اور ایک آفسر نے ہتھکڑی سے اسکے ہاتھ باندھ دیے۔وجدان نے دراب کو دیکھا تھا۔
‘ بچے گا تو تو بھی نہیں دارا آخر کار تو بھی تو ایک دہشت گرد ہے۔’ بادشاہ نے ہنستے ہوئے کہا تو دراب کے لبوں پر طنزیہ مسکراہٹ آئی۔
‘کون دارا؟ہم نے تو یہاں صرف ایک جاسوس اور جیل سے بھاگے ہوئے قیدی شایان شاہ کو پکڑا ہے جسے آزاد کروانے کے لیے تیرا وہ بیان ہی کافی ہو گا جو ہم نے ریکارڈ کیا ہے۔’ علی نے بادشاہ کو بتایا تو باقی سپاہی بھی ہنسنے لگے جو تین سال پہلے شایان کی ٹیم کا حصہ تھے اور کچھ وجدان کے سب سے خاص ساتھی تھے۔
‘تمہیں بھی اریسٹ کرنا پڑے گا دراب لیکن اب تم بے قصور ثابت ہو گے۔’ وجدان نے دراب کو کہا تو دراب نے اپنے ہاتھ آگے کر دیے۔ایک اور فوجی نے دراب کے ہاتھوں پر ہتھکڑی پہنا دی تھی۔
‘یہ سب تمہاری بدولت ہوا ہے وجدان۔’دراب کی بات پر وجدان صرف مسکرا دیا تھا۔
وجدان نے دراب کو بلا کر پہلے سے ہی بادشاہ کا سارا منصوبہ بتایا تھا۔جس سے دراب نے ایک نیا منصوبہ بنایا تھا اور بادشاہ کے منہ سے سارا سچ پاک فوج کے سامنے اگلواہ دیا تھا۔سعد نے اس جلسے میں موجود بادشاہ کے ہر آدمی کو پکڑوا دیا تھا اور ان کی جگہ وجدان نے پاک فوج کے جوانوں کا بھیس بدلوا کر بادشاہ کو بہت بری طرح سے پھنسایا تھا اور وہاں پر خفیہ کیمرے لگا کر بادشاہ کا بیان بھی لیا تھا جو اب دراب کی بے گناہی کا ثبوت تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سلمان صاحب آنکھیں بند کیئے لیٹے ہوئے تھے جب انہیں اپنے ہاتھ پر کسی کا لمس محسوس ہوا۔انہوں نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو حمنہ ان کے پاس بیٹھی تھی۔جبکہ زرش اس کے پیچھے کھڑی باپ کو دیکھ رہی تھی۔
‘حح۔۔۔۔۔۔۔۔حمنہ مجھے معاف۔۔۔۔۔۔۔۔۔کر دو۔’ سلمان صاحب نے روتے ہوئے کہا تو حمنہ نے ان کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ دیا۔
‘خدا کے لیئے بابا آپ ایسا نہ کہیں۔ہم نے آپ کو معاف کر دیا ہے بابا کب سے۔ بس پلیز اب آپ جلدی سے ٹھیک ہو جائیں پھر بہت سی فرمائشیں کرنی ہیں ہم نے آپ سے۔’
حمنہ نے ان کی آنکھوں سے آنسو صاف کرتے ہوئے مسکرا کے کہا تھا۔جبکہ سلمان صاحب حیران تھے کہ وہ کیسے ان کے اتنے بڑے گناہ کو معاف کر سکتی ہے۔انہوں نے حمنہ سے نظر ہٹا کے زرش کو دیکھا تو اس نے بھی مسکرا کے ہاں میں سر ہلایا۔
‘جج۔۔۔۔۔جانان۔’سلمان صاحب بمشکل بولے تھے۔
‘میں جس نمبر پر اس سے بات کرتی تھی وہ بند ہے لیکن میں نے عثمان سے کہا ہے وہ بہت جلد شایان شاہ سے رابطہ کر لیں گے۔پھر جانان بھی آ جائے گی آپ فکر نہیں کریں۔’
سلمان صاحب مسکرا دیے۔
‘اا۔۔۔۔۔۔۔اس دنیا کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔سب سے خخ۔۔۔۔۔۔۔۔خوش نصیب انسان ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں۔۔خدا نے تم۔۔۔۔۔۔۔۔جیسی بب۔۔۔۔۔۔۔بیٹیوں سے نوازہ۔’حمنہ نے مسکرا کے ان کا ہاتھ چوما تو انہوں نے اطمینان سے آنکھیں بند کر لیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جانان جائے نماز پر بیٹھی رو رہی تھی۔وہ کل سے دراب کی سلامتی کی دعائیں مانگ رہی تھی۔وہ دراب کی ساتھ کیئے ہوئے سلوک کو لے کر ابھی بھی پریشان تھی ۔وہ سوچ رہی تھی کہ اگر دراب کو کچھ ہو گیا تو وہ خود کو بھی کبھی معاف نہیں کر سکے گی اور یہ سوچتے ہی اس کے رونے اور اسکی دعاؤں میں روانی پیدا ہوئی تھی۔
اچانک سے دروازہ کھلا اور ہاشم صاحب کمرے میں آئے تھے۔وہ مسکرا کے اس کے پاس آئے اور جانان کے سر پر ہاتھ رکھا۔
‘اللہ نے تمہاری سن لی ہے بیٹا۔دراب بلکل ٹھیک ہے اور انشاءاللہ کچھ عرصے میں واپس آ جائے گا۔’
‘سچ میں بابا؟’ ہاشم صاحب کے ایسا کہنے پر جانان نے بے چینی سے ان کے ہاتھ تھام کر پوچھا تھا۔
‘ہاں میرا بچہ ،وجدان کا فون آیا تھا۔دراب فلحال آرمی کو کسٹڈی میں ہے لیکن اصلی گناہ گار کا پتہ چل چکا ہے اور بہت جلد دراب بلکل بے گناہ ثابت ہو کر ہمارے پاس آئے گا۔’ ہاشم صاحب نے اسے بتایا تو جانان نے پھر سے دعا کے لیئے ہاتھ اٹھائے اور اللہ کا شکر ادا کرنا شروع کر دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ملازمہ نے دروازہ کھولا تو باہر پاک فوج کے سپاہی کھڑے تھے۔
‘کیپٹن شاہرام شاہ گھر پر ہیں؟ ‘ علی نے پوچھا تو ملازمہ نے ہاں میں سر ہلایا ابھی کچھ دنوں پہلے ہی وہ چھٹیوں پر گھر آیا تھا
۔علی باقی فوجیوں کے ساتھ گھر میں داخل ہوا تھا۔
لاؤنج میں فریحہ بیگم اور شاہرام حسن صاحب کے ساتھ بیٹھے باتیں کرنے میں مصروف تھے۔علی ان کے پاس گیا اور حسن صاحب کو سیلیوٹ کیا۔
‘سر ہمارے پاس آپ کے بیٹے شاہرام شاہ کا اریسٹ وارنٹ ہے۔’علی نے انہیں بتایا تو فریحہ بیگم اور شاہرام پریشانی سے کھڑے ہو گئے۔
‘کس جرم میں گرفتار کر رہے ہیں آپ میرے بیٹے کو۔’ فریحہ نے بے چینی سے پوچھا تھا جبکہ حسن صاحب کے سامنے بہت سے پرانے منظر گھوم گئے تھے۔
‘آج سے تین سال پہلے لاہور کے جلسے میں ہونے والے دھماکے میں خطرناک دہشت گرد بادشاہ کا ساتھ دینے کے جرم میں اور اس سب کا الزام میجر شایان شاہ پر لگانے کے جرم میں۔’
علی نے بتایا تو حسن صاحب بھی پریشانی سے کھڑے ہو کر علی کو دیکھنے لگے۔جبکہ شاہرام کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ کچھ کر بیٹھے۔
‘بابا یہ سب جھوٹ ہے سازش ہے اس غدار شایان کی۔’ شاہرام نے بے چینی سے کہا تو علی نے مسکراتے ہوئے اس کے ہاتھوں میں ہتھکڑی ڈالی تھی۔
‘سچ اور جھوٹ تو عدالت میں ثابت ہو ہی جائے گا کپتان آپ اسکی فکر مت کریں۔’ شاہرام نے گھبراتے ہوئے فریحہ بیگم کو دیکھا تو ان کے رونے میں روانی آ گئی تھی۔
‘چھوڑو میرے بیٹے کو کچھ نہیں کیا اس نے ۔جھوٹ ہے یہ سب کچھ۔اسی کمبخت کا کیا دھرا ہے سب کچھ چھوڑو میرے معصوم بیٹے کو۔’
فریحہ بیگم دہائیاں دیتی رہیں مگر علی حسن صاحب کو سیلیوٹ کرتا شاہرام کو اپنے ساتھ لے کر چلا گیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وجدان دراب کے پاس جیل میں گیا تھا۔دراب اس وقت بیٹھا جانان کے بارے میں سوچ رہا تھا۔وہ نہیں جانتا تھا کہ جانان نے اسکا سچ پڑھا بھی تھا کہ نہیں۔ابھی وہ ان سوچوں میں ہی گم تھا جب اسکے کانوں میں وجدان کی آواز پڑی۔
‘شاہرام کو پکڑ لیا گیا ہے اور اس کے خلاف سارے ثبوت ہمیں بادشاہ کے اڈے سے ملے جن کی بدولت بادشاہ اسے بلیک میل کر کے اپنے اور بھی کام کروا رہا تھا۔تم بہت جلد یہاں سے آزاد ہو جاؤ گے ‘ وجدان نے دراب کو بتایا۔
‘بابا سے بات ہوئی تمہاری ؟’ دراب نے اس سے بے چینی سے پوچھا۔
‘ہم’ وجدان نے مختصر سا جواب دیا تھا۔
‘جانان کے بارے میں پوچھا کیسی ہے وہ؟’
‘تمہیں یاد کرتی رہتی ہے اور تم سے مل کر معافی مانگنے کے لیئے ترس رہی ہے۔’ وجدان نے سپاٹ سے انداز میں کہا تو دراب کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی تھی۔
‘تم چاہو تو اسے ملوا سکتا ہوں تمہیں۔’اسکی مسکراہٹ کو دیکھ کر وجدان نے کہا تھا۔
‘نہیں وجدان اس کے پاس اب دراب خان نہیں بلکہ شایان شاہ جائے گا۔۔۔۔۔تمہارا شکریہ میرے بھائی تمہاری برولت ہی یہ سب ہوا ہے ورنہ میں تو کب کا ہار مان چکا تھا۔’ دراب نے وجدان کے پاس آ کر کہا تھا۔
‘نہیں دراب اگر میں کوشش کرتا تو تم کب سے بے گناہ ثابت ہو جاتے اور تمہیں دارا بن کے اتنا سب کچھ کرنا پڑتا۔لیکن اپنے بہت سے خفیہ کاموں میں بادشاہ کسی پر بھی یقین نہیں کرتا تھا اور شاہرام کے خلاف ثبوت بھی ان میں سے ایک تھے۔میں اسکے ساتھ کام کر کے بھی انہیں نہیں ڈھونڈ سکا یہ میری نا اہلی ہے۔’ وجدان کی یہ بات دراب کو بلکل پسند نہیں آئی تھی۔
‘میں نے دارا بن کے جو گند ختم کیا ہے اس پر مجھے فخر ہے اور رہی تمہاری بات تو تم بہت کمال کے ایجنٹ ہو وجدان مگر بادشاہ بھی تو ایجنٹ ہی تھا نا تو اتنا چالاک تو اسے ہونا تھا۔مگر تم پر وہ شک بھی نہیں کر سکا اور یہی تمہاری قابلیت ہے۔’ دراب نے مسکرا کے کہا تو وجدان نے صرف ہاں میں سر ہلا دیا۔
‘ویسے مسکرانے سے گناہ نہیں ہوتا۔’ دراب نے ہنس کر کہا تھا لیکن وجدان کا چہرہ پھر بھی کسی تاثر سے عاری رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔