Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 7

جانان بس میں بیٹھ کر دراب سے کئی بار معافی مانگ چکی تھی لیکن دراب اس سے بات کرنا تو دور اسکی طرف دیکھ بھی نہیں رہا تھا۔آخر کار جانان کو جب کچھ سمجھ نہیں آیا تو اس نے دوسری طرف منہ کرکے رونا شروع کر دیا۔
‘اچھا ٹھیک ہے معاف کر دیا چپ ہو جاؤ اب۔’ دراب کی اس بات پر جانان نے آنسو پونچھ کر اسے دیکھا اور پھر مسکراتے ہوئے بولی۔
‘آپ بہت اچھے ہیں۔’
دراب اپنے دل کی کیفیت کو سمجھ نہیں پا رہا تھا یا پھر سمجھ کر بھی انجان بن کے خود کو دھوکہ دے رہا تھا۔اسے لگتا تھا کہ اسکی کوئی کمزوری نہیں لیکن اب اس لڑکی کے آنسو اس کے دل پر تیزاب کی طرح گرتے تھے۔دراب کچھ دیر اسکے معصوم سے چہرے کو دیکھتا رہا پھر اسکا دھیان جانان کے ہاتھ میں موجود چوڑیوں پر گیا۔
‘اب اتنی محنت سے لائی ہو تو پہن بھی لو۔’ جانان دراب کے الفاظ سن کر فوراً سے چوڑیاں کھول کے انہیں پہننے لگی۔ چوڑیاں پہن کر اس نے چوڑیوں والی نازک سی کلائی دراب کے سامنے کر کے پوچھا۔
‘اچھی ہیں نا؟’ دراب نے صرف اثبات میں سر ہلایا۔
‘شایان جی کو اچھی لگیں گی نا؟’جانان نے بہت امید سے پوچھا تو دراب نے ضبط سے اپنی مٹھیاں بھینچ لیں تھیں۔
‘ہاں’ دراب کے جواب پر جو خوشی جانان کے چہرے پر آئی تھی وہ دراب کو ایک پل کے لیئے اچھی نہیں لگی تھی۔ باقی کا سفر بھی دراب نے خاموشی سے جانان اور سعد کی باتیں سن کر گزارا تھا۔
آخر کار طویل سفر کے بعد تقریباً بارہ بجے وہ کشمیر پہنچ گئے تھے اور اب اس وقت وہ کرنل صاحب کے گھر کی طرف جا رہے تھے۔جانان اپنی کیفیت کا اندازہ نہیں لگا سکتی تھی وہ ڈری ہوئی تھی،خوش بھی اور افسردہ بھی تھی۔اپنے دل کی اس کیفیت کی وجہ سے وہ باہر کے انتہائی خوبصورت نظاروں کو بھی نظر انداز کر رہی تھی۔
گاڑی کے رکنے کی وجہ سے وہ اپنے خیالات کے جہان سے باہر آئی۔دراب اس کے سامنے اسک سامان پکڑے کھڑا تھا۔جانان ڈرتے ہوئے گاڑی سے باہر نکل کے اپنے سامنے موجود عالی شان گھر کو دیکھنے لگی۔
‘یہ ہی ہے کرنل صاحب کا گھر ،تمہاری منزل۔’
لیکن جانان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔دراب نے سعد کو اشارہ کیا تو وہ دروازے کی طرف بڑھا اور چوکیدار کو جانان کے بارے میں بتانے لگا۔چوکیدار اندر پوچھنے گیا اور پھر کچھ دیر بعد واپس آ کے بتایا کہ بیگم صاحبہ جانان کو اندر بلا رہی ہیں۔لیکن جانان کا سارا دھیان دراب کی طرف تھا ۔وہ نا جانے کیوں اسے چھوڑ کے جانا نہیں چاہ رہی تھی۔پھر اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
‘اب ہم پھر کبھی نہیں ملیں گے؟’جانان نے افسردگی سے دراب کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا۔
‘نہیں جانان تم اپنی منزل پر پہنچ گئی ہو مگر میرا سفر ابھی باقی ہے۔’دراب اس سے نظریں چرا کے بولا
سعد نے جانان کے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔
‘جاؤ گڑیا اور زندگی میں ہمیشہ خوش رہنا۔’
سعد نے اسے دعا دی تو جانان اس کی طرف دیکھنے لگی اور اپنا بیگ پکڑ لیا۔
‘ آپ کو پتا ہے آپ اس دنیا کے سب سے اچھے بھائی ہیں اور آپ۔۔۔۔۔۔۔’
اس نے سعد کے بعد دراب کی طرف دیکھا اور پھر آنکھوں میں آنسو لیئے بولی۔
‘آپ سے تو کوئی رشتہ ہی نہیں میرا آپ نے بنانے ہی نہیں دیا تھا۔’
‘ آپ دونوں کا شکریہ ہر چیز کے لیئے ۔’
اتنا کہہ کے وہ اندر جا چکی تھی۔اس کے جانے کے بعد بھی دراب اسی راستے کو دیکھ رہا تھا جب سعد نے اسے چلنے کا کہا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حمنہ ساری رات ایک پل کے لیئے بھی سو نہ سکی ۔اتنی نادان تو نہیں تھی وہ ۔وہ جانتی تھی کہ عثمان ملک اس سے شادی صرف اپنی انا کو تسکین دینے کے لیئے کر رہا ہے۔مگر اس نے بھی فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ اس کے سامنے نہیں جھکے گی۔حمنہ کوئی کمزور لڑکی نہیں تھی وہ اس سب کا بہادری سے مقابلہ کرے گی۔وہ اپنی سوچ کی دنیا میں اس قدر ڈوبی ہوئی تھی کی اسے فاطمہ بیگم کی آمد کا پتا نہیں چلا۔
‘حمنہ۔’
اپنا نام پکارے جانے پر اس نے فاطمہ بیگم کی طرف دیکھا۔وہ جانان کے جانے کے بعد اسکی فکر کر کر کے بہت کمزور ہو گئی تھیں ۔فاطمہ بیگم نے ایک باکس حمنہ کے آگے کیا۔
‘یہ تمہارے نکاح کا جوڑا ہے ملک صاحب نے بھجوایا ہے ۔’
حمنہ حیرت سے اپنی ماں کو دیکھ رہی تھی۔
‘آپ کو یہ سب نارمل لگ رہا ہے ۔ یہ نکاح،اسکا جوڑا اور باقی سب۔آپ کے مطابق کچھ بھی غلط نہیں؟’
حمنہ کی باتوں نے فاطمہ بیگم کو سر جھکانے پر مجبور کر دیا۔
‘ہم کر بھی کیا سکتے ہیں حمنہ ۔چلنی تو تمہارے ابا کی ہی ہے۔’
حمنہ کو اب ان کی ہمیشہ والی بات پر بہت ذیادہ غصہ آیا۔
‘آپ اس دنیا کی سب سے کمزور عورت اور ماں ہیں جو آج تک نہ اپنے لیئے آواز اٹھا سکیں نہ اپنی اولاد کے لیئے۔بابا کا ہر ظلم برداشت کیا۔وہ آپ کو مار کے غصہ نکالتے رہے تو کبھی ہمیں مار کے۔لیکن آپ کی خاموشی انہیں اور بہادر بناتی گئی۔آپ کو کیوں نہیں سمجھ آیا کہ ظلم سہنے سے اس کے کرنے والے کو چھوٹ ملتی ہے۔آپ کمزور ہیں امی بہت ذیادہ کمزور۔’
بولتے ہوئے اس کی آواز کب بلند ہو گئی اس کا اندازہ حمنہ کو بھی نہیں ہوا تھا۔جبکہ فاطمہ بیگم کسی مجرم کی طرح سر جھکائے روئے جا رہی تھیں۔ان کی حالت دیکھ کے حمنہ کو بھی پچھتاوا ہوا مگر اس کے کچھ کہنے سے پہلے فاطمہ بیگم بول اٹھیں۔
‘میرے حالات کا کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا۔جس کے پاس اس گھر کے علاوہ کوئی ٹھکانہ نہیں تھا اور ہر روز اس کا شوہر اپنے رشتے کو مجبوری اور احسان کا نام دیتا۔میں کمزور نہیں تھی حمنہ مجھے کمزور حالات نے اور میری اولاد نے بنایا۔’
فاطمہ بیگم اتنا کہہ کے وہاں سے چلی گئیں۔حمنہ ان کی بات سمجھی تو نہیں تھی لیکن اپنی باتوں پر اسے بہت زیادہ پچھتاوا ہو رہا تھا۔بہت سوچنے کے بعد وہ باکس کھول کے اپنے عروسی جوڑے کو دیکھنے لگی ۔
وہ آف وائٹ کلر کا لباس بلاشب بہت ذیادہ خوبصورت تھا لیکن حمنہ کو اپنے لیئے کفن کے مترادف معلوم ہوا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جانان ڈرتے ہوئے قدم اٹھاتی گھر میں داخل ہوئی۔اس کی نظر سامنے موجود عودت پر گئی جو عمر کے اس دور میں بھی بہت سٹائلش تھی۔
‘ اسلام و علیکم’
جانان نے مسکرا کے کہا تو وہ ہاتھ میں موجود کتاب سے دھیان ہٹا کے اسے دیکھنے لگیں۔
‘تو تم ہو ہو وہ لڑکی جس کا نکاح بچن میں حسن نے شایان سے کیا تھا؟’
وہ جانان کی سلام کا جواب دیے بغیر بولیں۔جانان نے ہاں میں سر ہلایا۔
‘شکل سے تو تم اتنی پاگل بھی نہیں لگتی جتنی ہو۔’
جانان حیرت سے ان کا چہرہ دیکھنے لگی۔
‘پاگل بھی ہو اور بے شرم بھی ۔اگر ہم رخصتی کے لیئے نہیں آئے تو تم خود منہ اٹھا کے آ گئی واہ ۔تمہیں کیا لگا کہ بچپن میں جوڑے ہوئے رشتے کی کوئی اہمیت ہوتی ہے؟وہ رشتہ ایک بچپنے سے بڑھ کے کچھ نہیں ہوتا بے وقوف لڑکی۔’
جانان مجرم کی طرح سر جھکائے ان کی باتیں سن رہی تھی اور اپنے آنسو روکنے کی مکمل کوشش کرتی رہی۔ جانان کی یہ حالت دیکھ کے وہ خاتون اپنی نوکرانی کو بلانے لگیں۔
‘جاؤ میرے لاکر میں ایک ریڈ فائل ہے لے کر آؤ۔’
نوکرانی ان سے چابیاں لے کر چلی گئی اور کچھ دیر بعد ایک فائل لا کر بیگم صاحبہ کے ہاتھ میں دی جسے انہوں نے جانان کے قدموں میں پھینکا۔
‘لو پکڑو اسے اور جان لو کے کیا اہمیت ہے تمہاری میرے بیٹے کی زندگی میں۔’
جانان نے وہ فائل اٹھا کر کھول کے دیکھا تو بہت دیر سے روکے ہوئے آنسو ٹوٹ کر ان کاغذات پر گرے۔وہ اسکا طلاق نامہ تھا جس پر شایان شاہ کے دستخط بھی موجود تھے۔
کیا ایسے شخص کے لیئے وہ یہاں آئی تھی ۔اس شخص کو تو اس کی بہن نے اسکا محافظ بولا تھا۔اسکی ماں نے اسے بتایا تھا کہ یہ رشتہ دنیا کے تمام رشتوں پر بھاری ہے سب سے ذیادہ مظبوط رشتہ۔تو پھر ایک سائن سے کیسے ختم ہو گیا۔جانان روتے ہوئے ان کاغذات کو دیکھ رہی تھی۔پھر آنکھوں سے آنسو پونچھتے ہوئے بولی۔
‘نن۔۔۔۔۔۔نہیں یہ جھوٹ ہے ۔مم۔۔۔۔۔۔مجھے شایان جی سے ملنا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ یوں ہی ہمارا رشتہ ختم نہیں کر سکتے۔میں ان سے ملے بغیر نہیں مانوں گی کسی بھی فیصلے کو’
جانان نے بہت ہمت کے ساتھ کہا۔
‘ٹھیک ہے تمہاری یہ خواہش بھی پوری کر دیتی ہوں ۔بلکہ۔۔۔۔۔۔۔’
‘لو شایان بھی آ گیا ۔’
انہوں نے سیڑھیوں کی طرف دیکھ کر کہا تو جانان بھی وہیں دیکھنے لگی۔شایان چھوٹے بالوں ،داڑھی سے پاک چہرے اور مغرور نکوش کے ساتھ کافی خوب رو تھا۔شایان پر نظر پڑتے ہی وہ بھاگ کر اس کے پاس گئی۔جو حیرت اور اجنبیت سے اسے دیکھ رہا تھا ۔جانان کا خوف سچ ثابت ہوا تھا شایان نے اسے نہیں پہچانا تھا۔
‘شایان دیکھو اس بے وقوف لڑکی کو اور بتاؤ اسے کے یہ پیپرز تم نے سائن کیے ہیں اور اسے طلاق دے چکے ہو۔’
فریحہ بیگم کی آواز پر اس نے حیرت سے انہیں دیکھا اور پھر معاملے کو سمجھتے ہی جانان کو مسکراتے ہوئے دیکھنے لگا۔
‘ہاں جانِ من مام سچ کہہ رہی ہیں ۔طلاق دے چکا ہوں میں تمہیں لیکن اب افسوس ہو رہا ہے۔اگر پہلے تمہیں دیکھ لیتا تو اتنی جلدی نہ کرتا۔’
شایان غلیظ نظروں سے جانان کو دیکھتے ہوئے بولا۔جانان کو اپنے اندر سب بکھرتا ہوا محسوس ہوا اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ ارد گرد کیا ہو رہا ہے۔اسکے کانوں میں بس شایان کے الفاظ گونج رہے تھے۔
‘سن لیا ہو گیا سکون ۔نکلو اب یہاں سے ۔آسیہ سامان پکڑو اس کا اور نکالو اس پاگل لڑکی کو یہاں سے۔’
فریحہ بیگم کے کہتے ہی ملازمہ نے جانان کا بازو پکڑا اور اسے ایک بے جان گڑیا کی طرح کھینچتے ہوئے گھر سے باہر سڑک پر پھینک دیا۔بہت دیر جانان وہیں بیٹھ کے روتی رہی پھر اپنے سامان اور فائل کو ہاتھ میں پکڑے چلنے لگی۔وہ کہاں جا رہی تھی وہ بھی نہیں جانتی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔