Safar Ishq By Harram Shah Readelle50189 Episode 9
No Download Link
Rate this Novel
Episode 9
عثمان ملک لاؤنج میں بیٹھا شراب پینے میں مصروف تھا ۔حمنہ کو ملازمہ کے ساتھ وہ اپنے کمرے میں بھیج چکا تھا۔حمنہ کا خیال آتے ہی اس کے لبوں کو مسکراہٹ نے چھوا ۔اسے لگا تھا کہ جانان جیسی معصوم لڑکی کو حاصل کرنا دلچسپ ہو گا مگر جو سکون وہ حمنہ کو حاصل کر کے محسوس کر رہا تھا اس کی توقع نہیں تھی اسے۔وہ حمنہ کو جھکانا چاہتا تھا اس کے غرور کو پاش پاش کرنا چاہتا تھا۔
اسنے گلاس میں موجود شراب کو ایک ہی گھونٹ میں پیا اور اپنے کمرے کی طرف چل دیا۔جہاں اس کی بیوی اسکا انتظار کر رہی تھی۔
لیکن یہ خوش فہمی اس کی کمرے میں داخل ہوتے ہی دور ہو گئی۔حمنہ آئینے کے سامنے کھڑی اپنا زیور اتار رہی تھی ۔عثمان کی طرف اس نے دیکھنا تک گوارہ نہیں کیا۔ابھی تک وہ نکاح والے لباس میں موجود تھی لیکن دوپٹہ اس نے سر سے ہٹا کر کندھوں پر پھیلایا ہوا تھا اور اس کے لمبے سیاہ بال کمر پر پھیلے ہوئے تھے۔
عثمان کے قدم بے ساختہ طور پر اس کی طرف اٹھے۔حمنہ نے ایک نظر عثمان کو دیکھا اور اپنے کپڑے پکڑ کے واش روم جانے لگی۔عثمان کو اس کی یہ حرکت ناگوار گزری تو اس نے آگے بڑھ کے حمنہ کا ہاتھ تھام لیا۔
‘کہاں جا رہی ہو شاید تمہیں پتا نہیں کہ اچھی بیویاں شوہر کا انتظار کرتی ہیں۔’
‘ یہ تمہارا خواب ہی رہے گا کہ میں تمہارا انتظار کروں اچھی طرح سے سمجھتی ہوں میں کہ اپنی انا کی تسکین کے لیئے تم نے مجھ سے شادی کی ہے۔لیکن یہ مت سمجھنا کے باقی لڑکیوں کی طرح تمہاری غلام بن کے رہوں گی۔’
حمنہ بہت ہمت کر کے بول رہی تھی جبکہ اس کی ان باتوں پر عثمان کے لب مسکرائے اور اس نے حمنہ کو اپنی طرف کھینچا تو وہ کسی ٹوٹی ہوئی ڈالی کی طرح اس کے سینے سے آلگی۔
‘میری چوزی تم تو بہت بہادر ہو ۔
اتنا کہہ کے عثمان نے ایک ہاتھ اس کی کمر پر رکھا اور دوسرے سے اس کا دوپٹہ اتار کے سائیڈ پر پھینکا۔عثمان کی اس حرکت سے حمنہ اندر تک کانپ گئی اور اپنے آپ کو چھڑانے کی کوشش کرنے لگی۔
اس نے خود کو پھر سے ہمت دی کہ وہ کمزور نہیں پڑے گی ۔عثمان اس کی طرف جھکنے لگا تو حمنہ نے اپنی پوری طاقت لگا کے عثمان کو دھکا دیا اور وہ بھی نشے میں ہونے کی وجہ سے لڑکھڑا کے پیچھے ہوا۔حمنہ نے انتہائ غصے سے عثمان کو دیکھا۔
‘مرد ہو طاقت ور ہو تو کچھ بھی کرو گے ۔ آئندہ میرے قریب آنے کی ہمت نہ کرنا۔’
حمنہ بہادر ضرور تھی مگر تھی تو لڑکی، مرد سے کمزور اس لیئے وہ اپنے جسم کی کپکپاہٹ کو چھپانے کی کوشش کرتے ہوئے بولی۔عثمان غصے سے اس کے پاس آیا اور اس کے چہرے کو سختی سے اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا۔
‘بیوی ہو تم میری ،حق رکھتا ہوں تم پر جو چاہے کر سکتا ہوں تمہارے ساتھ اور کوئی بھی نہیں روک سکتا مجھے تم بھی نہیں۔’
عثمان نے دانت پیستے ہوئے اسے بولا۔حمنہ پہلے بہت ڈر گئی مگر پھر ہمت کر کے ہاتھ اس کی کلائی پر رکھ کر اپنے منہ سے اسکا ہاتھ ہٹایا۔
‘ضرور کر سکتے ہو لیکن حق کو پانے اور حاصل کرنے میں بہت فرق ہوتا ہے تم اپنا حق حاصل تو کر لو گے لیکن میری مرضی کے بغیر پا نہیں سکتے اور اگر تمہیں لگتا ہے کہ مجھے زبردستی حاصل کر کے توڑ دو کے تو تمہاری خوش فہمی ہے یہ۔چاہے تو کوشش کر لو۔’
حمنہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بہادری سے بول رہی تھی ۔عثمان کچھ دیر اسکی آنکھوں میں جھانکتا رہا اور پھر اسے چھوڑ دیا۔حمنہ نے اپنے کپڑے پکڑے اور واش روم میں چلی گئی ۔عثمان کچھ دیر کھڑا واش روم کے دروازے کو دیکھتا رہا اور پھر غصے سے کمرے سے نکل گیا ۔۔آج کی جنگ حمنہ جیت گئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دراب نے سعد کو معملات کی خبر لینے بھیجا تھا۔ رات کے بارہ بج گئے تھے اور اس کا کچھ اتا پتا نہیں تھا ۔دراب کو پریشانی کے ساتھ غصہ بھی آرہا تھا۔ہوٹل میں اس نے دو کمرے بک کرائے تھے اور اسے جانان کو اپنی بیوی بتانا پڑا نہیں تو کمرہ ملنا مشکل ہو جاتا۔لیکن کھانے کے بعد اس نے جانان کو ایک کمرے میں بھیج دیا اور خود دوسرے کمرے میں سعد کے ساتھ رکنے کا اردہ کیا۔
دراب سعد کے بارے سوچ رہا تھا جب اس کے کمرے کا دروازہ بجا۔دراب نے دروازہ کھولا تو سامنے جانان کھڑی تھی ،ابھی آدھے گھنٹے پہلے وہ یہاں سے گئی تھی۔تبھی جانان نے بولنا شروع کیا۔
‘وہ میرا کمرہ بلکل اچھا نہیں ہے۔وہ اتنا بڑا ہے مجھے وہاں اکیلے ڈر لگتاہے۔’
‘کچھ نہیں ہے جانان جاؤ اور آرام کرو۔’
دراب بے زاری سے بولا ۔اسے کمزوری سے چڑ تھی اود جانان ہر دوسری چیز سے ڈرتی تھی ۔لیکن وہ ابھی تک وہیں کھڑی تھی،دراب نے سوالیہ نظروں سے اس کا چہرہ دیکھا۔
‘وہ میں نے آپی کے ساتھ مووی دیکھی تھی جس میں وہ لوگ ایسے ہی ہوٹل میں رکتے ہیں مگر وہاں بھوت ہوتا ہے جو سب کو مار دیتا ہے ۔تب آپی نے بتایا تھا کہ اگر وہ سب اکیلے اکیلے نہیں سوتے تو آج زندہ ہوتے۔اگر اس ہوٹل میں بھی بھوت ہوا تو؟’
جانان کی بات پر دراب کو سچ میں اس کی دماغی حالت پر شک ہونے لگا۔
‘ایسا صرف فلموں میں ہوتا ہے، کچھ نہیں ہے یہاں جاؤ اپنے کمرے میں۔’
‘جاؤ!’
دراب کے کہنے پر بھی جانان وہیں کھڑی رہی۔تو دراب نے اسے سختی سے جانے کا بولا جانان جانے تو لگی مگر اس کے پلٹنے سے پہلے دراب اس کی آنکھوں میں آنسو دیکھ چکا تھا اور جانان کا یہ ہتھیار دراب کو ہمیشہ ہی زیر کر جاتا تھا ۔
‘رکو’
جانان نے دراب کے بلانے پر فوراً اسے پلٹ کے دیکھا ۔دراب نے اپنے کمرے کی طرف اشارہ کیا ۔بس ایک اشارے کی دیر تھی جانان جلدی سے اس کے کمرے میں چلی گئی۔دراب نے بیڈ کی طرف اشارہ کیا تو جانان نے بیڈ میں گھس کر کمبل اوڑ لیا۔دراب خاموشی سے کمرے میں موجود صوفے پر بیٹھ گیا۔
کمرے میں کافی دیر خاموشی رہی پھر اس خاموشی کو جانان کی آواز نے توڑا ۔
‘آپ کو پتا ہے،آپ بھی اچھے ہیں ۔۔۔۔۔پر سعد بھائی سے کم۔’
دراب نے جانان کو دیکھا جو اب سونے لگی تھی اور سارا وقت وہ دراب کی نظروں کے حصار میں رہی۔
دراب نے ابھی آنکھیں بند ہی کی تھیں جب کمرے کا دروازہ بجنے لگا ،دراب جلدی سے دروازے کی طرف بڑھا۔باہر سعد کو دیکھ کے فوراً دروازہ بند کر کے اس کے پاس گیا۔
‘بادشاہ نے ملک کو چارہ بنایا تھا ۔اس کے آدمی نے کمرے میں خفیہ کمرہ لگا کر ہماری صورتیں بادشاہ تک پہنچانے کا سوچا۔لیکن وہ آدمی کشمیر سے نکلنے سے پہلے پاک فوج کے ہاتھ لگ گیا ۔پاک فوج دارا کے بارے میں جان گئی ہے ۔’
سعد خاموش ہوا تو دراب نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
‘وجدان کل صبح کے بارہ بجے اسلام آباد ہمارا انتظار کرے گا ہمیں وہاں پہنچنا ہو گا۔دراب اب ہم پاک فوج سے کیسے بچ کر جائیں گے؟’
سعد نے دراب کے بے فکر چہرے کو دیکھا تو اس سے پوچھنے لگا کیونکہ مسلئہ اتنا چھوٹا بھی نہیں تھا۔
‘جانتا تھا میں بادشاہ کے اس آدمی اور اس کے خفیہ کیمرے کے بارے میں۔مجھے یہ بھی پتا تھا کہ ملک منہ نہیں کھولے گا کیونکہ بادشاہ کا سب سے خاص آدمی اتنا بھی کمزور نہیں ہو سکتا۔اس لیئے میں چاہتا تھا کہ بادشاہ ہمارے بارے میں جانے اور خود ہم تک پہنچے۔یہ بادشاہ کا خواب ہی رہے گا کہ وہ دارا کو اپنے بچکانا منصوبوں سے پھنسا لے گا۔لیکن یہ اندازہ نہیں تھا کہ بیوقوف آدمی آرمی کے ہاتھ لگ جائے گا۔’ دراب نے سنجیدگی سے اسے بتایا۔
‘ اب؟’
سعد نے آگے کا پلان جاننا چاہا۔
‘ہم کل جانان کو اسلام آباد کے ریلوے سٹیشن سے لاہور کی ٹرین میں بیٹھا دیں گے اور خود وجدان کے ساتھ جائیں گے۔ ۔’ دراب کی بات سے سعد کا پارہ ہائی ہو گیا۔
‘تم اسے واپس بھیج رہے ہو؟تم اندھے ہو دراب یا جان بوجھ کر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر رہے ہو۔’ نا چاہتے ہوئے بھی سعد کی آواز بلند ہوئی۔
‘کہنا کیا چاہتے ہو؟’ دراب کے چہرے پر کوئی خاص تاثر نہیں آیا تھا۔
‘محبت کرتے ہو تم اس سے دراب تمہارے ہر عمل سے اسکے لیئے پیار چھلکتا ہے جو تم دونوں بے وقوفوں کو نظر نہیں آ رہا۔’ سعد وہاں سے جانے لگا ۔
‘اسے دراب ایک اچھا انسان لگتا ہے سعد لیکن دارا نہیں۔دارا کسی کو اچھا نہیں لگتا اور یہ تم بھی جانتے ہو کہ دارا کے ساتھ کسی کا کوئی مستقبل نہیں ۔میں وہی کر رہا ہوں جو بہتر ہے۔’ دراب نے اسے بتانا ضروری سمجھا تھا جبکہ اس بات پر سعد مڑ کر اسکے پاس آیا۔
‘رہ لو گے اس کے بغیر؟’ سعد کے اس سوال پر دراب بہت دیر سوچتا رہا اور پھر بولا۔
‘ہاں۔’ سعد کو یہ بات پسند نہیں آیا تھا مگر وہ کر بھی کیا سکتا تھا۔اس لیئے اس نے اس بات کو چھوڑا اور دوسرے معاملے کی طرف آیا۔
‘اور پاک فوج کا کیا؟ان سے بچ کے کیسے جائیں گے؟’
‘فکر مت کرو اس وڈیو میں صرف ہمارا حلیہ آیا تھا چہرہ نہیں ہمیں بس اپنا حلیہ بدلنا ہوگا۔تم کل وجدان کو ریلوے اسٹیشن پر ملنے کی خبر دینا ابھی تم جا کے آرام کرو۔’
سعد بھی اب مطمئن ہو گیا تھا ۔دراب کی آخری بات پر اس نے حیرت سے دراب کو دیکھا۔
‘جانان تمہارے کمرے میں ہے؟’
‘ہاں اس کے مطابق کمرے میں بھوت ہے ،اکیلے نہیں سوئے گی وہاں۔’
دراب کی بات پر سعد قہقہہ لگا کر ہنسنے لگا۔
‘پھر تو مجھے بھی نہیں سونا چاہیے زندگی تو مجھے بھی پیاری ہے۔لیکن اگر بھوت کی جگہ چڑیل ہوتی تو سوچ بھی سکتا تھا۔’
سعد نے شرارت سے کہا تو دراب اسے گھورنے لگا۔جسے سعد نظرانداز کرتا ہنستے ہوئے اپنے کمرے میں چلا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شان پاک فوج سے بہت مشکل سے بچ کے بھاگا تھا۔لیکن دارا کے خلاف وہ وڈیو پاک فوج سے حاصل کرنے میں ناکام رہا تھا۔ویسے بھی دارا اس کی سوچ سے زیادہ چالاک نکلا تھا۔اس نے اپنا چہرہ ایک بار بھی وڈیو میں آنے نہیں دیا۔
لیکن اس نے دارا کو دیکھا تھا اور وہ شائید واحد ایسا آدمی تھا جو دارا کو پہچاننے کے بعد زندہ بچا تھا۔وہ جانتا تھا کہ بادشاہ کے پاس اگر وہ خالی ہاتھ گیا تو اس کے ساتھ بہت برا ہو گا۔
لیکن وہ بادشاہ کے پاس خالی ہاتھ نہیں جائے گا وہ دارا کو ختم کرے گا اور اس کی موت کی خبر سے بادشاہ کو خوش کرے گا۔اس نے سوچ لیا کہ دارا اب اس کے ہاتھوں سے ہی مرے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
