Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 19

جانان جب پانچ سال کی ہوئی تو حسن اور عائشہ نے سلمان سے نکاح کا پوچھا تھا اور سلمان نے عائشہ کی خوشی کے لیئے فوراً ہاں کر دی تھی۔
نکاح والے دن چھوٹی سی جانان کو دلہن کی طرح سجایا گیا تھا ۔وہ نظر لگ جانے کی حد تک پیاری لگ رہی تھی۔
سلمان اسے کمرے میں لینے گیا تو جانان سونا چاہ رہی تھی جبکہ فاطمہ اسے اٹھانے کی مکمل کوشش کر رہی تھی۔سلمان غصے سے اسکے پاس گیا اور سختی سے اسے پکڑ کر پیروں پر کھڑا کیا تھا۔
‘اب اگر تم نہ اٹھی تو تھپڑ لگاؤں گا تمہیں۔’سلمان کے اس طرح سے چلانے پر وہ سہم کر رونے لگی تھی۔
‘آواز بند کرو اپنی اور تم اسے باہر لے کے آؤ ۔ہر جگہ تماشہ لگانے کا ٹھیکہ لیا ہوا ہے تم نے۔’سلمان غصے سے کہتا ہوا باہر چلا گیا تو فاطمہ بھی جانان کو چپ کروا کر ساتھ لے آئی۔جب سے زرش پیدہ ہوئی تھی تب سے سلمان کا رویہ ان کے ساتھ مزید برا ہو گیا تھا۔
جانان کو لا کر شایان کے بغل میں بیٹھایا گیا اور نکاح کی رسم ادا کی گئی۔نکاح کے بعد سب اپنی باتوں میں مشغول ہو گئے تھے۔جانان نے رونی صورت بنا کر شایان کو دیکھا۔
‘میں نے سونا ہے۔’جانان نے اپنے گال پھولا کر کہا اور ایسا کر کے وہ بہت کیوٹ لگ رہی تھی۔
‘تو سو جاؤ’شایان نے اسے بہت پیار سے کہا تھا۔
‘میں سوتی ہوں تو بابا مارتے ہیں۔’جانان نے روتے ہوئے کہا تو شایان کو غصہ آ گیا۔اس نے نرمی سے جانان کا سر اپنی گود میں رکھا تھا۔
‘شایان شاہ کے ہوتے ہوئے تمہیں کوئی ہاتھ بھی نہیں لگا سکتا۔’
‘سچی؟’جانان نے معصومیت سے پوچھا تو شایان مسکرا دیا تھا جبکہ جانان آنکھیں بند کیئے سو گئی تھی۔
وہ لوگ دو دن وہاں رہے تھے اور دو دن تک شایان نے جانان کو صرف اپنے ساتھ رکھا تھا۔جانان صرف اسی کے ساتھ کھیل سکتی تھی،اسی کے ساتھ کھاتی تھی اور صرف اسی کے ساتھ باتیں کرتی تھی۔
حمنہ جو جانان کے سب سے قریب تھی اسے یہ برداشت نہیں ہوتا تھا۔وہ جانان کو اپنے ساتھ لے کر آتی تو شایان کوئی نہ کوئی لالچ دے کر پھر سے جانان کو ساتھ لے جاتا۔
آخر ان کے جانے کا وقت آ چکا تھا۔شایان جانان کو اپنے ساتھ چھت پر لے گیا تھا۔وہ جانان کے سامنے اس کے ہاتھ پکڑ کر بیٹھا تھا۔
‘جانان مجھ سے وعدہ کرو کہ تم مجھے کبھی نہیں بھولو گی۔’شایان نے سنجیدگی سے اسے کہا تھا۔
‘تمہیں کیسے بھولوں گی ہم تو بیسٹ فرینڈ ہیں نا۔’جانان نے کھلکھلاتے ہوئے کہا۔لیکن شایان جانتا تھا کہ وہ پھر سے اس کو بھول جائے گی۔وہ جب بھی واپس آتا تھا جانان اسے بھول چکی ہوتی تھی اور یہ بات شایان کے لیئے بہت نا گوار تھی۔
شایان نے اپنے گلے سے ایک چین نکالی جس کو اس نے سکول میں جیتا تھا اور اسے جانان کے گلے میں پہنا دیا۔
‘اسے کبھی بھی گم نا کرنا اور اسے روز دیکھ کر مجھے یاد کرنا اس طرح سے تمہیں میں ہمیشہ یاد رہوں گا اور اگر تم مجھے بھولی نا تو میں ناراض ہو جاؤں گا وہ بھی پکا والا۔ میرا انتظار کرنا ،بہت جلد تمہیں اپنے ساتھ لے جاؤں گا۔’شایان نے منہ بنا کر کہا تو جانان ہنسنے لگی۔
‘شایان آ جاؤ بیٹا چلیں۔’حسن صاحب کی آواز پر شایان اٹھ کھڑا ہوا جبکہ اس کے ایسا کرنے پر جانان نے منہ بسور لیا۔
‘پھر آؤ گے؟’جانان نے اپنے پہلے سے پھولے ہوۓ گالوں کو مزید پھولا لیا۔
‘ضرور آؤں گا یہ میرا وعدہ ہے تم سے۔’شایان مسکراتے ہوئے بولا۔
اللہ حافظ جانانِ شاہ۔’شایان نے جھک کر اسکا گال چوما اور چلا گیا جبکہ جانان نے ہنستے ہوئے اپنے لاکٹ کو دیکھا تھا جس پر سٹائلش سا S بنا ہوا تھا۔جانان اس سے کھیلتے ہوئے ہنسنے لگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سلمان بزنس کے سلسلے میں کراچی گیا ہوا تھا اور اس وقت وہ ایک کلائنٹ سے ملنے ہوٹل آیا ہوا تھا۔اچانک اس کی نظر سامنے موجودہ منظر پر پڑھی تھی۔وہاں پر حسن ایک عورت اور دو بچوں کے ساتھ بیٹھے کھانا کھا رہا تھا۔
سلمان کے قدم بے ساختہ ان کی طرف اٹھے تھے۔
‘اسلام و علیکم۔’سلمان نے ان کے پاس کھڑے ہو کر کہا تو حسن نے جیسے ہی اسے دیکھا تو اس کا رنگ اڑ گیا۔
‘سس۔۔۔۔سلمان۔’حسن کافی گھبرا گیا تھا۔
‘یہ کون ہے حسن ہمیں بھی تو ملواؤ۔’اس عورت نے مسکراتے ہوئے سلمان کو دیکھا تھا۔
‘میں حسن کا دوست ہوں اور آپ؟’
‘میں سلمان کی بیوی فریحہ اور یہ ہمارے بچے ہیں شاہرام اور ماہا۔’فریحہ کی اس بات پر سلمان نے حسن کو گھورا تھا۔
‘فریحہ تم گھر جاؤ میں ابھی آتا ہوں۔’حسن فریحہ کا جواب سنے بغیر سلمان کو ساتھ لے کر چل دیا۔سلمان اسے اپنی گاڑی میں لے آیا تھا۔
‘یہ سب کیا ہی حسن ایسے کیسے تم عائشہ کو دھوکہ دے سکتے جانتے ہو اسے پتہ چلا تو کیا ہو گا۔’سلمان کافی غصے سے بولا تھا۔
‘سلمان یار میرے پاس کوئی راستہ نہیں تھا۔میرے باپ نے مجھے اپنی قسم دے کر فریحہ سے شادی کروائی تھی۔میں کبھی بھی عائشہ کو دھوکہ نہیں دینا چاہتا تھا لیکن میری مجبوری تھی۔اپنے باپ کے سامنے کمزور پڑ گیا اور ان کی آخری خواہش پوری کرنے کے لیئے یہ شادی کرنی پڑی۔’حسن پریشانی سے بول رہا تھا۔
‘دھوکہ تو تم نے دیا ہے۔’سلمان ابھی بھی غصے میں تھا۔
‘خدا کے لیئے تم عائشہ کو اس کے بارے میں کچھ مت بتانا وہ مجھے لے کر بہت پوزیسو ہے ۔وہ یہ برداشت نہیں کر سکے گی۔خدا کے لیئے میرا راز رکھ لے یار۔’حسن نے سلمان کے سامنے ہاتھ جوڑے تھے جن کو سلمان نے تھام لیا تھا۔
‘ٹھیک ہے بس وعدہ کر کہ عائشہ کو اس سب سے دور رکھے گا۔’سلمان نے اسے کہا تو حسن نے ہاں میں سر ہلایا۔
‘جا اب۔’
حسن اس سے مطمئن ہو گیا تھا اور وہ مسکراتے ہوئے کار سے نکل کر واپس ہوٹل چلا گیا۔سلمان نے مسکراتے ہوئے اسے جاتے دیکھا تھا۔اتنے سال سے وہ یہی تو چاہتا تھا کہ عائشہ اسے چھوڑ دے لیکن عائشہ بھی اس پر آنکھ بند کر کے بھروسہ کرتی تھی ۔مگر اب پاسا سلمان کے ہاتھ میں تھا۔اس نے اپنی جیب سے فون نکالا اور نمبر ڈائیل کرنے لگا۔
‘حسن شاہ کراچی میں ایک الگ ہی شادی شدہ زندگی جی رہا ہے۔اس کی شادی سے متعلقہ ہر ثبوت میرے تک پہنچاؤ۔’
فون بند کر کے سلمان نے ایک قہقہہ لگایا تھا ۔اب تم میری ہو جاؤ گی عائشہ میں چھین لوں گا تمہیں حسن سے۔ایک شیطانی مسکراہٹ کے ساتھ سلمان نے سوچا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سلمان تمام ثبوتوں کے ساتھ اس وقت حسن کے گھر پر موجود تھا۔عائشہ اسے دیکھ کر مسکرائ تھی۔
‘سلمان کیسے ہیں آپ؟۔’عائشہ نے خوشی سے پوچھا تھا۔
‘میں تو بلکل ٹھیک ہوں تمہارے لئے ایک تحفہ لایا ہوں۔’سلمان نے حسن کو دیکھتے ہوئے عائشہ کو ایک فائل دی۔
‘پراپرٹی تو میرے نام نہیں کر دی۔’
عائشہ نے شرارت سے کہتے ہوئے فائل کو کھولا تھا۔لیکن فائل کو کھولتے ہی اسکے لبوں سے مسکراہٹ غائب ہو گئی تھی۔اس فائل میں حسن اور فریحہ کا نکاح نامہ اور ان کی کئی تصاویر تھیں۔حسن پریشانی سے اٹھ کر عائشہ کے پاس آیا مگر فائل میں موجود چیزیں دیکھ کر اس نے غصے سے سلمان کو گھورا جو اب مسکرا رہا تھا۔
‘حسن یہ جھوٹ ہے نا۔’عائشہ نے روتے ہوئے حسن سے پوچھا تھا اور پھر اسکے پاس جا کر اسکا گریبان پکڑ لیا۔
‘پلیز کہہ دیں حسن یہ جھوٹ ہے۔’ عائشہ بری طرح سے روتے ہوئے حسن کو جھنجوڑ رہی تھی جبکہ حسن کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا بولے۔
‘بتاؤ حسن سچ کیا ہے عائشہ کا حق بنتا ہے۔’
سلمان نے ایسے کہا تو حسن نے خونخوار آنکھوں سے سلمان کو دیکھا جو دوست کے بھیس میں اسکا سب سے بڑا دشمن نکلا تھا۔ حسن نے ایک نظر عائشہ کو دیکھا اور پھر اپنی محبت کو آزمانے کا فیصلہ کیا۔لیکن عائشہ کی محبت کی طاقت کو وہ بھی نہیں جانتا تھا۔
‘نہیں یہ سب سچ ہے لیکن پلیز میری۔۔۔۔۔۔۔عائشہ!’
حسن کے الفاظ ابھی اس کے منہ میں ہی تھے جب عائشہ بے ہوش ہو کر اسکی باہوں میں جھول گئی۔سلمان بھی پریشانی سے عائشہ کو دیکھ رہا تھا۔شایان جو ابھی بیڈمنٹن کھیل کر واپس آیا تھا سامنے کا منظر دیکھ کر دوڑ کے اپنی ماں کے پاس آیا تھا۔
حسن نے جلدی سے عائشہ کو اٹھایا اور گاڑی میں ڈال کر ڈرائیور کو ہسپتال جانے کا کہا۔سلمان اور شایان بھی ان کے ساتھ تھے ۔شایان بری طرح سے رو رہا تھا جبکہ حسن بار بار عائشہ کو جھنجوڑ کر اسے آنکھیں کھولنے کا کہہ رہا تھا۔
ہسپتال پہنچ کر ڈاکٹرز فوراً عائشہ کو آبزرویشن میں لے گئے تھے۔حسن نے غصے سے آ کر سلمان کا کالر پکڑا تھا۔
‘اگر میری عائشہ کو کچھ ہوا تو تیری جان لے لوں گا۔’حسن نے آنکھوں میں انگارے لیئے سلمان کو دیکھا تھا۔
‘دھوکہ تم نے دیا تھا میں نے نہیں۔’
سلمان اپنا کالر چھڑاتے ہوئے بولا۔جبکہ شایان کو دونوں پر غصہ آ رہا تھا دونوں اسکی ماں کی فکر چھوڑ کر لڑنے میں مصروف تھے۔تھوڑی دیر انتظار کرنے کے بعد ڈاکٹر باہر آئے تھے۔شایان بے چینی سے ڈاکٹر کی طرف گیا تھا۔
‘دیکھیں پیشنٹ کا بہت برا نروس بریکڈاؤن ہوا تھا ۔ہم نے اپنی پوری کوشش کی لیکن انہیں بچا نہیں سکے۔’ڈاکٹر نے شایان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا تھا۔جبکہ ڈاکٹر کے یہ الفاظ سب پر بم کی طرح گرے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عائشہ کی وفات نے حسن کو مکمل طور پر توڑ دیا تھا۔لاہور اس گھر میں رہنا اس سے برداشت نہیں ہو رہا تھا۔اس لیئے حسن شایان کو اپنے ساتھ کراچی لے گیا تھا۔وہ سلمان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتا تھا اور ایک پل کہ لیئے اس نے یہ سوچا تھا کہ شایان اور جانان کے بیچ موجود رشتے کو ختم کر دے لیکن پھر اس نے سوچا کہ یہ رشتہ عائشہ کی خواہش سے بنا تھا اسے ختم کر کے وہ عائشہ کی روح کو تکلیف نہیں دے سکتا تھا۔لیکن اس نے سوچ لیا تھا کہ شایان کو جانان سے ہمیشہ دور رکھ کر سلمان کو سزا دے گا۔اس نے شایان کو اپنی قسم دی تھی کہ وہ جانان سے ملنا تو دور اس کے بارے میں سوچے گا بھی نہیں۔شایان اس معاملے میں خاموش ہی رہا تھا ۔وہ جانتا تھا کہ ابھی وہ اپنے باپ کے سامنے کمزور پڑھ جائے گا لیکن بڑے ہو کر وہ اپنی جانان کو ہمیشہ کے لیئے اپنے پاس لانے کا ارادہ رکھتا تھا۔
فریحہ اور اس کے دونوں بچے شایان کی آمد سے خوش نہیں تھے۔وہ لوگ تو بہت پہلے سے ہی عائشہ اور شایان کے بارے میں جانتے تھے اور ان سے بے تحاشہ نفرت بھی کرتے تھے۔فریحہ تو عائشہ کے مرنے سے بہت خوش تھی ،لیکن اس شایان نامی بلا کو گھر میں پا کر اسے غصہ آیا تھا۔
شایان بھی ان لوگوں سے زیادہ گھلتا ملتا نہیں تھا وہ ذیادہ تر اپنے کمرے میں بیٹھ کر گھنٹوں عائشہ کی تصویر سے باتیں کرتا تھا۔اس نے شاہرام سے تھوڑا گھلنے ملنے کی کوشش کی تھی کیونکہ وہ اس سے بس ایک سال چھوٹا تھا جبکہ ماہا تو ابھی صرف نو سال کی تھی۔ لیکن شاہرام کے برے رویے کی وجہ سے اس سے بھی بات کرنا بند کر دی تھی۔شایان کو لگا تھا کہ یہاں پر اسکے بہن بھائی ہوں گے مگر یہاں آ کر وہ بہت اکیلا محسوس کرتا تھا۔حالانکہ حسن شایان کو اپنے دونوں بچوں سے دگنی توجہ دیتا تھا اور کوئی بھی حسن کے غصے کے ڈر سے شایان کو کچھ نہیں کہتا تھا۔
شاہرام کا برتھ ڈے تھا اور فریحہ بیگم نے اس کے لیئے بہت ذیادہ تیاریاں کی تھیں۔شام کو لان مہمانوں اور شاہرام کے دوستوں سے بھرا پڑا تھا۔شایان وہاں آنا تو نہیں چاہتا تھا لیکن حسن کی خوشی کے لیئے آ گیا تھا۔وہ سائیڈ پر کھڑا سب کو دیکھ رہا تھا جب شاہرام اپنے دوستوں کے ساتھ شایان کے پاس آیا تھا۔
‘تو یہ ہے تمہارا وہ بھائی جو لاہور سے آیا ہے۔’ایک لڑکی نے شایان کو دلچسی سے دیکھتے ہوئے پوچھا تو شاہرام نے برا سا منہ بنایا تھا۔
‘اسکا مطلب تمہارے بابا نے دو شایان کی ہیں؟’دوسرے لڑکے نے حیرانی سے پوچھا تھا۔شایان وہاں سے جانے لگا تھا جب اسکے کانوں میں شاہرام کے الفاظ پڑے۔
‘کہتے تو یہی ہیں کہ شادی کی تھی لیکن کیا پتا سچ ہے بھی یا نہیں۔میں نے تو سنا ہے شادی کے بغیر ہی رہتی تھیں بابا کے ساتھ گھٹیا عورتوں کی طرح۔’
شایان یہ الفاظ سن کر غصے سے شاہرام کے پاس آیا تھا اور ایک زور دار مکا اسکی ناک پر مارا۔شاہرام نے اپنی ناک کو چھوا تھا جہاں سے اب خون نکل رہا تھا۔
‘تیری اتنی ہمت۔’
شاہرام نے غصے سے شایان کا کالر پکڑا تھا لیکن اس سے پہلے کہ دونوں کچھ کرتے حسن وہاں آیا اور شاہرام کو کھینچ کر ایک زور دار تھپڑ اسکے منہ پر مارا تھا۔
‘تمہاری جرات کیسے ہوئی شایان کے گریبان پر ہاتھ ڈالنے کی ۔آج کے بعد میرے بیٹے کو آنکھ اٹھا کر بھی دیکھا تو جان نکال دو گا تمہاری۔’حسن نے شایان کو اپنے ساتھ لگاتے ہوئے کہا تھا۔
فریحہ کھا جانے والی نظروں سے شایان کو دیکھ رہی تھی اور اس دن ان دونوں کی شایان کے لیئے نا پسندیدگی نفرت میں تبدیل ہو گئی تھی۔
لیکن اس کے بعد حسن نے شایان کو وہاں نہیں رکھا تھا بلکہ اسے کیڈٹ کالج میں بھیج دیا ۔وہ شایان کو اپنی طرح آرمی میں دیکھنا چاہتا تھا جبکہ شایان نے بھی اپنے باپ کے خواب کو اپنا مان کر دل و جان سے محنت کرنے کا فیصلہ کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔