Safar Ishq By Harram Shah Readelle50189 Episode 8
No Download Link
Rate this Novel
Episode 8
دارا کو آخر کار بہت محنت کے بعد ملک کے اڈے کا پتہ چلا گیا تھا اس کے آدمیوں نے دارا سے اس کے سارے ہتھیار لے کر اسے اندر ملک کے پاس جانے کی اجازت دی تھی۔دارا نے انہیں بتایا تھا کہ ملک کے لیئے اس کے پاس ایک خفیہ خبر ہے جس کو جاننے کے لیئے ملک نے دارا کو پاس بلایا۔
‘ہاں بول اب کون ہے تو اور کیا خبر ہے؟’
ملک نے دارا پر ایک نظر ڈالتے ہوئے پوچھا ۔
‘ خبر بادشاہ کے بارے میں ہے اس کا وقت آ گیا ہے اور اس کی موت دارا کے ہاتھ سے لکھی ہے ۔جس دارا کو ابھی تو اسکا پتہ بتائے گا۔’
اس بات پر ملک نے دارا کو دیکھا۔
‘تو ہے دارا ۔تجھے کیا لگتا ہے تو نے کہا اور میں نے تجھے بادشاہ کا پتا بتا دیا۔’
ملک نے قہقہہ لگایا اور اپنی بندوق اٹھا کر دارا پر گولی چلائی جسے دارا ایک طرف ہو کر بچ گیا۔اسے سے پہلے کہ ملک کو کچھ سمجھ آتا دارا بجلی کی رفتار سے ملک کے پاس گیا اور اپنے گلے سے چھین کھینچتے ہوئے اسے ملک کے گلے میں لپیٹ دی۔
دارا کا ساتھی دروازے کے پاس کھڑا تھا ۔ملک کے آدمی گولی کی آواز سن کر کمرے کی طرف لپکے تھے۔دارا نے اپنے ساتھی کو اشارہ کیا تو اس نے اپنی آستین میں چھپی ایک چھوٹی سی پسٹل نکالی اور بہت تیزی سے اس کے آدمیوں کو کوئی موقع دیئے بغیر گولیاں مار کے ختم کر دیا۔
‘ایک سیکنڈ میں تیری گردن توڑ کے تجھے بے جان کر سکتا ہوں۔اس سے پہلے مجھے بادشاہ کا پتا بتا۔’
‘ مم۔۔۔۔مر جاؤں گا لیکن نہیں بب۔۔۔۔۔بتاؤں گا تجھے۔’
‘ایسا کیا’ دارا کے چہرے کے تاثرات ہو گئے اور اس نے چین کی پکڑ مظبوط کی ۔
‘ بب۔۔۔۔بادشاہ کے ہ۔۔۔۔ہاتھوں مرے گگگ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔گا تو۔’
دارا مسکرایا ۔
‘لیکن پہلے تو اپنی فکر کر ۔’
‘مم۔۔۔۔۔۔مار دے لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تیرے کام نن۔۔۔۔۔۔۔نہیں آؤں گا۔’
دارا نے چین کی پکڑ اور مظبوط کر دی لیکن اس کی سانسیں بند ہونے سے پہلے ڈھیلی کر دی ۔تین چار بار یہی عمل دوہرانے سے بھے وہ کچھ نا بولا تو دارا نے اسے چھوڑ دیا اور پھر اپنے ساتھی سے بندوق لے کر ملک کے منہ میں رکھ دی۔ملک کی آنکھیں اب خوف سے باہر آ گئی تھیں ۔
‘تیرے جیسوں کی ضرورت بھی نہیں دارا کو۔’
دارا نے ایک مسکراہٹ کے ساتھ پسٹل کا رخ اسکی کھوپڑی کی طرف کیا اور گولی چلا دی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح سے موسم صاف تھا مگر شام کے اس وقت بارش ہو رہی تھی۔اکتوبر میں ہونے والی اس باش نے موسم کو اور ٹھنڈا کر دیا ۔دراب سعد کے ساتھ ٹیکسی میں بس سٹیشن کی طرف جا رہے تھے۔کہنے کو دراب کا دھیان باہر کشمیر کے خوبصورت نظاروں پر تھا لیکن اس کے خیالات کا مرکز جانان تھی۔وہ تو اس کے ساتھ بس ایک مسافر تھی جن کے راستے الگ تھے تو ان کی ایک منزل ایک ہو ہی نہیں سکتی۔وہ کسی اور کا نصیب ہے۔دراب اپنے دل کو سمجھا رہا تھا مگر دل بھی اس کی مخالفت کرنے پر آمادہ تھا۔
‘گاڑی روکو!’
سعد کے کہنے پے دراب نے سعد کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا تو سعد نے کھڑکی سے باہر اشارہ کیا۔جہاں جانان ایک گھنے درخت کے نیچے بیٹھی ہوئی تھی۔دراب اور سعد گاڑی سے نکل کر اس کے پاس گئے ۔دراب جانان کے قریب ہوا تو اس کی نظر جانان کے بھیگے ہوئے اور سردی سے کپکپاتے وجود پر پڑی ۔دراب گھٹنوں کے بل جانان کے سامنے بیٹھ گیا۔
‘جانان’
دراب کی آواز سنتے ہی جانان نے ایک نظر دراب کو دیکھا اور پھر اس کے سینے سے لگ کر زارو قطار رونے لگی۔دراب نے پریشانی سے سعد کو دیکھا جو خود حیرت سے جانان کو دیکھنے میں مصروف تھا۔
‘جانان کیا ہوا؟’
دراب نے اسے کندھوں سے پکڑ کے خود سے جدا کرتے ہوئے انتہائی نرمی سے پوچھا۔
‘وو۔۔۔وہ کہتی ہیں کک۔۔۔۔کہ میں پپ۔۔۔۔پاگل ہوں۔۔۔۔۔ ب۔۔۔۔۔۔۔بے حیا ہوں۔’
جانان بہت ذیادہ رونے کی وجہ سے ہچکیاں لیتے ہوئے بول رہی تھی۔ پھر دراب کو دیکھ کر آنسو پونچھ کر بولنے لگی۔
‘آپ کو پتا ہے انہوں نے مجھے یہ سب کہا لیکن مجھے برا نہیں لگا لیکن جو شایان نے کہا اور کیا نا اس کی وجہ سے میرا سب کچھ مٹ گیا سب کچھ ختم ہو گیا۔’
‘کیا کیا شایان نے؟
دراب نے حیرت اور غصے سے پوچھا تو جانان نے ہاتھ میں پکڑی فائل اس کے آگے کی جسے دیکھتے ہی دراب کا غصہ اور ذیادہ بڑھ گیا۔سعد نے اس کے ہاتھ سے فائل لے لی اور اسے دیکھ کر سعد کا بھی دراب والا حال ہوا تھا ۔دراب نے غصے سے مٹھیاں بھینچ لیں اور غصے سے اٹھ کر وہاں سے جانے لگا۔
‘نہیں دراب۔ابھی نہیں۔’ سعد کے الفاظ نے اسکے قدم روک دیے ۔دراب نے دانت پیستے ہوئے اپنا غصہ ضبط کرنے ک ی کوشش کی ورنہ اسکا دل کر رہا تھا کہ اس شخص کا منہ توڑ دے۔دراب واپس جانان کے پاس آیا اور اسے کندھوں سے پکڑ کے اپنے سامنے کھڑا کیا۔
‘ انہوں نے ایسا کیوں کیا؟انہوں نے ہی تو مجھ سے وعدہ مانگا تھا پھر ایسا کیوں کیا؟’
جانان روتے ہوئے اپنی میں دنیا جہان کی مایوسی لیئے پوچھ رہی تھی۔
‘مجھے تو لگا تھا کہ وہ مجھے دیکھ کر بہت خوش ہوں گے مجھے یاد کرتے یوں گے اور انہوں نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔’
جانان بہت ذیادہ رو رہی تھی اور اس کا ہر آنسو دراب کے دل پر گر رہا تھا۔جانان نے غصے سے اپنے گلے میں موجود لاکٹ کو کھینچا اور اسے بے دردی سے سڑک پر پھینک دیا۔
‘نہیں چاہیے ان کی دی ہوئی کوئی چیز مجھے۔ خدا کرے وہ کبھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔’
جانان نے اپنے آپ کو بد دعا دینے سے روکا تھا لیکن دراب چاہتا تھا کہ وہ اس شخص کو ایسی بد دعا دے کے وہ جی نہ پائے۔دراب نے جانان کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھاما
اور اپنے انگوٹھے سے اس کے آنسو پونچھ دیے۔
‘اب ایک بھی آنسو مت بہانا تم ۔وہ ان آنسوؤں کے قابل نہیں ہے۔ کوئی بھی ان کے قابل نہیں۔ جانان تم ایک شخص کی وجہ سے نہیں ٹوٹ سکتی کیونکہ تم کمزور نہیں ہو۔جو اس نے کیا اس سے یہ ثابت ہوا کہ وہ تمہارے قابل نہیں اور جو تمہارے قابل ہی نہ ہو اسکے لیئے دکھ کیسا۔جو شخص تمہارے قابل ہو گا اسے نہ تو قسمت تم سے دور ہونے دے گی اور نہ وہ خود تمہیں دور کر سکے گا کیونکہ تمہاری دوری کے خیال سے ہی اس کی سانسیں تھم جائیں گی۔’
دراب نے پھر سے اس کے آنسو پونچھے اور اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا۔
‘اب ایک بھی قیمتی آنسو اس کے لیئے ضائع نہیں کرنا اور چلو کسی ہوٹل میں جا کے تمہارے کپڑے بدلواتے ہیں ورنہ بیمار پڑھ جاو گی اور پھر سچ میں کھانسنے لگو گی۔’
دراب نے اس کو مسکرا کے کہا تو اپنے آنسو صاف کرتی دراب کی آنکھوں میں دیکھنے لگی۔سعد اس کا سامان پکڑ کے ٹیکسی کی طرف چل دیا۔
‘مجھے میری آپی سے بات کرنی ہے۔’
جانان نے فرمائش کی تو دراب مسکرانے لگا اور ٹیکسی کا دروازہ اس کے لیئے کھولا۔
‘ضرور’
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بادشاہ غصہ سے پاگل ہو رہا تھا ۔بہرام نے اسے بتایا تھا کہ جس آدمی کو اس نے دارا کا پتا لگانے کے لیئے بھیجا تھا اس نے ملک کے کمرے میں ایک خفیہ کیمرہ لگا کے اس میں دارا کا چہرہ اور آواز ریکارڈ کر لی تھی۔اس کے زریعے بادشاہ اپنے ہر آدمی کو دارا کے بارے میں بتا سکتا تھا اور پھر دارا کا راز سب کے سامنے کھل جاتا تو وہ کچھ نہیں کر سکتا تھا۔دارا اسکی پکڑ میں ہوتا۔بادشاہ چاہتا تو ملک کے اڈے پر اسے مروا سکتا تھا لیکن اسے دارا زندہ چاہیے تھا۔
اب بادشاہ کا آدمی شان اور دارا کے خلاف وہ ثبوت کشمیر میں پاک آرمی کے ہاتھ لگ گئے تھے۔دارا کا تو اب بھی پاک آرمی سے بچنا نا ممکن تھا لیکن بادشاہ کو یہ بات ہضم نہیں ہو رہی تھی کہ دارا کو وہ اپنے ہاتھوں سے نہیں مار سکے گا۔بادشاہ نے غصے سے اپنا ہاتھ میز پر مارا۔
‘دارا ۔۔۔اااا’
بادشاہ غصے سے چلایا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حمنہ اپنے شادی کے جوڑے میں خود کو دیکھ رہی تھی جس میں وہ نظر لگ جانے کی حد تک خوبصورت لگ رہی تھی۔لیکن پہلے اسے وہ جوڑا جتنا اچھا لگا تھا اب اتنا ہی برا لگ رہا تھا کیونکہ اس جوڑے میں حمنہ کی کمر برہنہ ہو رہی تھی ۔اس قسم کے لباس نے حمنہ کے دل میں عثمان کا مقام اور زیادہ گرا دیا ۔
اپنی کمر کو کور کرنے کے لیئے اس نے پارلر والی سے اپنے بال کھلے رکھنے کو کہا تھا تاکہ وہ اس کی کمر کو ڈھانپ دیں جو پارلر والی کو پسند تو نہیں آیا تھا مگر وہ حمنہ کو مجبور نہیں کر سکی۔
حمنہ اپنی آنے والی زندگی سے ڈر تو رہی تھی مگر اس نے خود سے ہمت کرنے کا وعدہ کیا تھا۔چاہے کچھ بھی ہو جائے وہ ملک عثمان کے آگے نہیں جھکے گی وہ اپنی ماں کی طرح کمزور ہو کے اپنے آپ کو اس کا کھلونا نہیں بننے دے گی۔ابھی وہ یہی سوچ رہی تھی کہ اسکا موبائیل بجنے لگا۔
انجانے نمبر کو دیکھتے ہی اسے جانان کا خیال آیا تو جلدی سے کال پک کر کے موبائیل کان سے لگایا۔
‘ہیلو’
‘آ آ ۔۔۔۔آپی۔’
جانان کی آواز سنائی دیتے ہی حمنہ کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
‘جانو کیسی ہو اور اتنے دن بعد فون کیا کہاں تھی تم؟ تم ٹھیک ہو نا اور شایان بھائی کیسے ہیں ؟’
حمنہ نے ایک ہی سانس میں کئی سوال پوچھ ڈالے۔
‘اور جانان جو کب سے رونا ضبط کیے ہوئی تھی حمنہ کی آواز سنتے ہی پھر سے رونے لگی۔
‘ آپی ۔۔۔۔۔وہ۔۔۔۔’
اس سے پہلے کہ جانان کچھ کہتی دراب نے اس کے ہاتھ سے فون لے لیا اور اپنے کان کے ساتھ لگایا۔جبکہ جانان کے رونے کی وجہ سے حمنہ بہت پریشان ہو گئی اور اس سے پکارنے لگی۔
‘جانو کیاہوا ہے؟’
جانان کا یہ نام سن کے دراب کے لب مسکرائے۔
‘کچھ نہیں ہوا وہ بس آپ کو بہت یاد کر رہی ہے اس لیے دکھی ہے بہت۔’
حمنہ انجانے آدمی کی آواز سنتے ہی اسے شایان سمجھ بیٹھی۔
‘شایان بھائی آپ پلیز اس کا بہت خیال رکھئے گا جانو نادان ہے مگر وہ دل کی بہت ذیادہ اچھی ہے پلیز اسے کبھی دکھی مت کریئے گا۔۔۔۔۔۔’
‘کس سے بات کر رہی ہو۔۔؟’
حمنہ نے دروازے میں کھڑے ہوئے اپنے باپ کو دیکھا تو فوراً کال بند کر دی اور اٹھ کھڑی ہوئی۔
‘کسی سے نہیں۔’ سلمان صاحب نے اسے مشکوک نظروں سے دیکھا لیکن خاموش رہے تھے۔
‘چلو انتظار ہو رہا ہے تمہارا۔’
حمنہ نے ایک گہرا سانس لیا اور سلمان صاحب کے ساتھ چل دی ۔اس کی نئی زندگی اس کے انتظار میں تھی لیکن اب وہ جانان کے حوالے سے مطمئن تھی کیونکہ وہ شایان کے پاس پہنچ گئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جانان اب غصے سے دراب کو دیکھ رہی تھی ۔
‘آپ نے مجھے آپی سے بات بھی نہیں کرنے دی ۔’جانان شکوہ کناں آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوئے بولی۔
‘اگر تم انہیں اس طرح سے سب کچھ بتا دیتی تو وہ کتنا پریشان ہو جاتی۔جب ان کے پاس جاؤ گی تب سب کچھ بتانا اس طرح انہیں حوصلہ تو ہو گا کہ تم ان کے سامنے بلکل سلامت ہو۔’
دراب نے اسے سمجھایا تو وہ بھی ہاں میں سر ہلانے لگی۔
آپ کا بہت شکریہ آپ نے میرے لیئے بہت کچھ کیا۔اگر مجھے موقع ملا تو آپ کے لیئے بھی کچھ نہ کچھ ضرور کروں گی۔’
دراب اس کی بات پر مسکرایا اور اسے ہوٹل چلنے کا کہا۔ جہاں ان کے پہنچنے سے پہلے سعد کھانا منگوا چکا تھا۔
‘ لو گڑیا یہ ڈش ٹرائی کرو یہاں کی سب سے فیمس ڈش ہے۔’
جانان نے ہاں میں سر ہلایا تھا۔سعد اور دراب اسکا دل بہلانے کی مکمل کوشش کر رہے تھے۔وہ نہیں چاہتے تھے کہ جانان ایسا افسردہ منہ بنا کر رہے۔
‘تمہیں ایک بات بتاؤں گڑیا دراب نے بارہ سال کی عمر میں ایک بڑے آدمی سے لڑائی ڈال لی تھی اور اسے ہرایا بھی تھا جس کی وجہ سے وہ آدمی بہت شرمندہ ہوا۔۔۔۔۔۔’ دراب نے اس واقعے پر سعد کو گھور کر دیکھا لیکن وہ چپ نہیں رہا۔
‘پھر ۔’ جانان نے دلچسپی سے پوچھا۔
‘اگلے اسے سکول جا کر پتہ چلا کہ وہ آدمی تو اسکا نیا ٹیچر تھا اور پھر وہ روزانہ دراب کو کلاس کے سامنے ڈنڈے لگاتا تھا وہ بھی پیٹھ پر۔’
جہاں جانان اور سعد ہنس رہے تھے وہیں دراب منہ بنا کر دونوں کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھا۔
‘چپ چاپ کھانا کھاؤ۔’ دراب کے روب جمانے کو کوشش میں وہ دونوں اور ہنسنے لگے تھے۔جبکہ دراب کے لیئے جانان کے چہرے پر آنے والی مسکان بہت قیمتی تھی۔جانان نے کھانا کھاتے ہوئے دراب کی طرف دیکھا اور پھر سے کھانا کھانے میں مصروف ہو گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نکاح کی رسم ادا ہو چکی تھی۔ حمنہ ہمیشہ کے لیئے عثمان ملک کے نام لکھ دی گئی۔سب لوگ انہیں مبارکباد دے رہے تھے جس سے حمنہ کو کوئی فرق نہیں پڑھ رہا تھا وہ بت بنی عثمان کے ساتھ کھڑی تھی۔
‘سلمان صاحب میں اپنی بیوی کو اپنے ساتھ گھر لے کے جانا چاہوں گا۔’
عثمان کی اس بات پر سب نے حیرت سے اسے دیکھا۔
‘لیکن آپ نے تو ابھی صرف نکاح کا بولا تھا رخصتی تو بعد میں ہونی تھی۔’
سلمان صاحب بھی اس کی بات پر حیران ہوئے۔
‘اب جب نکاح ہو گیا تو انتظار کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا ۔حمنہ میری بیوی ہے اور میں اسے جب چاہوں اپنے ساتھ لے کر جا سکتا ہوں ۔ہم الیکشن کے بعد ولیمہ کر کے یہ شادی اناؤنس کر دیں گے۔’
عثمان نے حمنہ پر پورا حق جتایا تھا۔
‘ٹھیک ہے جیسی آپ کی مرضی۔فاطمہ حمنہ کی رخصتی کی تیاری کرو۔’
‘لیکن۔۔۔۔۔۔’ فاطمہ بیگم نے کچھ کہنا چاہا تھا۔
‘جو کہا ہے چپ چاپ کرو۔’سلمان صاحب نے انہیں غصے سے کہا تو خاموشی سے حمنہ کا سامان پیک کروانے چلی گئیں۔
حمنہ یہ تو جانتی تھی کہ اس کے باپ کو ان سے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن اس کے ساتھ کسی چیز کی طرح کا سلوک اسے سب سے بدگمان کر گیا اسی لیئے گھر سے نکلتے وقت وہ زرش کے علاوہ کسی سے نہیں ملی تھی اور ایک دوسرے کے گلے لگ کے وہ خوب روئی تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
