Safar Ishq By Harram Shah Readelle50189 Episode 11
No Download Link
Rate this Novel
Episode 11
حمنہ فاطمہ بیگم اور سلمان صاحب کے جانے کے بعد سے اپنے کمرے سے باہر نہیں نکلی تھی۔اسے بہت زیادہ بے چینی ہو رہی تھی ۔جانان سے کل اس نے بات تو کی تھی لیکن نہ ہونے کے برابر۔جانان رو بھی تو رہی تھی اور شایان کے وجہ بتانے پر حمنہ نے فوراً یقین بھی کر لیا تھا ۔لیکن اب اسے خود پر غصہ آ رہا تھا۔کیونکہ وہ نہیں جانتی تھی کہ جانان سے کیسے بات کرے گی؟
ابھی وہ اس سب کے بارے میں سوچ رہی تھی کہ عثمان کمرے میں داخل ہوا اور اس کے پاس آیا اور اس کی گود میں ایک باکس رکھا۔حمنہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔
‘سوچا کہ ہماری شادی بہت جلدی میں ہو گئی اور ولیمہ بھی فلحال نہیں ہو رہا تو ہم کسی اور طریقے سے اسے بہتر کرتے ہیں۔تم اسے پہن کے تیار ہو جاؤ ہم باہر کھانے پر چلتے ہیں۔’
عثمان نے اسے کہا تو حمنہ نے وہ باکس اٹھا کر نیچے پھینک دیا۔
‘نہ تو مجھے تمہارے ساتھ کہیں جانا ہے اور نہ ہی تمہاری دی ہوئی ڈریس پہننے میں کوئی دلچسپی ہے۔’
جبکہ حمنہ کی اس حرکت پہ عثمان کا پارہ ہائی ہو گیا ۔اس نے حمنہ کو سختی سے بازؤں سے پکڑ کے کھڑا کیا اور غصے سے اس کی طرف دیکھنے لگا۔
‘کل رات سے میں تمہیں برداشت کر رہا ہوں، اب بس ۔میں نے تم سے کوئی رکویسٹ نہیں کی آرڈر دیا ہے۔
And my dear wife you should follow my commands.
حمنہ بھی اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے گھورنے لگی۔
‘تمہیں کیا لگتا ہے کہ اس طرح سختی کر کے اور اپنی طاقت کا رعب دکھا کر جو کہو گے وہ کروں گی تو غلط فہمی ہے یہ تمہاری۔
Because my dear husband I am not your slave.
حمنہ نے اتنا کہتے ہی سختی سے اپنے آپ کو چھڑوایا تھا۔جبکہ اسکی بات سن کے عثمان مسکرانے لگا۔
‘ٹھیک ہے پھر اگر تمہیں اپنی مرضی کرنی ہے تو کرو ۔لیکن یہ یاد رکھنا کہ اگر تم اس ڈریس میں تیار ہو کے میرے ساتھ نہیں گئی تو آج اس گھر کا ہر نوکر بھوکا سوئے گا۔اب مرضی تمہاری ہے۔’
اتنا کہنے کے بعد عثمان وہاں سے مسکراتے ہوئے چلا گیا۔حمنہ نے غصے سے اس باکس کو اٹھا کر بیڈ پر پھینکا کیونکہ وہ بھی جانتی تھی کہ عثمان آج کی جنگ میں فتح حاصل کر کے گیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہیں۔۔۔۔۔۔۔نہیں کچھ نہیں ہو سکتا اسکی جانان کو وہ اسے کچھ بھی ہونے نہیں دے گا۔دراب جانان کو خود میں بھینچ رہا تھا جیسے اسے اپنے اندر چھپا لے گا۔سعد جلدی سے دراب کے پاس آیا اور اسے زور سے ہلانے لگا۔
‘دراب چلو ہمیں یہاں سے جانان کو لے کر جانا ہے، جلد ہی سیکیورٹی آ جائے گی یہاں ۔’
سعد دراب کو زور سے ہلاتے ہوئے بول رہا تھا لیکن دراب کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔
‘ وہ زندہ ہے دراب ہمیں اسے ڈاکٹر کے پاس لے جانا ہو گا اٹھو پلیز۔’
سعد کی بات پر دراب نے جانان کو دیکھا اور جلدی سے اسے باہوں میں اٹھا کر باہر کی طرف بھاگنے لگا۔وجدان ان کو اس حالت میں آتا دیکھ کر حیران ہوا پھر فوراً گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی سٹارٹ کر دی۔
دراب نے جلدی سے جانان کو پچھلی سیٹ پر اپنی گود میں سر رکھ کر لیٹا لیا اور سعد کے فرنٹ سیٹ پر بیٹھتے ہی وجدان نے گاڑی چلا دی۔
‘ہمیں اسے ڈاکٹر کے پاس لے جانا ہو گا۔’
سعد نے وجدان سے کہا ۔وجدان نے جلدی سے اپنی پاکٹ سے ایک موبائیل نکالا اور سعد کے ہاتھ میں دیا ۔
‘اس میں ڈاکٹر فہد صدیق کا نمبر ہے انہیں کال کر کے ساری سچویشن بتاؤ میں وہیں جا رہا ہوں اور دراب اس کے زخم پر کچھ رکھ کر خون کو بہنے سے روکو۔’
وجدان نے جیسا کہا تھا سعد اسی پر عمل کرنے لگا۔دراب نے جانان کے گلے سے اسکا دوپٹہ کھینچا اور اسے زور سے زخم پر رکھ دیا۔دراب اس سب کے بارے میں بہت اچھے سے جانتا تھا لیکن ابھی اسکا دماغ ماؤف ہو گیا تھا۔
ٹھیک دس منٹ بعد وجدان ایک پرائویٹ ہاسپٹل کے سامنے تھا جس کے گارڈ نے گاڑی کو دیکھتے ہی جلدی سے دروازہ کھولا۔گاڑی کے رکتے ہی دراب نے جانان کو اپنے بازؤں میں اٹھایا اور اندر کی طرف بھاگنے لگا۔وجدان اور سعد بھی اسکے ساتھ تھے۔
دراب کے ہال میں داخل ہوتے ہی ڈاکٹر فہد اس کے پاس آئے اور جانان کو سٹریچر پر لٹانے کا بولا۔دراب نے جلدی سے جانان کو سٹریچر پر لیٹا دیا تو ڈاکٹر فہد کا سٹاف فوراً اسے آپریشن کے لیئے لے گئے۔
دراب اپنے چہرے کو ہاتھوں میں تھامتے ہوئے بینچ پر بیٹھ گیا اور بری طرح سے رونے لگا۔سعد مسلسل اسے حوصلہ دینے کی کوشش کر رہا تھا لیکن آنکھیں اس کی بھی نم ہو گئیں۔
‘سعد اگر اسے کچھ ہوا تو مر جاؤں گا میں نہیں رہ سکتا اس دنیا میں جہاں جانان نہ ہو۔’
‘کچھ نہیں ہو گا اسے دراب تم بس اللہ سے دعا کرو۔’
جبکہ وجدان دراب کو بہت حیرت سے دیکھ رہا تھا کیونکہ اس کے مطابق دراب بلکل اس کے جیسا تھا ۔جذبات اور کمزوریوں سے دور رہنے والا۔لیکن وجدان عشق کی طاقت کو نہیں سمجھتا تھا۔
جانان کا آپریشن تقریباً دو گھنٹے تک چلتا رہا تھا اور یہ وقت دراب کے لیئے کسی قیامت سے کم نہیں تھا۔وہ مسلسل اپنے رب کے حضور دعائیں کرتا رہا۔
آخر کار ڈاکٹر فہد آپریشن تھیٹر سے باہر آئے تو دراب فوراً کھڑے ہو کر انہیں دیکھنے لگا۔
‘انکا بہت زیادہ خون بہہ گیا تھا اسے تو میں نے ہینڈل کر لیا لیکن ڈر اور خوف کی وجہ سے انکا نروس بریک ڈاؤن ہوا ہے ۔جس کی وجہ سے انہیں ہوش نہیں آرہا۔اگر جلد انہیں ہوش نہیں آیا تو وہ کوما میں جا سکتی ہیں۔دعا کریں کہ انہیں ہوش آ جائے۔’
ڈاکٹر فہد کی باتیں دراب کے اعصاب پر ہتھوڑے کی طرح برس رہی تھیں۔وہ بس اتنا جانتا تھا کہ اگر جانان کو کچھ ہو گیا تو دراب خود کو ختم کر دے گا یا دارا اس دنیا کو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شان جلد از جلد اسلام آباد سے نکلنا چاہتا تھا دارا اسے دیکھ چکا تھا اور یہ بات اس کے حق میں بہت بری ثابت ہو گی ۔ایک ڈاکٹر کو گن پوائنٹ پر رکھ کے اس نے خود کی پٹی کروائی تھی۔لیکن اس کے کندھے میں زخم گہرہ تھا اسے باقاعدہ علاج کی ضرورت تھی۔لیکن ابھی سب سے زیادہ ضروری اس کے لیئے یہاں سے نکلنا تھا۔
جس بس میں وہ سفر کر رہا تھا وہ ایک جھٹکے سے رکی تھی۔ ایک آدمی چہرے کو نقاب سے ڈھانپے اور ہاتھ میں بندوق لیئے بس میں داخل ہوا تھا۔اس نے سب مصافروں پر نظر دوڑائی جو بہت ڈر چکے تھے۔لیکن اس پر نظر رکتے ہی سیدھا اس کی طرف آیا اور اسے گریبان سے پکڑ کر باہر لے جانے لگا۔
کسی نے بھی اسے روکنے کی کوشش نہیں کی تھی۔اس نے اپنی بنوق نکالنا چاہی جسے اس نقاب پوش نے ناکام کر دیا اور اسے بنوق چھین کر اسے بند گاڑی میں ڈالنے لگا۔اب خوف سے اس کے ہاتھ پاؤں پھول رہے تھے۔جبکہ مخالف نے اسکے خوف کو حقارت سے دیکھا تھا۔
‘فکر مت کر دارا کا شکار ہے تو اتنی آسان موت نہیں ملے گی تجھے۔’
اتنا کہہ کر اس نے ایک رومال اس کے منہ پر رکھ کے اسے بے ہوش کر دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حمنہ بہت لگن سے تیار ہوئی تھی ۔وہ جان بوجھ کر بہت زیادہ خوبصورت لگنا چاہتی تھی تا کہ عثمان کو اپنی اہمیت دکھا سکے۔
وہ سیڑھیاں اتر کر نیچے آنے لگی تو لاؤنج میں کھڑے عثمان نے اس پر ایک نظر ڈالی اور پھر ہٹانا ہی بھول گیا۔
عثمان کے دیے ہوئے لائیٹ پنک کلر کے فراک میں ہلکے میک اپ کے ساتھ بالوں کو کھلا چھوڑے وہ نظر لگ جانے کی حد تک خوبصورت لگ رہی تھی۔عثمان کا دل اسے پانے کے لیئے اور ذیادہ مچلنے لگا تھا۔
‘چلیں؟’
عثمان کے قریب کھڑی وہ ایک ادا سے بولی تو عثمان نے نہیں میں سر ہلایا۔
‘کوئ چادر لو تم عثمان ملک کی ملکیت ہو اور تمہیں اس طرح سے دیکھنے کا اختیار صرف میرا ہے۔’
جبکہ حمنہ کو اس کی بات بری نہیں لگی تھی کیونکہ وہ خود بھی بے پردگی کو پسند نہیں کرتی تھی اس لیئے جلدی سے چادر اوڑھ کے آئی اور عثمان کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئی۔
عثمان خاموشی سے گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا اور حمنہ لاہور کی رونک دیکھنے میں مصروف تھی۔اس نے ایک نظر عثمان کو دیکھا جو پینٹ کوٹ میں بہت ذیادہ خوبصورت لگ رہا تھا۔حمنہ کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ عثمان اس طرح سے جانان سے کیوں شادی کرنا چاہتا تھا۔ہالانکہ کوئی بھی لڑکی اسکی خوبصورتی اور دولت پر فدا ہو سکتی تھی۔کہیں وہ جانان سے محبت۔۔۔حمنہ نے اس خیال کو اپنے دماغ سے جھٹک دیا تھا۔آخر کار وہ ریسٹورنٹ پہنچ گئے جہاں عثمان نے ان کے لیئے پرائیویٹ روم بک کروایا تھا۔
‘میں نے تمہارے لئے یہ ڈریس سیلکٹ کی تھی تو سوچا تھا کہ تم پر اچھی لگے گی لیکن یہ نہیں سوچا تھا کہ اتنی زیادہ اچھی لگے گی۔’
عثمان نے اس کو شرارت سے کہا تو حمنہ گالوں پر آنے والی سرخی کو روکتے ہوئے اسے گھورنے لگی۔
‘بھئ بیوی کی۔ تعریف تو بنتی ہے نا۔’
‘کوئی ضرورت نہیں اسے پہننا میری مجبوری سے زیادہ کچھ نہیں۔’
حمنہ منہ پھیرتے ہوئے بولی تو عثمان نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔جسے حمنہ گھورنے لگی۔
‘حمنہ ہم میاں بیوی ہیں زندگی بھر کا ساتھ ہے ہمارا ۔ایک دوسرے سے دوری اور نفرت سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ہمیشہ ایسے ہی تو نہیں رہ سکتے۔’
حمنہ نے ان کے ہاتھ سے نظریں ہٹا کر عثمان کو دیکھا۔
‘کیا واقعی ایسا چاہتے ہیں آپ ؟’
‘بلکل’
عثمان نے نرمی سے جواب دیا۔
‘تو ٹھیک ہے جو میں چاہتی ہوں آپ وہ کر دیں اور میں ہمارے رشتے کو اس کا اصلی مقام دوں گی۔بولیں کر سکتے ہیں میری ڈیمانڈ پوری؟’
حمنہ نے اسے چیلنج کیا تو عثمان سیدھا ہو کے اسے دیکھنے لگا۔
‘بولو کیا چاہئے تمہیں جو چاہو گی عثمان ملک اسے دنیا سے چھین کر تمہارے قدموں میں رکھ دے گا۔’
جبکہ حمنہ دلکشی سے مسکراتے ہوئے بولی۔
‘آپ الیکشن پر نہ صرف کھڑے ہوں گے بلکہ آپ جیتں گے بھی۔’
‘میں نے تمہارے باپ کو زبان دی ہے’
‘وہ میرا مسئلہ نہیں ۔ آپ بس اتنا جان لیں کہ جس دن آپ الیکشن میں جیت گئے اسی دن میں ہمارے رشتے کے سب تقاضے پورے کروں گی۔’
حمنہ نے اسے کہا تو وہ دلکشی سے مسکراتے ہوئے کہا۔عثمان کا چہرہ دیکھ کر وہ اندازہ لگا سکتی تھی کہ اب اس کے باپ کو الیکشن میں ہارنے سے کوئی بھی روک نہیں سکتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دراب جانان کا ہاتھ پکڑے اس کے پاس بیٹھا اسے دیکھ رہا تھا۔وہ ہمیشہ اس کے ذیادہ بولنے کی وجہ سے اسے ڈانٹتا تھا لیکن اب جانان کا خاموش ہو جانا اس سے برداشت نہیں ہو رہا تھا۔
‘کیوں کیا تم نے ایسا ؟میری زندگی کے لیئے اپنے آپ کو خطرے میں کیسے ڈال سکتی ہو تم؟میری زندگی میں صرف ایک ہی بات اچھی ہے اور وہ تم ہو ۔اسے ہی مٹا کر تمہیں کیسے لگتا ہے کہ میں جی لوں گا ،پاگل لڑکی۔’
دراب کے دل کو یہ بات چیر رہی تھی کہ ایک انتہائی معصوم فرشتہ صفت انسان نے اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال کر دارا جیسے جانور کو بچایا تھا جسے دراب کے مطابق جینے کا حق نہیں۔
‘پلیز ٹھیک ہو جاؤ پھر تم بھی مجھے بہت زیادہ ڈانٹنا ،بلکل میری طرح ۔بس پلیز اٹھ جاو جانان ۔’
دراب کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر جانان کے ہاتھ پر گرے۔
‘بہت لڑا ہوں میں اپنے جذبات سے ،اپنے آپ سے ۔مجھے یہی لگا تھا کہ تم سے دوری ہی ہم دونوں کے لیئے بہتر ہو گی۔ لیکن تمہیں کھو نہیں سکتا ۔کوئی بھی سزا دے دینا یار لیکن ابھی ٹھیک ہو جاؤ پھر کبھی بھی تمہیں دور نہیں جانے دوں گا۔اپنا بنا لوں گا تمہیں اور سب سے دور لے جاؤں گا بہت دور۔’
دراب اسکا ہاتھ اپنے لبوں کے ساتھ لگائے اپنی محبت کا اظہار کر رہا تھا۔اس کے ہاتھ کے ساتھ اپنا ماتھا لگا کر وہ وہیں بیٹھا رہا۔
وجدان ابھی بھی دراب کو باہر کھڑا حیرت سے دیکھ رہا تھا۔دراب تو بلکل اس کے جیسا تھا ایک سخت چٹان کی طرح جسے کوئی بھی توڑ نہیں سکتا۔لیکن ایک چھوٹی سی لڑکی اس چٹان کو بری طرح سے بکھیر چکی تھی۔وجدان کو اس سے چڑ ہو رہی تھی جس نے اس کے بھائی کو کمزور بنا دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
