Raah E Zest Ho Tum By Yumna Writes Readelle 50365 Raah E Zest Ho Tum (Episode 9)
Rate this Novel
Raah E Zest Ho Tum (Episode 9)
Raah E Zest Ho Tum By Yumna Writes
نیند میں اُسے خود پر کچھ بوجھ محسوس ہوا ۔۔ہلکی نیند میں ڈوبی آنکھیں کھول کر دیکھا تو وہ پورا اُس پر پھیل کر سو رہی تھی ۔۔۔
کمرے میں مدھم سی روشنی تھی اُسکا خوب صورت چہرہ بلکل اسکے چہرے کے قریب تھا۔
اپنی ٹانگیں اُس پر پھیلائے مزے سے سوتے ہوے وہ اسکی نیند بری طرح خراب کر چکی تھی ۔۔۔۔۔اسکے اتنے قریب ہونے پر زاویار کی سانسیں تھم رہی تھی یہ لڑکی مسلسل اُسکا ضبط آزما رہی تھی ۔۔۔۔
اُسکے معصوم چہرے کو دیکھتا وہ دوبارہ نیند میں چلے گيا۔۔۔
اسکی آنکھ فجر کی اذان پر کھلی۔۔۔ابرش اُٹھ جائیں نماز ادا کرلیں اسکو ہلاتے خود
اُٹھ کر وضوء کرنے چلے گیا ۔۔۔آ کر دیکھا تو وہ ابھی بھی ویسے ہی سو رہی تھی ۔۔۔۔
ابر نماز کا وقت چلا جائیگا ۔۔۔اسنے مندی آنکھوں سے اُسے دیکھا زاوی مجھے نیند آئی ہے مجھے نہیں اٹھنا ابھی کہتی وہ پھر سے سو گئی
ابرش پھر سو جائیے گا نماز پڑھ لیں پہلے جلدی کریں وہ سختی سے بولتا جائے نماز پھیلانے لگا ابرش منہ بناتی اٹھ بیٹھی ،،،اُسے منھ بناتے دیکھ
زاویار چلتا ہوا اسکے قریب بیٹھا اور اُسکی جانب دیکھ گویا ہوا آپ جانتی ہیں نماز ہمیں اللہ کے قریب کرتی ہے اسلام میں نماز کا حکم بار بار آیا ہے اور نماز چھوڑنے کا تو جنگ میں بھی حکم نہی اللہ پاک فرماتا ہے
اے ایمان والو نماز قائم کرو
قرآن پاک میں نماز قائم کرنے کا ذکر بار بار آیا ہے
اور ایک مسلمان اور کافر میں جو فرق ہے وہ نماز کا ہی ہے اٹھ جائیے اب میرا بچہ جلدی سے وضو کرکے آئیں،،محبت بھرے لہجے میں وہ اُسکا دوبٹہ شانوں پر پھیلاتا بولا ابرش سر ہلاتی
اُٹھ کر وضوء کے لیے چلی گئی ۔۔۔۔نماز کے بعد زاویار قرآن پاک کی تلاوت کر رہا تھا وہ بھی آہستگی سے آ کر اُسکے پاس بیٹھی میں بھی آپکے ساتھ پڑھوں؟؟
ضرور یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے زاویار سرشار سا بولا
آپ نے تو ترجمہ کے ساتھ پڑھا ہوا ہے آپ پڑھیں کسی آیت کا ترجمہ یاں کوئی لفظ کا ترجمہ بتائیں ابرش نے زاویار کو دیکھتے کہا
زاویار نے پڑھنا شروع کیا
” اقرا ” چارحروف کا ایک لفظ ہے،اور یہ وہ پہلا لفظ ہے جو اللّٰہ ﷻ نے انسان کو سیکھایا ،اور یہ چار لفظ چار باتوں کی نشان دہی کرتے ہیں:-
الف …. اللّٰہﷻ
ق………. قران مجید
ر ……… رَسول ( ﷺ)
الف…….. انسان
یہ آخری ” الف ” ہمیشہ پہلے ” الف ” کی جُستجو میں رہتا ہے اور یہ اُسے تب تک نہیں پاسکتا جب تک قران پاک کی تعلیمات جو کہ حضور ﷺ کا عملی طرز زندگی ہے جس کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی ، اُسے دل سے تسلیم نہیں کر لیتا ، ان سے محبت نہیں کرتا،اُن پر عمل نہیں کرتا۔
پھر دونوں نے قرآن پاک کی تلاوت کی ۔۔۔۔ابرش تو دوبارہ سونے چلی گئی جبکے زاویار اپنے کام میں مصروف ہو گیا
ابرش اُٹھ جائیں آٹھ بجنے والے ہیں وہ فریش سا تیار اپنے پولیس یونیفارم میں اسکو تیسری دفعہ اٹھا رہا تھا ۔۔۔ابر بیڈ کے پاس آتے پیار سے اسکے بال چہرے سے ہٹائے ۔۔۔ابر میری جان اُٹھ جائیں اُس پر جھک کر وہ بولا ۔۔۔ابر اسنے محبت سے اپنا ہاتھ اسکے چہرے پر پھیرا ۔۔۔۔ہوں آہ وہ ھربرا کر اٹھی…
ریلیکس یار میں ہوں وہ فریش سا اسکے سامنے تھا ابرش نے اُسے دیکھ کر ایک نظر وقت پر ڈالی ۔۔۔مجھے اتنی جلدی کیوں اٹھایا اسنے وقت دیکھتے منہ بنایا۔۔۔مجھے ڈیوٹی پر جانا ہے اور آپکو بھی نوٹس کمپلیٹ کرنے ہیں اُٹھ جائے پھر سو جائیے گا نو بجنے والے ہیں اٹھے شاباش فریش ہو کر آئے بریک فاسٹ ریڈی کرتا ہوں کہتے ہی وہ باہر نکل گیا ۔۔۔
کچھ دیر بعد وہ پیچ کلر کی فل سلیویز کے ٹاپ اور وائٹ لونگ سکرٹ میں حسبِ معمول سٹالر گلے میں ڈالے وہ کچن میں داخل ہوئی جہاں وہ بڑی مہارت سے ناشتہ بنانے میں مصروف تھا ۔۔۔۔میں کچھ ہیلپ کروں۔۔
نہی آپ بس بیٹھ جائیں اور مجھ سے باتیں کریں۔۔۔۔چائے رکھتے ہوئے اسنے ابرش کی طرف دیکھ کر کہا….ابرش اُسے ہی دیکھ رہی تھی جو اب انڈا فرائی پین میں ڈال رہا تھا ۔۔
آپ چلے جائیں گے تو میں اکیلی کیسے رہونگی اسنے پریشانی سے استفسار کیا ۔۔۔۔۔میں جلدی ہی آ جاؤں گا تھوڑی دیر میں میڈ آ جائیگی آپ اپنا یونی ورک کر لینا ۔۔۔تب تک میں بھی آ جاؤنگا ۔
اسنے بس سر ہلایا ۔۔۔چلیں آ جائیں ناشتہ کرتے ہیں۔۔۔ناشتہ کرنے کے بعد ابرش نے بھی اسکے ساتھ جا کر برتن کچن میں رکھے ۔۔۔یہاں آئیں ابرش ذاویار نے اُسکا ہاتھ تھام کر اُسے چیئر پر بٹھایا ۔۔۔میرے پیچھے سے اپنا بہت خیال رکھنا ہے ڈور اوپن نہی کرنا آپنے چاہے کوئی بھی آ جائے صرف میڈ کے لیے ڈور اوپن کرنا ہے وہ جب آئیگی آپکو کال کرونگا پھر ڈور اوپن کرنا اوک میرا بچہ اسکے ماتھے پر لب رکھتا وہ اُٹھ کھڑا ہوا میں لوک لگا کر جا رہا ہوں اللہ حافظ میری زندگی۔۔۔۔
کہتے وہ چلا گیا ابرش اتنی دیر اسکی خوبصورت آواز کے حصار میں رہی ۔۔۔پھر اُٹھ کر موبائل پکڑ کر نوٹس چیک کرنے لگی
میڈ آ کر کام کرکے جا چکی تھی زاویار کے کہنے پر ہی اسنے دروازہ کھولا ۔۔۔۔نوٹس کمپلیٹ کرتے ہوئے اُسے پتہ ہی نہیں چلا وہ کب نیند میں چلی گئی ۔۔۔فون کی آواز سے اسکی آنکھ کھلی ۔۔۔سکرین پر جگمگاتا اُسکا نمبر دیکھا اور کال یس کرلی۔۔۔۔
ابرش آپ ٹھیک ہیں کہاں ہیں کب سے کال کر رہا ہوں اسنے پریشانی سے پوچھا ۔۔۔
میں بلکل ٹھیک ہوں بس پڑھتے ہوے نیند آ گئی اسلئے پتہ نہیں چلا اسنے آرام سے جواب دیا ۔۔۔اچھا کیا کھایا آپ نے میڈ کچھ بنا کر گئی اسنے پوچھا ۔۔۔جی لنچ لیا ہے مینے میڈ بنا کر گئی تھیں ۔۔۔اچھا چلئیں ٹھیک ہے میں بس تھوڑی دیر میں آتا ہوں اپنا خیال رکھیے گا ۔۔آپکو کچھ چاہیے ؟؟کچھ منگوانا ہے اسنے پوچھا ۔۔۔۔نہی کچھ نہی بس آپ آ جائیں ۔۔۔اوک جی میں آتا ہوں اللہ حافظ کہتے زاويار نے فون رکھا ۔۔۔
