Raah E Zest Ho Tum By Yumna Writes Readelle 50365 Raah E Zest Ho Tum (Episode 15)
Rate this Novel
Raah E Zest Ho Tum (Episode 15)
Raah E Zest Ho Tum By Yumna Writes
صبح اٹھتے ہی زاویار کام پر جانے کے لیے تیار ہو گیا اور ابرش کا انتظار کرنے لگا ۔۔۔۔ابرش آ بھی جائیں میں جانے لگا ہوں ابرش رضیہ کے نہ آنے کی وجہ سے برتن دھو رہی تھی زاویار نے بارہا منع کیا کے وہ خود کر لے گا لیکن اسکے منع کرنے کے باوجود وہ اپنی مرضی کرتے کچن میں موجود تھی
اُسکی آواز پر جلدی سے ہاتھ صاف کرتی باہر نکلی ۔۔۔۔جی بس آ گئی
ابر ڈور لوک کریں کوئی بھی آئے ڈور اوپن نہی کرنا جب تک میں نہی آ جاتا وہ پولیس یونیفارم میں پسٹل گن ہولڈر میں ڈالتا اُسے ہدایت دیتا جانے کے لیے تیار تھا سمجھ آ گئی نہ آپکو ۔۔۔
کچھ بھی مسئلہ ہوا تو مجھے کال کر لینا
جی جی سب کچھ سمجھ گئی اب آپ آرام سے جائیں ۔مجھے یہ سب باتیں حفظ ہو چکی ہیں ۔۔۔
وہ مسکراتے ہوے نفی میں سر ہلاتے پولیس اسٹیشن نکل گیا ۔۔۔
ابرش کچن سمیٹ کر روم میں گئی ۔۔۔۔کمفرٹر تہہ کرتے ہوئے اُسے شور کی آواز سنائی دی لیکن اسنے اتنا دھیان نہ دیا ۔۔۔۔۔۔دروازہ زور زور سے بجنے کی آواز آئی وہ جلدی سے باہر مین ڈور کے پاس آئی خاموشی سے کی ہول سے دیکھا تو سامنے عجیب سے دو ہٹے کٹے آدمی کھڑے تھے اور ساتھ ایک آدمی ہاتھ میں گن لیے انہیں کچھ حکم دے رہا تھا۔۔۔ابرش کے تو حواس سلب ہونے لگے انہیں دیکھ کر ۔۔۔
زاویار کو گئے کافی وقت ہو چکا تھا۔۔۔وہ جلدی سے روم میں گئی کپکپاتے ہاتھوں سے زاویار کو کال کی جو فوراً اٹھائے گئی ۔۔۔۔زاوی اسنے روتے ہوئے اُسکا نام لیا
زاوی جلدی گھر آئیں مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے اسنے کپكپاتے لہجے میں مشکل سے لفظ ادا کیے
کیا ہوا ہے ابرش ایسے کیوں رو رہی ہیں میں بس آ رہا ہوں آپ مجھے بتائے ہوا کیا ہے۔۔۔
وہ باہر عجیب سے آدمی ہاتھ میں گن لیے کھڑے ہیں اور دروازہ کھولنے کی کوشش کر رہے ہیں پلیز جلدی آئیں اس نے روتے ہوئے کہا
ابر میں بس پہنچ رہا ہوں آپ نے ڈور نہیں کھولنا روم کا ڈور بھی بند کریں جب تک میں نہ آ جاؤں کہتا وہ تیزی سے نکلا اور گاڑی میں بیٹھا۔۔۔
اے ایس پی جلدی دروازہ کھول آج تیری اور تیری بیوی کی لاش ادر ہی بچهے گی تیری ہمت کیسے ہوئی جگو دادا پر ہاتھ ڈالنے کی ۔۔۔۔
توڑ دو دروازہ لگتا گھر نہی وہ ایس پی ۔۔۔ویسے بھی اُسکی بیوی کو اٹھانہ ہے اُنکے سربراہ نے اپنے آدمیوں کو حکم دیا وہ دروازہ توڑنے لگے ۔۔۔
ابرش ڈر کے مارے بیڈ پر بیٹھی قرآنی آیات کا ورد کر رہی تھی
گاڑی اس وقت ہوا سے باتین کر رہی تھی زاویار کی اس وقت جان پر بنی ہوئی تھی اور دماغ کی رگیں غصے سے پھولی ہوئی تھی وہ تیزی سے گھر تک پہنچا دور سے ہی گھر کے پاس ایک گاڑی کھڑی نظر آئی جلدی سے باہر نکلا تو دو آدمی دروازہ توڑنے کی کوشش کر رہے تھے جب کے ایک کھڑا اُنکو حکم دے رہا تھا ۔۔۔
گن نکالتے ایک آدمی کی ٹانگ پر گولی ماری دوسرا اُسے دیکھتے ہی بھاگ گیا ۔۔۔
انکا سربراہ بھی گاڑی بگا دوڑا جبکے زاویار کو جلدی میں نکلتے دیکھ پولیس کی گاڑی اُسکے پیچھے نکلی
ایس ایچ او نے زحمی آدمی کو گریبان سے پکڑا اور گاڑی میں بٹھایا ۔۔۔سر آپ فکر نہ کریں میں اس سے ساری معلومات نکلواتا ہوں کہتا وہ اُسے لیے نکلا ۔۔۔
دروازہ کھول کر وہ اندر داخل ہوا روم کا ڈور بھی بند تھا ۔۔۔ابر دروازہ کھولیں میں ہوں زاویار
زاوی ابرش اُسکا نام سنتے ہی جلدی سے دروازہ کھولا اور اُسکے سینے سے لگ گئی
آپ ٹھیک ہیں ابر اسنے روتی ہوئی ابرش کے آنسو صاف کیے کچھ نہی ہوا بس رونا نہی میری جان نے
زاوی آپ ٹھیک ہیں مارا تو نہی اُنہوں نے آپ کو ابرش نے اُسکے ساتھ لگتے پوچھا
کون تھے وہ لوگ؟؟
اگر وہ اندر آ جاتے تو وہ کہتی پھر سے رونے لگی
ابر آپکو لگتا ہے کے میرے ہوتے ہوئے کوئی آپکو کچھ کہ سکتا ہے اور میں بلکل ٹھیک ہوں
آپکو کچھ نہی ہوگا میں ہمیشہ آپکی حفاظت کے لیے آپکے ساتھ ہوں ۔۔۔
اُن لوگوں کی دشمنی مجھ سے تھی اسی لیے گھر مجھے خوف زدہ کرنے کے لیے آئے تاکے میں اُنکے خلاف کوئی ایکشن نہیں لوں ۔۔۔۔۔بس تھوڑی دیر میں سب حوالات میں چکی پیئسیں گے ۔۔۔
مجھے پھر بھی ڈر لگ رہا ہے زاوی ہم اپنے گھر چلتے ہیں واپس مجھے یہاں نہی رہنا چلیں بس گھر ابھی وہ کہتی الماری کی جانب گئی
ابرش کیا ہو گیا ہے یار کچھ نہی ہوا زاویار اُسے بازوں سے تھامتا بیڈ پر واپس بیٹھا چکا تھا
آپ یہ جوب نہی کریں گے اب ،،
اگر آج آپکو کچھ ہو جاتا یاں پھر آپ وقت پر نہ آتے اور وہ لوگ مجھے ساتھ لے جاتے تب کیا کرتے آپ؟؟
ابرش میں ہوں نہ آپکے ساتھ اور جوب کیوں چھوڑوں میں کسی کے ڈر سے گھر بیٹھ جاؤں بزدلوں کی طرح تاکہ وہ کھلے عام جرم کر سکیں یہ جوب میرا جنون ہے آپ پریشان نہی ہوں
انشا اللہ ایک دو دن میں واپسی کریں گے بس ایک دفعہ انکا انتظام ہو جائے کہتا اُسکا ماتھا چوما آپ بیٹھیں میں پانی لے کر آتا ہوں زاویار اُسے بیٹھاتا خود باہر نکلا
ہاں سلیم کیا صورت حال ہے زاویار نے ایس ایچ او سے پوچھا
سر ثبوت تو ہمارے پاس پہلے ہی بہت تھے اسی لیے تو اسنے آپ کی فیملی کو ڈرانے کے لیے حملہ کیا اور اب تو اُسکا بندہ بھی ہماری خراست میں ہے
اسنے سب کچھ اُگل دیا ہے ۔۔۔۔بیان لے لیا گیا ہے اور ریکارڈنگ بھی کرلی ہے بس اب اس کو جیل جانے سے کوئی نہی بچا سکتا ۔۔۔۔
ویسے بھی وہ اپنے بیان میں صاف بتا چکا ہےکہ وہ اپنے صاحب کے کہنے پر آپکی وائف کو اٹھانے آئے تھے،،
اب اُسے خوالات میں جانے سے کوئی نہیں روک سکتا
بہت اچھے اب فوراً اُسکی خویلی جاؤ وہ وہاں ہی موجود ہوگا
اس کو آج ہی پکڑ کر لاؤ اور اُسکی خوب خاطر داری کرو کانسٹیبل کو بولو کے میرے آنے تک پانی تک نہی دینا اُسے
ابھی تو مشکل ہے میں صبح آؤنگا پولیس اسٹیشن
___________________
ابرش کی ماں کا ایکیسڈنٹ نہیں بلکہ قتل کیا گیا تھا
اُن کی گاڑی پر جان بوجھ کر حملہ کروایا گیا تھا
ذیشان نامی ایک بگڑے امیر زادے کو ایشا (ابرش کی ماں) یونی ورسٹی میں پسند آ گئی
اور اس نے اُن سے شادی کی خواہش کی لیکن انہو نے صاف انکار کے دیا
کیوں کے وہ صفدر ملک کو پسند کرتی تھی
اور جلد ہی صفدر ملک سے اُنکی شادی ہو گئی ،،،
وہ اُنھیں خوش دیکھتا بدلے کی آگ میں جلتا رہا لیکن کچھ کر نہ سکا
وقت گزرتا گیا ،،ایک دِن اُس نے صفدر ملک کو ایشا کے ساتھ ایک مال میں دیکھا
اور بدلے کی آگ میں ایک بار پھر سے جلنے لگا
تب اُسنے اُنھیں ختم کرنے کا پلین بنایا لیکن ناکام رہا ،،،
وہ تو اُن سب کو ختم کر دینا چاہتا تھا لیکن خدا کو کچھ اور ہی منظور تھا
ذیشان جانتا تھا کہ شک سب سے پہلے اُس پر جانا ہے ،،،اسلیے وہ اپنی فیملی کے ساتھ ملک چھوڑ باہر فرارا ہو گیا
معاملہ ٹھنڈا ہونے پر کافی عرصے بعد وہ واپس پاکستان لوٹ آیا اور مختلف قسم کے غلط کاموں میں ملوث ہو گیا
زاویار تو ویسے ہی کب سے اُسکے حلاف ثبوت اکٹھے کر رہا تھا ،،،لیکن جب اُسے اُسکے منشیات کی سپلائی کا پتہ لگا
جو وہ جوان لڑکوں میں بہت زیادہ پھیلا رہا تھا محتلف ذرائع سے تو اس بات کی تصدیق ہوتے ہی کے ان سب کا سرغنہ ذیشان سیٹھ ہے اُسے پکڑنے کے لیے جان بوجھ کر ابرش کو لیے اس چھوٹے سے فلیٹ میں آیا،،اور صفدر ملک کو بھی اُس نے عمرے پر بیجھا تاکے وہ پیچھے سے اُنھیں نقصان پہنچانے کی کوشش نہ کر سکے
جب ذیشان کو پتہ چلا کہ پولیس اُسکے پیچھے ہے تو گاؤں میں آ کر چھپ بیٹھا کے گاؤں میں اُسے کون ڈھونڈھے گا
اور اب جب اُسکے خلاف زاویار نے ایکشن لیا تو اُسے ڈرانے کے لیے اُسکے گھر تک پہنچا ،،،گنڈے اُسکے فلیٹ میں بیجھے تاکہ وہ اُس سے ڈر جائے ،،لیکن شاید وہ یہ بھول گیا کے یہاں صفدر ملک نہیں جو اُسے چھوڑ دیں گے،،اُسنے زاویار کو بہت ہلکے میں لیا ،،،
اصل ڈر تو اُسے تب لگا جب اُسکی فیکٹریوں میں پولیس کی ریٹ ڈلی ،،اور اسی وجہ سے اُسنے ابرش کو کڈنیپ کرنے کا پروگرام بنایا لیکن اُس میں بھی اُسے بری طرح منھ کی کھانی پڑی ۔
___________________
زاویار روم میں آیا تو ابر بیڈ کی سائڈ پر گنٹنوں میں منہ دیے بیٹھی تھی
ابر پانی پی لیں میری جان میں پاس ہوں بھول جائیں سب کچھ نہی ہوا اُسکا چہرہ ہاتھوں میں لئے زاوی نے پیار سے سمجھایا ۔
مجھے گھر جانا ہے زاوی اُس نے ہولے سے لب ہلائے
زاویار تو اب سہی معنی میں پریشان ہوا تھا اگر وہ نہ مانی تو اُسے واپس جانا پرنا تھا اور وہ واپس نہی جا سکتا تھا اسی لیے اُسے ساتھ لگائے سمجھایا
یہاں دیکھیں میری طرف آپ کیا چاہتی ہیں کے اپنے کیس کے اتنے قریب جا کر جب دشمن میری پکڑ میں آ گیا ہے تو میں ڈر کے واپس بھاگ جاوں ،،،
آپ جانتی ہیں اُس ایک شخص کی وجہ سے ہزاروں جوان بری طرح نشے کے عادی ہو چکے ہیں ،،،ہماری نوجوان نسل کو وہ برباد کر رہا ہے،،اور میں کچھ نہ کروں ڈر کر واپس گھر بھاگ جاؤں ،،،
آپ کو تو اس وقت میں میرا ساتھ دینا چاہیے تاکہ میں اس جیسے مجرم کو پھانسی کے تختے تک پہنچا سکوں،،،اس طرح کے غلیظ لوگو کو جینے کا کوئی حق نہیں۔۔۔آپ تو میری ہمت ہیں،،میری طاقت ہیں ۔۔اس وقت میں مجھے آپ کی سب سے زیادہ ضرورت ہے
آپ دیں گی نہ میرا ساتھ
ابرش نے اُسکی بات سنتے سر ہلایا اور زاویار کے سینے پر سر رکھ لیا ۔۔۔
کچھ ہی دیر میں اُسکی سانسو کی آواز اُسے سنای دی جو اس بات کی گواہی تھی کے وہ سو چکی ہے ۔۔۔
زاویار اُسے بانہوں میں بھرتا خود بھی لیٹ گیا ،،،
صبح سے وہ بہت زیادہ تھک چکا تھا کچھ آج کے واقع نے اُسے ڈرا دیا تھا ،،اُسے اپنی کوئی پرواہ نہیں تھی لیکن وہ ابرش کو کسی مصیبت میں نہیں ڈالنا چاہتا تھا ،،،جلد ہی سب سوچتے وہ نیند میں چلا گیا
صبح اٹھتے وہ ابرش کو اٹھائے بغیر خاموشی سے لوک لگاتے نکل گیا ،،رضیہ کو اُسنے آج آنے سے منع کر دیا
جلدی سے وہ پولیس اسٹیشن داخل ہوا
کیا صورت حال ہے ،، بولتے اُس نے چلتے جیل کی جانب قدم بڑھائے، ایک طرف زخمی خالت میں بیٹھے ذیشان کو دیکھا
ایس ایچ او سلیم نے اُسے رات ہوئی تمام واردات کی تفصیلات بتانا شروع کی ،،،
جانا تو وہ خود چاہتا تھا اُسے رنگے ہاتھوں گرفتار کرنے لیکن ابرش کو اکیلا چھوڑ کر جانے کا وہ رسک نہیں لے سکتا تھا ،،اور جانتا تھا کہ وہ رات کے اندھیرے میں ضرور پھر سے فرار ہونے کی کوشش کرے گا اسی لیے اُس نے اپنی ٹیم کو وہاں پہلے ہی بھیج دیا تھا۔
کوئی کسر تو نہیں چھوڑی مہمان نوازی میں صاحب کی ؟؟
سلیم نے خوالات کا تالا کھولتے جواب دیا
نہیں سر کل رات گھر سے فرار ہونے کی تیاریوں میں تھے سیٹھ صاحب ،،اگر ہماری ٹیم عین وقت پر نہ پہنچتی تو ابھی تک یہ ملک چھوڑ چکا ہوتا
ہممم۔۔۔تو پھر سیٹھ ذیشان آخر ہاتھ آ ہی گئے تم ،،،کرسی گھسیٹ کر ایک طرف کرتے اُس پر بیٹھتے زاوی لہجے میں نفرت لیے اُس سے مخاطب ہوا “
کون ہو تم ؟؟!!اور کیوں میرے پیچھے پڑے ہو ،،کیا بگاڑا ہے میں نے تمہارا،، دیکھو تم بس مجھے چھوڑ دو بدلے میں جو چاہو گے وہ ملے گا میرے پاس بہت پیسہ ہے منت کرتے وہ زخموں سے چور جسم سے کراہتے ہوے بولا،،
ہاہاہا ،،، یہ پوچھو کیا نہیں بگاڑا” تم نے اس بار بہت گھاٹےکا سودا کر لیا سیٹھ
اور مجھے جو چاہیے تھا وہ میرے سامنے بیٹھا ہے۔۔۔ زاویار آگے کو جھکتا اُسکی جانب دیکھتا سرخ آنکھوں سے بولا
یاد ہے نا تمہیں صفدر ملک اور اُنکی بیوی ایشا ملک جنہیں تم نے ایکسیڈینٹ میں مروا دیا ،،بدلہ لینے کی وجہ سے یہ جانے بغیر کے اُس میں صفدر ملک نہیں اُنکا چھوٹا بھائی بیٹھا تھا
اور جب پکڑے جانے کا خوف آری آیا تو ملک چھوڑ کر بھاگ گئے۔۔لیکن تم بھول گئے کہ تم زیادہ دیر نہی بچ سکو گے اپنے گناہوں سے ۔
ذاویار لہو چھلکاتی آنکھوں سے اُسے دیکھتے بولا،،
تین تین قتل کے الزام میں پھانسی تو تمہیں ہوگی ۔۔اسکے علاوہ تمہاری تمام پراپرٹی سیل کردی جائے گی جو تم نے حرام کے کاموں سے پیسہ کمایا ہے۔۔۔ تمہارے غلط کاموں کی وجہ سے تمہاری بیوی بچے بھی دربدر ہو جائیگے “
نہیں ،،،نہی میں پاؤں پڑتا ہوں تمہارے اس سب میں میری فیملی کا کوئی قصور نہیں وہ لوگ کچھ نہیں جانتے،،
خدا کے واسطے میری بیوی بچوں کو کچھ مت کہنا ،،میں عدالت میں اپنے تمام گناہ قبول کر لونگا لیکن اُنھیں کچھ نہ کہنا وہ زارو قطار روتا اسکے پاؤں پکڑتا منت سماجت کرنے لگا
زاویار اُس سے دور ہوتا بولا ،،افسوس کے انسان “مکافات عمل” بھول جاتا ہے.
جو بیج تم نے بویہ تھا اب وہی کاٹنا پر رہا ہے کہتا وہ باہر نکل آیا اور پیچھے وہ زارو قطار روتا زمین پر ہاتھ مارنے لگا۔۔
سر آپ ٹھیک ہیں ؟؟
سلیم اُسے یوں تیزی سے باہر نکلتا دیکھ سوالیہ نگاہوں سے دیکھنے لگا
زاویار نم آنکھوں پر چشمہ لگاتا بولا”
کاش انسان کسی کو تکلیف دینے سے پہلے یہ سوچ لے کہ پلٹ کر اُسکا وار اُسی پر آنا ہے تو کتنا اچھا ہوتا
لوگ کیوں گناہ کرنے سے پہلے یہ نہیں سوچتے کہ ایک دن اُنھیں اس سب کا حساب بھی دینا ہے۔۔۔
کاش لوگ ایسا سوچ لیں تو ہزاروں لوگ حسد کی آگ میں جلنے سے،،،برائی کے راستے پر چلنے سے بچ جائیں ۔
میں گھر جا رہا ہوں سلیم “
باقی کے معاملات تم دیکھ لینا ،،اُس نے اپنا جرم قبول کر لیا ہے ۔۔۔اُس کے گھر والوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔۔میں عدالت میں نہیں آؤنگا ،،مجھ میں اپنے ماں باپ کے قاتل کو بار بار دیکھنے کا حوصلہ نہیں ہے
ایک دو دن میں،، میں واپس چلے جاؤنگا کیس سولو ہو چکا ہے ،،کچھ معاملات ہیں میں وہ ایک دو دن میں نپٹا لوں بس
جی صاحب جی بہتر ،،آپ فکر نہ کریں سر میں سب دیکھ لونگا ۔
ہمم وہ اُس سے سلام لیتا گاڑی میں بیٹھ گیا
بہت کچھ نظروں کے سامنے سے گزر رہا تھا،،،بیتے لمحات اپنے ماں باپ کے ساتھ گزارے وہ سنہری پل،،سب سوچتے آنکھوں سے آنسو بہنے لگے،،
آج وہ اپنے ماں باپ کو انصاف دلانے میں کامیاب ہو گیا،،آج وہ جتنا اُداس تھا سب کو یاد کرکے اتنا ہی خوش بھی تھا ۔۔
ماضی اچھا تھا یاں بُرا تھا گزر گیا” اُس کے اچھے پل یاد کریں ،،برے لمحات کو بھول جائیں
اور رب کی ذات پر کامل یقین رکھیں ،،وہ کبھی آپکو اکیلا نہیں چھوڑے گا ۔
اُس نے بھی تو اپنے رب پر یقین رکھا تھا،،
گھر آتے ہی اُسنے دیکھا ابرش خاموش سی بیڈ کی ایک جانب بیٹھی ہوئی تھی
زاویار نے قریب جاتے اُسکے گرد اپنا حصار باندھا وہ جانتا تھا کے اس سب سے ابرش کے دماغ پر بہت گہرا اثر ہوا ہے ۔
کیا بات ہے میری جان بہت خاموش ہے آج تو،،
کچھ نہیں ویسے ہی ،،آج آپ نے مجھے اٹھایا بھی نہیں اور رضیہ بھی نہیں آئی
وہ اُسکے سینے پر سر رکھتی دھیمی آواز میں بولی
جی میں نے سوچا آپ تھکی ہوئی ہیں تنگ نہ کروں آپکو اور رضیہ کو بھی آج میں نے آنے سے منع کیا تھا
تاکے آج ہم دونوں مل کر کچھ بنائے،،اسی لیے تو جلدی آ گیا ہوں
میں بس دو منٹ میں چینج کرکے آیا پھر بناتے ہیں
کچھ اسپیشل ” مجھے بھی بھوک لگی ہے میں نے ناشتا بھی نہیں کیا وہ منھ بناتی بولی
کچھ ہی دیر میں دونوں کچن میں موجود کچھ بنانے کا سوچ رہے تھے ۔۔۔۔۔۔
بریانی بناتے ہیں ابرش فٹ سے بولی
اوک جی چلیں پھر شروع کرتے ہیں آپ فریج سے چکن لے کر آئیں
اسنے شکر ادا کیا کے وہ نارمل ہوئی ہے۔۔۔وہ خود بھی واپس جانے کا سوچ رہا تھا پولیس اسٹیشن میں بس کچھ انتظامات کے بعد وہ واپسی کی راہ لے گا
زاوی ابرش کی آواز پر اسنے اُس کی جانب دیکھا ۔۔۔۔آج ہم آئس کریم بھی کھائے گے کل بھی آپ نہیں لے کر آئے تھے ابرش اب اپنی ٹون میں آ چکی تھی
کل اسلئے نہی لایا تھا کے سردی ہے گلا خراب ہو جائے گا آپکا اور میں آپکو بیمار نہی دیکھ سکتا اسلئے نو آئس کریم اسنے فوراً سے انکار کر دیا
ٹھیک ہے پھر یہ لیں چکن نہ میں آپکی ہیلپ کرونگی اور نہ ہی میں یہ بریانی کھاونگی اور بابا سے آپکی شکایت بھی کرونگی اسنے چکن کی ٹرے اُسے تھماتے ہوئے روٹھے لہجے میں کہا۔۔۔۔
ابر نوٹ فیئر ۔۔۔۔میں آپکی ہر بات مانتا ہوں اور آپ میری ایک بات نہی مانیں گی زاویار نے مصنوئی خفگی لہجے میں لاتے ہوئے کہا
اور میں بھی آپکی ہر بات مانتی ہوں کیا آپ میری ایک بات نہی مان سکتے ابرش نے بھی اسی کے انداز میں کہا
زاویار مسکراتا بس سر ہلاتا رہ گیا
اوک لے آؤنگا اب خوش ۔۔۔۔۔۔
جی بہت ابرش نے خوش ہوتے کہا لائیں ہیلپ کروں ہستی ہوئی ابرش رائس نکالنے لگی
