Raah E Zest Ho Tum By Yumna Writes Readelle 50365 Raah E Zest Ho Tum (Episode 5)
Rate this Novel
Raah E Zest Ho Tum (Episode 5)
Raah E Zest Ho Tum By Yumna Writes
ڈنر کرکے وہ اپنا نائٹ ڈریس چینج کرکے ڈریسنگ روم سے باہر آئی تو ڈور نوک ہوا۔۔
اندر آ سکتا ہوں؟؟
صفدر ملک نے تھوڑا سا دروازہ کھولتے اجازت مانگی،
جی آ جائیں ۔۔۔۔
بابا آپ آ جائیں پوچھنے کی کیا ضرورت ہے۔۔۔
وہ اُنھیں دیکھتی بولی
میری بیٹی ناراض ہے مجھ سے صفدر ملک نے اُس کے قریب جاتےمحبت سےاُسے سینے سے لگایا ۔۔۔نہیں ایسی بات نہیں بس میرا موڈ نہی تھا اس ٹائم ڈنر کا اُن کے سینے سے لگی وہ دھیمی آواز میں بولی
میرا بچہ اب مجھ سے بھی باتیں چھپاے گا
نوٹ فیئر ،،اُنھوں نے محبت سے اسکے ماتھے پر بوسا دیا ۔۔۔۔
میں جانتا ہوں ذاوي نے آپکو جانے سے روکا آپ اسلئے اپ سیٹ تھی
محبت سے اُسکے بال سہلاتے وہ گویا ہوے
نہی بابا مجھے برا لگا اُس وقت لیکن زاوی نے آ کر مجھے سوری بھی کہا اُنکے رویے کے لیے اور مجھے سمجھایا بھی ۔۔۔
وہ چہرہ اٹھاتی اُنھیں دیکھتی نرمی سے بولی
میری غلطی تھی مجھے اپنی فرنڈ کی بات نہیں ماننی چاہیے تھی اسنے زبردستی کی تو میں نے ڈریس لے لیا اسنے معصوم سا منہ بناتے ہوے کہا ۔۔۔
میرا پیارا بچہ بہت سمجھدار ہے ۔۔۔۔
بیٹا ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا میں اور زاوی کبھی تمہارا برا نہیں چاہئے گے،،،
اچھا اب میں اپنی بیٹی سے بہت ضروری بات کرنے آیا ہوں ۔۔۔
مجھے یقین ہے میرا بچہ مجھے انکار نہی کرے گا ،،
وہ اُسے دیکھتے محبت سے گویا ہوے
جی بابا بولیں کیا بات ہے ،،
میری جان میں چاہتا ہوں کے آپکا اور زاویار کا نکاح کردوں تاکہ سکون سے مر سکون۔۔۔
وہ بولتے ہوے اسکے تاثرات کا جائزہ لے رہے تھے ۔۔۔
کوئی زور زبردستی نہیں ہے ۔۔۔
اگر آپ کسی اور کو پسند کرتی ہیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ۔۔۔۔
انہوں نے پیار سے اسکے بال سہلائے ،
ابرش کو ایسا لگا جیسے کسی نے اسکے کانوں میں بم پھور دیا ہو ۔۔۔۔
بابا ایسا کک،، کیسے ،،
وہ روہانسی ہوتی بولی
زاوی بھائی اسنے پانیوں سے بھری آنکھوں سے باپ کو دیکھا ۔۔۔۔
نہیں میرا بچہ رونا نہیں اگر آپکو کوئی پسند ہے تو بتا دو جہاں میری جان بولے گی ۔۔۔۔
اسنے نفی میں گردن ہلائی۔۔۔۔
ایسی بات نہیں ہے بابا میں کسی کو پسند نہیں کرتی ۔۔۔لیکن اتنی جلدی یہ سب ۔۔۔
کیوں،، ابھی تو میں اتنی چھوٹی ہوں میں ابھی بلکل بھی شادی نہی کرنا چاہتی،،اور ” زاؤی”،، سے کیسے ، مجھے ابھی آگے پڑھنا ہے
میں آپکو چھوڑ کے نہی جانا چاہتی کہیں بھی ۔۔۔
اسنے سسکتے ہوے کہا ۔۔۔۔
میرا بچہ تو آپ کون سا کہی جا رہی ہو اسی لیے تو چاہتا ہوں کے زاوی کے ساتھ آپکا نکاح ہو
تاکہ آپ میری آنکھوں کے سامنے رہو۔۔۔
اور میرا بچہ اسلام میں بالغ بچی کے نکاح کا حکم ہے دیر نہی کرنی چاہیے یہ رسول اللہ صلی کا فرمان ہے،،
میں چاہتا ہوں کے آپکو محفوظ ہاتھوں میں سونپ کر جاؤں ۔۔۔
۔تاکہ میری روح کو سکون رہے کے میری بچی حفاظت میں ہے ۔۔۔۔کیا آپکو زاؤی نہی پسند ؟؟یاں کوئی اور وجہ ہے
بتائیں اپنے بابا کو میری جان “
میں آپ پر کوئی زور زبردستی نہی کر رہا جیسے آپکو ٹھیک لگے۔۔۔۔
نہی بابا اور کوئی وجہ نہیں بس میں آپ سے دور نہی جانا چاہتی اسنے اُنکے ساتھ لگتے ہوئے کہا ۔۔۔اور اب آپ بار بار کہیں جانے کی بات نہی کرئیں گے۔۔۔۔
آپ کہیں نہی جائینگے ہمیشہ میرے پاس رہیں گے ابرش نے اُنکے ہاتھ کو چومتے ہوئے کہا ۔۔۔
لیکن بابا میں ابھی اتنی جلدی یہ سب نہیں چاہتی
میرا بچہ ابھی صرف نکاح ہوگا،،،جب آپ چاہیں گی رخصتی تب ہوگی
وہ کچھ توقف کے لیے خاموش ہوتی اُنھیں رضامندی دے گئ،،
جیسا آپ چاہے گے ویسا ہی ہوگا ۔۔۔
جو آپکی مرضی وہ میری ۔۔۔
اسنے محبت سے کہا ۔۔۔
ابرش نے اپنا فیصلہ باپ کے سپرد کردیا ۔۔۔۔
جانتی تھی اسکے باپ نے بہت دکھ جھیلیں ہیں اسکی ذرا سی ہاں اگر انکی خوشی کا باعث بنتی ہے تو وہ کیوں منع کرے۔۔۔
کل شام میں نکاح ہے آپکا ۔۔۔
ابھی سادگی سے نکاح کرئیں گے ۔۔۔
پھر دھوم داھم سے شادی ۔۔۔۔
صفدر ملک نے رسانیت سے ساری بات اُسکے گوش گذار کردی
لیکن بابا اتنی جلدی کیوں وہ تو اس اچانک افتاد سے پریشان ہو کر باپ کا چہرہ دیکھنے لگی کے یہ ہو کیا رہا ہے پہلے ہی زاوی سے نکاح کو اُسکا دماغ قبول نہی کر پا رہا تھا اور اب اتنی جلدی یہ سب ،،
میرا بچہ پرسوں صبح کی میری عمرے کی فلائٹ ہے ۔۔۔میں تو چاہتا تھا ہم اکٹھے جائیں،،
لیکن زاوی کو ایک کیس کے سلسلے میں رکنا پر رہا ہے ۔۔۔۔آپ بے فکر رہیں رخصتی آپکی مرضی سے ہوگی بس ابھی نکاح کی رسم کر رہے ہیں ۔۔۔۔
پریشاں نہی ہونا میری جان نے ۔۔۔
صبح ڈریس سیلیکٹ کر لیجیے گا زاوی نے گھر ہی ڈیزائنر کو بلایا ہے ۔۔۔۔۔
اسکا مطلب وہ سب جانتا ہے یہ ہو کیا رہا ہے ابرش کی کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی ۔۔۔خاموشی سے ہاں میں سر ہلا دیا ۔۔۔۔
صفدر ملک نے مسرت سے اسکے ماتھے پر لب رکھے ۔خوش رہو میری جان ۔۔۔۔
اور باہر زاویار کو اُسکی رضامندی سے آگاہ کرنےچلے گئے
