331.4K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah E Zest Ho Tum (Episode 1)

Raah E Zest Ho Tum By Yumna Writes

دفعہ ہو جاؤ یہاں سے کس کی اجازت سے تم میرے روم میں آئی؟؟۔۔۔

وہ اُسے کها جانے والی نظروں سے دیکھتی بی اماں کو آوازیں دینے لگی

بی اماں_ بی اماں _جلدی آئیں۔۔۔

ملازمہ تو اچانک اسکے انداز سے گبھرا گئی ۔۔۔

بیبی جی معاف کر دیں دوبارہ ایسا نہی ہوگا

وہ سر جھکاتے بولی

شٹ اپ زبان بند رکھو اپنی ۔۔۔

اُسے غصے سے دیکھتی وہ پھنکاری،،

اوقات کیا ہے تمہاری ۔۔۔

کس کی اجازت سے تم نے میرے روم میں قدم رکھا ۔۔نکلو ابھی کے ابھی یہاں سے

وہ اُسے سخت تیوروں سے دیکھتی بولی

بی اماں جلدی سے کمرے میں داخل ہوئی ۔۔۔

ابرش بیٹی میں

نے اسے آپکے کمرے میں بھیجا تھا ،،

آج صاحب جی نے آنا ہے تو میں گھر کی صفائی کروانے میں مصروف تھی اسی لیے اسکو آپکے روم میں بیج دیا ۔۔۔ وہ اُسے وضاحت دینے لگی

اپنے مخصوص نرم لہجے میں اُسے برہم دیکھ گویا ہوئی

معافی چاہتی ہوں دوبارہ ایسا نہی ہوگا

نہیں بی اماں آپ کیوں معافی مانگ رہی ہیں

وہ نرم لہجے میں اُنھیں دیکھتی بولی

۔۔۔۔اسنے میری نیو سکرٹ خراب کر دی۔۔۔۔۔۔

میری فیورٹ تھی ۔۔۔

وہ منھ بسورتی غصے سے اُسے دیکھتے بولی

آئندہ آپ کسی کو میرے روم میں مت بھیجنا ۔۔۔۔

آپ جب بھی فری ہوں خود آیا کریں ۔۔۔

مجھے نہی پسند میرے روم میں آپکے علاوہ کسی کا آنا ابرش اُن کے گرد محبت سے بانہیں پھیلائے بولی۔۔۔

ملازمہ تو ہونق بنی اس لڑکی کو دیکھ رہی تھی جو ابھی تھوڑی دير پہلے اتنے غصّہ میں تھی

اور اب اتنے سکون سے

بی اماں سے بات کر رہی تھی ۔۔۔۔۔

تم کیوں یہاں کھڑی ہو جاؤ اپنا کام کرو ،،

۔۔بی اماں نے ملازمہ کو ڈانٹ کر وہاں سے بھیجا ،،

ابرش بیٹی یہ نئی ملازمہ ہے اسلئے اُسے پتہ نہیں چلا ہوگا ۔۔۔

ضرورت مند تھی اسلیے میں نے صاحب جی سے بات کرکے اسے کام پر رکھ لیا

دوبارہ ایسا نہی ہوگا بی نے معذرت کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔

اوہ”۔ وہ سر ہلاتی گویا ہوئی ،،،

کوئی بات نہیں بی ماں ۔۔۔آپ کو جیسے بہتر لگے

کون آ رہا ہے بابا کے ساتھ ؟۔۔۔۔

وہ ڈریسنگ کے سامنے کھڑی ہوتی اپنے شولڈر کٹ براؤن سلکی بالوں میں برش چلاتی سوالیہ نگاہوں سے آئینے سے اُنھیں دیکھتی بولی،،

زاویار بیٹا آ رہے ہیں صاحب کے ساتھ ۔۔۔

انہی کا روم سیٹ کروا رہی ہوں ،،

اور صاحب بتا رہے تھے کے اب وہ سب کے ساتھ ہی رہیں گے،،

کیا ؟؟

اُسکے ہاتھ سے برش چھوٹ کر زمین پر گرا

ممّ۔۔۔مطلب اسی گھر میں؟؟

اُنکی بات سنتی وہ گربڑا گئی

کیا اب وہ واپس نہیں جائے گے؟؟

وہ خود پر قابو پاتی بولی

جی نہیں ،،

ٹھیک ہے آپ جائیں اسنے کڑوا سا منہ بنایا اور میرے لیے کافی بیجھ دیں کہتی وہ ڈریسنگ کے سامنے کھڑی ہو کر پھر سے اپنے کام میں مشغول ہو گئی

کیوں کے زاویار اسکو کچھ خاص پسند نہی تھا۔،،

اسنے جب سے ہوش سنبھالا زاویار اسکو کسی نہ

کسی بات پر ٹوکتا رہتا

جسکی وجہ سے اُسے زاویار سے خاص قسم کی چرّ تھی ۔۔۔

اسکے بابا نے تو اُسے کبھی کسی چیز سے منع نہی تھا کیا اسی لیے وہ اس سے خار کھانے لگی ۔۔۔۔

اور اب اُسکے واپس آنے پر پریشانی نے آ گھیرا تھا ،،،

جسے بی ماں کے سامنے تو وہ چھپا گئی لیکن اب خود بیٹھ کر اُسکے واپس آنے کی وجہ سوچنے لگی ،،

کچھ تو بات ہوگی ایسی ۔۔۔۔

جو اُسکی واپسی ہو رہی ہے ورنہ بابا نے تو بہت کہا تھا لیکن تب تو مانے نہی،،

خیر ابر تمھیں کیا لینا دینا ،،،

آئے یاں نہیں ،،،میری بلا سے”

سلکی بالوں میں ہاتھ پھیرتے وہ اپنا فون تھام کر وہ انسٹا آن کرکے اُس میں مصروف ہو گئی

ملک ہاؤس میں بس صفدر ملک اور انکی بیٹی ابرش رہتے ہیں،،

بی اماں اُنکی ملازمہ ہیں جنہوں نے اُسے بچپن سے سنبھالا تھا اسی لیے وہ اُن سے کافی اٹیچ تھی

ملک ہاؤس میں دو فیملیز رہتی تھی

صفدر ملک __اور ندیم ملک ۔۔،،

صفدر ملک کی فیملی اوپر والے پورشن میں جبکہ ندیم ملک نیچے والے پوشن میں رہتے۔۔۔۔۔

صفدر ملک کی ایک بیٹی ابرش جو کے شادی کے ۵ سال بعد بہت منتوں کے بعد ملی تھی

جبکہ ندیم ملک کا ایک بیٹا زاویار ملک جو ابرش سے ۵ سال بڑا تھا ۔۔….

وہ لوگ اپنی زندگیوں میں خوش تھے ۔۔۔۔

سب کی ابرش میں جان بستی تھی ،،

ذاویار ابرش کو اٹھاے رکھتا اُسکا بہت خیال رکھتا ،،۔ابرش بھی اسکے ساتھ کافی اٹیچ تھی ۔۔۔۔

صفدر ملک میٹنگ کے سلسلے میں دبئی گئے ہوے تھے

۔زاویار نے باہر جانے کا شور مچایا ہوا تھا ۔۔۔۔

وہ لوگ لاہور کے لیے نکلے تاکہ بچوں کی تھوڑی سی ریفریشمنٹ ہو جائے اور

زاویار کو جوائے لینڈ لے جائیں ،،

یہ جانے بغیر کے یہ سفر شاید انکی زندگی کا آخری سفر تھا ۔۔۔۔

زاویار اپنی تائی جان عیشاء (صفدر ملک کی بیوی )اور ابرش کے ساتھ پیچھے بیٹھا

جبکہ ندیم ملک اور انکی بیوی ثنا آگے بیٹھے تھے

۔۔گاڑی اپنے سفر پر روا دوا تھی

کے اچانک سامنے سے بس نے آ کر گاڑی کو ہٹ کیا گاڑی پلٹے کھاتی ہوئی دور جا گری۔۔۔۔

لوگ فوراً ارد گرد اکٹھے ہو نے لگے

جب تک انکو باہر نکالا گیا “

ندیم ملک اور انکی بیوی کی سانسیں تھم چکی تھی

۔زاویار کو بھی کافی چوٹیں آئی تھی

ابرش کے بھی سر سے خون بہہ رہا تھا روتی ہوئی وہ اپنی ماں اور زویار کو خون میں لت پت دیکھ رہی تھی ۔۔۔

عیشا ملک بےہوش تھی

انکو ہسپتال لے جایا گیا جب اُنھیں ہوش آيا

تو اچانک سب کچھ یاد آتے ہی اُنہوں نے اپنے بچوں کو پکارنا شروع کر دیا

زاوی،،۔ زاوی “

عیشاء ملک جیسے ہی ہوش میں آئی وہ بس اُسکا نام پکاری جا رہی تھی ۔۔۔

زاوی کو بلائیں” ابرش مم” میری بیٹی ” وہ اٹکتی ہوئی بولتی نرس کو دیکھ کر اُنھیں بلالنے کا کہنے لگی

۔جی وہ لوگ ٹھیک ہیں آپ آرام کریں آپکی طبیعت ٹھیک نہیں نرس اُنکے قریب آتی اُنکے بال سہلاتی انکو پرسکون کرتی بولی

نہیں آپ بلائیں میرے بچوں کو ،،۔۔۔۔

میری بیٹی؟؟…

میرے بھائی کو ؟؟…وہ ٹھیک تو ہیں نہ ۔۔۔

وہ اپنی تکلیف بھلائے اُنکے لیے متفکر ہوتی بس بار بار اُنکا پوچھ رہی تھیں،

جی میم میں بلاتی ہوں آپ لیٹ جائیں پلیز

نہیں پپ،، پلیز ” آپ لے کر آئیں میرے بچے ،

میری بہن وہ کہاں ہے ؟؟.۔۔۔

وہ ٹھیک تو ہے ؟؟

اسکو بھی بہت چوٹیں آئی تھی اُنہوں نے زبردستی اٹھتے ہوے سوالیہ نظروں سے اُسے دیکھا ،،

آئی ایم سوری میم “

جو دو پیشننٹ آپکے ساتھ آئے تھے انکی حالت بہت خراب تھی ۔۔۔

ہاسپٹل لانے تک انکی ڈیتھ ہو چکی تھی،

نرس اظہارِ افسوس کرتی بچوں کو بیجھنے کا بولتی روم سے نکل گئی ۔۔۔۔

نہیں ایسا نہی ہو سکتا وہ دندھلی آنکھوں سے نرس کو جاتے ہوئے دیکھ رہی تھی ۔۔۔

سر میں ایک دم ٹیسیں اٹھنے لگی ،،

آنسو روانی سے بہہ رہے تھے نظر سامنے اٹھی تو ذاویار ابرش کو لے کر انکی جانب آ رہا تھا ۔۔۔۔

ممما،،مما “ابرش ماں کو دیکھتی زاویار کی گود سے نکلنے کی کوشش کرنے لگی

اور ماں کی جانب لپکنے لگی

اُسے زاوی نے اٹھایا ہوا تھا

اُنہوں نے جلدی سے ابرش کو گود میں لے کر پیار کیا ۔۔۔

میرا بچہ میری جان ٫

روتی ہوئی وہ اُسے چومنے لگی

کہیں لگی تو نہیں ہاتھوں سے پاؤں سے سارا اسکو چیک کیا اور اُسکا چہرہ چوم لیا ۔۔

۔زاویار میرا بچہ یہاں آوو،،

بانہیں پھیلائے اُسے اپنے قریب بلایا

زاویار کو پاس بلا کر پیار کیا اُسکے بال سہلاتے ماتھے پر لب رکھے زیادہ پین تو نہی ہو رہا میری جان اُسکے ماتھے پر پٹی دیکھ وہ پریشانی سے پوچھنے لگی،،

زاویار نے روتے ہوے نفی میں سر ہلایا

تائی جان مما بابا کہاں ہیں ؟؟

یہ سب بہت گندے ہیں مما کو ملنے نہی دے رہے

وہ نرم طبیعت کا بچہ ماں ،،باپ کو قریب نہ دیکھ پریشانی سے رونے لگا

نہی میرا بچا بہت بریوو ہے

اس طرح روتے نہیں،،

آپ تو میرے شیر ہو ،،ہے نا ں؟؟

انہوں نے سوالیہ نظروں سے اُسے دیکھا

وہ معصومیت سے سر کو ہلا گیا ،،

شاباش میری جان

اُنہوں نے اُسکے آنسو صاف کرتے اپنے سینے سے لگایا ،۔ابھی ماما اور بابا کو چوٹ لگی ہے نا ں،

اسلئے ملنے نہی دے رہے ۔۔۔

جب ٹھیک ہو جائے گے پھر ہم ان سے ملیں گے “

اُسے ساتھ لگاتے وہ اُسے محبت سے پچکارتے بولی

زاویار میری جان مجھ سے پرومس کرو

کے آپ ابرش کو کبھی اکیلا نہی چھوڑو گے

ہمیشہ اُسکا خیال رکھو گے ۔۔۔۔

اُسے کبھی خود سے دور نہیں کروگے

اور جب وہ بڑی ہو جائے تو

اسکو بتاوں گے اسکی مما اُس سے بہت محبت کرتی ہیں

رکھو گے نہ خیال ؟؟

اُنہو نے سوئی ہوئی ابرش کا ماتھا چوم کر ہاتھ آگے بڑھایا

جسے اس معصوم بچے نے اپنا ہاتھ رکھ دیا،

انہوں نے اُسے بھی بیڈ پر ساتھ ہی لٹا لیا ۔۔۔۔

معصوم بچے اس ساری صورت حال سے پریشان ہو گئے تھے فوراً ماں کی گود پاتے ہی سو گئے ۔۔۔۔

عیشاء بیگم اپنے پیاروں کے غم سے نڈھال بس خاموشی سے اپنے بچوں کو دیکھ رہی تھی اور آخری خواہش یہ تھی کے بس کہیں سے صفدر ملک آ جائیں

صفدر ملک کو جیسے ہی اُنکے ایکسیڈینٹ کی خبر پہنچی وہ فوراً پاکستان پہنچے ،،

ہاسپٹل میں داخل ہوتے وقت اُنکا دل سوکھے پتے کی مانند کانپ رہا تھا”

جیسے ہی بھائی بابھی کی وفات کی خبر ملی وہ وہاں ہی ڈھ گئے ۔۔۔۔

آنکھیں آنسو سے بھر گئی ۔۔۔

کرسی پر سر جھکائے وہ بیٹھ گئے ابھی کل ہی تو سب کتنے خوش تھے اچانک سے یہ سب کیا ہو گیا ۔۔۔

اُنکے منیجر جسنے اُنھیں اُنکی فیملی کے ایکسڈنٹ کی خبر پہنچای تھی

خود میں ہمت جمع کرتا اُنکے قریب آیا

اور اُنکے قریب جھکتے بولا ،،،

سر میم کو اس وقت آپکی ضرورت ہے ہوسلا کریں ،،

اگر آپ ہی ایسے کریں گے تو اُنھیں کون سمھبالے گا

سر اٹھیں ،،آپکی وائف اور بچے اُس روم میں ہیں ۔۔۔۔

اُنکی خالت بہت خراب ہے نرس نے بتایا ہے اور وہ آپکو بولا رہی ہیں ۔۔۔۔

آپ اُن سے مل لیں،،

صفدر ملک بیوی بچوں کا سنتے اُسکی جانب دیکھنے لگے،،،

خدارا مجھے اب کوئی بری خبر نہ سنانا “

مجھ میں اور دکھ بردشت کرنے کی ہمت نہیں ہے

وہ تکلیف سے آنکھیں بند کرتے بولے

بھائی کے غم میں وہ اتنا ٹوٹ چکے تھے کے بیوی بچوں کا خیال ہی دماغ سے نکل گیا

صفدر ملک تیزی سے روم کی طرف بڑھے ۔۔۔۔

کمرے میں داخل ہوئے تو وہ

سامنے دونوں بچوں کا سر گود میں رکھے لیٹی ہوئی تھی ۔۔

ترپتے دل کو جیسے اُنھیں دیکھ کر سکون ملا

عیشاء وہ جلدی سے انکی جانب بڑھہے،،

عیشاء اُنکی آواز سنتی آنکھیں کھول کر انہیں دیکھتِ

جلدی سے اٹھنے لگی،،

وہ آگے بڑھ کر اُنھیں آرام سے بیٹھاتے اُنکا ہاتھ تھام گئے

ایشا یہ کیا ہو گیا سب ،،

وہ اُنھیں دیکھتے تکلیف سے آنکھوں میں آئے پانی کو پرے دکھیلتے بولے

آپ آ گئے،،

میں بس یہی چاہتی تھی کے آخری بار آپ کو دیکھ لوں۔۔۔

وہ کانپتے ہاتھوں سے انکا چہرہ ہاتھوں میں لیتی بولی

صفدر ملک اسکی بات پر تڑپ گئے ،،،

میری جان ،،،میری زندگی”

کچھ نہی ہوگا ،،،

عیشاء تم مجھے چھوڑ کر کہی نہی جا سکتی ۔۔۔

ایسے مت بولو۔۔۔۔تمہیں کچھ نہی ہوگا ،،

ضبط کا دامن چھوٹا تو وہ بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رو دیے

میں کیسے رہونگا تم لوگوں کے بغیر ترس کھاؤ مجھ پر ۔۔

پہلے ہی بھائی چھوڑ گیا اب بیچ راستے تم بھی جانا چاہتی ہو ۔۔۔۔

وہ اپنوں کے جانے سے بلکل ٹوٹ گئے تھے

مجھے بھی ساتھ لے جاؤ میں اتنی تکلیف برداشت نہیں کر سکتا ۔۔۔

بولتے ہوئے انکی آنکھوں سے آنسو نکل پرے۔۔۔۔

نہی آپکو جینا ہے ہمارے بچوں کے لئے ابرش کے لیے زاویار کے لیے ۔۔۔۔

عیشاء نے اُنکا ہاتھ تھام کر اُن پر اپنا لمس چھوڑ ا

آنکھوں سے آنسو جاری تھے ،،

دونوں ایک دوسرے کا سہارا بنے رو رہے تھے،،

میں جینا چاہتی ہوں آپ کے ساتھ اپنی بیٹی کے ساتھ لیکن خدا نے زندگی ہی اتنی لکھی تھی

وہ اُنکا سہارا پاتی رو دی

یہ کیسی آزمائش تھی کے ایک پل میں اُنکا ہستا بستا گھر بکھر گیا ،،،

ایسا نہی ہوگا ،،میں تمہیں کچھ نہی ہونے دونگا ۔۔۔تم ٹھیک ہو جاوگی

ازيت ہی اذیت تھی”

وہ سب سوچتی آنکھیں میچ گئی ،،

کتنی دعاؤں سے انہوں نے بیٹی مانگی تھی اور اپنے جینے کی مدت اتنی کم،،،

وہ کیا جانتی تھی کے زندگی ایسا پلٹا کھائیے گی ،،،اُنکے گھر کا شرازہ ایسے بکھر جائے گا

وہ جانتی تھی کے وہ بچ نہی سکتی اسنے ڈاکٹر کی بات سن لی تھی ۔۔۔

نہی اب کچھ نہی ہو سکتا وہ روتی ہوی بولی

ڈاکٹر انکی بچی بہت رو رہی ہیں باہر۔۔۔۔

انکے ساتھ جو دو پیٹنٹ تھے انکی ہاسپٹل آنے تک ڈیتھ ہو چکی تھی۔۔۔

انکی کنڈیشن بھی بہت خراب ہے….

پیشنٹ کے پاس بہت کم وقت ہے خون بہت بہہ چکا ہے ۔۔۔۔انکی انٹرنل بلیڈنگ بہت زیادہ ہو رہی ہے ،،

سر پر الگ چوٹیں آئیں ہیں

اسکو ڈاکٹر کے بولے گئے الفاظ یاد آئے ۔۔۔

خاموشی سے اُنکے ہاتھ پر اپنا سر رکھا اور آنکھیں موند لی ۔۔۔

عیشاء اٹھو یار ایسے مت کرو ۔۔۔

مر جاؤں گا یار ۔۔

۔بچے پوچھیں گے تو کیا کہونگا ؟؟

عیشاء اُنکے ہاتھ لرز گئے جب اُسکا سر ڈھلکا ۔۔۔۔

آنکھوں سے آنسوؤں تیزی سے بہنے لگے۔۔۔۔۔۔

کتنا بےبس ہے انسان اپنے پیاروں کو اپنے سامنے جاتا دیکھ کچھ نہی کر سکتا

بابا۔ ” بابا

ابرش باپ کو دیکھ کر مچل اٹھی ۔۔۔

صفدر ملک نے روتے ہوئے اُسے بانہوں میں بھر لیا

۔زاویار بھی اُٹھ گیا ۔۔۔۔

تایا جان تائی جان کو کیا ہوا ہے

کیوں نہی اُٹھ رہی ابھی تک ،،

معصوم بچے اپنی ماں کو دیکھ باپ سے پوچھنے لگے

بیٹا آپکی تای جان سو رہی ہیں،،تھک گئی ہیں بہت

آنکھوں سے سیل رواں تھا ،،

وہ کیا بتاتے انکو کے وہ تو ہمیشہ کے لئے جا چکی ہے ۔۔۔۔لیکن مرنے والوں کے ساتھ مرا نہی جاتا یہی تو ظلم ہے ۔۔۔

اُنہیں جینا تھا اپنے بچوں کے لیے اُنکی خوشیوں کے لیے

انکی حفاظت کے لیے،،

وہ جو جاتے ہوئے اُنھیں اتنی بڑی زمیداری سونپ کر گئی تھی