Raah E Zest Ho Tum By Yumna Writes Readelle 50365 Raah E Zest Ho Tum (Episode 14)
Rate this Novel
Raah E Zest Ho Tum (Episode 14)
Raah E Zest Ho Tum By Yumna Writes
اُسکی آنکھ کھلی ابرش اُسکے نزدیک مزے سے سو رہی تھی وہ کہنی کے بل لیٹے اُسے دیکھنے لگا کتنی اہم تھی یہ لڑکی اُسکے لیے ۔۔۔۔بچپن کی محبت تھی اُسکی اسنے آہستگی سے ہاتھ آگے بڑھاتے ابرش کے سرخ گالوں کو سہلایا اسکی چھوٹی سی ناک پر اپنے لب رکھے ۔۔۔
نظر گلابی چھوٹے سے ہونٹوں پر ٹھر گئی،، بے اختیار اسنے اپنی انگلی اُسکے لبوں پر پھیری اس سے پہلے کے اُس سے کوئی گستاخی سرزرد ہوتی اپنے جزباتوں پر قابو پاتا وہ دور ہوا
وہ بہت معصوم اور خوبصورت تھی،، ابھی اپنے اور اُسکے رشتے کی نوعیت نہی جانتی تھی اور زاویار اُسے کچھ بھی بتا کر یاں اپنے کسی بھی عمل سے اُسے خود سے دور نہی کرنا چاہتا تھا …وہ اُسکا محرم تھا،،
اگر وہ اُسے کچھ سیکھائے یاں پڑھائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں تھا۔
وہ تھوڑی سی نادان تھی وجہ وہ جانتا تھا
اسی لیے وہ اُسے اپنے قریب کرنا چاہتا تھا ۔ابرش آہستہ آہستہ زاویار کے قریب ہو رہی تھی اُسکی باتیں سنتی تھی ان پر عمل کر رہی تھی یہی بہت بات تھی وہ کوئی بہت بگڑی ہوئی اولاد نہی تھی صرف توجہ نہ ملنے سے تھوڑی سی خود سر اور خدا سے دور ہو گئی تھی
بعض لوگ آپ سے آپکا کچھ نہی چاہتے سواے محبت کے اور وقت کے
اگر آپ کسی کو اپنا وقت دیتے ہیں تو آپ اُسے بہت کچھ دیتے ہیں زندگی میں صرف پیسہ ہی اہمیت نہی رکھتا کچھ جگہوں پر آپکو پیسے کے علاوہ بھی کسی چیز کی ضرورت ہوتی ہے
اور ویسے بھی کچھ لوگ آپ سے صرف آپکی محبت آپکا وقت مانگتے ہیں اور ابرش ملک کا شمار اُن لوگوں میں ہوتا تھا
۔۔۔زاویار نے پیار سے اُسکا نام پکارا پر کوئی اثر نہیں ہوا ۔۔۔۔ابر اٹھ جائیں وقت بہت ہو گیا ہے ہاتھ بڑھا کر اسنے اُسے ہلایا ۔۔۔ابرش نے اپنی نیند میں ڈوبی سرخ آنکھیں کھولی ۔۔۔۔
اور جب بھی وہ مجھے اپنی گہری آنکھوں سے دیکھتی ہے
خدا کی قسم میرا دل دھڑکنا بھول جاتا ہے ۔۔۔
زاویار بہت دلکش آواز میں بولا ۔۔۔۔
ابرش جلدی سے اٹھ بیٹھی وقت دیکھا تو دس بج رہے تھے ۔۔۔زاوی آج آپ گئے نہی
نہی جی آج میں نے سوچا اپنی زندگی کے ساتھ سارا وقت گزاروں گا اسنے مسکراتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔آپ فریش ہو جائے میں ناشتا بناتا ہوں ۔۔۔۔۔میں بس ابھی آئی مل کر بنائے گے ناشتا ابرش کہتے تیزی سے واشروم میں گئی ۔۔۔
کچن میں داخل ہوئی تو وہ ناشتا بنانے میں مصروف تھا ۔۔۔کیا بنا رہے ہیں زاوی۔۔۔
پراٹھے ۔۔۔وہ بولتے ہی پیرا بیلنے لگا ۔۔۔۔
میں بھی بناونگی ساتھ میں کہتے ہی اسنے آٹے میں ہاتھ ڈالا۔۔۔۔نہی پہلے آپ دیکھیں ایک میں کیسے بناتا ہوں ۔۔۔پھر کیا تھا بس زاویار کی سختی آ گئی ۔۔
ابرش نے پراٹھے كا ایسا خال کیا کے وہ پراٹھا کم اور نقشہ زیادہ لگ رہا تھا ۔۔۔زاویار مشکل سے اپنی ہسی روک رہا تھا کے ابرش کو برا نہ لگ جائے ۔۔۔۔دو گھنٹے لگا کر وہ لوگ پراٹھے بنانے میں کامیاب ہو ہی گئے ۔۔۔۔
ابرش نے ناشتا ڈائننگ پر لگایا اور زاویار کا انتظار کرنے لگی جو اب ہاتھ سے آٹا اتارنے کی کوشش میں تھا ۔
زاوی آ بھی جائیں مجھے بہت بوکھ لگ رہی ہے ۔۔۔۔
آ ہاں ،،بس آ گیا۔۔۔۔
ناشتے سے فری ہو کر بیٹھے تھے کے رضیہ آ گئی ۔۔۔۔شکر ہے صاحب جی آپ بھی گھر نظر آئے جمع عید مبارک صاحب جی ،،،
زاوی سب جمع مبارک کیوں کہتے ہیں،،یہ بھی تو باقی دنوں جیسا ہی ایک دن ہے
ابرش زاویار سے پوچھنے لگی
باقی دنوں کی نسبت یہ دن افضل ہے تو اس دن سورت کہف کی تلاوت کرنی چاہئے درود شریف پڑھیں لیکن اس دن کو عید تو نہ کہیں،، زاویار رضیہ کو دیکھتے بولا
یہ دِن مبارک ہے لیکن بعض لوگ اس دن کو عید بھی کہتے ہیں
دین میں کوئی بھی نئی چیز پیدا کرنا” بدعت” ہے اور بدعت کا بھی گناہ ملتا ہے۔۔۔۔برا نہی ماننّا اس بات کا میں نے صرف آپکو گناہ سے بچانے کی نیت سے بولا ۔۔میرا مقصد آپکی دل آزاری کرنا نہی ہے ۔۔۔جو اچھی بات آپ جانتے ہیں وہ آگے پہنچانا بھی صدقہ جاریہ ہے
نہی صاحب جی بہت شکریہ مجھے بتانے کے لیے میں کیوں برا مانوں گی بلکہ شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں آپ نے مجھے اچھی بات بتائی اور غلط عمل سے روکا رضیہ مسکراتے چہرے سے بولی اور قدم ابرش کی جانب بڑھائے
باجی آپ ڈاکٹر پے گئی تھی صاحب کے ساتھ اسنے ابرش سے پوچھا ۔۔۔۔
نہیں رضیہ میں نے بتایا تو تھا کے میں ٹھیک ہوں چلو آؤ ادر آج مجھے وارڈروب سیٹ کرنی ہے اپنی ۔۔۔۔ابرش اُسے لئے اپنے روم میں چلی گئی ۔۔۔۔ کچھ دیر بعد جمعہ کی نماز کے لیے زاویار اپنا ڈریس لیتا نہانے چلا گیا ۔۔۔باہر نکلا تو ابرش اپنا ڈریس نکال رہی تھی
رضیہ چلے گی؟؟ ۔۔۔۔
جی ابھی گئی ۔۔۔۔میں نے آج اُسے کھانا نہی بنانے دیا ۔۔۔لنچ آج ہم خود بنائے گے اسنے مصروف سے انداز میں کہا ۔۔۔چلیں ٹھیک ہے میں بھی جمعہ کی نماز ادا کر کے آتا ہوں آپ بھی پڑھ لیں پھر بنائے گے ۔۔۔آپ شاور لیں میں لوک لگا جاؤنگا
ابرش کپڑے لے کر واشروم میں بند ہو گئی ۔۔۔فریش سی وہ باہر نکلی ۔۔۔۔ڈریسنگ کے سامنے جا کر بال ڈرائے کیے ۔۔۔۔بلیک فروک میں اُسکا روپ چمک رہا تھا ۔۔۔بال سلجھا کر اُسنے بلیک ہی دوپٹہ حجاب سٹائل میں لیا اور نماز پڑھنے لگی ۔۔۔۔جائے نماز سے اٹھی تو زاویار بھی آ گیا ۔۔۔نماز پڑھ لی اسنے قرآن پاک اٹھاتے پوچھا۔۔
جی ابرش نے جائے نماز تہہ کرتے جواب دیا
۔آ جائیں سورت کہف کی تلاوت کرتے ہیں ۔۔۔۔وہ دو قرآن پاک لے کر لاؤنج میں بیٹھ گیا ۔۔۔ابرش اُسکے پاس بیٹھ گئی زاویار نے قرآن پاک اُس کی جانب بڑھایا ۔۔۔ابرش نے بہت عقیدت سے پکڑا اور اپنے لب اُس پر رکھے ۔۔۔زاوی کتنا پیارا تحفہ ہے نہ اللہ نے جو اپنے بندوں کو دیا ہے ۔۔۔
بیشک ۔۔۔خدا نے اپنے بندوں کی رہنمائی کے لیے قرآن پاک
اُتارا۔۔۔۔۔۔قرآن پاک ہمارا سب سے بڑا رہنما ہے اللہ کے ہاں قرآن پاک ہی بندوں کی سفارش کرے گا بحث کرے گا ۔۔۔جسنے قرآن کو اپنا رہنما بنا لیا تو یہ قرآن جنت کی طرف رہنمائی کرے گا اور جسنے اسے پس پشت ڈال دیا تو یہ اُسے جہنم میں لے جائے گا ۔۔۔قرآن کو زندگی میں اپنا رہنما بنانا چاہیے قرآن پڑھیں ۔۔۔اسکا بہت گہرا ساتھ ہے ۔۔۔
آپ جانتی ہیں ابر مجھے جب بھی کوئی مشکل ہوتی جب بھی ماں بابا یاد آتے تو میں قرآن پکڑ کر اپنے سینے سے لگا لیتا ہوں میرے دل کو سکون آ جاتا وہ بولتا جا رہا تھا اور ابرش اُسکی ایک ایک بات حفظ کر رہی تھی ۔۔۔
زاویار سورت کہف کو بس جمع کو ہی کیوں پڑھتے ہیں اسکی کیا فضیلت ہے ابرش نے اُسکی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا ۔۔
زاویار نے سورت کا نام پڑھ کر اُسکی فضیلت کے بارے میں بتانا شروع کیا
نبی کریم صل علی وسلم کا فرمان ہے :
( جس شخص نے جمع کے دن سورت کہف کی تلاوت کی تو اُسکی لیے اللہ پاک دو جموں کے درمیان ایک نور روشن فرما دیتا ہے )
اور اس سورت کو جمعہ کے دن اس لیے پڑھا جاتا ہے کے اگر دجال کے روبرو کبھی آپ ہوئے تو یہ سورت آپکو اُسکے فتنے سے بچاے گی۔۔۔۔۔۔ اس سورت میں ایک لفظ ہے جسکو تھوڑا بڑا کرکے لکھا گیا ہے ۔۔۔۔وہ اسلئے کے اس لفظ کو بہت دھیان سے پڑھا جائے ۔۔۔۔
”’ ولیتلطف “‘
یہ لفظ پورے قرآن پاک کا خلاصۃ ہے اور اسکا ترجمہ ہے
(اور نرمی سے بات کیا کرو)
جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السّلام کو فرعون کے پاس بیجھا تو فرمایا تھوڑی نرمی سے بات کرنا شاید وہ
مان جائے ۔۔۔کون مان جائے وہ آدمی جو طاقت اور تکبر میں ڈوبا ہوا ہے ۔۔۔۔
زندگی کتنی بدل جائے اگر ہم بھی لوگوں سے نرمی سے بات کریں اور نرمی سے بات کرنے کو کمزوری نہی بلکہ اجزی اور الا ظرفی ہے ۔۔۔۔اسنے بولتے ابرش کی طرف دیکھا ۔۔۔کتنی خوبصورت تفسیر ہے اسکی زاویار ابرش نے نم آنکھوں سے کہا
سورت کہف ابرش نے سورت کہف کی آیات پر اپنی شہادت کی انگلی پھیری اور آنکھوں سے آنسو صاف کرکے دل جمی سے تلاوت شروع کی ۔۔۔دونوں ساتھ بیٹھے تلاوت کر رہے تھے زاویار نے تلاوت مکلمل کر کے قرآن کریم بند کیا اور ابرش کو دیکھا حجاب کے حالے میں اُسکا پر نور چہرہ چمک رہا تھا اور وہ پورے انہماک سے پڑھ رہی تھی
وہ ہمیشہ سے یہ چاہتا تھا کے اپنی ہمسفر کے ساتھ مل خدا کی عبادت کرے اور جانتا تھا کے وہی اُسکو ملے گی اسنے ہمیشہ اللہ پاک سے اُسے مانگا اُسکا ساتھ مانگا اور خدا اپنے بندے کی سنتا ہے
اسنے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور خدا سے ہمیشہ ساتھ رہنے کی ۔۔۔۔اور اُسکی عبادت کی توفیق مانگی ۔۔۔منظر بہت خوبصورت اور مکمل تھا
اور وہ (قرآن) تو سارے جہانوں کے لیے نصیحت ہے
سورت قلم ( آیت 52)
