Raah E Zest Ho Tum By Yumna Writes Readelle 50365 Raah E Zest Ho Tum (Episode 12)
Rate this Novel
Raah E Zest Ho Tum (Episode 12)
Raah E Zest Ho Tum By Yumna Writes
اُسکی آنکھ زاویار کی آواز پر کھلی ۔۔۔۔اٹھ کر فريش ہو کر باہر آئی ۔۔۔۔۔ابر جلدی سے ناشتا کریں ٹھنڈا ہو جائیگا زاوی مجھے نیند آئی ہے بہت اسنے آنکھیں بند کرتے ہوے کہا ۔۔۔۔ناشتا کرکے سو جائیے گا زاوی نے ٹیبل پر ناشتا رکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔ناشتے سے فارغ ہو کر اسنے سارے برتن کچن میں رکھے واپس آیا تو وہ ٹیبل پر سر رکھے سونے کا شغل فرما رہی تھی ۔۔۔۔
نظر اُسکے معصوم چہرے ٹک گئی
پاس آ کر اُسے بانہوں میں بھرا اور روم میں بیڈ پر لٹایا اُسکے ماتھے پر محبت بھرا لمس چھورتے وہ دور ہوا آپ سو جائیے میں لوک لگا جاتا ہوں اور ملازمہ کو کہتا ہوں لیٹ آ جائے آله حافظ کچھ لانا ہوا تو کال کر دیجئے گا اوک”
ابرش بند ہوتی آنکھوں سے خاموشی سے اُسے جاتا دیکھتی رہی ۔۔۔
جلد ہی وہ دوبارہ نیند میں چلی گئی ۔۔۔۔دوبارہ اُسکی آنکھ بیل کی آواز سے کھلی وقت دیکھا تو ایک بجنے والا تھا جلدی سے اٹھ کر دروازہ کھولا سامنے ملازمہ کھڑی تھی ۔۔۔۔باجی کب سے بیل بجا رہی ہوں کھول ہی نہی رہی تھی ۔۔۔
آ جاؤ سوئی ہوئی تھی پتہ نہی چلا مجھے ،،باجی جی آپکی طبیعت ٹھیک ہے اتنی دیر تک سوتی رہی ۔۔۔۔ملازمہ نے عجیب نظروں سے اُسے دیکھا ۔۔۔ہاں بس ویسے ہی پتہ نہی کیوں آج آنکھ ہی نہی کھل رہی ۔۔۔۔
ذاویار کے جانے کے بعد پھر سو گئی ابھی بھی سر وزنی ہو رہا ۔۔۔۔
باجی اور کیا ہو رہا ہے ؟؟ ملازمہ آنکھوں میں چمک لیے بولی ۔۔۔
کیا مطلب کیا ہو رہا ہے ؟؟ابرش نے ابرو اچکا کر پوچھا ۔۔۔
میرا مطلب باجی دل خراب ۔۔۔۔متلی تو نہی ہو رہی ؟؟ملازمہ نے بڑے اشتیاق سے پوچھا
نہی ایسا تو کچھ نہی ہو رہا ابرش نے نہ سمجھیں سے اُسکی طرف دیکھا ۔۔۔۔
باجی آج صاحب آئے گے نہ تو آپ جلد ہی ڈاکٹر سے چیک اپ کروائیں ۔۔۔اللہ خیر کرے گا انشا اللہ
وہ معنی خیزی سے بولی
نہی ڈاکٹر کے پاس جانے کی ضرورت نہیں بس مجھے لگتا ہے رات کو نیند نہی پوری ہوئی اسلئے ایسا ہو رہا ہے رضیہ ،،
وہ اُسکی بات کا مطلب سمجھے بغیر بولتی کیچن سے پانی کا گلاس لیتی باہر آئی،،
تم سب سے پہلے مجھے کافی بنا دو پھر صفائی کرنا اور ہاں آج مجھے تمہاری ہیلپ بھی چاہیے ابرش ملازمہ کو کہتی صوفے پر بیٹھ گئی
جی باجی کیا کرنا ہے ۔۔۔۔
آج میں نے پہلی دفعہ کچھ بنانا ہے تم میرے پاس کھڑی رہنا میری ہیلپ کرنا میں نہیں چاہتی کے پہلی بار میں ہی خراب چیز بناؤں ابرش نے اُسے دیکھتے کہا ۔۔۔
باجی بنانا کیا ہے رضیہ کافی کا مگ اُسکے آگے رکھتے ہوے بولی ۔۔۔۔”شاشلک ود چائنیز رائس ” .
ہیں ،،،،،”’ ‘یہ کیا ہوتا ہے باجی میں تو نام ہی پہلی دفعہ سن رہی ہوں بنانا تو دور کی بات ہے ملازمہ نے ہونق بنے عجیب سی شکل بناتے اُسے دیکھا
باجی ہم غریب لوگ سادے کھانے کھاتے ہیں ہمیں یہ’ چمک شہلك” نہیں کبھی کھائے اور نہ بنائے
ہاہاہا رضیہ حد ہے یہ بھی سادہ کھانا ہی ہے اور یہ (چمک) ہا ہا نہی ہے ابرش نے ہستے ہوے پیٹ پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ،
تم بس میری ہیلپ کر دینا میں یوٹیوب سے دیکھ لونگی ریسیپی۔۔۔
پہلے تم صفائی کرو پھر بتاتی ہوں میں چیزیں دیکھ لوں پوری ہیں ورنہ تم لے آنا
ٹھیک ہے باجی کہتی ملازمہ صفائی کرنے لگی
یوٹیوب سے اسنے ساری ریسیپی دیکھی رضیہ کے ساتھ مل کر سبزیوں کی کٹنگ کی
نہیں رضیہ ایسے نہی لمبی طرح ہاں ایسے ہی اُسے گول شیپ میں سبزیاں کاٹتے دیکھ وہ ٹوک گئی۔۔۔۔
اتنی محنت کے بعد آخر کھانا بن ہی گیا ۔۔۔۔۔یہ لو اب ٹیسٹ کرکے بتاو کیسا بنا ہے اسپون رضیہ کی طرف بڑھایا ۔۔۔۔
باجی یہ تو بہت مزے کا ہے ۔۔۔۔سچ کہہ رہی ہو نہ دل تو نہی رکھ رہی میرا ابرش نے رضیہ کی طرف مشکوک نگاہوں سے دیکھا
چاولوں کو دم سے اتارنے کے بعد اوپر دھنیا ڈال کر اسنے سائڈ پر رکھ دیا ۔۔۔۔
نہیں باجی جی آپ دیکھنا صاحب جی کو بہت پسند آئیگا کھانا اُنگلیاں چاٹتے رہ جانی ہیں انہوں نے ۔۔۔
اچھا اچھا اب اتنی بھی تعریف نہ کرو وہ تو آ کر ہی بتائے گے بہت دیر ہو گئی ہے آج تو۔۔۔۔۔۔آج میں نے تمہارا بہت وقت لے لیا نہ رضیہ
تھنک یو سو مچ “باجی اس میں شکریہ والی کیا بات ہے آپ بہت اچھی ہیں اللہ اپ دونوں کی جوڑی سلامت رکھے اور آپکو نیک اولاد عطا کرے۔۔۔
اور صاحب جی کے ساتھ ڈاکٹر پے چلی جائیے گا کہتے ہی وہ باہر نکلنے لگی اندر داخل ہوتے زاویار نے اُسکی بات سنی ۔۔۔۔
کیا ،،،کیا ہوا ہے ابرش کو اسنے جلدی سے اندر آتے پریشانی سے استفسار کیا ۔۔۔۔صاحب جی یہ تو آپ باجی سے ہی پوچھ لیں کہتے ہوے وہ ہستی باہر نکل گئی ۔۔۔
اندر داخل ہوتے وہ جلدی سے ابرش کی جانب بڑھا
کیا ہوا ہے آپکو ابر؟؟
طبیعت خراب ہے تو مجھے کال کیوں نہی کی آ جائیں ڈاکٹر پے چلتے ہیں اُسکی سنے بغیر بس وہ اُسکا ہاتھ تھامتا اٹھا ۔۔۔۔کیا ہو گیا ہے ضاوی سانس تو لے لیں
میری بات تو سن لیں کچھ نہیں ہوا مجھے بس ویسے ہی رات لیٹ سونے کی وجہ سے چکر آ رہے تھے اسی لیے رضیہ کہہ رہی تھی ڈاکٹر پے چلی جانا میں نے بولا بھی اُسے کے میں ٹھیک ہوں لیکن پھر بھی عجیب ہی سوال کر رہی تھی ۔۔۔۔
وہ زِچ ہوتی بولی،،
کیا پوچھ رہی تھی وہ زاویار نے اُسے ساتھ لگاتے ہوے پوچھا !! یہی کے دل خراب تو نہی ہو رہا یا پھر متلی تو نہی آ رہی ۔۔۔۔میں نے منع کیا تھا آپکو نہ بتائے میں ٹھیک ہوں بس ویسے ہی کبھی اتنی جلدی اٹھی نہی اسلئے ایسا ہو رہا تھا اب میں بالکل ٹھیک ہوں نیند پوری ہو گئی تھی میری اسنے زاویار کی شرٹ کے بٹنوں پے انگلیاں پھیرتے کہا ۔۔۔زاویار جانتا تھا کے وہ ایسا کیوں کہہ کر گئی ہے ۔۔۔۔اور یہ بھی جانتا تھا کے ابرش کو اُسکی بات کی بالکل سمجھ نہیں آئی ہوگی ۔
اسکو خاموش دیکھ کر وہ بولی
چلیں آپ جلدی سے فریش ہو کر آئیں آج میں نے کوکنگ کی ہے ابرش نے اس سے دور ہوتے کہا ۔۔۔
آپ نے کیوں کی رضیہ بنا لیتی۔۔۔پہلے ہی طبیعت ٹھیک نہیں تھی پھر کیا ضرورت تھی کیچن میں جانے کی ،طبیعت زیادہ نہ خراب ہو جائے
اوہو زاوي کیا ہو گیا ہے آپکو پوری اما جی لگ رہے ہیں اس وقت مجھے ۔۔کچھ نہیں ہوا مجھے بتایا تو ہے بلکل ٹھیک ہوں اور اب مہربانی فرما کر جلدی سے اٹھ جائے ورنہ میں نے ناراض ہو جانا
وہ اُسکی باتوں سے تنگ آتی اُسے دھمکی دیتی بولی
لیکن،،ابھی وہ کچھ بولتا کہ وہ بول اٹھی
مجھے بھی آپکے لیے کچھ بنانا تھا روز آپ ہی بناتے ہیں نہ آج میں نے بنا لیا ۔۔۔
کہیں آپ اسلئے تو نہی کہہ رہے کے میں اچھا نہی بناؤگی ابرش نے اپنی کمر پر دونوں ہاتھ رکھتے آنکھیں چھوٹی کرتے پوچھا ،،
میری توبہ میں اگر آپ کی شان میں یہ گستاخی کروں تو اسنے کانو کو ہاتھ لگاتے کہا ۔۔۔۔
ہا ہا ہا بس اب زیادہ معصوم نہ بنئیں اور جلدی سے واپس آئیں مجھے بوکھ لگی ہے بہت ابرش نے مسکین سی صورت بناتے کہا ۔۔۔۔
جو حکم یور ہائنس کہتے وہ چلا گیا ۔۔۔ابرش ٹیبل پر برتن لگا رہی تھی جب وہ فریش سا اپنے پسندیدہ ٹروزر شرٹ میں اسکے قریب آیا “میں ساتھ ہیلپ کروں ؟؟۔نہیں بالکل نہی آج آپ میرے مہمان ہیں اور مہمان خالی ہاتھ نہی آتے لیکن کوئی بات نہیں آپ رات کو آیس کریم لے آئیے گا مسکراتے چہرے سے بولتے اُسکی جانب دیکھا
جی ٹھیک ہے میڈم کوئی اور حکم غلام حاضر ہے زاوی بیٹھتے ہوے بولا
آج سب کام میں خود کرونگی کہتے اسنے ٹرے اُسکے سامنے رکھی سب چیزیں لا کر خود بھی اُسکے ساتھ بیٹھی ۔۔۔۔
چلیں اب بسمللہ کریں ۔۔۔۔
پہلے آپ کھائیں تاکہ اگر پیٹ خراب ہو تو آپکا ابرش نے مسکراتے ہوئے کہا ۔۔۔۔نہ کریں ابر مہمانوں کے ساتھ اس طرح کا ظلم کون کرتا ہے یار ۔۔۔کھانے سے پہلے ہی ڈرایا جا رہا ہے زاویار نے معصوم سی شکل بنائی
میں کرتی ہوں ایسے اور یہ مہمان اور کوئی نہی میرا شوہر ہے میں سب کچھ کر سکتی ہوں اُسکے ساتھ میرا حق ہے ابرش نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔۔
جی جی ہم تو آپ کے غلام ہیں زاویار نے جھکتے ہوے کہا ۔۔۔چلیں ٹیسٹ کریں پھر میں بھی کھاؤں ۔۔۔۔
ییم “” ہمم بہت ٹیسٹی ہے ابر یہ سچ میں آپ نے ہی بنایا ہے اسنے ابرش کو جان بوجھ کر تنگ کرنے کے لیے کہا ۔۔۔نہی ساتھ والی آ کر بنا گئی ہے ابرش نے جل کر کہا
مذاق کر رہا ہوں یار آپ بھی لیں بہت اچھا بنا ہے “ویل ڈن ۔۔۔
مجھے بھی ٹیسٹ کروائیے ابرش نے اُسکے قریب چہرہ کیا زاوی نے اُسے کھلایا ۔۔۔۔یہ تو سچ میں بہت اچھا بنا مجھے لگا آپ میرا دل رکھنے کے لیے کہہ رہے ہیں اسنے کہتے اپنی پلیٹ میں بھی رائس نکالے ۔۔۔یونہی باتوں کے دوران کھانا کھایا گیا
کیچن سے فارغ ہو کر وہ اپنے روم میں آ گئی ۔۔۔زاویار اُسکے لیے آئس کریم اور کچھ چیزیں لینے باہر گیا تھا اسلیے وہ خاموشی سے کمرے میں آتی سائڈ ٹیبل پر پڑی اُسکی کتاب اٹھائے اسکا جائزہ لینے لگی ۔۔اکثر اُسنے صبح نماز کے بعد اُسے اس کتاب کو پڑھتے دیکھا تھا
کتاب کے کور کو دیکھا تو ایک طرف حدیث شریف بمّع ترجمہ اور دوسری جانب آیات ترجمے کے ساتھ تھی ۔۔۔
اسنے پیج الٹے،،
قرآن پاک کی آیت مبارکہ پر اُسکی انگلی رکی
اِنَّ اِلٰهَكُمۡ لَوَاحِدٌ۔
اسنے بلند آواز میں آیت مبارکہ پڑھی
ترجمہ:-
تُمہارا معبود ایک اللّٰہ ہی ہے۔
مفہوم:-
بعض کُفّار فرشتوں کی عبادت کرتے تھے ‘ اللّٰہ تعالیٰ نے فرشتوں کی قسم کھا کر فرمایا بیشک تمہاری عبادت کا مستحق ضرور ایک ہے ‘ یعنی جن کو تم اپنا معبود قرار دیتے ہو وہ تو خود اس کے شاہد ہیں کہ تمہاری عبادت کا مستحق صرف ایک ہے اور وہ اللّٰہ عزو جل ہے۔
سورۃالصافات، آیت۔نمبر 4
مفہوم پڑھتے اُسکے دل کی کیفیت عجیب ہو رہی تھی ۔۔اچانک آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔۔
وہ بھی تو خدا سے دور تھی،،کیا وہ کفار میں شامل ہو رہی تھی؟؟
یہ سوال اُسے بیچین کر رہا تھا۔۔دل جیسے پھٹنے کو تھا
کتاب کو بند کرتے ایک طرف رکھتے وہ واشروم میں وضوء کی غرض سے چلی گئی۔
