Raah E Zest Ho Tum By Yumna Writes Readelle 50365 Raah E Zest Ho Tum (Episode 17)
Rate this Novel
Raah E Zest Ho Tum (Episode 17)
Raah E Zest Ho Tum By Yumna Writes
فجر کے وقت زاویار کی آنکھ کھلی اٹھتے ہی اسنے جلدی سے ابرش کے ما تھے پر ہاتھ لگا کر چیک کیا کے بحار ختم ہوا کے نہی ۔۔۔۔اُسکا نارمل ٹمپریچر دیکھ کر اسنے شکر ادا کیا اور اُسے نماز کے لیے اٹھایا
نماز ادا کر کے وہ اٹھی تو زاویار لاؤنج میں بیٹھا قرآن پاک کی تلاوت کر رہا تھا اُس نے مسکراتی آنکھوں سے اُسے دیکھا اور اس کے قریب لاؤنج میں صوفے پر بیٹھ گئی بازوں کا گھیرا اُسکے گرد ڈال کر سر اُسکے سینے پر رکھا ۔۔۔زاویار اُسکی اس حرکت پر مسکرایا ۔۔۔۔سوئی نہی آج میری جان؟؟
قرآن پاک بند کرکے اسنے محبت سے پوچھا اور اُسکے ماتھے پر اپنا ہاتھ لگایا کے کہیں پھر سے تو بحار نہی ہو رہا
نہی زاوی مجھے اکیلے نیند نہی آ رہی اور ویسے بھی مجھے آپ کی تلاوت سننی تھی اسلئے میں آپ کے پاس آ گئی ابرش نے اُسکی شرٹ پر اُنگلیاں پھیرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔زاوی مجھے سورت یاسین کی تلاوت سنائے ابرش اُسکی طرف دیکھ کر مان سے بولی
زاویار نے اُسکی خواہش کا احترام کرتے ہوئے سورت یاسین کی تلاوت شروع کی۔۔۔۔
اُسکی خوبصورت آواز سے ابرش کے اندر سکون اُترا ۔۔۔۔تلاوت مکمل کرکے اسنے ابرش پر پھونک ماری ابرش چمکتی آنکھوں سے اُسے دیکھ مسکرائی۔۔۔
۔قرآن پاک غلاف میں رکھا اور سورت یاسین کی فضیلت کے بارے میں بولنا شروع کیا ۔۔۔
رسول اکرم صلی االلہ علیہ السلام نے فرمایا :
ہر چیز کا دل ہے اور قرآن کا دل سورت یاسین ہے اور جو ایک مرتبہ سورت یاسین پڑھے گا اُس کے لیے دس مرتبہ پڑھنے کا ثواب لکھا جائے گا ۔۔۔۔ابرش آنکھیں موندے اُسے سن رہی تھی اُسکی آواز سے اُسے سکون مل رہا تھا
زاویار اُسے بانہوں میں لے کر بیڈ پر لیٹ گیا اور آنکھیں موند لی اُسکا آج پولیس سٹیشن جانے کا کوئی ارادہ نہی تھا ابرش کو وہ اکیلا نہی چھوڑنہ چاہتا تھا
اُسکی آنکھ بیل کی آواز سے کھلی وقت دیکھا تو گیارہ بج رہے تھے اٹھ کر دروازہ کھولا تو اُسکے اندازے کے عین مطابق رضیہ کھڑی تھی ۔۔۔ سلام کا جواب دے کے وہ اپنے روم میں فریش ہونے آ گیا ۔۔۔فریش سا وہ کچن میں ناشتا بنانے کے لیے کھڑا تھا صاحب آپ رہنے دیں میں بنا دیتی ہوں ناشتا رضیہ جلدی سے آگے ہوتی بولی
نہی آپ رہنے دیں میں خود بنا لونگا زاویار بولتا فریج سے انڈے نکالنے لگا
صاحب جی باجی کہا ہیں آج ہم نے مل کر کچھ بنانا تھا پتہ نہیں کیا نام تھا عجیب سا “سٹک ،،،کہہ رہی تھی شاید باجی اسنے اُلجھتے ہوئے کہا
زاوی مسکراہٹ ضبط کرتا بولا چکن سٹیک کہا ہوگا انہوں نے آپکو لیکن آج وہ نہی بنائے گی اُنکی طبیعت ٹھیک نہی رات کو بحار تھا
ہائے کیا ہوا زیادہ طبیعت خراب ہے باجی کی میں دیکھ کے آؤں صاحب رضیہ پریشانی سے بولی
نہی اب الحمدللہ ٹھیک ہیں میں ابھی اٹھاتا ہوں انہیں پھر آپ مل لینا دلیہ بنا لوں پہلے
سردی کی وجہ سے طبیعت خراب ہوئی تھی ۔۔۔آپ یہ باول میں ڈال دیں اور ٹرے ریڈی کریں میں اٹھاتا ہوں انہیں وہ کہتا کمرے کی طرف چلا گیا
ابر اٹھ جائیں ناشتا ریڈی ہے اُسکے چہرے سے بال ہٹائے اور پیشانی پر ہاتھ لگایا ۔۔۔ابر اٹھ جائیں میرا بچہ
اسنے ہلکی سی آنکھیں کھولیں زاوی میرا دل نہی کر رہا اٹھنے کو کہتے وہ کروٹ بدل گئی
ابر اٹھ جائیں کچھ کھائے پھر میں آپکو دوا دیتا ہو شاباش میں لا رہا ہوں ناشتا جلدی سے فریش ہو کر آئے
ابرش قصلمندی سے اٹھ کر واشروم میں چلی گئی
فریش سی وہ پیلے رنگ کے کرتا شلوار میں ہم رنگ دوپٹہ لیے جو شانو پر جھول رہا تھا سون سون کرتی باہر نکلی
آ جائیں ابر زاوی ٹرے رکھتا ہوا بولا وہ آکر بیٹھی تو رضیہ چائے لے آئی
سلام باجی کیسی طبیعت ہے صاحب جی نے بتایا آپ بیمار پڑ گئی رضیہ نے متفکر سے پوچھا
ابرش اُس کے انداز پر مسکرائی کچھ نہی ہوا رضیہ تم پریشان نہ ہو میں بلکل ٹھیک ہوں بس رات کو آیس کریم کھا لی اسلئے فلو ہو گیا اور اپنے صاحب کی تو بات ہی نہیں کرو یہ جناب تو مجھے رات کو بھی دوا دے چکے ہیں اور اب پھر لے آے ابرش نے خفا سی نظر زاوی پر ڈالی جو دلیہ میں چمچ چلا رہا تھا
میں بلکل ٹھیک ہوں تم کام سے فارغ ہو پھر ہم آج اسٹیک بنائے گے ابرش نے پرجوش انداز میں رضیہ کی طرف دیکھتے کہا
کوئی کچھ نہی بنائے گی آپ آج اور کوئی طبیعت ٹھیک نہیں آپکی سوں سوں کر رہی ہیں فلو ختم نہی ہوا اور اگر آپکو رات کو پین کلر نہ دیتا تو ابھی تک بحار میں تپ رہا ہونا تھا آپ نے ۔۔۔آپکو اپنا خیال ہی نہی زاوی نے کہتے ہوئے چمچ اُسکی طرف بڑھایا
زاوی مجھے نہی کھانا دلیہ ابرش نے منہ پھولاتِ کہا ابرش بحار میں نرم غذا ہی کھاتے ہیں
تھوڑا سا کھا کر تو دیکھیں ،،زاوی نے اُسے پچکارتے ہوے کہا اگر پسند نہی آیا تو نہ کھانا
ٹیسٹ تو کرکے دیکھیں یار۔۔
ابرش نے سر ہلاتے منہ کھولا ایک چمچ کھا کر پھر سے آگے کی طرف ہوئی اور کھلانے کا اشارہ کیا
باز آ جائیں اپنی شرارتوں سے زاویار نے محبت سے اسکو کھلاتے ہوئے کہا
زاوی سچ میں بہت ٹیسٹی ہے لائیں یہ مجھے دیں آپ بھی بریک فاسٹ کر لیں چائے ٹھنڈی ہو جائیگی آپکی کہتے اسنے ہاتھ آگے کی سمت بڑھائے
نہی میں کھیلا رہا ہوں ۔۔۔۔آپ فنش کرئیں میں بھی کھا لوگا
لیکن زاوی ۔۔۔۔ابر خاموشی سے کھائیں ۔۔۔۔اٹھنا نہیں آج آپ نے بیڈ سے جب تک آپ بلکل ٹھیک نہی ہو جاتی ایک دن میں رنگت زرد ہو گئی ہے ،،وہ متفکر سا اُسے دیکھتا بولا
زاوی میں ٹھیک ہوں آپ مجھے بلکل بچوں کی طرح ٹریٹ کر رہے ہیں
جی ہاں آپ بچی ہی ہیں،،
جی نہیں ،،میں آپکی بیوی ہوں،،کوئی بچی وچی نہیں۔
اچھا میری پیاری سی بیوی صاحبہ
اُسکے پھولے گالوں کو محبت سے سہلاتے اُسنے کہا،، اب خاموشی سے لیٹ جائیں آپ اور یہ دوائی لیں ورنہ ڈاکٹر پر لے جانا ہے میں نے آپ کو پھر انجکشن لگے گا اور میں کچھ نہی کر سکونگا تب،،
اُسے ڈراتا وہ دوا لینے پر مجبور کرنے لگا ،،جانتا تھا اگر ویسے کہا تو وہ کبھی بھی میڈسن نہیں لے گی
مجھے کیا اگر آپ جانا چاہے تو کہتے زاویار نے شانے اچکائے وہ جانتا تھا کے ابرش کو انجکشن سے بہت ڈر لگتا ہے اسی لیے ایسے بولا ۔۔۔۔۔۔
ابرش نے خاموشی سے ایک ٹیبلٹ کھائی اور کمفٹر شانو تک لے کر منہ پھلا کر لیٹ گئی
جانتی ہوں میں آپ مجھے جان بوجھ کر خوفزدہ کر رہے ہیں تاکہ میں میڈسن لے لوں تھوڑا سا چہرہ کمفر ٹر سے نکال کر بولتے اوپر تک اوڑھ لیا
زاوی مسکراہٹ چھپاتا خاموشی سے کچن کی اطراف میں گیا
اور پھر انجکشن کے خوف سے ابرش بیڈ سے نہی اُتری سارا دن زاویار اُسکے پاس رہا اُسکے ساتھ مل کر زبردستی ابرش نے پاستا بنایا اُسکی طبیعت اب کافی حد تک ٹھیک تھی ۔۔۔۔۔
رات کو کھانے سے فارغ ہوتے وہ برتن سمیت کر بیٹھی تھی کے ایک دم کچھ خیال آتے آنکھوں کی چمک میں اضافہ ہوا
چلتی ہوئی زاویار کے پاس آئی جو بیڈ کراون کے ساتھ بیٹھا لیپ ٹاپ کھولے کچھ کام کر رہا تھا
اُنگلیاں چٹخاتی زاویار کے پاس آئی
زاوی ابرش اُسکا نام لیتے اُسکی گود سے لیپ ٹاپ اٹھائے بڑے استحاق سے بیٹھی اور اُسکے گرد بانہوں کا حصار بنائے اُسکی بیرڈ والے رخسار پر لب رکھے زاوی آپ کتنے اچھے ہیں ناں
وہ چہرے پر مسکراہٹ سجائے اُسکی جانب متوجہ ہوا اور اُسکے بال سنوارے ۔۔۔۔
ضرور کوئی بات ہے جو آپ مجھے مکھن لگا رہی ہیں ۔۔۔کیا بات ہے بتائے جلد سے اُسکے چہرے پر گہری نظر جماتے وہ بولا
امم پہلے پرومیس کریں بات مانیں گے ہاتھ آگے بڑھاتے ابرش نے کہا
اچھا ٹھیک ہے اُسکے چھوٹے سے سفید ہاتھ پر ہاتھ رکھتے زاویار نے اُسکی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا
وہ ناں مجھے آیس کریم کھانی ہے پلیز بس تھوڑی سی کل والی پڑی ہے پلیز “پلیز ،،ضاو بس اتنی سی،، ابرش نے ہاتھوں سے تھوڑی سی کا اشارہ کرتے ہوے کہا
زاویار کو وہ اتنی معصوم لگی اُسکے من موہنے چہرے سے مشکل سے نظریں ہٹائیں اور اجازت دے دی ۔۔۔ابرش تو خوشی سے اچھل ہی پری زاوی آپ سچ میں بہت اچھے ہیں کہتے اُسکے گال پر لب رکھے
اُف لڑکی میرا ضبط نہ آزمایا کرو ایسی حرکتیں کر کے ورنہ آپ کے لیے مشکل ہو جانی ہے،،زاویار کے معنی حیز انداز سے سٹپٹاتی اُس کی گود سے جلدی سے اٹھی
جائیں اب کی بار وہ گہرئی نظروں سے اُسے دیکھتے ہوئے بولا جو لیپ ٹاپ دوبارہ اُسکی گود میں رکھ چکی تھی
اب لے آئیں اور میرے سامنے لا کر کھائے زیادہ نہی کھانی پھر نہ طبیعت خراب ہو جائے ۔۔۔جلدی کریں نماز کا وقت بھی ہو گیا کہتے وہ اٹھ کر وضو کرنے چلا گیا
وضو کرکے باہر آیہ تو ابرش مزے سے بیٹھی آیس کریم باؤل گود میں رکھے کھا رہی تھی
ابرش میں نے کہا تھا تھوڑی زاویار نے سپاٹ سے انداز میں اُسکے سامنے آتے کہا
تو زاوی یہ کونسا بہت زیادہ ہے بس تھوڑی سی ہی ہے اسنے آنکھیں پٹپٹاتے معصومیت سے کہا
زاویار کی آنکھیں تو اُسکے صاف جوٹھ سے خیرت کی زیادتی سے پھیل گئی
وہ مسکراتی اُسکی طرف باؤل کرتے کھانے کا اشارہ کرتی اُسکا چہرہ سرخ کر گئی
اسنے باؤل اُسکے ہاتھوں سے اُچک لیا بس بہت کھا لی اس سے زیادہ نہی
زاوی ابھی تو میں نے تھوری سی کھائی ہے مجھے واپس کریں میری آیس کریم ورنہ میں آپ سے بات نہی کرنی ابرش غصے سے منہ پھلاتی بولی
نہی کوئی ضرورت نہیں بس جتنی کھا لی بہت ہے باقی کی کل کہتے وہ سرد لہجے میں کہتا باؤل لیے کچن کی طرف چلا گیا
واپس روم میں آیا تو ابرش رونے کا شغل فرما رہی تھی ابرش آپ کیوں مجھے تنگ کر رہی ہیں آپ چھوٹی بچی تو نہی جو ایسے ضد کر رہی ہیں بولا تو ہے کل کھا لینا کہتے زاوی نے اُسکے سرخ گال پر سے آنسو صاف کیے
ابرش اُسکا ہاتھ جھٹکتی منہ پھیر گئی
مجھ سے بات نہ کریں آپ بلکل بھی اچھے نہی میری بات نہی مانتے ۔۔۔۔
دل میرا ابھی کر رہا تھا اور کھاؤں کل یہ کیا بات ہوئی وہ آنکھوں میں آنسو لیے چہرہ پھیر گئی
مجھے میرے بابا پاس جانا ہے ،،وہ مجھے سب چیزیں لا کر دیتے ہیں میری ساری باتیں مانتِے ہیں اور آپ کنجوس ہیں میری کوئی بات نہیں مانتے وہ منھ پھولاتی
کہتی پھر سے آنسو بہا نے لگی
ہر وقت حکم چلاتے رہتے ہیں مجھ پر میں آپکی ساری شکایتیں بابا کو لگاونگی ۔۔۔۔مجھ سے کوئی پیار نہی کرتا صرف میرے بابا کرتے ہیں ،،آپ بلکل بھی اچھے نہیں
زاویار کا تو حیرت کے مارے منہ کھل گیا صرف ایک آیس کریم کے لیے منع کیا تو محترمہ نے اُسے ظالم جلاد ،،کنجوس اور برا بنا دیا ۔۔۔
وہ ہنستے ہوئے سر نفی میں ہلاتا اُسکے پاس بیٹھے اُسکا چہرہ اپنی طرف کرتا اُس سے مخاطب ہوا
اچھا تو میری زندگی مجھ سے ناراض ہو گئی ہے ایک آیس کریم کی وجہ سے میں کنجوس ” اور پتہ نہیں کیا کیا ہو گیا
اور آپ بابا سے میری شکایت بھی لگائے گی زاویار اُسکا چہرہ ہاتھوں میں لئے گویا ہوا
ابرش نے زور شور سے اثبات میں سر ہلایا
اچھا ٹھیک ہے لگا دیجیۓ گا آپ تایا جان سے زیادہ سے زیادہ کیا ہوگا وہ مجھے ڈانٹیں گے ہو سکتا غصے میں گھر سے نکال دیں زاویار نے ڈرنے کی ایکٹنگ کرتے مسکراہٹ ضبط کرتے کہا
چلیں کچھ نہی ہوتا میرا کیا ہے پولیس اسٹیشن ہی سو جایا کرونگا لیکن آپ تو خوش ہو جائیگی نہ اسنے چہرے پر مسکینیت طاری کرتے اُسکی جانب دیکھتے ہوے کہا
اور پھر اللہ تعالیٰ بھی ناراض ہو جائے گے کے اپنی پیاری سی معصوم سی بیوی کو کیوں رُلایا پھر میرا کیا ہے اللہ بھی سزا دے گا اور تایا جان بھی لیکن کچھ نہی ہوتا میں تو اچھا ہوں ہی نہیں،،
ابرش روہانسی ہوتی دانتوں میں انگلی دیے نم آنکھوں سے اُسکی جانب دیکھنے لگی جو مسکینیت کا لبادہ اوڑھے سر جھکائے بیٹھا تھا
اُسے کہا منظور تھا کہ اُسے کوئی کچھ کہے،،
ابرش اُسکے نزدیک ہوتی اُسکے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے چہرے پر پریشانی لیے بولی نہی تو آپ تو بہت اچھے ہیں زاوی ،،،میں بابا سے کچھ نہی کہونگی اور نہ اللہ جی سے اور میں آپ سے ناراض بھی نہیں ہوں آپ تو میری سب باتیں مانتے ہیں
زاویار چہرہ جھکائے دانتوں میں لب دبائے اُسے بولا،، آپ نے تو کہا کے میں کنجوس بھی ہوں
ابرش نے اُسکا چہرہ اپنے چھوٹے نرم و نازک ہاتھوں میں بھرا اور اُسکے گال پر اپنے لب رکھے ،، مانو جیسے وہ اپنی کی تمام باتوں کا اثر زائل کرنا چاہ رہی ہو
وہ تو میں ویسے ہی بول گئی نا،، وہ بے انتہا معصومیت سے بولی ،، ورنہ آپ بلکل بھی کنجوس نہی سب چیزیں لا کر دیتے ہیں مجھے اور میری سب باتیں مانتے ہیں ،،آپ تو بہت اچھے ہیں ابرش نے اپنی تھوڑی دیر پہلے بولی ہوئی بات کا اثر زائل کرنا چاہا
اللہ تعالی کچھ نہی کہیں گے آپ کو ابرش نے اُسکا ہاتھ تھپتھپاتے ہوے حوصلہ دیا
لیکن مجھے آپ کے ایسا بولنے سے تکلیف ہوئی ،،زاوی جان بوجھ کر اُسے تنگ کرنے کے ارادے سے بولا ،،
تو میں پیار بھی تو کر رہی ہوں ناں ،، وہ اُسکی آنکھوں کو چومتی بولی،،
میں ابھی بھی ناراض ہوں،،وہ اُسے مزید تنگ کرتا بولا
وہ اُنگلیاں مرورتی آگے کو جھکتی باری باری اُسکے دونو گالوں پر لب رکھ گئی ،،اُسکی ناک پر لب رکھتی وہ دور ہوتی کچھ توقف کے بعد بولی ،،
اب ٹھیک ہے،، آنکھوں میں موٹے موٹی آنسو لیے وہ اُسے دیکھ رہی تھی
میری جان رونا نہیں ،،میں ٹھیک ہوں یار ویسے ہی تنگ کر رہا تھا آپکو ۔۔ وہ انگلیوں کی پوروں سے اُسکے آنسو صاف کرتا بولا
آپ مجھ سے ناراض نہیں ہیں ناں اب،،
نہیں میری جان میں اپنی اتنی پیاری سی وایفی سے کیسے ناراض ہو سکتا ہوں ،میں اپنی زندگی سے کبھی ناراض نہی ہو سکتا ہوں کہتا اُسے خود میں بینچ گیا۔
ابرش اُسکے سینے پر اپنے ہاتھ مارنے لگی،،اُسکی شرارت سمجھتی”
زاویار سے اپنا قہقہ کنٹرول کرنا مشکل ہو گیا اُس نے جلدی سے واشروم کی جانب دوڑ لگائی اس سے پہلے کے اُسکا راز فاش ہو اور وہ اُسکے اعتاب کا نشانہ بنے
باہر نکل کر اُس نے جائے نماز پھیلایا ابرش دوپٹے کو حجاب سٹائل میں لیتی پاس آ گئی ۔۔۔زاوی چھوٹی پڑھ لوں یہ نماز بہت لمبی ہے ابرش نے اُسکے پاس کھڑی ہوتے کہا
اگر طبیعت خراب ہے تو چھوٹی پڑھ لیں نماز سے فارغ ہو کر وہ تسبیح کر رہی تھی اور ساتھ ساتھ زاویار کو بھی دیکھ رہی تھی جو مکمل خشوع خضو سے نماز ادا کر رہا تھا
زاویار نے سلام پھیرتے اُسکی طرف دیکھا جو اُسے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔
وتر کیوں پڑھتے ہیں اسکا کیا مطلب ہے زاوی ابرش اُسکے قریب ہوتے اُسکے کندھے سے سر ٹیکاتی پوچھنے لگی
وِتر کسے کہتے ہیں ۔۔۔۔؟
وِتر میں ہم ہر روز اللّٰه سے ایک وعدہ کرتے ہیں ۔
اور وہ وعدہ بھی عبادت کی سب سے آخری ایک رکعت میں ہوتا ہے. دُعائے قنُوت ایک عہد ہے الله سبحانہ و تعالی کے ساتھ ایک مُعاہدہ ہے،ایک وعدہ ہے ۔
الّٰلھُمَّ اِنَّا نَسْتَعِیْنُکَ ۔۔۔۔ اے اللّٰہ ہم صرف تُجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں ۔
وَنَسْتَغْفِرُکَ ۔۔۔۔۔ اور تیری مغفرت طلب کرتے ہیں ۔
وَنُؤْمِنُ بِکَ ۔۔۔۔ اور تجھ پر ایمان لاتے ہیں ۔
وَنَتَوَکَّلُ عَلَیْکَ ۔۔۔۔۔۔ اور تجھ پر ہی توکل کرتے ہیں ۔
وَنُثْنِیْ علَیْکَ الْخَیْر ۔۔۔۔ اور تیری اچھی تعریف کرتے ہیں ۔
وَنَشْکُرُکَ ۔۔۔۔ اور ہم تیرا شکر ادا کرتے ہیں ۔
ولا نَکْفُرُکَ ۔۔۔۔ اور ہم تیرا انکار نہیں کرتے ۔
وَنَخْلَعُ ۔۔۔ اور ہم الگ کرتے ہیں ۔
وَنَتْرُکَ مَنْ یّفْجُرُکَ ۔۔۔۔ اور ہم چھوڑ دیتے ہیں اس کو جو تیری نا فرمانی کرے ۔
اللھُمَّ ایّاکَ نَعْبُدُ ۔۔۔ اے اللّٰہ ہم خاص تیری ہی عبادت کرتے ہیں ۔
وَلَکَ نُصَلّیْ ۔۔۔ اور تیرے لئے نماز پڑھتے ہیں ۔
وَنَسْجُدُ ۔۔۔۔ اور ہم تُجھے سجدہ کرتے ہیں ۔
وَاِلَیْکَ نَسْعٰی ۔۔۔ اور ہم تیری طرف دوڑ کر آتے ہیں ۔
وَنَحْفِدُ ۔۔۔۔۔ اور ہم تیری خدمت میں حاضر ہوتے ہیں ۔
وَ نَرْجُوا رَحْمَتَکَ ۔۔ اور ہم تیری رحمت کی اُمید رکھتے ہیں ۔
وَنَخْشٰی عَذَابَکَ ۔۔۔۔ اور ہم تیرے عذاب سے ڈرتے ہیں ۔
انّ عَذَابَک بِالْکُفّارِ مُلْحِقْ۔۔۔۔۔ بے شک تیرا عذاب کافروں کو پُہنچنے والا ہے ۔
وہ بہت آہستہ آواز میں آیات پڑھ رہا تھا اور ساتھ ساتھ ترجمہ سنا رہا تھا سمجھ آئ میرا بچہ زاویار نے اُسکے بالوں میں اُنگلیاں پھیرتے کہا
ابرش نے سر ہاں میں ہلایہ
کبھی کبھی کچھ باتیں بڑی دیر سے پتہ چلتی ہیں، یا شاید پتہ تو ہوتی ہیں لیکن اُن کی اصل سے اُن کے راز سے واقف ہونے کا ایک خاص لمحہ ہوتا ہے ۔اور یہ وقت تھا ابرش کا خدا سے نزدیکی کا اُسے جاننے کا اُسے پڑھنے کا اور اس سب میں سب سے اہم کردار زاویار ملک ادا کر رہا تھا جو اُسے سیکھا رہا تھا بتا رہا تھا محبت سے پیار سے عزت سے ۔۔۔۔
