Raah E Zest Ho Tum By Yumna Writes Readelle 50365 Raah E Zest Ho Tum (Episode 3)
Rate this Novel
Raah E Zest Ho Tum (Episode 3)
Raah E Zest Ho Tum By Yumna Writes
وہ بیٹھا کسی کیس کی فائل ریڈ کر رہا تھا
جب اُسکا فون بجا ،،
کال پک کرتے وہ فون مصروف سے انداز میں کان کے ساتھ لگا گیا
دوسری جانب سے
صفدر ملک کی پریشان آواز سن کر وہ متفکر ہوتا سیدھا ہوا،،
کیا بات ہے تایا جان سب خیریت “بتائیں تو سہی ۔۔۔وہ پریشانی سے اُن سے استفسار کرنے لگا
دوسری جانب سے پتہ نہی کیا کہا گیا وہ فون رکھتا جلدی سے اٹھا،،
صفدر ملک نے اُسے فون کرکے جلد ہی اپنے آفس بلایا تھا ۔۔۔۔
جلدی سے گاڑی کی چابیاں لے کر وہ نکلا کے ایسا کیا ہوگیا کے تایا جان نے اُسے سیدھا آفس بلایا ہے ۔۔۔
پولیس یونیفارم میں وہ آفس میں داخل ہوتے اپنی شاندار پرسنالٹی سے بہت سی لڑکیوں کا دل دھڑکا گیا تھا ۔۔۔۔
لیکن بغیر کسی کی جانب دیکھے وہ
سیدھا صفدر ملک کے آفس میں نوک کرکے داخل ہوا ۔۔۔۔سب خیریت ہے تایا جان؟؟؟
پریشانی سے اُنکی جانب بڑھاتے استفسار کیا ….
انہوں نے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔
تایا جان آپ مجھے پریشان کر رہے ہیں بتائیں تو سہی بات کیا ہے ۔۔۔
وہ مضطرب سا گویا ہوا
۔بیٹھو بتاتا ہوں ،،
انہوں نے کرسی کی طرف اشارہ کیا ۔۔۔۔
وہ خاموشی سے بیٹھ کر اُنکے بولنے کا انتظار کرنے لگا
آج میں نے بہت ضروری بات کرنے کے لیے آپکو یہاں بلایا ہے ۔۔۔
آپ جانتے ہیں ابرش یونی ورسٹی میں جا چکی ہے ،،
جی میں جانتا ہوں،،لیکن اس وقت ابرش کا اس بات سے کیا لینا،،
وہ تشویش زدہ سا اُنھیں دیکھتا بولا
بات کیا ہے آپ سیدھی بات کریں
کیوں میرا دل پریشان کر رہے ہیں”
ابرش ٹھیک تو ہے وہ متفکر سا بولا،
ہاں وہ بلکل ٹھیک ہے
اسی کے مطلق بات کرنے کے لیے میں نے آپ کو یہاں بلایا ہے
میں نے اُس پر شروع سے ہی کوئی روک ٹوک نہی کی
آپ جانتے ہیں،،
آپ دونوں کو ماں باپ کا پیار دینے کی کوشش کی لیکن ماں کی کمی کوئی پوری نہیں کر سکتا ۔۔۔۔۔
وہ افسردگی سے بولتے اُسے دیکھنے لگے
تایا جان آپ ایسے کیوں بول رہے ہیں ۔۔۔۔
آپ نے ہمیں کبھی کسی چیز کی کمی نہی محسوس ہونے دی ۔۔۔
آپ نے ہماری ماں اور باپ دونوں بن کے ہمیں پالا ہے۔۔۔
زاویار نے اُنکا ہاتھ تھام کر انکی جانب دیکھتے متانت سے کہا ‘ ان کی آنکھیں نم تھی ۔۔۔۔
زاویار کو پریشانی ہونے لگی کے ایسا کیا ہو گیا ہے جو آج اتنے سال بعد اس کے تایا کی آنکھیں نم ہوئی۔۔۔۔
لیکن بیٹا ایک بیٹی کو ماں کی ہر پل ضرورت ہوتی ہے جو اُسے بتاتی ہے زمانے کی سخت تلخیوں کے بارے میں ۔۔۔۔
جو اُسے اللہ کے قریب کرتی ہے ،،
ماں کی گود بچے کی پہلی درس گاہ ہوتی ہے
ماں کی گود سے ہی تو بچہ درس خاصل کرتا ہے ۔۔۔۔
اُسی سے تو سب سیکھتا ہے،،
لیکن میری معصوم بیٹی ان سب سے محروم رہ گئی میں نے بہت کوشش کی کہ اسکی اچھی تربیت کروں
اور کی بھی لیکن کئی جگہوں پر مجھ سے چوک ہو گئی ۔۔۔۔
پہلے تم اُسے روکتے تھے اسکو غلط کام سے منع کرتے تھے ۔۔۔
مجھے حوصلہ تھا کہ میرے بعد ہو تم اُسے سنبھالنے والے ليکن پھر تم نے اُسے مکمل آزاد چھوڑ دیا ۔۔۔۔
تم اپنی اسٹڈی اپنی جوب میں اس قدر مصروف ہو گئے کے گھر کو وقت ہی نہ دے پائے ،،،
یہ میں تم سے کوئی گلہ نہیں کر رہا میں جانتا ہوں تمہیں بھی حق ہے اپنی مرضی سے اپنی زندگی گزارنے کا لیکن ابّ”
وہ گہرا سانس ہوا کے سپرد کرتے گویا ہوئے
بہت زیادہ چھوٹ نے اُسے ضدی بنا دیا ہے
اب وہ انتہا کی ضدی اور مغرور ہو چکی ہے ۔۔۔
ہر چیز میں اپنی مرضی چلانے والی ۔۔۔
کسی کی نہ سننے والی ۔۔۔۔
اور میں نہیں چاہتا کے میری بیٹی ایسی ہو ۔۔۔ میں اُسکی ماں کو کیا جواب دونگا کہ میں اُسکی اچھی تربیت بھی نہ کر سکا
تایا جان آپ کیوں اتنی ٹیشن لے رہے ہیں ٹھیک ہو جائیگی ابھی بچی ہے ۔۔۔۔
اور میں نے اُسے منع کرنا اسلئے چھوڑا کے ،،،اس عمر میں بچے اپنی مرضی کرتے ہیں
اگر ان پر زیادہ سختی کی جائے تو وہ بگڑ سکتے ہیں۔میں ہمیشہ اسکے لیے موجود ہوں ۔۔
تائی جان سے پرامس کیا تھا میں نے اسکی حفاظت کا ۔۔۔۔۔
اُسکے ساتھ رہنے کا ،،آپ بلکل بھی پریشان نہ ہوں وہ اُن کا ہاتھ تھپتھپاتے بولا
نہی زاویار تم نہی جانتے یہ بیجھا آزادی نے اُسے بگاڑ دیا ہے ۔۔۔۔
اب ایک اور ضد لگا کر بیٹھی ہے کے مری جانا ہے اُسکی دوستیں اتنی بگڑی ہوئی ہیں
اور اپنے ساتھ ساتھ اسکو بھی خراب کر رہی ہیں لڑکوں کے ساتھ گھومنا پھرنا اُنکے لیے عام بات ہے،،
میں اسی لیے اُسکے یونی ورسٹی جانے کے حق میں نہ تھا،،لیکن اُس نے ضد باندھ لی کے جہاں اُسکی سہیلیاں جائے گی وہی وہ داخلہ لے گی
لیکن میں اُسے اُنکے ساتھ نہیں دیکھنا چاہتا،،
آدھی آدھی راتوں کو گھر سے غائب رہنا،،
خدا سے دوری ،،گندے لباس ” اُنکے لیے فیشن ہے
اور میں نہی چاہتا کے میری بیٹی اُنکی خراب سنگت میں رہ کر حصارے میں جائے
وہ ابھی اپنا اچھا برا نہی سمجھتی لیکن ہم تو جانتے ہیں
میں اُسے کسی غلط راہ پر نہی جانے دینا چاہتا صفدر ملک متفكر سے بولے ۔۔۔
تم جانتے ہو بری سنگت ہمیں لے ڈوبتی ہے ،،،
ایک مچھلی پورے تالاب کو گندا کر دیتی ہے ،، کل کو میری بیٹی کو کسی اور کام پر لگا کر پھسا دیں تو”
ہم کیا کریں گے پھر “
اور ابرش یہ بات سمجھنے کو تیار نہیں،
آجکل کی یونی ورسٹيز میں کہاں روک ٹوک ہے ،،،وہاں پڑھائی کم اور عیاشیاں زیادہ کی جاتی ہیں،،اور جو معصوم کچے ذہن کے بچے ہوتے ہیں اُنھیں بھی اپنے ساتھ لگا کر غلط راہ پر چلنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔
اُسکا دماغ انہوں نے اس قدر اپنی باتوں سے خراب کر دیا ہے ،،،کہ وہ مجھے کہہ رہی تھی کے میں اُسے جانے کی اجازت نہیں دے رہا کیوں کے تم نے منع کیا ہے،،
اور اب مجھ میں مزید کچھ برداشت کرنے کی سکت نہیں
میں اپنے بچوں کو اپنی زندگی میں خوش و خرم دیکھنا چاہتا ہوں،،
اسی لیے آج میں نے تمہیں یہاں ایک خاص مقصد کے لیے بلایا ہے،،
وہ سنجیدگی سے گویا ہوے،
آج میں تم سے کچھ مانگنے جا رہا ہوں مجھے اُمید ہے تم مجھے منع نہی کروگے
اُنہوں نے بات کرنے سے پہلے اُسکی جانب دیکھا
جو اُنھیں بڑے غور سے سُن رہا تھا
اُنکا ذہن الگ الجھ رہا تھا اگر اُسنے انکار کر دیا تو کیا کریں گے وہ ،،
تایا جان آپ کیوں مجھے شرمندہ کر رہے ہیں آپ حکم کرئیں ۔۔
وہ اُنکے قریب ہوتا عزت و احترام سے بولا
حکم نہی ایک باپ کی درخواست ہے
بس میری ابر سے نکاح کر لو تاکہ میں سکون سے مر سکوں،،
کے میری بچی کسی برے ہاتھوں میں نہی گئی ۔۔۔۔
میں نہیں چاہتا کسی کا برا سایہ بھی میری بیٹی پر پڑے،،،
اسی لیے سب کچھ بھلا کر میں شہر چھوڑ یہاں تمہارے پاس آیا تھا ،،
لیکن جانے کیوں پچھلے کچھ دنوں سے کچھ غلط ہونے کا احساس بہت شدت پکڑ رہا ہے،،
میں نہی چاہتا جو اتنے سال پہلے ہوا وہ سب دوبارہ ہو ،،،
وہ ایک بار پھر سے سب یاد کرکے رنجیدہ ہوے
سب یاد کرتے وہ ایک بار سختی سے اپنی آنکھیں میچ گئے ،،
تایا جان ضروری نہیں جو پہلے ہوا پھر سے وہی سب ہو ،،اگر کسی نے میری فیملی پر اب گندی نظر بھی ڈالنے کی کوشش کی تو جان نکال دونگا سب کی ،،آپ پریشان نہ ہوں ۔۔۔میں آپ کے ساتھ ہوں،،،
میں جانتا ہوں آپ سب کچھ سوچ کر اندر ہی اندر گھٹ رہے ہیں لیکن
تب وقت اور خالات اور تھے ہم بچے تھے کچھ کر نہ سکے ،،،لیکن اب کوئی ابر کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھ سکتا ۔
وہ تو اُسکی قسمت اچھی تھی جو پاکستان سے ہی غائب ہو گیا ،،،ورنہ ابھی تک زندہ نہ بچتا”
زاویار اشتعال سے مٹھیاں بینچتا غرایا.
میں وہ سب دوبارہ نہیں چاہتا زاوی “۔۔میں پہلے بھی بتا چکا ہوں،،
مجھ میں اور کچھ کھونے کی ہمت نہیں ،،،جو بیت گیا اُسے جانے دو وہ ہمیشہ کر طرح اُسے اس بات کو وہی ختم کرنے کہا کہتے گویا ہوے
اور زاویار جانتا تھا کہ اُسکے تایا بلکل بھی نہیں چاہتے کہ اس بات سے پردہ ہٹے کہ اُنکی فیملی کا ایکیسڈنٹ نہیں ہوا تھا،،،بلکہ سوچا سمجھا ایک پلان تھا ۔۔۔
لیکن بہت جلد وہ اُنکا بھی پتہ لگا لے گا
تم بس ابر سے جلد از جلد نکاح کر لو تاکے وہ محفوظ ہو سکے۔
یقین مانو میری بیٹی بہت اچھی ہے بس تھوڑی ضدی ہے
لیکن میں جانتا ہوں تم اُسے سمبھال لو گے،،
میں چاہتا ہوں میرے بعد اُسکو مضبوط سہارا ملے کوئی اُسے سیدھی راہ پر چلائے
اُسے اُسکا اچھا برا سمجھائے،
اور تمہارے علاوہ مجھے ایسا کوئی نظر نہی آیا میری مشکل آسان کردو میرے بچے،،وہ آنکھوں میں التجا لیے اُس سے گویا ہوئے،،
زاویار کو انکو ایسے دیکھ جیسے دل ڈوبتا ہوا محسوس ہوا ،،
تایا جان یہ کیسی بات کر رہے ہیں آپ
باپ بیٹوں کے سامنے کبھی سر نہیں جھکاتے،،
آپکا حکم سر آنکھوں پر وہ اُن کے ہاتھ پر لب رکھتا بولا
وہ تشکر بھری نظروں سے اُسے دیکھنے لگے
وہ کچھ لمحے تو سکتے کی حالت میں رہا ۔۔۔۔
اللہ تو کتنا مہربان ہے ۔۔۔
کیا ایسے بھی دعاؤں کی قبولیت ہوتی ہے
اسنے دل ہی دل میں خدا کا شکر ادا کیا ۔۔۔
اُنکی بات سنتے دل جھوم اٹھا “
وہ تو خود یہی چاہتا تھا بچپن کی محبت تھی اس کی جسے دل میں چھپاے بیٹھا تھا ۔۔۔
کے کہیں تایا اُسے احسان فراموش نہ کہہ دیں ۔۔۔
لیکن آج وہ اپنے خدا کا شکر گزار تھا جس نے اسکے دل کی مراد پوری کردی ۔۔۔۔
کچھ توقف کے بعد وہ بولا
میں کبھی بھی اس پر شک نہی کر سکتا ۔۔۔
آپکو اسکے کردار کی گواہی دینے کی قتعی ضرورت نہیں ۔۔۔
میں جانتا ہوں سب کچھ اسکے بارے میں ۔۔۔
آپ بس حکم کرئیں ۔
۔میں نکاح کے لیے تیار ہوں،،جب آپ چاہیں ہمارا نکاح کر دیں
اب وہ انکو کیا بتاتا کے اُنہوں نے اُسکے دل کی بات کر دی ہے
لیکن ابر کو کیسے منائیں گے ۔۔
وہ سن کر ہی واویلا کھڑا کر دے گی۔۔۔
وہ آنکھوں میں شرارت لیے اُنکی جانب سوالیہ نگاہوں سے دیکھنے لگا،،
ماحول کچھ ہلکا پھلکا ہوا
اسی لیے تو تمہیں بلایا ہے میرے ساتھ گھر چلو مل کر اسکو راضی کر لینگے ۔۔۔
کچھ سختی اور کچھ محبت سے ۔۔۔
وہ ہنس کر بولتے اٹھے۔۔۔
اُنہیں مسکراتا دیکھ زاویار کو سکون ملا
زاویار نے بھی انکی تقلید میں قدم بڑھائے۔۔
۔دل خوشی سے جھوم رہا تھا ۔۔۔۔
اور جس کے لیے ربّﷻ کافی ہو جائے پھر اُسے کسی سہارے کی ضرورت نہیں ہوتی۔۔۔
بے ساختہ اُسکے لبوں پر قرآن پاک کی آیات کا ترجمہ آیا.
