Raah E Zest Ho Tum By Yumna Writes Readelle 50365 Raah E Zest Ho Tum (Episode 19)
Rate this Novel
Raah E Zest Ho Tum (Episode 19)
Raah E Zest Ho Tum By Yumna Writes
صبح وہ لوگ جلد ہی نکل آئے تا کہ صفدر ملک کا استقبال کر سکیں
ابرش کو گھر جانے کی خوشی بھی بہت تھی لیکن ایک طرف وہ اُداس بھی ہو رہی تھی کیوں کے اس گھر سے اُسکی بہت اچھی یادیں جڑی تھی رضیہ اُس سے ملتے ہوئے رو پڑیں اُس سے جلد آنے کا وعدہ کرتے الوداعی کلمات کہتے وہ لوگ گھر کے لیے نکلے
گھر پہنچ کر جیسے ہی اسنے اندر کی جانب قدم بڑھائے سامنے صفدر ملک کھڑے نظر آئے ابرش کو لگا کے شايد اُس کا وہم ہے کیوں کہ انہوں نے تو اُنکے آنے کے بعد پہنچنا تھا
میرا بچہ بابا سے ملنا نہیں انہوں نے آگے بڑھتے اُسے اپنے
خصار میں لے کر اُسکے ماتھے پر لب رکھے ،،
وہ بے یقینی کی کیفیت میں کبھی انہیں اور کبھی پاس کھڑے زاویار کو دیکھ رہی تھی اس بات کا یقین ہوتے ہی کے اُسکے بابا اُسکے پاس ہیں اُسکی آنکھیں تیزی سے نم ہوئی اُنکے چہرے پر اپنے نازک ہاتھ پھیرتے وہ بے یقینی سے بولی
بابا میرے بابا کہتے وہ روتی ہوئی اُنکے سینے سے لگی
میرا بیٹا بابا تو پاس ہی ہیں ہمیشہ اپنی بیٹی کے اُسکے آنسو صاف کرتے اُسکے ماتھے پر لب رکھتے وہ گویا ہوے اور زاویار کو پاس آنے کا اشارہ کیا
زاویار مسکراتا ہوا انکے بازو میں آ سمایا صفدر ملک نے دونوں کے ماتھے پر باری باری لب رکھے
بابا آپ تو لیٹ آنے والے تھے ناں ،،ابرش نے سوالیہ نگاہوں سے اُن سے پوچھا ۔۔۔۔
نہی میرا بیٹا میں وقت پر آیا ہوں زاویار آپکو سرپرائز دینا چاہتا تھا اسلئے بتایا نہی وہ مسکراتے ہوے بولے
ابرش نے ایک خفا نظر زاویار پر ڈالی اس سے پہلے کی وہ کچھ کہتی اپنے عقب سے آنے والی آواز پر اٹھ کھڑی ہوئی بی اماں انکا نام پکارتی اُنکے گلے لگی
میں نے آپ کو بہت مس کیا بی اما وہ اُنکی طرف دیکھتی محبت سے بولی ۔
میں نے بھی آپ کو بہت یاد کیا ابرش بیبی ” بی اما نے مسکراتے چہرے سے اُسکے چہرے پر ہاتھ پھیرتے کہا آپ تو پہلے سے بھی زیادہ حسین ہو گئی ہیں ما شا اللہ اور کافی بدل بھی گئی ہیں
ابرش اُنکی بات پر کھلکھلا دی”
بدل تو وہ بہت گئی تھی ایک پل کو تو صفدر ملک بھی اُسے دیکھ خیران ہوئے تھے
پنک قمیض شلوار پر ہم رنگ دوبٹہ شانوں پر شال لیے خود کو مکمل چھپائے ہلکا پنک لپ گلوس ہونٹوں پر لگائے سر کو مکمل حجاب میں کور کیے وہ بلاشبہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی
میں کھانے کا انتظام کرتی ہوں کہتے بی اما اٹھ گئی
ابرش اب صفدر ملک کے پاس بیٹھی اُنکی سمت دیکھ رہی تھی جو زاویار سے باتوں میں مشغول تھے
میری بیٹی نے تنگ تو نہیں کیا آپکو زاویار !!
صفدر ملک اُس سے استفسار کر رہے تھے
زاویار نے مسکراتے ہوئے نفی میں سر ہلایا
ابرش ناراض نگاہوں سے باپ کو دیکھ رہی تھی
بابا میں کوئی چھوٹی بچی ہوں جو تنگ کرونگی باتوں کا سلسلہ ایسے ہی طویل ہوتا گیا
کھانے کی ٹیبل پر وہ لوگ خوش گپیوں میں مشغول تھے ابرش صفدر ملک سے کال کم کرنے کے شکوے کر رہی تھی اور وہ اُسے منانے میں مصروف تھے زاویار پاس بیٹھے اپنے تایا کو دیکھ رہا تھا جو بیٹی کو راضی کرنے کی تگودو میں تھے اور دل ہی دل میں نظر اُتاری ۔۔
تایا جان اب آپ ریسٹ کریں ابرش آپ بھی فریش ہو جائے نماز کا وقت بھی ہو گیا ہے اُن باپ بیٹی کو باتوں میں مصروف دیکھ زاویار اُنکی جانب دیکھ گویا ہوا
جی بابا اٹھیں آپ بھی جب سے آئیں ہیں ادر ہی بیٹھیں ہیں کچھ دیر ریسٹ کر لیں میں نماز پڑھ کے آتی ہوں پھر میں دیکھوں گی آپ میرے لیے کیا کیا لائے ہیں ابرش آنکھوں میں چمک لیے بولی اور سیڑھیاں عبور کر گئی
جبکہ صفدر ملک تو اپنی بیٹی میں اتنا بدلاو دیکھ کر خوشی سے نہال ہو گئے
اور تشکرانا نگاہوں سے زاویار کو دیکھا شکریہ میرا بچہ مجھے پتہ تھا تم میری بیٹی کو سنبھال لو گے
آپ مجھے شرمندا نہ کریں تایا جان جتنی وہ آپکو عزیز ہے اتنی ہی مجھے بھی ہیں زاویار نے کہتے انکا ہاتھ تھپتھپایا صفدر ملک نے اُسے محبت سے سینے سے لگایا
آپ تھک گئے ہونگے کچھ دیر ریسٹ کر لیں کہتا وہ اٹھا اور اپنے کمرے کی جانب چل دیا
کمرے میں قدم رکھا تو وہ ڈریسنگ کے سامنے کھڑی اپنے بال خشک کر رہی تھی کیسا لگا سرپرایز “
زاویار نے پیچھے سے اُسے اپنے حصار میں لیتے پوچھا
بہت اچھا_” ابرش نے مسکراتے ہوئے کہا لیکن میں آپ سے ناراض ہوں اسنے اُس سے دور ہوتے کہا
یار ایک تو میں نے آپکو سرپرایز دیا اور آپ مجھ سے ہی ناراض ہو رہی ہیں
زاویار نے بیچارا سا منہ بناتے کہا
جی ہاں کیوں کے آپ نے مجھے بتایا نہیں تھا کے بابا ہم سے پہلے ہی آ چکے ہیں
میں نے سوچا تھا ہم انہیں سرپرایز کریں گے ابرش نے اپنے بال سمیٹ کر دوپٹہ حجاب کے سٹائل میں لیتے کہا
ہمم اس بارے میں تو میں نے سوچا نہیں کیوں کے تایا جان نے مجھے کہا تھا کے وہ آپ کو سرپرائز دینا چاہتے ہیں پھر میں کیا کرتا معصوم “
آپ اور معصوم ہا_ہا…. یہ بات کچھ حزم نہی ہوئی ۔اچھا اب جان بوجھ کر معصوم نہ بنیں فریش ہو جائیں نماز کا وقت نکل جانا ہے
ابرش اُسے کہتے نماز کے لیے کھڑی ہوئی
نماز سے فارغ ہو کر زاویار پولیس اسٹیشن کا چکر لگانے چلا گیا اور ابرش اپنا سامان سمیٹنے لگی
شام کو اسنے اپنی بتائی ہوئی ساری چیزیں دیکھی جن کی لسٹ اسنے صفدر ملک کو سینڈ کی تھی ۔۔۔
تھینک یو بابا خوشی سے کہتی ابرش نے اپنا سامان اٹھایا میں اپنی فرینڈذ کو دیکھا کر آتی ہوں کہتے اسنے اپنے روم کی جانب قدم بڑھائے
رات کو کھانے سے فارغ ہوتے صفدر صاحب سے ملنے اُنکے آفس کے کچھ لوگ آئے تھے اس وجہ سے ابرش اپنے روم سے باہر نہی نکلی ۔۔۔۔کچھ دیر تو وہ اپنے نوٹس تیار کرتی رہی
تھک کر کتابیں ایک جانب رکھتی زاویار کا انتظار کرنے لگی جو صفدر ملک کے ساتھ ہی بیٹھا تھا ۔۔۔۔۔تھکن کی وجہ سے جلد ہی اُسکی آنکھ لگ گئی
زاویار کمرے میں آیا تو اُسے اپنے اِرد گرد کتابیں پھیلاے سوتے ہوئے دیکھا وہ جانتا تھا کے وہ اُسکا انتظار کر رہی ہوگی لیکن مہمانوں سے باتوں میں وقت کا اندازہ نہی لگا سکا
سوئی ہوئی ابرش کے پاس سے ساری چیزیں اٹھا کر ایک طرف رکھی اُس پر اچھے سے کمفرٹر دیا اور اُسکی پیشانی چوم کر نایٹ بلب آن کرکے صفدر ملک کے کمرے کا رخ کیا ۔
ابرش کی آنکھ پیاس کی شدت سے کھلی سائڈ ٹیبل پر ہاتھ مار کر چیک کیا لیکن پانی موجود نہیں تھا ۔۔۔۔
اٹھ کر چپل پاؤں میں ارستی اسنے نیچے کی جانب قدم بڑھائے
جگ میں پانی لے کر واپس جاتے ہوئے اسنے زاویار اور صفدر ملک کی باتوں کی آواز سنی
صفدر ملک کے روم کے قریب آ کر اسنے جیسے ہی اندر جانے کے لیے قدم بڑھائے اپنا نام سن کر وہہی رک گئی
زاویار بیٹا بہت شکریہ تم نے میری بیٹی کا خیال رکھا اُس کو راہ راست پر لاے
اُس میں اتنی بڑی تبدیلی میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا لیکن تم نے کر دکھایا بہت شکریہ میرے بچے میں تو بہت پریشان تھا کے وہ بہت تنگ کرے گی تمہیں اور گھر جانے کی ضد کرے گی اسی وجہ سے تو میں اُس سے زیادہ بات نہی تھا کرتا کے اگر اسنے مجھ سے گھر جانے کی بات کی تو کسیے انکار کرونگا
یاں اگر اُسے ذرا سی بھنک بھی لگ گئی کے یہ تمہارا پلان ہے تو الٹا ہی کچھ کر بیٹھے گی صفدر ملک اُسے دیکھتے سنجیدگی سے گویا ہوے
تایا جان میں آپ کو پہلے بھی بولا تھا کے ابرش کو بس کوئی ایسا شخص چاہیے تھا جو اُسے سہی غلط میں فرق بتا سکے جو انہیں سیدھی راہ دیکھا سکیں وہ صرف نادان ہیں ،،چھوٹی ہیں،،
ابھی اور انکو ان سب سے دور لے کے جانے کا مقصد صرف میرا یہ تھا کے وہ کچھ عرصہ سب سے لا تعلق رہیں کیوں کے یہاں رہ کر تو میں کبھی بھی اُنکے قریب نہی ہو سکتا تھا
اور نہ وہ کبھی میری سنتی اور نہ میں اُنھیں کچھ سمجھا سکتا تھا کیوں کہ یہاں سب کی موجود گی میں وہ کبھی میرے قریب نہی آ سکتی تھی
زاویار کی بات ابھی مکلمل نہی ہوئی تھی کے ابرش دروازہ کھولے اندر داخل ہوئی زاویار اور صفدر ملک اُسے سامنے دیکھ خیران و پریشان ہوئے
ابرش آنکھوں میں بے یقینی لیے اُن دونوں کو دیکھ رہی تھی
زاویار نے تیزی سے اُسکے قریب قدم بڑھائے
وہی رک جائیں زاویار ملک ابرش کی آواز پر اُس کے قدم تھمے ابرش نے نم آنکھوں سے باپ کی جانب دیکھا اور تیزی سے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی ۔
زاویار اب کیا ہوگا صفدر ملک نے اُسکی جانب دیکھتے پریشانی سے استفسار کیا
کچھ نہیں ہوگا تایا جان میں بات کرتا ہوں اُس سے سمجھ جائے گی وہ،، آپ پریشان نا ہوں زاویار نے انکا ہاتھ تھپتھپاتے ہوئے کہا
نہی میں جانتا ہوں اُسے وہ بہت ضدی ہے اگر وہ اپنی ضد پر آ جائے تو وہ کسی کی نہی سنتی تم جاؤ اُس کے پاس جلدی میں کچھ غلط نہ کر بیٹھے
زاویار تیزی سے سیڑھیاں عبور کرتا اوپر کی جانب گیا دروازہ کھول کر کمرے میں قدم رکھا اُس کے قریب جاتے اُسکا ہاتھ تھامنا چاہا جسے اسنے فوراً جھٹک دیا
ابرش میری بات سنیں پلیز ۔۔
چلیں جائیں یہاں سے کیا کرنے آئے ہیں اب آپ میرا تماشا بنا کر ابھی بھی سکون نہی آیا آپ کو جائیں یہاں سے مجھے شکل بھی نہیں دیکھنی آپ کی _،،ہچکیوں کے درمیان روتی ہوئی وہ کہتی اپنا رخ موڑ گئی
ابرش ایک بار میری بات تو سن لیں پلیز زاویار نے اُسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیتے التجا کی۔
اُسکا ہاتھ اپنے چہرے سے ہٹا کر اسنے فاصلہ قائم کیا
زاویار اُسکی اس حرکت سے ترپ گیا،، ابرش پلیز ایک دفعہ میری بات سن لیں زاوی نے اُسکا ہاتھ تھامنا چاہا جسے اسنے جھٹک دیا
جائیں یہاں سے مجھے کچھ نہیں سننا اور سمجھنا آپکا ڈراما ختم ہو گیا
پلان کامیاب ہو گیا آپکا اور بابا کا پھر اب کیا لینے آئے ہیں جو آپ چاہتے تھے وہ تو ہو چکا ہے ۔۔۔۔
مجھے بگڑی ہوئی کو آپ نے سدھارا۔۔۔۔سیدھی راہ دکھائی بہت شکریہ آپکا اب آپکا کام مکمل ہو گیا اسلئے مجھ سے دور رہیں اور یہ اچھا بننے کا ڈراما ختم کریں
زاویار کو اُسکی آنکھوں میں اپنے لیے اجنبیت دیکھ دل کو کچھ ہوا حقیقت جاننے کے بعد وہ اُس سے بدظن ہو رہی تھی اور وہ یہ بلکل بھی نہی چاہتا تھا کے ابرش اُس سے دور جائے
آپ ایسا کیوں کہہ رہی ہیں ابرش مانتا ہوں کے آپکو گھر سے دور لے کر گیا ہوں لیکن یہ میرا پلان نہیں تھا کچھ اور وجہ تھی جو آپ نہیں جانتی،،ایک بار میری بات سن لیں،،
سب کچھ سچ تھا محبت کرتا ہوں آپ سے بہت ۔۔۔۔
میری محبت سچ ہے بتا چکا ہوں آپکو عشق کرتا ہوں آپ سے ابھی سے نہیں بچپن سے آپ کو ۔۔۔۔میری آنکھوں میں دیکھیں کبھی آپکو لگا کے میں ڈراما کر رہا ہوں جوٹھ بول رہا ہوں آپ سے ،،
اور آپ خود بتائے اگر آپ ادر رہتی تو کبھی آپ میری بات سنتی کبھی میرے قریب آتی زاویار نےاُسکے شانوں سے تھام کر زاوی نے اُسکو اپنے قریب کیا
نہیں نہ کوئی جواب نہیں ہے آپ کے پاس،، کیوں کے یہی حقیقت ہے آپ نے کبھی تایا جاں کی بات نہیں سنی تھی اگر وہ آپ کو میرے ساتھ جانے کا کہتے
کتنی بار انہوں نے آپکو آپکی دوستوں سے دور رہنے کا کہا لیکن آپ نے اُنکی ایک نہ سنی اب آپکو خود اُنکی حقیقت پتہ چلی کے کیسی ہیں وہ اور کس وجہ سے تایا آپکو اُن سے دور رہنے کا کہتے
انکا مقصد صرف آپکو یہ سمجھانا تھا کہ ہر انسان اچھا یاں برا ہوتا ہے آپ کو سدھارنے کے لیے نہی بلکے آپکو سمجھآنے کے لیے اور آپکی سیفٹی کے لیے انہوں نے آپکو میرے ساتھ بیجھا،،
میں کون ہوتا ہوں کچھ بھی کرنے والا
یہ تو صرف اللہ کی ذات ہے جو انسان کو سیدھی راہ دکھاتی ہے ۔۔۔آپ تایا جان سے بدظن مت ہوں وہ صرف آپکی بھلائی چاہتے ہیں یہ چاہتے ہیں کے آپکو اچھے اور برے کا فرق معلوم ہو اسکے علاوہ کچھ نہی وہ اور میں ہم دونوں آپ سے بہت محبت کرتے ہیں
زاویار کی بات مکمل ہوتے ہی اُس نے اُسکے ہاتھ اپنے شانو سے ہٹائے
بہت اچھا بول لیتے ہیں آپ لیکن اب میں آپ کی ان جوٹھی باتوں میں نہیں آنے والی اسلئے آپ اپنا اور میرا وقت برباد نہ کریں
جائے یہاں سے کہتے ہی ابرش اٹھ کر واشروم میں بند ہو گئی اور بے آواز آنسو بہانے لگی
ابرش پلیز ایسا مت کریں میں معافی مانگتا ہوں آپ سے لیکن خود کو رو کر تکلیف مت پہنچائے زاویار نے نرمی سے اُسے سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ اُسے سننا ہی نہی چاہتی تھی ۔
زاویار کے بلکل بھی وہم و گمان میں نہی تھا کے اُسے کچھ پتہ چلے گا وہ تو بس یہ بات اپنے اور صفدر ملک تک رکھنا چاہتا تھا وہ خوش تھا کے ابرش اُسکے ساتھ اتنی اٹیچ ہو گئی ہے زاویار جانتا تھا کے ابرش اُس کو سمجھتی ہے اُس کی بات مانتی ہے وہ آہستہ آہستہ اسکو اپنے درمیان رشتے کی نوعیت سے آگاہ کرے گا
اُسکا اتنا سخت ریئیکشن دیکھ کر زاویار خود بھی بہت پریشان ہو گیا تھا وہ اُسکی کوئی بات سننے کو ماننےکو تیار ہی نہی تھی اس وقت اُسے سب جوٹھ لگ رہا تھا
لیکن وہ جانتا تھا کے وہ ابرش کو راضی کر لے گا زیادہ دیر تک ناراض نہی رہنے دے گا
ابرش واشروم سے باہر آئی تو کمرے میں اب وہ نہی تھا وہ نڈھال سی بیڈ پر لیٹ گئی ایک بار دوبارہ سب یاد آتے وہ سسکنے لگی
زاویار نے ساری رات جاگ کے گزاری ابرش کے ساتھ کی اسکو عادت ہو چکی تھی اُسکے سوالوں کے جواب دیتے دیتے اکثر وہ سو جاتا تھا ساری رات بیٹھ کر گزری،، اُسکی ناراضگی کا سوچ کر اُسکا دل الگ پریشان تھا بس صبح کا انتظار کرتا رہا کہ جا کر ایک دفعہ پھر اُس سے بات کرے اسکو سمجھائے ۔۔
ابرش کی آنکھ کھلی تو رات کو یاد کر کے ایک دفعہ پھر آنکھیں نم ہوئی
اُسکا سر چکرا رہا تھا آنکھیں دکھ رہی تھی بیڈ سے اٹھ کر وہ واشروم فریش ہونے کے لیے گئی
واشروم سے باہر قدم رکھے ہی تھے کے دروازہ نوک کرکے صفدر ملک داخل ہوئے
کیا مجھے اندر آنے کی اجازت ہے انہوں نے سوالیہ نگاہوں سے ابرش کو دیکھا جو انکو دیکھ کر خاموشی سے بیڈ کے کنارے پر جا بیٹھی ،،
بکھرے بال سوجی ہوئی آنکھیں ساری رات رونے کا اندیشہ دے رہی تھی صفدر ملک کا دل ترپ گیا اپنی بیٹی کی اس حالت پڑ انہوں نے تیزی سے قریب آتے اُسے سینے سے لگایا
کیا ہوگیا ہے میرا بچہ اُسکی پیشانی پر ہاتھ لگایا تو حرارت کا احساس ہوا
ابرش میری جان یہ کیا خالت بنا رکھی ہے آپ نے بحار بھی ہو رہا ہے آپکو
جانتا ہوں ناراض ہیں آپ مجھ سے لیکن یوں خود کو تکلیف تو نہ دیں ابرش کو ہنوز خاموش دیکھ کے وہ پھر گویا ہوے
میں جانتا ہوں ابرش اپنے بابا سے ناراض ہیں مجھے معاف کر دو میرا بچہ میرا اور زاویار کا ارادہ آپکو دکھ پہنچانے کا نہیں تھا میں تو بس یہ چاہتا تھا کے میرے بعد کوئی مضبوط سہارا آپ کے پاس موجود ہو
جس سے آپ اپنی دل کی بات کر سکو ،،
لیکن اگر میرے اس عمل سے آپکو تکلیف ہوئی ہے تو میں معافی مانگتا ہوں آپ سے صفدر ملک نے گلوگیر لہجے میں کہتے اُسکے آنسو صاف کیے جو مسلسل بے آواز رو رہی تھی ،،لیکن آپ ابھی ساری حقیقت نہیں جانتی،،اصل وجہ آپکو ذویار کے ساتھ بیجھنے کی کچھ اور تھی،،اور پھر ساری بات اُسے بتاتے چلے گئے،،
ابرش سب سچ سنتی شاکڈ سی کیفیت میں صفدر ملک کو دیکھنے لگی،،
یہی سچ ہے میرا بچہ،،وہ بولتے اُسے ساتھ لگا گئے،،
ابرش کتنی ہی دیر اُنکے ساتھ لگی روتی رہی،،پھر آہستگی سے اُن سے دور ہوتے بولی
نہیں بابا ایسے مت کہیں میں نہی ہوں ناراض آپ سے بس مجھے برا لگا ” کے آپ نے مجھ سے حقیقت چھپائی اگر آپ مجھے کہتے تو میں ویسے بھی زاویار کے ساتھ چلی جاتی بس میں آپ کے رویے سی ہرٹ ہوئی ہوں لیکن ناراض نہی ہوں آپ پریشان نہ ہوں ،،میں تمام حقیقت سے انجان تھی۔۔۔اسلیے غصہ آ گیا،
شکریہ میرا بچہ میں جانتا ہوں میری بیٹی بہت سمجھدار ہے اُسکے ماتھے پر لب رکھے
میں بی کو آپکے روم میں بھیجتا ہوں آپکے پاس ناشتا کر کے پین کلر لین میرا پیارا بیٹا
ابرش سر ہلا کر لیٹ گئی سر چکرآنے کی وجہ سے اُس سے بیٹھا نہی جا رہا تھا
زاویار نے قدم صفدر ملک کے روم کی جانب بڑھائے اجازت ملتے ہی وہ سلام کرکے اُنکے قریب بیٹھا ملازمہ بتارہی ہے ابر کی طبیعت ٹھیک نہی آپ اُنکے روم میں تھے کیا بات ہوئی اُن سے اسنے ایک ہی سانس میں اتنے سوال کر ڈالے
ناراض ہے ہم سے لیکن بتا نہیں رہی کہتی ہیں نہی ہوں ناراض لیکن میں جانتا ہوں کے وہ بات بہت جلد دل پے لگا لیتی ہیں
ظاہر نہیں کر رہی لیکن ہمارے اس عمل سے دل دُکھا ہے اُسکا ۔۔میں اُسے سب سچ بتا چکا ہوں،،آپ کے وہاں جانے کا اصل مقصد،،اب اُمید ہے کے آپ اُسے راضی کر لیں گے۔
