Raah E Zest Ho Tum By Yumna Writes Readelle 50365 Raah E Zest Ho Tum (Episode 2)
Rate this Novel
Raah E Zest Ho Tum (Episode 2)
Raah E Zest Ho Tum By Yumna Writes
اپنے پیاروں کی وفات کے بعد صفدر ملک ڈھ گئے
بہت مشکل سے انہوں نے زاویار اور ابرش کو سمبھالا ۔شروع شروع میں بچوں نے بہت تنگ کیا
کے ماں کے پاس جانا ہے ،،
ابرش کو تو وہ کسی طرح بہلا لیتے ،،بی مان جو شروع سے اُنکے گھر کام کرتی تھی ،،ابرش کو وہ سمبّھال لیتی
لیکن زویار ماننے کو تیار نہ ہوتا
بس ایک ہی ضد کرتا کے ماں کے پاس جانا ہے ،،بابا کو بلاؤ ،،
بہت مشکل سے انہوں نے اُسے سمبھالا ،،،اکثر جب وہ ماں، ،،بابا کے پاس جانے کا بولتا تو اُنکا اپنا ضبط جواب دے جاتا ،،،
اُس کے ساتھ وہ بھی سبکو یاد کرتے رو دیتے،،
لیکن کہتے ہیں نا وقت سب زحم بھر دیتا ہے ۔۔۔
آہستہ آہستہ زندگی اپنے ڈگر پر چلنے لگی
اور وقت کا کام ہے گزرنا
اور وقت گزرتا گیا بچے بڑے ہو چکے تھے”
صفدر ملک نے نہ صرف اُنکی دنیاوی تعلیم،،بلکہ دینی تعلیم پر بھی بہت دھیان دیا ،،
وہ اپنا زیادہ تر وقت بچوں کے ساتھ گزارنے کی کوشش کرتے،،
رات میں اکثر بچوں کے پاس بیٹھ کر انکو پیغمبروں کے واقعات سناتے”
اُنکی ماں بابا کے بارے میں بتاتے
ذاویار کو اُسکے ماں باپ کی قبر پر لے کر جاتے،،
زاویار نے لاہور جا کر آگے پڑھنے کا فیصلہ کیا۔۔۔۔
ملک صاحب کو اسکی یہ بات کچھ خاص پسند نہی آئی وہ چاہتے تھے کے وہ اُنکے سامنے ہی رہے ۔۔۔
وہ اپنے بھائی کو کھو چکے تھے ۔۔۔
اب کچھ اور کھونے کی اُن میں ہمت نہی تھی ۔۔۔۔
اسلیے انہوں نے اُسے جانے سے منع کیا
لیکن وہ اپنی ضد پر اٹکا ہوا تھا کے اُسے وہی جا کر آگے پڑھنا ہے۔۔
ضاوی بیٹا یہاں بھی بہت سے اچھی یونی ورسٹیز ہیں ضروری تو نہیں کے لاہور جایا جائے اُنہوں نے اُسے روکنے کی بہت کوشش کی۔۔۔۔
تایا جان آپ کیوں پریشان ہو رہے ہیں میں ہر مہینے بعد چکر لگاتا رہونگا
پلیز میں وہاں جانا چاہتا ہوں پڑھای مکمل کرکے کچھ بننا چاہتا ہوں،، ایک مقام حاصل کرنا چاہتا ہوں،،انشا اللہ
جلد ہی واپس آؤں گا
زاوی نے نرم لہجے میں کہتے اُنھیں پرسکون کرنا چاہا جو لاہور جانے کا نام سن کر ہی پریشان ہو گئے تھے۔۔۔۔۔
تو کیا یہاں تم نہیں پڑھ سکتے ۔۔۔۔یہاں کس چیز کی رکاوٹ ہے۔۔۔
جو کرنا چاہتے ہو کرو ،،،سارا بیزنس تمہارا ہی ہے،،،
میں اکیلے کیسے سمبھالوں گا سب
وہ اُسکی باتوں سے مطمئن نہیں تھے
اسی لیے ایک اور خربہ آزمایا اُسے روکنے کا
تایا جان میرا بزنس میں کوئی انٹریسٹ نہیں ،،،میں کرائم برانچ میں جانا چاہتا ہوں ،،،میری مما کی خواہش تھی کہ میں اس فیلڈ میں جاؤ
اور میں اُنکی یہ خواہش پوری کرنا چاہتا ہوں کیا آپ اس میں میرا ساتھ نہی دیں گے،،
وہ نرم انداز میں اُنھیں سمجھانے لگا
ٹھیک ہے بیٹا جیسی تمہاری مرضی “
تھک کر وہ ہار مانتے بولے
تایا جان آپ کیوں پریشان ہو رہے ہیں،،
میں جانتا ہوں آپ کیوں مجھے روک رہے ہیں ،،لیکن ماں بابا کا جانا اسی طرح لکھا تھا
ضروری تو نہیں کے وہ سب دوبارہ ہو ،،اور ویسے بھی زندگی اور موت تو خدا کے ہاتھ میں ہے وہ اُنکے قریب آتا عقیدت سے اُنکا ہاتھ تھامے بولا،،
صفدر ملک بس سر ہلا گئے ،،،ٹھیک ہے میرا بچہ جیسے آپ خوش،،
ان سب میں ابرش بہت خوش تھی کیوں کے اب سے اُسے کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں تھا
زاویار ابرش کا بہت خیال رکھتا ،،لیکن اکثر اُس پر سختی کرتا
جس کی وجہ سے ابرش اُس سے دور ہونے لگی
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ابرش زاوی سے دور ہوتی گئی اسکی روک ٹوک ابرش کو ضدی بناتی گئی
لیکن جب اُسے پتہ چلا زاویار جا رہا ہے وہ بہت خوش ہوئی
وہ نائٹ ڈریس زیب تن کیے ڈریسنگ روم سے نکلی تھی کے ڈور نوک ہوا
یس “”وہ اپنے دھیان میں بولتی ڈریسنگ کے سامنے جا کھڑی ہوئی
ملازمہ اجازت ملتے کمرے میں داخل ہوئی ،،،
بیبی جی آپکو صاحب جی نیچے بولا رہے ہیں وہ مودب انداز میں بولتی اُسے دیکھنے لگی
ٹھیک ہے تم جاؤ میں آ رہی ہوں،،
ملازمہ جواب سنتی تیزی سے واپس مر گئ ،،
وہ نیچے آئی تو صفدر ملک اور زاویار لاؤنج میں بیٹھے تھے ۔۔۔
جی بابا آپ نے بلایا زاویہ کو نظر انداز کرتی وہ اپنے بابا کی طرف متوجہ ہوئی
آ جاؤ میرا بچہ وہ بانہیں پھیلائے اُسے اپنے ساتھ بیٹھاتے گویا ہوئے،،
زاویار جا رہا ہے اسی نے آپکو بلایا ہے،
ابھی وہ کچھ بولتے کہ اُنکا فون بج اٹھا”
آپ لوگ بات کرو میں ابھی آتا ہوں وہ کال ریسیو کرتے ہوے اُٹھ گئے
زاؤیار نے اُسے دیکھا جو پنک نائٹ سوٹ میں اپنے ریشمی سیلکی بال کھولے اپنی تمام تر معصومیت سمیت اُسے دیکھنے سے گریز برت رہی تھی
زاویارجانتا تھا کہ وہ اس سے دور بّھاگتی ہے ڈرنے لگی ہے ،،اُس سے لیکن وہ اُسے ابھی بلاوجہ کی آزادی نہی دینا چاہتا تھا
اسی لیے اُس سے سختی برتتا ،،
کچھ بات بھی ایسی ہی تھی ،،صفدر ملک کے لاڈ پیار کی وجہ سے وہ ضدی ہو گئی تھی،،
اسلیے وہ اُس پر تھوڑی سختی کرتا
اور کسی کی بات کو تو اُسنے کبھی سننا گوارہ نہیں کیا تھا ،،،
صرف زاویار ہی تھا جسکی بات وہ سن لیتی تھی
۔۔۔ابرش ۔۔۔۔۔
زاویار نے اُسکا نام پُکارا”
جّج _جی ” وہ گربراتی ہوئی جلدی سے بولی
جو بھی تھا لیکن اُسے زاویار کا ڈر بہت تھا ،،،
زیادہ تر وہ اسے کچھ نہ کہتا لیکن اُسکا ایک بار کا ٹوکنا
اس بات کی تصدیق ہوتی تھی کے اُسے اُسکی بات اچھی نہیں لگی
اُسے یوں دیکھ اُسکے چہرے پر مسکراہٹ نمودار ہوئی جسے بڑی مہارت سے وہ چھپا گیا
میری بات دھیان سے سنئیں “
اُسے پر نظریں جمائے وہ بولا
آپ اسکول سے کسی فرنڈ کے گھر نہی جائیگی ۔۔۔۔
باہر کے لوگوں سے بات نہی کرئیں گی ،،
جب تک ڈرائیور نہی آئیگا آپ اسکول سے باہر نہی نکلے گی۔۔۔۔
تایا جان کو زیادہ تنگ نہی کرنا آپ نے ،،
اپنا بہت خیال رکھنا ہے
اور ہاں ایک بات “” بال بلکل نہی کٹوانے سمجھ رہی ہیں نہ آپ ؟؟؟
اُسے دیکھ ذرا سختی سے آخر میں بولا
کیوں کے پہلے بھی اُسکی غیر موجودگي میں وہ اپنے کمر تک جاتے بالوں کو شولڈر کٹ کروا چکی تھی
جسکی وجہ سے وہ اچھی خاصی ڈانٹ بھی کها چکی تھی
جی “”
مشکل سے اُس کے منھ سے بس یہی الفاظ ادا ہوئے
اسنے سر جھکا کر جواب دیا
ویری گڈ ،،
۔تایا جان کو تنگ نہی کرنا آپ نے،، اوک ناں”
اُسکے معصوم چہرے سے نظریں ہٹانے کا اُسکا جی نہی چاہا رہا تھا،
جی “
ابرش نے سر جھکائے ہلکی آواز میں جواب دیا
جائیں اب آپ سو جائیں صبح اسکول بھی جانا ہے آپ نے
اپنا خیال رکھیے گا
وہ آخری نظر اُسکے گلابی معصوم چہرے پر ڈالتا بولا
جیسے ہی اُسے اجازت ملی وہ جلدی سے وہاں سے غائب ہوئی ۔۔۔۔
ذاویار اُسے یوں تیزی سے جاتا دیکھ مسکرا دیا
ابرش کہاں گئی صفدر ملک نے اُسکے پاس آتے استفسار کیا ،،
۔اُسے میں نے بھیج دیا روم میں صبح اسنے اسکول جانا ہے پھر اٹھے گی نہی
ٹھیک ہے آ جاؤ باہر ڈرائیور کھڑا ہے صفدر ملک اُسے دیکھتے گویا ہوے ۔۔۔۔
جی” کہتا زاویار اٹھ کھڑا ہوا ۔۔
میرا بچہ اپنا بہت خیال رکھنا اللہ حافظ اُس سے ملتے ہوے انہوں نے گلے لگایا ۔۔۔۔۔
اللہ حافظ کہتا ہوا وہ گاڑی میں بیٹھ گیا ۔۔۔۔
اور ایک نئے سفر کی جانب روانہ ہو گیا
وہ جانتا تھا کے اُسکے تایا اُس سے بہت
محبت کرتے ہیں ،،
ماں باپ کے بعد اُنہوں نے ان دونوں کا بہت خیال رکھا اُن کے ساتھ وقت گزارتے ،،،،
اُنکے ساتھ کھیلتے” انکے ماں باپ کی کمی محسوس نہ ہونے دیتے۔۔۔۔۔
لیکن وہ ایک مضبوط انسان بننا چاہتا تھا اُسے شروع سے ہی کرائم برانچ میں جانے کا بہت جنون تھا
اُسے یاد تھا اُسکی ماں جب وہ چھوٹا تھا تو اُسےکہتی تھی میرا بیٹا بہت بریو ہے
وہ ایماندار پولیس والا بنے گا اور انسانیت کی مدد کرے گا اور وہ اپنی ماں کی کہی بات سچ کرنے کے لیے نکلا تھا
اگر وہ سب کے ساتھ رہتا تو صفدر ملک اُسے کبھی بھی اس فیلڈ میں جانے نہ دیتے
اسی لیے وہ لاہور آیا تاکہ ایک دن کسی مقام پر پہنچ کر گھر جائے
زندگی کمزور لوگو کو قبول نہیں کرتی ۔۔۔۔اور وہ کمزور نہی بننا چاہتا تھا
اُسکی ماں اُسے ایک ایماندار انسان اور نیک دل اچھا انسان بنانا چاہتی تھی جو دوسروں کے دکھ کو سمجھے اُنکی مدد کرے اور وہ ویسا ہی بننا چاہتا تھا “
جلد ہی یہ اپنی پڑھای مکمل کرکے ایک عہدے پر فائز ہو گیا تھا،،،
اُس نے پوری لگن سے محنت کرکے اپنا مقصد حاصل کیا،،
اُسے محکمے کی طرف سے الگ گھر بھی دیا گیا تھا لیکن اسنے وہاں جانے سے منع کر دیا کیوں کے اُسکے پاس اللہ کا دیا سب کچھ تھا وہ یہ جوب صرف انسانیت کی مدد کے لیے کرنا چاہتا تھا
اور وہ اپنے محکمے کا بہت ایماندار اور سخت آفیسر تھا
5 سال گزر گئے زاویار ملک وقت گزرنے کے ساتھ اور ہینڈسم اور مردانا وجاہت کا شاہکار ہوگیا ۔۔۔
صفدر ملک نے اُسے سختی سے کرائم برانچ میں جانے سے روکا تھا ۔۔۔
اسلیے اُس نے دوسری فیلڈ چنی ،،،
صفدر ملک کے بہت روکنے کے باوجود اسنے پولیس کی فیلڈ جوائن کی اُسکا کہنا تھا کہ وہ انسانیت کی مدد کرنا چاہتا ہے ۔۔۔
فارغ وقت میں کبھی وہ آفس کو بھی وقت دے دیتا لیکن اپنی فیلڈ وہ کبھی نہی چھورے گا یہ وہ انکو بتا چکا تھا،،
ابرش میٹرک میں اچھے نمبرز سے پاس ہو چکی تھی اور آگے میڈیکل کی فیلڈ میں جانا چاہتی تھی ۔۔۔زاویار اپنی جوب میں اس قدر مصروف ہوتا کے گھر بہت کم آتا اور جب آتا تو کافی لیٹ آتا تب تک سب سو چکے ہوتے۔۔۔۔
ابرش کو اسنے بلکل فری چھوڑا ہوا تھا اسکو روکنا ٹوکنا بلکل چھوڑ چکا تھا کے وقت کے ساتھ ساتھ وہ سنبھل جائے گی
لیکن کس کو معلوم تھا کے اسنے سمبھلنا ہے یاں بگڑنا”
