331.4K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah E Zest Ho Tum (Episode 13)

Raah E Zest Ho Tum By Yumna Writes

ابرش صبح جلدی اٹھ گئی تھی،، پاس سوئے زاویار کو دیکھا اور خاموشی سے بیڈ سے بغیر آواز کیے اٹھتی وہ فریش ہو کر کچن میں چلی گئی ۔۔۔۔سوچا کے آج ناشتے میں کچھ سپیشل بنائے اسنے گیس آن کی ۔۔۔کلب سینڈوچ اُسکے فيورٹ تھے اسنے یوٹیوب اوپن کرکے ریسیپی دیکھی اور بنانا شروع کیے ۔۔۔چائے رکھ کر وہ جیسے ہی پلٹی ذاویار اُسکی جانب ہی آ رہا تھا

آپ کیوں آئی کچن میں ابر ۔۔۔میں آنے والا تھا بس آپکو کیا ضرورت ہے بنانے کی میں ہوں نہ زاویار اُسے سینڈوچ بناتا دیکھ بولا

وہ ایپرن پہنے کچن میں کھڑی سینڈوش بنانے میں مصروف تھی ۔۔۔کیوں کیا صرف آپ ہی ثواب کمانا چاہتے ہیں کچھ مجھے بھی کرنے دیں اسنے مصروف سے انداز میں سینڈوش کی کٹنگ کرتے کہا ۔۔۔۔اچھا جی تو اب آپ مقابلے پے اتر آئی ہیں زاویار نے شوخ نظروں سے اُسے دیکھتے کہا ۔۔۔۔

جو مہرون شرٹ اور کھلے ٹروزر میں ملبوس اپنے خلیے سے لاپرواہ کھڑی تھی

براؤن بالوں کو پونی میں قید کیا ہوا تھا لیکن پھر بھی کچھ آوارہ لیٹیں رخسار پر آ رہی تھی

اُنھیں ہاتھ کی پشت سے پیچھے کرتی وہ بولی

مقابلہ نہی لیکن میں نے پڑھا تھا کے شوہر کی حدمت کرنے سے خدا راضی ہوتا ہے ۔۔۔۔

اور ویسے بھی آپ ہی سب کچھ کرتے ہیں میں نے سوچا میں بھی کچھ کام کرلوں ۔۔۔۔۔

امم ہمم بالوں کو پیچھے کرتی وہ چرتی ہوئی بولی میں نے کہا بھی تھا کٹوا دیتی ہوں انہیں

لیکن آپ میری سنتے کہا ہیں ،،اب فضول میں یہ مجھے پریشان کر رہے ہیں “

اب پیچھے کریں انہیں یہ نہ ہو جو زلفیں آپکو دیکھنے میں پیاری لگتی ہیں وہ کھانے میں زہر لگیں وہ برّا سا منھ بناتی سینڈوش ٹرے میں رکھتی بولی ،،

تو اس میں پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے میں ہوں ناں زاوی نے آگے بڑھتے ابرش کے چہرے سے بال ہٹائے ،،

اُسکے کان کے پیچھے بال کرتے اُسکی نظر اُسکی سفید دھو دھیا گردن پر پڑی “

تھوڑا سا قریب ہوتے نہ محسوس انداز سے اُسنے اپنے لب اُسکی گردن کی پشت پر رکھے

ابرش جو اپنے دھیان لگی تھی اچانک اپنی گردن پر ایک گرم پر حدت سا لمس محسوس ہوتے سانس روک گئی ،،

وہ جھٹکے سے پیچھے ہونے لگی

اُسے کب ایسی توقع تھی مقابل سے ،،جب اُسکی سرگوشی اپنے کان کے قریب سنی ،،،

اُسکے لبوں کا جان لیوا لمس اُسے اپنے کان کی لو پر محسوس ہوا،،

اُسے ایسا لگا جیسے دل ابھی باہر آ جائے گا ۔۔

آپ جانتی ہیں ابر میں آپ سے بے پناہ محبت کرتا ہوں،،

مجھے آپ کی ہر ایک چیز سے عشق ہے،،آپکی آنکھوں سے،،آپکے بالوں سے،،آپکی چھوٹی سی پیاری سی ناک سے،، ہر ادا سے،، پھر وہ چاہے آپکے ہونٹ ہوں یاں یہ سرخ گال ،،

اُسکی غیر ہوتی حالت دیکھتا وہ گھمبیر لہجے میں کہتا دور ہوا …

جانتا تھا ابھی اُسے اس رشتے کو سمجھنے میں وقت لگنا ہے لیکن وہ چاہتا تھا کے اُسے اپنے اور اُسکے درمیان رشتے کا احساس دلوائے

چلیں لے آئیں بہت بھوک لگی ہے آج تو صبح صبح کچھ اچھا کھانے کو ملے گا اپنی بیگم کے ہاتھ کا ،،

کچھ ہی دیر میں وہ خود کو نارمل کرتی کیچن سے ٹرے لیے باہر نکلی

آ جائیں اب ناشتا کرتے ہیں کیا یاد کرئیں گے آج میں نے اپنے فیورٹ کلب سینڈوچ بنائیں ہیں اسنے ہستے ہوے کہا ۔۔۔وہ دراصل مجھے پتہ نہی تھا کے آپکو کیا پسند تو اسلئے اسنے جیجھکتے ہوئے کہا

جو آپکی پسند وہی میری ۔۔۔مجھے وہ ہر چیز پسند ہے جو میری زندگی کو اسنے مسکراتے ہوئے کہا ۔۔۔۔

جن چیزوں کے بغیر میں خود کو نہ مکلمل گراندتا ہوں ۔۔۔۔

با خدا اُن میں اول و آخر تم شمار ہوتی ہو “

اسنے ابرش کے کان کے قریب جھک کر محبت بھرے لہجے میں کہا

اُسکا نازک سا دل ایک دم سكڑا،،دھڑکنوں کا شور کانوں میں سنای دینے لگا

پلکیں لرزی اُسکے اتنے قریب ہونے پر۔۔۔۔چہرے پر حیا کے رنگ بکھرے ۔۔۔۔۔۔ اُسکی اتنی سی قربت وہ برداشت نہی کر پا رہی تھی،

خود پر بمشکل قابو پاتی وہ بولی

چلیں جلدی فینیش کریں آپکو لیٹ ہو رہا ہے اور آج آپنے جلدی آنا ہے اسنے بات کو بدلتے کہا مجھے آج باہر جانا ہے شاپنگ کے لیے ۔۔۔

ٹھیک ہے جی آ جاؤنگا بندہ حاضر ہے زاویار مزید اُسے تنگ کرنے کا ارادہ ترک کرتے کہتے ہوے چینج کرنے چلا گیا اور ابرش اپنی خالت پر قابو پاتی برتن سمیٹ کر کچن میں چلی گئی ۔۔۔

وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کے اُسے کیا ہوتا جا رہا ہے ۔۔۔وہ کیوں اُسکے اتنے قریب ہوتی جا رہی ہے کیوں اسکو وہ اتنا اچھا لگتا ہے کیوں اُسکی دوری برداشت نہیں کر پاتی بس اُسکے قریب رہنے سے دل ایک الگ طرح ہی دھڑکتا تھا ،، کیوں اُسکی پسند کو اپنانے کو دل چاہتا ہے،، وہ جانتی نہیں تھی کے وہ زاویار ملک کی محبت میں مبتلا ہو گئی ہے ،،وہ اپنے اندر آنے والی تبدیلی کو سمجھ نہیں پا رہی تھی،،اُسکا قریب آنا اُسے برا نہیں لگا تھا لیکن اُسکی قربت میں دل بھی تو پسلیاں توڑ کر باہر آنے کو تھا ،،، اور یہی سب کچھ اُسکا نازک سا دل سمجھ نہیں پا رہا تھا

رضیہ کے ساتھ مل کر اسنے کھانا بنایا اور اپنے اور زاویار کے کپڑے پریس کروا کر ہینگ کیے ۔۔۔

رضیہ اپنے وقت پر چلی گئی اور وہ پڑھنے کا ارادہ کرتی نوٹس لے کر بیٹھ گئی ۔۔۔بار بار فون اٹھا کر دیکھتی کے زاوی کی كال نہ آئی ہو اور پھر فون تنگ آ کر رکھ دیتی ۔۔۔

آخر تنگ آ کر خود ہی فون کر دیا دوسری طرف سے فوراً کال اٹھائی گئی ۔۔۔۔زاوی کہاں رہ گئے ہیں کہا بھی تھا آج جلدی آنا لیکن مجھے لگتا ہے آپکو تو یاد ہی نہیں ابرش نے خفگی سے کہا

مجھے یاد ہے میری جان میں بس آنے لگا ہوں آپ ریڈی رہیں بس تھوڑا سا کام تھا ۔۔۔۔نکلنے لگا ہوں بس ،،

اوک اللہ حافظ کہتے وہ تیار ہونے لگی

ہورن کی آواز پر وہ جلدی سے باہر نکلی زاویار گاڑی میں سیٹ سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا ابرش گاڑی کی جانب بڑھتی دروازہ کھول اُسکے ساتھ بیٹھی اور اُسکی جانب دیکھ سلام کیا جس کا جواب اسنے خوش دلِ سے دیا

پنک کلر کے پرنٹڈ ٹروسر شرٹ میں وہ خود بھی پنک ہی لگ رہی تھی ۔۔۔ہونٹوں پے ہلکی سی لپسٹک اُسے اور حسین بنا رہی تھی گیلے بالوں کو کیچر میں قید کیا اور شال اپنے گرد لپیٹی ۔۔۔سکارف سر پر لپیٹے وہ مکمل طور پر اسے اپنی جانب متوجہ کر چکی تھی

چلیں وہ زاویار کو دیکھ بولی

۔۔زاویار نے اُسے دیکھا جو مکمل طور پر اُسکی پسند میں ڈھلی بہت حسین لگ رہی تھی اُسکی آواز سنتا وہ آگے کو جھکتے اسکے ماتھے پر لب رکھ گیا ۔۔۔۔

شکریہ میرا مان رکھنے کے لیے اُسے ساتھ لگاتے کہا

۔ابرش مسکرا دی ۔۔۔

ابرش بڑے اشتیاق سے باہر دیکھ رہی تھی کیوں کے اس علاقے میں زیادہ تر تو گاؤں تھے ۔۔۔۔مال میں اسنے اپنے لیے کچھ ڈریس لیے ۔۔۔۔۔۔ساتھ میں شال اور سکارف لیے ۔۔۔پھر دوسری طرف جا کر زاویار کے لیے شرٹس پسند کی ۔۔۔دو گھنٹے شاپنگ کے بعد زاویار کی بس ہو گئی ۔۔۔ابر بس کریں چلیں یہاں سے کسی اچھے سے ریسٹورنٹ سے کھانا کھا کر جاتے ہیں ۔۔۔۔

نہی زاوی پہلے میں نے پارلر جانا ہے اپنے بال کٹوانے ہیں کافی لمبے ہو گئے ۔۔۔۔

بلکل بھی نہیں ابر آپ بالوں کو بلکل بھی ہاتھ نہیں لگائے گی ۔۔۔مجھے بہت پسند ہیں آپکے بال “

لیکن زاوي مجھ سے نہی سنبھلتے اتنے لمبے ۔۔۔اور خراب بھی ہوئے ہوے ہیں ،،اماں میرے بالوں کا بہت خیال رکھتی تھی اُن سے میں آئلنگ کرواتی رہتی تھی

میں نے پہلے بھی اسی وجہ سے کٹنگ کروائی تھی مجھ سے نہیں سنبھلتے وہ مسکین صورت بناتی بولی

تو کوئی بات نہی میں کردونگا آئیلنگ ،، میں خیال رکھ لونگا لیکن کٹنگ نہیں کروانی یار ابر ۔۔۔۔مجھے محبت ہے آپکے بالوں سے کہتے اسنے اُسکے سر پر لب رکھے

چلیں پھر کچھ کھاتے ہیں مجھے بھی بہت بوكھ لگی ۔گھر آتے ہی ابرش بیڈ پر گر گئی میں بہت تھک گئی ہوں زاوی آج کافی آپ بنائیں گے ۔۔۔اوک آپ نماز ادا کر لیں میں بنا لاتا ہوں

کچھ دیر بعد نماز سے فری ہو کر ابرش زاویار کے قریب آ گئی جو بیڈ کی سائڈ پر بیٹھا لیپٹوپ میں کچھ کام کر رہا تھا ۔۔۔۔کافی کا کپ ابرش کو تھمایا ۔۔۔۔

زاوی “

جی وہ کام کرتے ہوئے ہی اُسکی جانب نگاہ اٹھائے بغیر بولا۔۔۔۔زاوی ادر میری طرف دیکھیں نہ ۔۔۔۔ابر بس دو منٹ تھوڑا سا کام ہے اسنے دو اُنگلیاں اٹھا کر اشارہ کرتے ہوئے کہا

ابرش خاموشی سے کافی پینے لگی ۔۔۔۔اچھا بتائیں اب کیا ہوا کیوں اُداس ہو رہی ہیں زاویار اُسکی طرف متوجہ ہوا جو خاموشی سے بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔ابرش نے بھیگے لہجے میں کہا بابا یاد آ رہے ہیں ۔۔۔اور وہ مجھ سے بات بھی نہی کرتے زیادہ ۔۔۔بی اما بھی یاد آ رہی ہیں ہم گھر کب جائیگے زاوی

بہت روکنے کے باوجود آنکھوں سے آنسو نکل آے ۔۔۔۔ابر دیکھیں میری طرف بابا بس آنے والے ہیں کچھ ہی دن رہ گئے ہیں اور بی اما کو کال کر لینی تھی آپ نے بس کچھ دن کی بات ہے

انشا اللہ ہم جلد گھر واپس جائیں گے

میں نے کی تھی بی اماں کو کال بات بھی کی تھی لیکن گھر کی یاد آ رہی وہ میرے کہے بغیر میرے سب کام کر دیتی تھی مجھے احساس ہی نہیں ہونے دیتی تھی ۔۔

اور میں نے کبھی اُن سے نہی کہا کے جتنی وہ مجھ سے محبت کرتی ہیں اتنی ہی میں بھی کرتی ہوں ابرش نے اُسکے سینے پر سر رکھتے ہوئے کہا زاویار نے اُس کے گرد بانہوں کا حصار ڈالا اور گویا ہوا

آپکو پتہ ہے ابر ہمارے پاس دوسرے کو دینے کے لیے بہت کچھ ہوتا ہے

دعا ہے،مسکراہٹ ہے ،،،وقت ہے خلوص ہے ۔۔۔ہمت حوصلہ ہے یہ سب نہ بھی دے سکیں تو ان میں سے کچھ ہی دے دیں اسکو ترغیب دیں صحیح اور غلط میں فرق بتائے جہاں محبت ہوتی ہے نہ وہاں ہم اپنا سب کچھ دے دیتے ہیں لیکن ایک چیز کو خدا کی امانت رکھیں ۔۔زندگی کو ۔۔۔جیسے خدا نے بتایا اُسی طرح زنگی گزاریں ۔۔۔خدا کے احکامات پر عمل کریں خدا آپکو بہت دےگا اور صرف دُنیا میں ہی نہی آخرت میں بھی دے گا انشا اللہ

اور میں چاہتا ہوں کے میں آپکے ساتھ روزے قیامت جنت میں جاؤں۔۔۔۔خدا کا دیدار دونوں اکٹھے کریں۔۔۔۔۔ انشا اللہ ابرش نے ہے ساختہ کہا ۔۔۔۔۔

سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہْ۔

اللّٰہ تعالیٰ نے اُس بندے کی بات سن لی جِس نے اُس کی تعریف کی۔

زاویار نے پڑھتے اُسکا ترجمہ بھی کیا

زاوی مجھے بھی سکھائے گے اِن آیات کہ ترجمہ ۔۔۔۔۔میں بھی قرآن پاک کا ترجمہ پڑھنا چاہتی ہوں سمجھنا چاہتی ہوں خدا کے کلام کو،،

آپ پڑھیں گی تو انشا اللہ ضرور زاوی نے اُسے محبت سے دیکھتے کہا

خدا نے آپکو میرے لیے بھیجا ۔۔۔۔مجھے سکھانے مجھے سیدھے رستے پر چلانے ۔۔۔مجھے خدا کے قریب کرنے ابرش نے محبت سے اُس کے ہاتھ کی پشت پر اپنا لمس بکھیرا ۔۔۔۔اور اپنا گھیرا اُسکے گرد تنگ کرتی اُسکی گردن میں منہ دیتے سونے لگی ۔۔۔۔

زاویار اُسکے خوبصورت لفظوں کے خصار میں کھویا ابرش کے معصوم چہرے کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔

تمھاری بند آنکھوں کو میں پہروں جاگ کر دیکھوں ۔۔۔۔۔

اُسے دیکھتے دیکھتے اُسکی کب آنکھ لگی پتہ نہی چلا۔۔۔