Raah E Zest Ho Tum By Yumna Writes Readelle 50365 Raah E Zest Ho Tum (Episode 8)
Rate this Novel
Raah E Zest Ho Tum (Episode 8)
Raah E Zest Ho Tum By Yumna Writes
روم میں آتے ہی ابرش نے وضو کیا۔۔۔الماری سے بڑی سی شال نکالی اور نماز ادا کرنے لگی ۔۔۔۔دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو آنسو بہہ نکلے ۔۔۔اُسے کل سے اپنی مما شدت سے یاد آ رہی تھی اور اب بابا بھی دور چلے گئے،،سوچتے اُسکا دل بیٹھا جا رہا تھا۔
آنکھوں سے آنسو لڑیوں کی صورت بہہ رہے تھے
رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ۔
(اے ہمارے ربّ ہم نے اپنی جانوں پر ظُلم کیا ہے اور اگر آپ نے ہمیں معاف نا کیا اور ہم پہ رحم نا کیا تو ہم ضرور نُقصان اُٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔)
سورة الاعراف،آیت ٢٣(23)۔
وہ سجدے میں بار بار اس آیت کا ورد کر رہی تھی رو رہی تھی شرمندہ تھی اپنے رب سے دوری پر اور ایسا کیسے ہو سکتا ہے بندہ اپنے رب سے معافی مانگے اور وہ معاف نہ کرے ۔۔۔وہ تو رحیم ہے رحمان ہے
۔۔۔نماز سے فارغ ہو کر اسنے قرآن پاک کی تلاوت کی اور اپنے بابا کی خیریت سے پہنچنے کی دعا کی ۔۔۔۔۔
ڈور نوک کرکے زاویار نے اندر آنے کی اجازت لی اور اُسکا نام پکارا
“ابرش”
جی،، وہ جو اپنی سوچوں میں گم تھی اچانک اُسے قریب دیکھ کر ہربرا گئی ۔۔۔
کیا سوچ رہی ہیں؟؟…
بابا یاد آ رہے ہیں اسنے ابرش کی سرخ آنکھوں کو دیکھ کر پوچھا ۔۔۔اُسکی سوجی ہوئی متورم آنکھیں اُسکے رونے کا پتہ دے رہی تھی
اسنے اثبات میں سر ہلا دیا ۔۔۔۔۔۔
پہنچ کر کال کریں گے آپ پریشان نہ ہوں۔۔اُسکے گرد بازو حائل کرتے وہ بولا
اللہ پر یقین رکھیں
وہ جسکا نام (الخبیر )ہے ٫٫٫یعنی خبر رکھنے والا
پھر وہ کیسے تمہاری سسکیوں سے بے خبر ہو سکتا ہے
وہ جسکا نام (المتین) ہے”یعنی طاقت والا۰۰۰۰۰۰
پھر وہ کیسے تمہیں کمزور رہنے دے سکتا ہے
بیشک اللہ ہی اُمید اور محبت ہے
آپ بس اُس پر کامل یقین رکھیں۔۔۔۔انشاء اللہ وہ بہتری والے فیصلے کرے گا
زاویار نے اُسکے سرخ رخساروں سے آنسو صاف کیے بس میری جان آپ نے پریشان نہی ہونا میں ہوں نہ آپکے ساتھ ہر لمحے ہر وقت اور اُسے سینے سے لگایا————
میں آپ سے ضروری بات کرنے آیا تھا آپکو بتایا تو ہوگا تایا نے کے کیس کی وجہ سے ہم اُنکے ساتھ نہی جا سکے۔۔۔
اُسی کیس کے سلسلے میں مجھے کچھ دن کے لیے حافظہ باد جانا پر رہا ہے
اور میں کسی صورت آپکو یہاں نہی چھوڑ سکتا اسلئے اپنا ضروری سامان رکھ لیں بس کچھ دن کی بات ہے تب تک تاياجان بھی واپس آ جائیں گے وہ محبت سے گویا ہوا
لیکن میرا جانا ضروری ہے کیا ۔۔۔۔
وہ ہولے سے منمنائ،
آپ چلیں جائیں یہاں سب تو ہیں بی اماں ہیں میرے پاس۔۔۔
جی آپکا جانا بے حد ضروری ہے ۔۔
میں آپکو کسی کے آسرے پر نہی چھورّ سکتا ۔۔۔
اور جا کر بھی میرا دھیان آپ میں ہی رہنا ہے ۔۔۔
نہ میں کیس سولو کر پائونگاہ اور نہ مجھے سکون ملے گا آپکی ٹینشن ہی لگی رہے گی
پر میری یونی ،،اسنے نہ جانے کا ایک اور جواز پیش کیا جی میں آپکے پرنسپل سے بات کر چکا ہوں ۔
آپ اپنی یونی فرینڈ سے رابطہ کر لینا ،،اُس سے نوٹس لے لینا
اور باقی کچھ سمجھ نہ آئی تو آپ اپنی فرنڈ سے ڈسکس کر لینا ۔۔۔
کچھ میں ہیلپ کر دونگا آپکی۔۔۔
اب کوئی بہانہ نہی ۔۔۔
پیکنگ کر لیں اپنی اور وہاں تھوڑی زیادہ ٹھنڈ ہو گی گاؤں کے قریب فلیٹ ملا ہے ۔۔۔
اسلیے گرم ڈریس رکھیے گا
زاویار ملک نے اسکے ماتھے پر اپنے تشنہ لب رکھے یہ لڑکی اسکی زندگی میں بہت اہم تھی جسکے بغیر وہ اب ایک لمحہ نہی گزار سکتا تھا ۔۔۔۔
تھوری دیر میں نکلنا ہے ہمیں ۔۔
میں آپکا نیچے انتظار کر رہا ہوں کہتے ہی وہ چلا گیا ۔۔۔۔پیچھے ابرش نے جلدی سے بی اماں کو بلا کر پیکنگ شروع کی ۔۔۔
کچھ دیر بعد وہ لوگ نکلے
حافظہ آباد کے قریب تھوڑی سی مسافت پر ہی اسکو فلیٹ ملا تھا ۔۔۔۔گاڑی سے نکل کر اسنے ابرش کی طرف کا ڈور اوپن کیا ۔۔۔لوك کھولتا اُسکا ہاتھ تھام کر فلیٹ میں داخل ہوا
ابرش بلیک فراک میں سکارف گلے میں ڈالے بہت حسین لگ رہی تھیں ۔
دو کمروں کا چھوٹا سا فلیٹ تھا ۔۔اسنے آنے سے پہلے ہی ملازمہ سے مکمل صفائی کا کہا تھا ۔۔۔۔وہ بہت گھور سے اس چھوٹے سے فلیٹ کو دیکھ رہی تھی چھوٹا سا کچن اور لاؤنج تھا لیکن شکر تھا کے صاف تھا ۔۔۔۔آپ بیٹھیں میں سامان لےکر آتا ہوں کہتے ہی زاویار باہر نکل گیا ۔۔۔ کچھ دیر میں وہ سامان لے کر اندر داخل ہوا ۔۔۔۔
آپ فریش ہو جائے میں کھانا نکالتا ہوں کہتے ہی اسنے کچن کا رخ کیا ۔۔۔
راستے میں ہی اُسنے کھانا پیک کروا لیا تھا
ابرش خاموشی سے اپنا بیگ لے کر روم کی طرف چلی گئی ۔۔۔
کچھ دیر بعد وہ باہر آئی تو اسنے بڑی نفاست سے کھانا ٹیبل پر لگایا ہوا تھا ۔۔۔
اُسکے ساتھ بیٹھتی وہ خاموشی سے کھانے لگی،،صبح سے پریشانی کی وجہ سے اُس نے کچھ نہیں کھایا تھا
۔کھانے سے فارغ ہو کر زاویار نے برتن سمیٹے اور کچن کی جانب چل دیا۔۔۔
ابرش تو بس اُسے دیکھتی رہ گئی۔۔۔وہ کتنے آرام سے سب کام اکیلے ہی کر رہا تھا
کچھ دیر میں اسکے ہاتھ میں دو کپ موجود تھے ۔۔۔ابرش کی طرف کافی کا کپ بڑھایا ۔۔۔
جسے اسنے فوراً تھام لیا ۔۔۔۔زاویار کو اسکی خیرت بھری نظریں خود پر محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔۔اسنے ابرو اُچکائ ابرش نے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔یہ سب میرا مطلب یہ کام کیسے آتے ہیں آپکو
زاویار جانتا تھا کے وہ یہی سوال کرے گی ۔۔۔
ہاسٹل میں فرنڈ کے ساتھ اکثر بناتا تھا اس نے مسکرا کر جواب دیا ۔۔۔
ابرش ہولے سے سر کو جنبش دیتی خاموشی سے کافی پینے لگی ۔۔۔۔ اس علاقے میں ٹھنڈ کچھ زیادہ تھی اسلیے اُسے سردی کا احساس ہو رہا تھا
چلیں زیادہ حیران نہ ہوں ریسٹ کرتے ہیں صبح مجھے بھی ڈیوٹی جوائن کرنی ہے ابرش سر ہلاتی اپنے کمرے کی جانب چل دی
زاویار اُسے شب بخیر کہتا جیسے ہی روم میں آیا بیڈ پر گرتے ہی اُسے نیند نے گھیر لیا ۔۔۔
دوسری طرف ابرش کو نئی جگہ ہونے کی وجہ سے نیند نہی آ رہی تھی ۔۔۔
بے چینی سے کروٹیں بدلتی وہ جنجھلا کر اٹھ بیٹھی دیواروں کو گھور گھور کر جب وہ تھک گئی تو بیڈ پر ہاتھ مّار کر موبائل ٹٹولا ۔۔۔
فون پکڑ کے وقت دیکھا تو بارہ بجنے والے تھے بیڈ کراون کے ساتھ نیم دراز ہوتے اُسکی نظر سامنے پڑی
نائٹ لیمپ کی روشنی میں اُسے کوئی چیز آگے بڑھتی ہوئی نظر آئی ۔۔۔موبائل کی روشنی آن کر کے جیسے ہی اسنے دیکھا آنکھیں باہر آنے کو ہو گئی۔۔۔خوف سے جسم ہولے ہولے کانپنے لگا،،اتنی سردی میں بھی ماتھے پر پسینے کے چھوٹے چھوٹے قطرے چمکنے لگے
کچھ ہی دیر میں
پورا فلیٹ اسکی چیخوں سے گونج اٹھا ۔۔۔۔
زاوی،،،،، “زااووی “
اُسکے نام کو وہ جتنا لمبا کر سکتی تھی وہ کرکے چیخیں
وہ جو گہری نیند میں تھا اچانک کسی کے چیخنے کی آواز سے آنکھ کھلی ۔۔۔
اس سے پہلے کے وہ اٹھتا پھر سے چیخیں سنائی دی اُسکی آواز سنتے ہی وہ ہربڑاتا ایک لمحے میں ابرش کے روم کی جانب بھاگا۔۔۔
دروازہ ٹھا ” کی آواز کے ساتھ کھول کر وہ اندر داخل ہوا ۔۔۔ابر کیا ہوا ۔۔۔۔
اُس تک پہنچتا وہ اُسکے بازوں تھامتا پوچھنے لگا
وہ بیڈ پر کھڑی مسلسل چیخ رہی تھی ۔۔۔۔ابر ابر کیا ہوا ابرش نے آنکھیں کھول کر اُسے دیکھا زاوی ۔۔۔۔
مشکل سے اُسکا نام پُکارا
جی میں پاس ہوں کیا ہوا بتائے مجھے ۔۔۔۔زاویار وہ وہ اٹک اٹک کے بولتی روتے ہوئے اسکے ساتھ لگ گئی ۔۔۔۔زاویار کے دل نے ایک بیٹ مس کی لیکن جلد ہی وہ خود کو کنٹرول کرتا اُسکی جانب متوجہ ہوا ایسا کیا ہو گیا جو وہ اتنا ڈر گئی ۔۔۔۔
کہی ڈر تو نہی گئی ،،اُسکے ذہن میں عجیب وسوںسے آنے لگے
میں پاس ہوں میرا بچہ کچھ نہی ہوا بس خاموش اسنے پیآر سے اُسے پُچکارتے کہا۔۔۔۔ایک منٹ میں لائٹ آن کرتا ہوں۔۔۔اُس سے دور ہو کر اسنے لائٹ جلائی کمرہ ایک دم روشن ہوا ۔۔۔اب بتائیں کیا ہوا ۔۔۔
اسنے پیار سے اسکے بال سہلاے وہ وہاں اسنے ہاتھ سے اشارہ کیا …..
وہاں تو کچھ نہی زاویار اِرد گرد کا جائزہ لیتے ہوے بولا ۔۔۔۔ تھا وہاں کاکروچ تھا زاوی اسنے ہاتھ کا اشارا کرتے ہوئے کہا
کیا کاکروچ”..
کاکروچ کو دیکھ کر کوئی اتنا ڈرتا ہے ۔۔۔۔آپ اس وجہ سے چیخ رہی تھیں اسنے خیرت سے اسکی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھا ۔۔۔۔ہاں تو اگر وہ مجھے کھا جاتا تو ابرش نے الٹا اسی سے سوال کیا زاویار تو خیران ہی رہ گیا کے چھوٹا سا جانور کیسے اُسے کھا سکتا ہے۔۔۔۔ابر کیا ہو گیا ہے آپکو وہ چھوٹا سا ہوتا ہے آپکو نقصان نہی پُہنچا سکتا اُس نے ابرش کو پچکارتے ہوئے سمجھانا چاہا لیکن وہ بھی ابرش تھی کب اُسکی سنی تھی جو اب سنتی
۔۔۔نہیں مجھے یہاں نہی رہنا ۔۔۔۔
ابرش کیا ہو گیا ہے آپکو یار ۔۔۔وہ کچھ نہی کہے گا فلیٹ شاید بند تھا اسلئے آ گیا ہوگا میں صبح ملازمہ کو بول کر سپرے کروا دونگا۔۔۔۔زاوی نے اُسے سمجھانا چاہا ۔۔۔جانتا تھا کے اگر اسنے ضد پکڑ لی تو وہ کچھ نہی کر سکے گا اسی لیے پیار سے اُسے سمجھایا ۔۔۔۔ مجھے اپنے ساتھ لے جائیں میں آپکے ساتھ آپکے روم میں رہنا ہے مجھے نہی یہاں رہنا زاویار کو تو اسکی بات پے دچکا ہی لگا کے وہ اسکے ساتھ جانے کی بات کر رہی ہے ۔۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے آپ آ جائیں میرے روم میں ۔۔۔نہی میں نیچے نہی اُتروں گی ۔۔۔تو پھر جائینگی کیسے ،،،،زاویار نے پریشانی سے استفسار کیا ۔۔۔ٹرسٹ میں ابر نیچے کچھ بھی نہی ہے ۔۔لیکن ابر میڈم سننے والی نہی تھی ۔۔ ۔۔۔نہی تھا وہ وہاں ہی ہے اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے مجھے دیکھ رہا ہوگا کہیں چھپ کر۔۔۔۔زاویار تو اسکی بات سے مانو صدمے میں ہی چلا گیا آج تو اسکو جھٹکے پر جھٹکے لگ رہے تھے۔۔۔یہ ہو کیا رہا ہے کاکروچ کی بڑی آنکھیں وہ بربرایا ۔۔۔۔
افف زاویار بیٹا صبر سے کام لینا پرے گا آپ کو۔۔۔۔۔ابرش کاکروچ اتنا چھوٹا ہوتا ہے اسکی آنکھیں بھی چھوٹی ہی ہوتی ہیں آپ پلیز نیچے آ جائیں اسنے منت کرنے والے انداز میں کہا۔۔۔نو پھر آجائے گا آپ مجھے اٹھا کر لے جائیں ۔۔۔۔آج تو وہ اسے مارنے کا ارادہ رکھتی تھی شايد۔۔۔۔
اٹھا لیں پلیز میں زیادہ بھاری نہی ہوں کہتے اسنے زاویار کی طرف بچوں کی طرح بانہیں پھیلائیں ۔۔۔۔
زاویار کو اُس پر ٹوٹ کر پیار آیا وہ بہت معصوم تھی بس کچھ دوستوں کی سنگت میں وہ تھوڑی ضدی ہو گئی تھی لیکن وہ جانتا تھا کے وہ اپنی محبت سے اُس کی تمام محرومیاں ختم کر دے گا ۔۔۔۔
اسنے تمام خیالات جھٹک کر اُسے بانہوں میں اٹھایا اور اپنے روم کی طرف قدم بڑھائے ۔۔۔بیڈ پر لا کر اُسے بٹھایا ۔۔۔۔۔اب ٹھیک ہے ۔۔۔۔
تھینک یو زاوی آپ بہت اچھے ہیں اسنے مسکراتے ہوے بچوں کی طرح اُسے ہگ کرتے کہا۔۔۔۔
اسکے بالوں پر لب رکھتے وہ پیچھے ہٹا ۔۔چلیں اب سو جائیں مجھے صبح جانا بھی ہے اور آپ بھی نوٹس چیک کر لینا۔
