Raah E Zest Ho Tum By Yumna Writes Readelle 50365 Raah E Zest Ho Tum (Episode 16)
Rate this Novel
Raah E Zest Ho Tum (Episode 16)
Raah E Zest Ho Tum By Yumna Writes
ابرش کا موڈ کافی اچھا تھا زاویار چاہتا تھا کے آج کا واقعہ وہ بھول جائے اسی لیے سارا دن اُسکے ساتھ گزارا اور وہ اپنے مقصد میں کافی حد تک کامیاب بھی ہو گیا ۔۔۔۔۔اُسکی فرمائش پر آئس کریم بھی لایا جو ابرش نے برے مزے سے
کھائی اور پھر زاویار سے باتین کرتے ہوئے سو گئی ۔۔۔۔
زاویار آہستہ قدم اٹھاتا اُسکے قریب آیا جو کمفرٹر منہ تک لیے سو رہی تھی پاس بیٹھ کر اسنے اُسکے چہرے سے کمفرٹر ہٹایا ۔۔۔۔۔نایٹ بلب کی روشنی میں وہ کروٹ لیے سو رہی تھی زاویار نے محبت سے اُس کے ماتھے پر سے بال ہٹائے … اُسکے ماتھے کو چھوا تو ہلکا بحار محسوس ہوا
اچانک اُسے پریشانی نےآ گھیرا ابھی تو بحار ہلکا تھا صبح تک تیز نہ ہو جائے
ابر،،،،،
اسنے محبت سے اسکی پیشانی پر لب رکھے ۔۔۔۔ابر میری جان اٹھیں بحار ہو رہا ہے آپکو ۔۔۔۔میرے منع کرنے کے
با وجود آپ اپنی مرضی کرتی ہیں اب بحار ہو رہا ہے اُسکے لہجے میں فکر واضح تھی
ابر اٹھیں آنکھیں کھولیں میں میڈیسن لے کر آتا ہوں اُسے اٹھا کر بیٹھاتا خود وہ میڈیسن لینے چلا گیا
پلیز سونے دیں زاوی میں ٹھیک ہوں مجھے نیند آ رہی ہے بہت ابرش نے کمفرٹر منہ تک اوڑھے دوبارہ لیٹتے کہا
زاویار نے اُسے واپس اٹھا کر بٹھایا ایک منٹ رکیں میں بس ابھی آیا
تھوڑی دیر میں وہ دودھ کا گلاس اور دوا لیے اُسکے پاس آیا
یہ لیں جلدی سے دوا اُسکے ہاتھ میں دی اور دودھ کا گلاس منہ سے لگایا
ابرش نے کڑوا منہ بناتے ہوے گلاس پکڑا سارا فنش کریں زویار نے تنبیہہ نگاہوں سے تکتے کہا
اُس سے گلاس پکڑ کر زاویار نے سائڈ پر رکھا کہیں پین تو نہی ہو رہا۔۔ ابر اسنے پریشانی سے استفسار کیا
نہی زاوی میں بلکل ٹھیک ہوں آپ ویسے ہی پریشان ہو رہے ہیں ابرش نے بند ہوتی آنکھوں سے اُسے دیکھتے کہا
ویسے ہی پریشان نہی ہو رہا کہا تھا آپکو کے نہ کھائے آیس کریم لیکن آپ تو میری سنتی ہی نہی اب ہو گیا نہ گلا خراب اگر ابھی نہ دیکھتا تو صبح تک بحار تیز ہو جانا تھا
یار خیال رکھا کریں اپنا
پھر آپ کہتی ہیں کہ میں آپ کو بچوں کی طرح ٹریٹ کرتا ہوں،، وہ ماتھے پر تیوری چڑھائے بولا
چلیں آئے یہاں لیٹیں میں آپکا سر دباتا ہوں ۔۔۔ زاویار اُسے اپنے پاس لٹا کر اُسکا سر ہلکا ہلکا دبانے لگا
ابرش بند ہوتی آنکھوں سے اُسے دیکھ رہی تھی زاوی ابرش نے زاویار کا ہاتھ پکڑ کر اُسکی طرف دیکھا
جی میری جان بتائے کہی درد ہو رہا ہے میرا بچہ” پین کلر لی ہے ناں صبح تک ٹھیک ہو جائیں گی انشا اللہ،، آپ میری بات بھی تو نہیں مانتی نا۔۔ اسنے پریشانی سے اُسے ساتھ لگاتے کہا
او ہو زاوی کیا ہو گیا ہے آپکو کچھ نہی ہوا مجھے آپ خامخوا پریشان ہو رہے ہیں ابرش نے ماتھے پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا ایسا کرتی زاویار کو وہ بلکل معصوم بچی لگی
اُسے اُسکی یہی چھوٹی چھوٹی حرکتیں بہت پسند تھی
معصوم سی،،
میں تو بس آپ سے یہ پوچھنے والی تھی کے۔۔” اسنے دوبارہ اُسکے سینے پر سر رکھتے کہا
کیا ؟؟ کیا پوچھنا ہے ابر ،،زاویار نے اس کا ہاتھ تھام کر لبوں سے لگایا
کے آپ اتنے اچھے کیوں ہیں ۔۔۔کیوں اتنی محبت کرتے ہیں مجھ سے ۔۔۔میرا اتنا خیال رکھتے ہیں ۔۔۔کیا سب ہسبنڈ ایسے ہی ہوتے ہیں ،،،سب مرد ایسے ہوتے ہیں؟؟
اسلئے کے آپ میری زندگی ہیں ۔۔۔۔۔میری محبت ہیں میرا عشق ہیں ۔۔۔۔ میں آپکو جب جب دیکھتا ہوں میرا روم روم شکر ادا کرتا ہے،،آپکو اپنے قریب دیکھ کر میرا دل شکر گزار ہوتا ہے،،آپ میری جان ہیں،،میری روح کا حصہ ہیں،،میں لفظوں میں بیان نہیں کر سکتا آپ میرے لیے کتنی اہم ہیں
میں بچپن سے آپ سے محبت کرتا ہوں اور خدا سے ہمیشہ دعا میں آپکو مانگا میں نے،، زاویار نے ابرش کے بال سہلاتے بولنا شروع کیا
آپ جانتی ہیں جب آپ چھوٹی تھی آپ سب سے زیادہ میرے سے اٹیچ تھی ۔۔۔۔پھر تای جان کی ڈیٹھ سے پہلے اُنہوں نے مجھ سے پرومیس لیا کے میں ہمیشہ آپکی حفاظت کروں اور بس میں اپنا عہد نبھا رہا ہوں اپنوں کے دور جانے کا دکھ تو ساری زندگی رہتا ہے لیکن یہ خدا کا نظام ہے اُسکی چیز وہ جب مرضی لے سکتا ہے
خدا کسی بندے سے کچھ نہی چھینتا ۔۔۔۔وہ بس وہی واپس لیتا ہے جو اسنے نوازا ہوتا ہے اب یہ انسان پر منحصر ہے کے وہ اُسے شکریہ کہہ کر لوٹائے یاں پھر ناشکری میں چھین جانے کا کہے لیکن یہ تو تہہ ہے کے اگر وہ کسی سے کچھ واپس لیتا ہے تو بدلے میں کچھ دیتا بھی ہی ہے
اور اسنے مجھے آپکو دیا ۔۔۔اگر آپ نہ ہوتی تایا نہ ہوتے میں کیسے زندگی گزارتا ۔۔۔یہ اُسکا احسان ہے بہت کے اسنے مجھے آپکو دیا اور اگر یہ بات کی جائے کے کیا سب مرد ایک طرح ہوتے ہیں؟…..
تو سب کو تو میں نہیں جانتا لیکن میں تو خدا اور اُسکے رسول کے احکام پر عمل کرتا ہوں اور باقی سبکو بھی کرنا چاہئے
ہمارے نبی کا پیغام ہے “
اے لوگو! عورتوں کے معاملے میں اللّٰہ سے ڈرو، عورتوں کے معاملے میں اللّٰہ سے ڈرو۔ میں تُمہیں عورتوں سے نیک سلوک کی وصیت کرتا ہوں۔
حضرت مُحمّدﷺ ۔
خطبہ حجتہ الوداع۔
میں تو اپنے نبی کی بات پر عمل کرتا ہوں،، آپ نے با ر بار عورت سے نرمی کا حکم دیا
اور آپ تو میری شریک حیات ہیں میں آپ سے کیسے محبت نہ کروں اسنے بات جاری رکھی۔۔۔
میرے نبی کا فرمان ہے عورت کے ساتھ حسن احلاق کے ساتھ پیش آؤ۔۔۔
اور ہمارے نبی نے اپنے عمل سے ہمیں بتایا ۔۔۔۔آپ صل علٰی وسلم اپنی ازواج کے ساتھ کام میں مدد کرتے اُنکے ساتھ محبت سے پیش آتے
تو ہم تو اُنکے پیروں کی دھول بھی نہی ہم کیوں نہ عمل کریں آپ کے حکم پر ،،نظروں میں محبت کا جہاں آباد کیے اُسے دیکھتا وہ سرشار سے کہہ رہا تھا۔
ابرش نے اُسکے سینے سے سر اٹھایا اور تھوڑا سا اوپر اٹھ کر اُسکے ماتھے پر لب رکھے زاویار ملک نے اُس لمحے اپنے اندر تک سکون اترتا محسوس کیا ۔۔۔۔۔۔
خدا کو پتہ نہیں میری کونسی نیکی پسند آئی جو اسنے مجھے آپکو دیا
میں تو اتنی اچھی بھی نہی ۔۔۔نہ کبھی نماز پڑہی اور نہ ہی اُسکے احکامات پر عمل کیا لیکن پھر بھی اسنے مجھ پر بہت رحم کیا ۔۔۔۔اللہ تعالیٰ بہت مہربان ہے وہ میری زندگی میں آپکو لائے۔۔۔میرا ہمسفر بنایا،، آپکے آنے سے میری زندگی بدلی میں نے خدا کو جانا میں نے اُسکے احکامات پر عمل کیا
آپ نے مجھے میرے رب کے قریب کیا ورنہ میں تو خدا سے بہت دور تھی اندھیروں کی مسافر تھی آپکی وجہ سے میں روشنی میں آئی
Alhumdulilah to have you in my life….Thank you soo much for every thing.
صرف اتنا کہنا چاہونگی کے آپکے ہونے سے میری زندگی حسین ہے ۔۔۔آپ ہیں تو میں ہوں ،،،،،آپ سے ابرش مکمل ہے ۔۔۔۔شکریہ میری زندگی کو اتنا حسین بنانے کے لئے میری زندگی میں آنے کے لیے ،،،،،آپ میرے محسن میرے رہنما ہیں ابرش نے کہتے اُسکے گرد اپنے بازوں سے حصار بنایا
“زاویار اُسکے لفظوں میں کھو سا گیا اور سرشاری سے اللہ کا شکر ادا کیا ” الحمدللہ رب العالمین “
آپکو میں نے نہیں ابر میری زندگی ،،میری جان،،میرا سکون
خدا نے اپنی طرف متوجہ کیا آپ کو کس نے کہا آپ اچھی نہی “میری جان تو بہت اچھی ہیں ،،میری زندگی سے اچھا کوئی نہیں،،میرا بچہ اتنا معصوم ہے،،
پتہ نہیں “
میں ایک عام سی لڑکی
اُسے کیوں خاص لگتی ہوں
ابرش نے اُسکی طرف دیکھ کر کہا
کیوں کے آپ ہیں ہی بہت خاص،،میرے نزدیک میری جان سے بڑھ کر کوئی نہیں ۔۔۔۔کہتے زاویار نے اُسکے بالوں پر لب رکھے”
مجھے اچھا لگتا ہے
تمہاری آنکھوں میں میرا عکس
تمہارے ہونٹوں پے میرا نام
تمہرے ہاتھ میں میرا ہاتھ
تمہارا پیار ،،تمہاری خوشبو
تمہاری آواز
تمہارا احساس
تمہارا ساتھ
اور تم”
زاویار بولتا اُسکا سر اپنے بازو پر رکھتا لیٹ گیا
