331.4K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah E Zest Ho Tum (Episode 6)

Raah E Zest Ho Tum By Yumna Writes

ایک شور ہے مجھ میں

جو خاموش بہت ہے۔۔۔

اسے سمجھ ہی نہی آ رہا تھا کہ اتنی جلدی یہ سب ہو کیا رہا ہے

وہ بس اپنے باپ کی خوشی کے لیے خاموش ہو گئی۔۔۔

میم ہو گیا ۔۔۔

ماشاء االلہ آپ بہت خوبصورت لگ رہی ہیں بلکل حور “

بیوٹیشن نے دل سے اسکی تعریف کی ۔۔۔

لائیٹ پنک گرارے میں جس میں خوبصورت موتی جڑے ہوے تھے وہ بہت حسین لگ رہی تھی ۔۔۔

وہ بس خاموش رہی

سیڑھیاں عبور کرکے جیسے ہی صفدر ملک اسکے روم میں داخل ہوے۔۔۔

اُسے دیکھ کے فوراَ اسکی جانب قدم بڑھائے۔۔۔

ماشاء االلہ میری بیٹی بہت حسین لگ رہی ہے ۔۔۔

اللہ نظر بد سے بچائے اُنھوں نے اُسکا ماتھا چومہ ۔۔۔دروازے پر دستک دے کر بی اما اندر آئی اور باہر مہمانوں کے آنے کی اطلاع دی ۔۔۔

بی اماں اسکو دیکھ کر صدقے واری گئی ۔۔۔

بچپن سے پالا تھا اُنھوں نے اُسے ۔۔۔۔

اسکی ہر طرح سے دیکھ بال کی تھی بی اماں کی آنکھیں ایک دم نم ہوئی۔۔۔۔

ابرش نے اُنہیں دیکھ کر باہیں پھیلائ اُنکے آنسو بہہ نکلے اور اُسے سینے سے لگا کر دعائیں دینے لگی ۔۔۔۔

چلئیں سب انتظار کر رہے ہیں صفدر ملک نے اُسکا ہاتھ تھاما

۔باپ اور بی اماں کے ساتھ وہ گارڈن میں اینٹر ہوئی جہاں سارے فنکشن کے انتظامات کیے گئے تھے ۔۔۔

نکاح کی وجہ سے بس قریبی رشتے داروں کو ہی بلایا گیا تھا ۔۔۔۔

وہ سہج سہج کے قدم بڑھا رہی تھی ۔۔۔

سامنے اسٹیج پر زاويار ملک اپنی شاندار پرسنلٹی کے ساتھ بیٹھا تھا ۔۔۔

زاویار ملک اُسے دیکھ ٹرانس کی کیفیت میں اٹھا اسے ارد گرد کا ہوش نہی رہا ۔۔۔۔ آگے بڑھتےفورا اُسکا ہاتھ تھام کر ساتھ بیٹھایا ۔۔۔۔

سب رشتے دار اس شاندار جوڑی کو دیکھ کر بلائیں لے رہے تھے۔۔۔

مولوی صاحب نکاح شروع کریں صفدر ملک گویا ہوے۔۔۔جلد ہی ایجاب وقبول کا مرحلہ بھی مکمل ہوا ۔۔۔

زاویار ملک بہت خوش تھا وہ اپنے رب کا تہے دل سے شکر گزار تھا۔۔۔۔

صفدر ملک بھی انتہا کے خوش تھے۔۔اُنھوں نے دونوں کا صدقۃ دیا اور محبت سے گلے لگایا ۔۔۔

کھانے کے بعد انکو دعائیں دیتے سب چلے گئے

زاویار بھی اپنے دوستوں کے ساتھ باتوں میں مشغول ہو گیا۔۔۔۔

بی اماں ابرش نے اُنہیں پکارا۔۔۔

جی بیبی جی۔۔۔

مجھے روم میں جانا ہے تھک گئی ہوں بہت ۔۔۔پلز مجھے روم میں لے چلیں اسنے اٹھتے ہوے اپنا ڈریس سمبھالا

جی چلیں میں آپکو چھوڑ آتی ہوں۔۔۔۔

اپنے روم میں داخل ہوتے ہی اسنے اپنے دوبٹے کی پنز نکالی بی اماں پلز میرے لیے کافی بھیج دیں ۔۔۔

جی میں بیجھتی ہوں کہتے ہی اُنھوں نے کچن کا رخ کیا

وہ سرشار سا لاؤنج میں داخل ہوا تو بی اماں کو کافی لے کر جاتے دیکھا ۔۔۔

یہ ابرش کے لیے لے جا رہی ہیں ۔۔۔

جی بیٹا ابرش بیبی کے لیے ہی ہے

لائیں یہ مجھے دیجئے میں لے جاتا ہوں کافی کا کپ پکڑ کر اسکے کمرے کا رخ کیا تاکہ اس سے مل کر اُسکے تاثرات دیکھ سکے

ڈور کھول کر اندر داخل ہوا تو روم میں کوئی بھی موجود نہی تھا۔۔۔

کافی ٹیبل پر رکھی اور بیڈ کراون سے ٹیک لگا کر اُسکا انتظار کرنے لگا

واشروم کا دروازہ کھول وہ فریش سی اپنے مخصوص نائٹ سوٹ میں باہر ائی

آپ،، ؟ ابرش اُسے سامنے دیکھ گبھرا گئی

جی میں ہی ہوں

یار ریلیکس رہیں کھا تھوڑی نہ جاؤنگا آپکو یوں گبھرانے والی کون سی بات ہے زاوی مسکراتے ہوے اُسے دیکھ گویا ہوا

میں نے سوچا میری وائف نے تو مجھے بلانا نہی خود ہی مل آؤں کہتے ہی چند قدم اسکی طرف بڑھائے ۔۔۔نہی ایسی بات نہیں بس میں تھک گئی تو روم میں آ گئی ابرش کا دل اُسے قریب آتا دیکھ گھبرانے لگا اور جلدی میں اسٹیج سے اٹھنے کا جواز دیا

ابرش اسنے محبت بھرے لہجے میں اُسے پکارا

جج ،،جی ” وہ اُس کے اتنے محبت سے پکارنے پر بوکھلا سی گئی

آپ خوش ہیں ؟؟

آئی مین،، کوئی زور زبردستی کی وجہ سے تو نہی آپ نے نکاح کے لیے رضامندی دی زاویار نے قریب آتے اُسکا ہاتھ تھام کر دھڑکتے ہوے دل سے پوچھا وہ چاہتا تھا کے ابرش اپنی مکمل رضامندی سے اُسکی زندگی میں داخل ہو کل کو وہ یہ نہ بولے کے مجھ سے پوچھے بغیر میری زندگی كا اتنا بڑا فیصلہ کیا گیا ہے

نہی ایسی بات نہیں ہے بابا بہتر جانتے ہیں میرے لیے کیا بہتر ہے اُنھوں نے کچھ سوچ کر ہی کیا ہوگا فیصلہ اسنے پہلی بار اسکی آنکھوں میں دیکھ کر جواب دیا ۔۔۔لیکن زیادہ دیر اسکی نظروں کی تاب نہ لا سکی اور ارد گرد دیکھنے لگی ۔۔۔۔

آپ جانتی ہیں آپ نے مجھے کتنا پرسکون کردیا ہے ۔۔۔میں صبح سے اسی چیز کی ٹینشن میں تھا ۔۔۔۔آپ نے مجھ پر سے بہت بڑا بوجھ اُتار دیا شکریہ ۔۔۔۔شکریہ میری زندگی میں آنے کے لیے ۔۔۔انشاء االلہ میں آپکو کبھی شکایت کا موقع نہیں دونگا کہتے ہوے اسنے اپنے لب اسکی پیشانی پر رکھے اور اُسے سینے میں بینچ لیا ابرش کی پلکیں اُسکی اتنی قربت سے لرز اٹھی اور چہرہ پل میں گلال ہو گیا ۔۔۔۔۔

زاویار جانتا تھا کے اچانک سے وہ یہ سب قبول نہی کر پا رہی ہوگی اسلئے اُسکی پریشانی کا سوچ اسکے پاس چلا آیا اُس سے تھوڑا فاصلہ قائم کرکے اسکی آنکھوں میں دیکھا بس اتنا کہنا چاہتا ہوں آپکو ۔۔۔

آپ میرے لیے میری زندگی ہیں

میرا سکون ہیں

میرا عشق ہیں

آپ ہیں تو میں ہوں

آپ نہیں تو میں بھی نہیں۔۔۔۔کہتے ہوے وہ روم سے نکل گیا اور ابرش ساکت اسکے الفاظوں میں کھوئی رہی ۔۔۔