331.4K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah E Zest Ho Tum (Episode 20)

Raah E Zest Ho Tum By Yumna Writes

کمرے میں قدم رکھتے ہی اُسے ابرش کی جنجھلای ہوئی آواز سنائی دی بی اما مجھے نہی کھانہ کچھ بھی پلیز وہ بازوں آنکھوں پے رکھے لیٹے ہوئے بولی “

زاویار نے اُنھیں جانے کا اشارہ کیا اور خود اُسکے قریب

آ گیا اُسکی بکھری حالت دیکھ زاویار کا دل دُکھا

ابر اٹھئیں کچھ کھا لیں پھر میڈسن لینی ہے

ابرش نے اپنی آنکھوں سے ہاتھ ہٹا کر اُسے دیکھا کیوں آئے ہیں آپ میرے روم میں پلیز جائیں یہاں سے ابرش نے ناگواری سے کہتے چہرہ موڑ لیا

میں نے آپ سے اجازت نہیں لی اٹھ کر بیٹھئیں جلدی سے ناشتا کرئیں یاں پھر میں خود کرواؤں زاویار نے سنجیدگی سے اُسے دیکھ کر کہا

ابرش ناراضگی سے اُس کی طرف دیکھ اٹھ کر بیٹھی کہیں وہ اپنی بات پر عمل ہی نہ کر دے

منہ کھولیں جلدی سے سنجیدگی سے بولتے اسکو دوا دی زاویار جانتا تھا کے ابرش شروع سے ہی اُسکے غصے سے ڈرتی تھی اسلئے کچھ دیر خود پر سنجیدگی طاری کر لی ورنہ وہ کبھی اُسکی بات نا مانتی ابرش پلکیں جپکائے اپنے آنسو روکنے کی کوشش کر رہی تھی جو ضبط کرنے کے باوجود بہنے لگے

اسکو زاویار کی اس رویے کی بلکل بھی عادت نہی تھی اتنی محبت دے کر اب اُسکا سخت انداز ابرش کو اور تکلیف دے گیا

اس طرح خود کو تکلیف دے کر آپ مجھے سز ا دے رہی ہیں جانتا ہوں میں،،

ابرش کے آنسو صاف کرتا وہ اُسے دیکھتا بولا

ابرش نے نخوت سے اُسکے ہاتھ ہٹائے اور چہرہ موڑ لیا ،،سچ تو وہ جان گئی تھی لیکن جان بوجھ کر اُسے تھوڑا تنگ کرنا چاہتی تھی۔

ایسے نہ کریں ابر مجھے تکلیف ہو رہی ہے آپکے اس رویے سے زاویار اُسے دیکھ بولا

مجھے بھی ایسے ہی تکلیف ہوئی آپ کے جوٹھ سے آپکے ڈرامے سے، آپکو کیوں ہو رہی ہے تکلیف آپ تو جیت گئے ہیں آپ نے اپنا ٹاسک مکمل کیا ایک بگڑی ہوئی ناسمجھ لڑکی کو سدھار کر اب تو آپکو خوش ہونا چاہیے ۔

ابرش پلیز ایسے مت بولیں میری جان،،تایا نے آپکو ساری حقیقت بتائی تو ہے،، میرا مقصد آپکو تکلیف پہنچانا نہیں تھا پہلے بھی بتا چکا ہوں ۔

لیکن آپ نے پہنچائی ہے تکلیف مجھے ۔۔۔میں نے کبھی خود کو اتنا کمزور نہی سمجھا جتنا آج سمجھ رہی ہوں ۔۔۔۔میری ماں نہی تھی جب میں نے ہوش کی دنیا میں قدم رکھا بابا اور آپ ہی میرے لیے سب کچھ تھے لیکن پھر جب میں اپنی دوستوں کی ماں کو دیکھتی پھر مجھے کمی کا احساس ہوتا لیکن گھر آ کے وہ احساس دھندلا پر جاتا ۔۔۔۔۔

جانتے ہیں کیوں ؟؟

اسنے سوالیہ نگاہوں سے اُسے دیکھا “

کیوں کے آپ اور بابا ہمیشہ میرے ساتھ ہوتے لیکن پھر آہستہ آہستہ آپ مجھ سے دور ہوتے گئے اور بابا اپنے آفس میں اتنا بزی ہوتے کے مشکل سے میری بات سنتے

مجھے میری ماں کی کمی کا شدت سے احساس ہونے لگا پھر میں نے جان بوجھ کر ایسے کام کیے کے آپ اور بابا میری طرف متوجہ ہوں بابا نے مجھے پیار سے منع کیا اور اپنے کام میں مصروف ہو گئے ۔

لیکن آپ نے مجھے روکا مجھے ڈانٹا میں خوش ہوئی کے آپ ہیں میرے پاس میرے ساتھ،،

میں اکیلی نہی لیکن پھر آپ بھی چلے گئے اور میں بلکل اکیلی ہو گئی

پھر اب اُس بگڑی ہوئی لڑکی کو سنبھالنے کے لیے آپ نے اُس سے نکاح کیا اُسے خود کی عادت ڈالی اُسے اعتماد میں لیا اسکو پیار دیا اسکو سمجھایا اسکو خدا کے قریب کیا ،،

لیکن اس بار خود سے بہت دور کر دیا ،،مجھے نفرت ہو رہی ہے خود سے کیوں میں آپ کے فریب میں آئی کیوں مجھے آپ سے محبت ہوئی مجھے نفرت ہے آپ سے کاش میں کبھی آپکے ساتھ نہ گئی ہوتی وہ کہتی آنسو صاف کرتے اٹھنے لگی

زاویار نے اُسکا ہاتھ پکڑ کر اُسے اپنے حصار میں لیا ،،

ابرش نے اُسکے سینے پے ہاتھ رکھ کر اُسے دور کرنے کی کوشش کی لیکن اسنے اپنے بازوں اُسکے گرد سخت کیے

ایم سوری،، ریلی سوری پلیز” مجھے معاف کر دیں جانتا ہوں بہت تکلیف دے چکا ہوں آپکو جانے انجانے میں مجھے آپکو اس طرح اکيلے نہیں چھوڑنا چاہیے تھا لیکن یقین کریں میں تو صرف آپکو اسپیس دینا چاہتا تھا کے آپ اپنی مرضی سے اپنی زندگی گزاریں

میرا مقصد آپکی دل آزاری کرنا نہی تھا میں اپنے اب تک کے تمام رویے کے لیے آپ سے معافی چاہتا ہوں زاویار نے اُسکا چہرہ ہاتھوں میں لیتے کہا

میرا مقصد آپکو تکلیف دینا نہی تھا میں تو صرف آپکو اپنے قریب کرنے کے لیے اپنے ساتھ لے کر گیا تھا لیکن باخدا میری محبت کو ڈراما اور ناٹک بول کر میرے جذبات کی اس طرح تذلیل نہ کریں

میں نے یہ سب صرف تایا جاں کی پریشانی کم کرنے کے لیے کیا اور آپکو آپکی دوستوں کی غلط کمپنی سے دور کرنے کے لیے کیا میں آپکو تکلیف نہی دینا چاہتا تھا آپ میری محبت ہے خاص ہیں میرے لیے پلز بار بار خود کو برا مت کہیں آپ کے الفاظ مجھے تکلیف دے رہی ہیں مجھے برا بھلا کہیں خود کو یوں برا کہہ کر آپ مجھے زیادہ تکلیف دے رہی ہیں

مجھ سے اس طرح منہ نا مورّیں آپکی بے رحی برداشت نہی کر پا رہا میں عشق کرتا ہوں آپ سے آپ کے بغیر جینے کا تصور بھی نہی کر سکتا یہ سوچ ہی میری جان لینے کے لیے کافی ہے کے آپ مجھ سے خفا ہیں میرا چہرہ نہی دیکھنا چاہتی

پلیز ایک دفعہ مجھے معاف کر دیں وعدہ کرتا ہوں کبھی آپکو ہرٹ نہی کرونگا،،

زاویار نے دھندلی آنکھوں کے ساتھ اُسکے لرزتے ہوئے وجود کو سینے سے لگایا

آئی ہیٹ یو آپ بہت برے ہیں میں کبھی آپ سے بات نہی کرونگی وہ کہتی اُسکے سینے پر مکے مارنے لگی

ام ریلی سوری میری جان بس ایک دفعہ اپنے زاوی کو معاف کر دو دوبارہ کبھی آپکو ہرٹ نہی کرونگا بس ایک دفعہ،،

وہ اُسکے بال نرمی سے سہلاتے ہوے کہہ رہا تھا

نہیں کبھی نہی آپ نے مجھے ہرٹ کیا میرا یقین توڑا وہ کہتی تھک کر روتی ہوئی اُسکی شرٹ کندھوں سے تھام گئی

میں آج بھی خود کو بھلا کر

اُسے راضی کرنے کی جستجو میں ہوں

اور وہ آج بھی مجھے

ایک لمحے میں بھلانے کی طاقت رکھتی ہے

اس نے کبھی سوچا بھی نہی تھا کے ابرش اتنی حساس ہو گی اتنی تکلیف برداشت کی ہوگی اُس نے وہ تو صرف اُس سے اسلئے دور ہوا کے وہ اپنی مرضی سے اپنی زندگی گزارے کاش وہ اُسے کبھی اکیلا نہ چھوڑتا تو آج وہ اتنی تکلیف میں نہ ہوتی

لیکن وہ جانتا تھا کے وہ بہت نرم دل کی مالک ہے اُسے معاف کر دے گی زیادہ دیر ناراض نہی رہے گی اُسکے جس عمل سے ابرش اُس سے دور ہوئی ہے وہ سدھارے گا اُسے محبت ،مان ،عزت ” دے گا

وہ اُسکی کمر سہلاتا اُسکی نم آنکھوں پر لب رکھ گیا ۔۔۔۔کیا حال بنا دیا اتنی پیاری آنکھوں کا آپ خود کو تکلیف دے کر مجھے سز ا دے رہی ہیں میری جان آپ اس طرح مجھ سے خفا ہونگی تو زاویار زندہ نہیں رہ پائے گا ایک دفعہ معاف کر دیں پلیز “

خدا معاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے اُسے دیکھتا وہ بولا

آپ کے وجود سے ہی میرا وجود ہے اور اگر آپ ہی مجھ سے دور چلی جائے گی تو میں مر جاونگا

ابرش نے اُسکے لبوں پر اپنا ہاتھ رکھا اور سوجی ہوئی آنکھوں سے اُسے دیکھا ایسے مت بولیں ناراض ہوں آپ سے غصہ آیا تھا آپکے اس عمل سے،، تکلیف ہوئی تھی،،

آپ کے جھوٹ سے لیکن ابرش کبھی بھی زاویار سے دور جانے کا نہی سوچ سکتی ۔۔

جس شخص نے مجھے میرے خدا سے ملایا میں اُس سے کیسے دور جا سکتی ہوں میری خوش بختی ہے کے خدا نے مجھے آپ جیسا ہمسفر دیا اتنی عزت اور محبت کرنے والا۔

میں اُس سے چاہ کر بھی نہیں روٹھ سکتی،،،

وہ باتیں ہی ایسی کرتا ہے سارا غصہ پگل جاتا ہے ۔

میں نے آپکو معاف کیا اللہ کی رضا کے لیے اگر اللہ مجھے معاف کر سکتا ہے تو میں تو پھر ایک عام سی انسان ہوں اور ویسے بھی آپ نے کہا اللہ معاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے میں اللہ کے پسندیدہ بندوں میں شامل ہونا چاہتی ہوں کہتے اسنے اپنا سر زاویار کے سینے پر رکھا

شکریہ میری زندگی،،

میں کبھی بھی آپکو شکایت کا موقع نہیں دونگا زاویار نے محبت سے اُسکا ہاتھ اپنے لبوں سے لگایا اور اُسے بیڈ پر لٹاتا اُسکے بالوں میں اُنگلیاں پھیرنے لگا جلد ہی وہ نیند میں چلی گئی اُسکے ماتھے پر لب رکھتا کمفرٹر اُس پر دیتا اُسکے ساتھ ہی لیٹ گیا کل رات سے اُسکی ناراضگی کا سوچ کر اسنے ایک پل آنکھ نہی لگائی تھی