Raah E Zest Ho Tum By Yumna Writes Readelle 50365 Last updated: 13 November 2025
Rate this Novel
Raah E Zest Ho Tum (Episode 1)Raah E Zest Ho Tum (Episode 2)Raah E Zest Ho Tum (Episode 3)Raah E Zest Ho Tum (Episode 4)Raah E Zest Ho Tum (Episode 5)Raah E Zest Ho Tum (Episode 6)Raah E Zest Ho Tum (Episode 7)Raah E Zest Ho Tum (Episode 8)Raah E Zest Ho Tum (Episode 9)Raah E Zest Ho Tum (Episode 10)Raah E Zest Ho Tum (Episode 11)Raah E Zest Ho Tum (Episode 12)Raah E Zest Ho Tum (Episode 13)Raah E Zest Ho Tum (Episode 14)Raah E Zest Ho Tum (Episode 15)Raah E Zest Ho Tum (Episode 16)Raah E Zest Ho Tum (Episode 17)Raah E Zest Ho Tum (Episode 18)Raah E Zest Ho Tum (Episode 19)Raah E Zest Ho Tum (Episode 20)Raah E Zest Ho Tum (Episode 21) 2nd Lst EpisodeRaah E Zest Ho Tum (Episode 22) Last Episode
Raah E Zest Ho Tum By Yumna Writes
دفعہ ہو جاؤ یہاں سے کس کی اجازت سے تم میرے روم میں آئی؟؟۔۔۔
وہ اُسے کها جانے والی نظروں سے دیکھتی بی اماں کو آوازیں دینے لگی
بی اماں_ بی اماں _جلدی آئیں۔۔۔
ملازمہ تو اچانک اسکے انداز سے گبھرا گئی ۔۔۔
بیبی جی معاف کر دیں دوبارہ ایسا نہی ہوگا
وہ سر جھکاتے بولی
شٹ اپ زبان بند رکھو اپنی ۔۔۔
اُسے غصے سے دیکھتی وہ پھنکاری،،
اوقات کیا ہے تمہاری ۔۔۔
کس کی اجازت سے تم نے میرے روم میں قدم رکھا ۔۔نکلو ابھی کے ابھی یہاں سے
وہ اُسے سخت تیوروں سے دیکھتی بولی
بی اماں جلدی سے کمرے میں داخل ہوئی ۔۔۔
ابرش بیٹی میں
نے اسے آپکے کمرے میں بھیجا تھا ،،
آج صاحب جی نے آنا ہے تو میں گھر کی صفائی کروانے میں مصروف تھی اسی لیے اسکو آپکے روم میں بیج دیا ۔۔۔ وہ اُسے وضاحت دینے لگی
اپنے مخصوص نرم لہجے میں اُسے برہم دیکھ گویا ہوئی
معافی چاہتی ہوں دوبارہ ایسا نہی ہوگا
نہیں بی اماں آپ کیوں معافی مانگ رہی ہیں
وہ نرم لہجے میں اُنھیں دیکھتی بولی
۔۔۔۔اسنے میری نیو سکرٹ خراب کر دی۔۔۔۔۔۔
میری فیورٹ تھی ۔۔۔
وہ منھ بسورتی غصے سے اُسے دیکھتے بولی
آئندہ آپ کسی کو میرے روم میں مت بھیجنا ۔۔۔۔
آپ جب بھی فری ہوں خود آیا کریں ۔۔۔
مجھے نہی پسند میرے روم میں آپکے علاوہ کسی کا آنا ابرش اُن کے گرد محبت سے بانہیں پھیلائے بولی۔۔۔
ملازمہ تو ہونق بنی اس لڑکی کو دیکھ رہی تھی جو ابھی تھوڑی دير پہلے اتنے غصّہ میں تھی
اور اب اتنے سکون سے
بی اماں سے بات کر رہی تھی ۔۔۔۔۔
تم کیوں یہاں کھڑی ہو جاؤ اپنا کام کرو ،،
۔۔بی اماں نے ملازمہ کو ڈانٹ کر وہاں سے بھیجا ،،
ابرش بیٹی یہ نئی ملازمہ ہے اسلئے اُسے پتہ نہیں چلا ہوگا ۔۔۔
ضرورت مند تھی اسلیے میں نے صاحب جی سے بات کرکے اسے کام پر رکھ لیا
دوبارہ ایسا نہی ہوگا بی نے معذرت کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
اوہ"۔ وہ سر ہلاتی گویا ہوئی ،،،
کوئی بات نہیں بی ماں ۔۔۔آپ کو جیسے بہتر لگے
کون آ رہا ہے بابا کے ساتھ ؟۔۔۔۔
وہ ڈریسنگ کے سامنے کھڑی ہوتی اپنے شولڈر کٹ براؤن سلکی بالوں میں برش چلاتی سوالیہ نگاہوں سے آئینے سے اُنھیں دیکھتی بولی،،
زاویار بیٹا آ رہے ہیں صاحب کے ساتھ ۔۔۔
انہی کا روم سیٹ کروا رہی ہوں ،،
اور صاحب بتا رہے تھے کے اب وہ سب کے ساتھ ہی رہیں گے،،
کیا ؟؟
اُسکے ہاتھ سے برش چھوٹ کر زمین پر گرا
ممّ۔۔۔مطلب اسی گھر میں؟؟
اُنکی بات سنتی وہ گربڑا گئی
کیا اب وہ واپس نہیں جائے گے؟؟
وہ خود پر قابو پاتی بولی
جی نہیں ،،
ٹھیک ہے آپ جائیں اسنے کڑوا سا منہ بنایا اور میرے لیے کافی بیجھ دیں کہتی وہ ڈریسنگ کے سامنے کھڑی ہو کر پھر سے اپنے کام میں مشغول ہو گئی
کیوں کے زاویار اسکو کچھ خاص پسند نہی تھا۔،،
اسنے جب سے ہوش سنبھالا زاویار اسکو کسی نہ
کسی بات پر ٹوکتا رہتا
جسکی وجہ سے اُسے زاویار سے خاص قسم کی چرّ تھی ۔۔۔
اسکے بابا نے تو اُسے کبھی کسی چیز سے منع نہی تھا کیا اسی لیے وہ اس سے خار کھانے لگی ۔۔۔۔
اور اب اُسکے واپس آنے پر پریشانی نے آ گھیرا تھا ،،،
جسے بی ماں کے سامنے تو وہ چھپا گئی لیکن اب خود بیٹھ کر اُسکے واپس آنے کی وجہ سوچنے لگی ،،
کچھ تو بات ہوگی ایسی ۔۔۔۔
جو اُسکی واپسی ہو رہی ہے ورنہ بابا نے تو بہت کہا تھا لیکن تب تو مانے نہی،،
خیر ابر تمھیں کیا لینا دینا ،،،
آئے یاں نہیں ،،،میری بلا سے"
سلکی بالوں میں ہاتھ پھیرتے وہ اپنا فون تھام کر وہ انسٹا آن کرکے اُس میں مصروف ہو گئی
