Raah E Zest Ho Tum By Yumna Writes Readelle 50365 Raah E Zest Ho Tum (Episode 7)
Rate this Novel
Raah E Zest Ho Tum (Episode 7)
Raah E Zest Ho Tum By Yumna Writes
صبح صفدر ملک جانے کے لئے تیار تھے۔۔۔
ملازمہ اسکو بلانے کے لیے آئی ۔۔۔
ملازمہ کو جانے کا اشارہ کرکے وہ اُٹھ کر بیٹھی ۔۔۔
۔باپ سے دوری کا سوچتے ہوے دل کانپ رہا تھا کیسے رہے گی اُنکے بغیر اتنے دن
جب سے اسنے ہوش سمبھالا تھا وہ کبھی اس سے دور نہی گئے
سوچتی آنکھوں میں آئی نمی کو صاف کرتی وہ اُٹھ کر چینج کرنے چلی گئی
منھ پر پانی کے چھینٹے مارتی دوپٹہ کندھے پر ڈالے
وہ قدرے فریش دکھائی دینے لگی سبز کرتے اور کیپری میں اُسکا سراپا چمک رہا تھا ،،لیکن آنکھیں اُداس تھی
وہ نیچے آئی تو ڈائننگ ٹیبل پر وہ دونوں اسکے انتظار میں تھے۔۔
اسلامُ علیکم ابرش سلام کرکے اُنکے ساتھ بیٹھی۔۔۔۔
آ جاؤ میری جان ملک صاحب نے اُسکے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرتے اپنے ساتھ والی کرسی پر بٹھایا ۔۔۔
طبیعت ٹھیک ہے میری بیٹی کی ،،اُسکا بجھا بجھا سا چہرہ دیکھتے وہ بولے
جی ،،وہ سر ہلاتی خاموشی سے ناشتا کرنے لگی
ناشتے سے فارغ ہو کر کچھ وقت وہ اُسے ساتھ بٹھائے باتایں کرتے رہے
صفدر ملک جانے لے لیے تیار تھے ائیر پورٹ تک وہ اُنہیں چھوڑنے آئے ۔۔۔
میرا بچہ اپنا بہت خیال رکھنا وہ اُسکا ماتھا چومتے بولے
ابرش کی آنکھیں نم ہو گئی
بابا میں کیسے رہُونگی آپکے بغیر اتنے دن،
آنسو گالوں پر بہہ نکلے ۔۔۔
زاویار جو کب سے خاموش تھا اسکو روتا دیکھ اسکے دل کو کچھ ہوا ۔۔۔۔
میرا بچہ جلدی ہی واپس آ جاؤ گا ایسے تو نہی اپنے بابا کو روتے ہوئے الوداع کرو ۔۔۔
زاویار آپ نے اپنا اور میری بیٹی کا بہت خیال رکھنا ہے اس سے بغلگیر ہوتے صفدر ملک اُس سے گویا ہوئے
صفدر ملک سے الوداعی کلمات کے بعد انہوں نے واپسی کی راہ لی ۔۔۔۔
گاڑی میں بلکل خاموشی تھی بلاآخر زاویار کو ہی خاموشی کو توڑنا پرا
۔۔۔۔ابرش آپ کیوں اتنی اُداس ہو رہی ہیں آپکو تو خوش ہونا چاہیے کے آپکے بابا کو اللہ نے توفیق عطا کی ہے اپنے گھر بلایا ہے ۔۔۔۔
اسنے ابرش کی طرف دیکھ کر کہا جو سر جھکائےاپنے ہاتھوں کو گھور رہی تھی ۔۔۔
ابرش نے نظر اٹھا کر اسکی طرف نم آنکھوں سے دیکھا لیکن میں بابا کے بغیر نہی رہ سکتی
مجھے ڈر لگتا ہے اُنھیں کھونے سے پہلے ہی مما نہی ہیں اگر بابا کو کچھ ہوا تو میں بھی مر جاؤنگی
روتے ہوے اسنےکہا۔۔۔
زاویار نے اسکی بات سنتے گاڑی ایک طرف روکی ۔۔۔۔
ابر رونا نہی میری زندگی۔۔۔زاویار نے اسکے آنسو صاف کیے ۔۔۔
اور آئندہ آپ کبھی ایسی بات نہیں کریں گی۔۔۔
انشاءاللہ تایا جان جلد واپس آ جائینگے ۔۔۔
ہمیں خوش ہونا چاہیے کے ہمیں اللہ نے اس قابل سمجھا کہ اپنے گھر بلایا ۔۔۔
آپ جانتی ہیں جب تک خدا کا حکم نہ ہو تو بندہ کبھی اسکے سامنے سجدہ نہی کر سکتا ۔۔۔
خدا جب بندے سے راضی ہوتا ہے تو ہی اُسے توفیق عطا کرتا ہے ۔۔۔
اسنے کہتے ہی گاڑی سٹارٹ کی
کیا اللہ مجھ سے ناراض ہے جو میری مما لے لی؟؟
اُس نے شکوہ کرتے ہلکی آواز میں اُس سے سوال کیا ۔۔۔۔
بلکل نہی “
خدا اپنے نیک بندوں کو ہی آزمائش میں ڈالتا ہے ۔۔۔
اور بہت خوش قسمت ہے وہ بندہ جسے خدا چنتا ہے خدا تو ستر ماوں سے زیادہ پیار کرنے والا ہے
۔(اور اپنے ربّ کی رحمت سے مایوس تو صرف گُمراہ لوگ ہی ہوتے ہیں۔)
سورۃ الحجر٥٦ ،
اللہ پاک ایک چیز لیتا ہے تو اس سے زیادہ عطا کرتا ہے ۔۔۔۔۔
۔خدا اپنے بندے پر اسکی برداشت سے زیادہ بوجھ نہی ڈالتا ۔۔۔۔اگر آپکی امی نہی ہیں تو کبھی سوچا ہے آپ نے خدا تو ہے نہ آپکے پاس جو ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والا ہے ۔۔۔میری طرف دیکھ لیں میری ماں بابا دونوں نہی ہیں ليکن میں نے کبھی خدا سی شکوہ نہی کیا ۔۔۔کیوں کے اسنے مجھے اپنی محبت دی ہے ۔۔
اسنے مجھے دنیا کی تمام نعمتیں دی جسکے پیچھے لوگ خوار ہو رہے ہیں۔۔۔تو میں کیوں میرے پاس جو چیز نہی اسکے لیے ناشکری کروں ۔۔۔جو چیز موجود ہے اُسکا شکر ادا کریں ۔۔۔خدا تو چیونٹی کی بھی سرگوشی سے واقف ہے تو وہ ہماری کیوں نہی سنے گا آپ بس ایک بار اُسے پکار کر دیکھیں۔۔۔
زاویار نے محبت سے اسکے ہاتھ پر اپنے ہاتھ کا دباؤ ڈالا ۔۔۔۔
آپ کیسے سمجھ جاتے ہیں سب کچھ ۔۔۔کیسے اتنی جلدی میری مشکل آسان کر دیتے ہیں ابرش اسکی طرف دیکھ کر بولی ۔۔۔۔کیوں کے آپ میری زندگی ہیں اور میں اپنی زندگی کو اُداس نہی دیکھ سکتا اسنے مسکرا کر جواب دیا
آپ جانتی ہیں کچھ سال پہلے میرے دل میں بھی یہی سوال آتے تھے
کیا اللّٰه کومُجھ سے مُحبت ہے۔۔۔؟
عرصہ پہلے یہ سوال اکثر میرے ذہن میں گردش کرتا تھا،پِھر ایک دن مُجھے خیال آیا کہ میرا ربّ جِن بندوں کو زیادہ چاہتا ہے اُن کے بارے میں تو اُس نے آیتیں اتاری ہیں۔سو میں قُرآن مجید کھول کے ترجُمہ کے ساتھ پڑھا تو پہلی آیت یہ مِلی”وہ متقین سے محبت کرتا ہے” مُجھے ملال ہوا مُجھ میں تو نام کا بھی تقویٰ نہیں پھِر میں نے آگے پڑھا کہ وہ ” صابرین” کو محبُوب رکھتا ہے ،مُجھے اپنے صبر سے شرم آٸی مزید آگے پڑھا تو جانا اللّٰه “مجاہدین” (کوشش کرنے والوں) سے مُحبت کرتا ہے، میں نے جانا کہ مُجھ میں ہمت و حوصلہ ہےہی نہیں نہایت کمزور ہوں میں، پھر آگے پڑھا کہ اللّٰه ”احسان “یعنی نیک اعمال کرنے والوں کو پسند کرتا ہے مگر میں اُس سے بھی بُہت دُور ہوں،پھر میں نے اپنی تلاش ترک کرنے کا فیصلہ کیا اِس ڈر سے کہ اب شاید میرے پاس ایسا کُچھ بھی نہیں جِس کے باعث اللّٰه مُجھ سے محبت کرے میں نے اپنے اعمال کھنگالے تو وہ سب گُناہوں سے آلودہ تھے، پِھر اچانک میری نظر اللّٰه کی اِس آیت پر پڑی “إنَّ اللّٰهَ يُحِبُ التَوَّابِين” بےشک اللّٰہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں سے مُحبت رکھتا ہے۔ وہ عِجز والوں سے مُحبت رکھتا ہے ،اور مُجھے میرا جواب مِل گیا۔
پہلے میں بھی آپکی طرح سوچتا تھا لیکن میرا رب رحیم کریم ہے معاف کرنے والا ہے توبہ پسند کرتا ہے آپ ایک دفعہ اُسکے آگے جھکے تو سہی۔۔۔۔پھر میں بھی اُسکی رضا میں راضی ہو گیا اور الحمدُ للہ خدا نے مجھے سب کچھ دیا ہے
بابا کہتے ہیں ہمیں اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی نہی سمجھ سکتا ہم جب مشکل میں ہوں تو نماز پڑھ کر دعا کریں اور خدا سے سکون مانگیں ۔۔۔آپکو پتہ ہے میں نے رات کو خدا سے پوچھا تھا کے میری مما کو کیوں لے لیا ۔۔میں نے پوچھا کے میں اکیلی کیوں ہوں اسنے رندھی ہوئی آواز میں بتایا ۔۔۔
۔زاویار کچھ نہی بولا وہ چاہتا تھا کے وہ اپنی کیفیت اُس سے شیئر کرے۔۔۔لیکن مجھے کوئی جواب نہیں ملا ۔۔۔ مجھے لگا کے اللہ مجھ سے ناراض ہے۔۔ اور اب آپ نے مجھے سب جواب دے دیے ۔۔۔
کیوں کے جب خدا خود نہی آتا تو اپنے بندے کو بیجھتا ہے وسیلہ بنا کر اسنے محبت سے جواب دیا
پاک ہے میرا ربّ جو دِلوں کا حال جانتاہے پِھر بھی دُنیا کے سامنے رُسوا نہیں کرتا، مہربان اِتناہےکہ نیکی کےاِرادےپربھی ثواب دیتاہے اورگُناه کرنے کے بعد توبہ کی توفیق دے کراُسے ثواب میں بدل دیتاہے
.پس تُم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جُھٹلاٶ گے۔ (بیشک)
ابرش نے ہلکی آواز میں بولا
خدا کبھی اپنے بندے سے ناراض نہی ہوتا ابرش آپ ایک دفعہ اُس کو پکاریں گی وہ دس مرتبہ کہے گا جی میرے بندے
ایک گزارش ہے آپ سے اسکے گلابی گالوں سے آنسو صاف کرتا ہوا وہ بولا ابرش نے سوالیہ نگاہوں سے اُسے دیکھا ان آنکھوں پر ظلم نہ کیا کریں وہ محبت سے دیکھتے ہوے بولا ۔۔۔ابرش نے دھڑکتے دل سے چہرہ جھکایا
گھر پہنچتے ہی خاموشی سے وہ گاڑی سے باہر نکلی اور سیدھا اپنے روم میں چلی گئی
