331.4K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah E Zest Ho Tum (Episode 4)

Raah E Zest Ho Tum By Yumna Writes

وہ دونوں جیسے ہی ملک ہاؤس داخل ہوے ابرش سیڑھیوں سے آہستہ آہستہ قدم بڑھاتی نیچے کی جانب آ رہی تھی ۔۔۔۔

بلیک سکرٹ جو گٹھنوں سے تھوڑی سی ہی نیچے تھی اسکی گوری پنڈلیاں صاف عیاں ہو ری تھی ۔۔۔۔

اوپر شارٹ سرخ ٹوپ پہنے براؤن بال کمر پر جھول رہے تھے

۔کالی گہری آنکھوں پر گھنی پلکئیں انکو اور خوبصورت بنا رہی تھی ۔۔۔

ہلکےگلابی ہونٹ سرخ رحصار” ۔۔۔۔۔۔

میک اپ سے پاک چہرہ بہت خوبصورت تھا۔۔۔۔

بیشک اُسے تیار ہونے کی ضرورت نہیں تھی ۔۔۔

وہ سادگی میں بھی قیامت ڈھاتی تھی،،

ایک لمحے کے لیے زویرا کی نظر اُس پر ٹھہر سی گئ،،،

وہ سچ میں کوئی پری لگ رہی تھی”

لیکن اُسکا لباس دیکھتے اُسکا دماغ سنسنا اٹھا

بیٹا کہاں جا رہی ہیں آپ ؟؟

صفدر ملک اُسے قریب آتے دیکھ استفسار کرنے لگے،

دوستوں کے ساتھ جا رہی ہوں،،

وہ مصروف سے انداز میں موبائل پکڑے بولی،،

اس سب میں وہ زاویار کو مکمل طور پر فراموش کر چکی تھی

اس وقت ؟؟؟

بابا فرنڈ کی برتھڈے پارٹی ہے وہاں جا رہی ہوں

کہتے ہی اسنے آگے کی جانب قدم بڑھائے ۔۔۔

رکو یہ کوئی وقت ہے کہیں جانے کا وہ بھی اکیلے،،

۔اس ڈریسنگ میں “

زاویار اُسکا لباس دیکھتا خود پر ضبط کرتا سرخ ہوتی آنکھو سے اُسے دیکھتا پوچھنے لگا ،،

جی سب آ رہی ہیں پارٹی کا یہی وقت ہے میری فرنڈز مجھے لینے آنے والی ہیں

اسنے منھ کے زاویے بگاڑتے جواب دیا “جیسے مقابل کی بات زرا پسند نہ آئی ہو

اس وقت وہ اپنا موڈ خراب نہی کرنا چاہتی تھی اسلیے آرام سے بولتی جانے لگی،،

اور دل ہی دل میں اسکو لعن تعن کرنے لگی

آپ کہیں نہی جا رہی منع کردو اُنہیں ،،

اُس پر سخت نگاہ ڈالتا وہ بولا

شریف لڑکیاں اس وقت گھروں سے اس طرح کے لباس میں نہی جاتی ۔۔۔۔

اسکی نظر اسکی عیاں ہوتی پنڈلیوں پر تھی ۔۔۔

بہت مشکل سے وہ اپنا غصہ کنٹرول کیے ہوئے تھا

کیوں کیوں نہی جا سکتی ۔۔۔۔

وہ اس پر پھٹ پڑی

کیا خرابی ہے اس لباس میں ؟؟

وہ اپنا لباس دیکھتی تیز آواز میں اُس سے پوچھنے لگی

ٹھیک کیا ہے اس لباس میں ۔۔۔ وہ نخوت سے اُسکے لباس کو دیکھتا بولا

ہے ہودہ لباس ہے یہ ۔۔۔”

کبھی شریف گھر کی لڑکیوں کو اس طرح کے لباس میں دیکھا ہے

وہ تندہی سے بولا

آئندہ کے بعد اگر آپ نے اس طرح کا ڈریس پہنا تو ٹانگیں تور دونگا آپکی ۔۔۔۔

اور آپ جانتی ہیں جو میں کہتا ہوں وہ کرتا بھی ہوں اس لیے اسے پہلی اور آخری وارننگ سمجھئے گا

لیکِن۔۔۔اُسکے الفاظ منھ میں ہی رہ گئے ۔

میں فضول کوئی بحث نہی چاہتا اپنے روم میں جائیں آپ فوراً ،،

اسنے ایک آس بھری نظر اپنے بابا پر ڈالی شاید وہ کچھ بولیں۔

لیکن اُنہیں خاموش پا کر وہ روتی ہوئی تیزی سے سیڑھیاں عبور کر گئی ۔۔۔۔

زاویار خاموشی سے اُسے جاتا دیکھتا رہا ۔۔۔۔

دیکھ لیا تم نے اس لڑکی کے کام ،،اسی لیے میں نے یہ فیصلہ کیا ہے

صفدر ملک متفکر ہوتے بولے،،

تایا جان آپ پریشان نہ ہوں میں خود اُس سے بات کرونگا اسنے کہتے ہوئے اپنی کنپٹیان سہلای”

وہ کھانے کے لیے بھی باہر نہی آئی تھی ،،

ملازمہ نے آ کر اُسکے نہ آنے کا بتایا

صاحب جی بیبی جی نے آنے سے منع کردیا ہے کہتی ہیں بوکھ نہی

صفدر ملک اٹھنے لگے ،،اُنکی لاڈلی بیٹی کو وہ کیسے بغیر کھانے کے سونے دیتے

انہیں پریشان ہوتا دیکھ وہ بولا

تایا جان آپ کھانا کھائیں میں خود لے جاؤنگا اُسکا ڈنر ۔۔۔۔

اُنہیں مطمئن کرنے کے بعد وہ خود بے چین سا تھا

ڈنر سے فارغ ہو کر وہ جلدی سے اٹھا

ملازمہ ٹرے تیار کر کے لے آئی ۔۔۔

تم رہنے دو میں لے جاؤنگا اسنے ٹرے پکڑ کر اسکے کمرے کا رخ کيا۔۔

۔دروازہ کو ہلکے سے کھولا تو اسکی ہچکیاں سنائی دی ۔۔۔۔

وہ اسکو روتا دیکھ لب بینچ گیا

میرا بچہ رو رہا ہے

وہ بولتا آرام سے ٹرے ٹیبل پر رکھتا اسکے قریب گٹھنوں کے بل بیٹھا ۔۔۔۔

وہ زمین پر بیٹھی گٹھنوں میں منہ دیے رونے کا شغل فرما رہی تھی ۔۔۔

جسم ہلکا ہلکا کانپ رہا تھا

ابر ،،

ابر،،اُسنے پھر سے اُسکا نام پُکارا ،

زاویار کی پکار پر اسنے چہرہ اٹھایا ۔۔۔۔۔

سرخ آنکھیں جو رونے کی وجہ سے سوجی ہوئی تھی ۔۔۔گلابی ہونٹ۔۔۔لمبے گھنے بال جو کندھوں پر بکھرے تھے۔۔۔اسکی خالت دیکھ کر اسکے دل کو کچھ ہوا۔۔۔

کیا چاہئے اب آپکو ۔۔۔۔

مان تو لی ہے آپکی بات ۔۔۔

کیوں آئے ہیں میرے روم میں؟؟

ابرش غصے میں اسکی جانب دیکھتی بولی

ذاویار اسکے معصوم چہرہ پر نظر جمآئے بیٹھا تھا

۔کیوں رو رہی ہیں آپ..

کون سا مسئلہ پیش آیا ہے آپ کے ساتھ،

اسنے سنجیدگی سے استفسار کیا ۔۔۔

میری مرضی اب میں رو بھی نہی سکتی ۔۔۔

وہ غصہ سے اُٹھ کر جانے لگی ۔۔۔۔

زاویار نے اُس کا ہاتھ تھام کر اُسے بیڈ پر بٹھایا اور خود بھی پاس بیٹھ گیا ۔۔۔۔

منع کیا آپکو جانے سے اسلئے ناراض ہیں،،

ابرش نے بات سنتے ہی منہ پھیر لیا۔۔۔

میں آپ سے بات نہی کرنا چاہتی آپ جائے یہاں سے وہ آنسو صاف کرتے سوں سوں کرتی بولی

۔ایسا کہتے ہوے وہ اُسے کوئی معصوم بچی لگی

جو چیز نہ ملنے پر ناراض ہو جاتی ہے ۔۔۔

اتنا ظلم تو نہ کریں میرا معصوم بچہ۔۔۔۔

وہ قریب پڑے ٹشو بکس سے ٹشو نکال اُسے تھماتا بولا

وہ روتی ہوئی اُس سے ٹشو تھام کر آنکھیں اور ناک صاف کرنے لگی

اُسے دیکھ وہ ہولے سے مسکرایا

آپکو پتہ ہے آپکی مما سے آپکی حفاظت کا وعدہ کیا تھا میں نے۔۔۔

آپکو کیسے کسی کی گندی نظر میں آنے دون۔۔۔

آپ جانتی ہیں آپکے بابا اور میرے لیے آپ بہت اہم ہیں جان ہے ہماری آپ میں ۔۔

کمرے میں اُسکی گھمبیر آواز گونج رہی تھی

اگر آپکو کچھ ہوگیا تو ہم دونوں ہی نہی زندہ رہیں گے وہ خاموشی سے بس اُسے سن رہی تھی جو جانے کتنے عرصے بعد آج بول رہا تھا ۔۔۔

آپ غصّہ ہیں کے آپکو جانے نہی دیا ۔۔۔

لیکن آپ نے اپنا ڈریس دیکھا ۔۔۔

وہ جانتا تھا کہ اگر وہ سمجھائے گا تو وہ سمجھ جائے گی بس ہر چیز کا کچھ وقت درکار ہونا ضروری ہے

کچھ اُسکی دوستوں نے اُسکے دماغ میں خناس بھرا ہوا ہے

آپ جانتی ہیں جتنے غیر محرم کی نظر آپ پر پڑے گی اللہ اتنا ہی آپکو عذاب دے گا ۔۔۔

اور اللہ آپ سے نا خوش ہوگا ۔۔۔

کیا آپ چاہتی ہیں کے اللہ آپ سے ناراض ہوں ؟؟

اللہ کی ناراضگی کا مطلب اُس سے دوری ۔۔۔

کیا آپ چاہے گی کے آپ خدا کے نہ پسندیدہ بندوں میں شامل ہوں؟؟

اسنے ابرش کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا ۔۔۔

اسنے فوراً نفی میں سر ہلایا ۔۔۔

ہمیں اللہ پاک نے دنیا میں مسلمان بنا کر بھیجا،،

ہم اُس نہی کی اُمت ہیں جن کی ازواج اپنی آواز تک کسی کے سامنے نہ نکالتی،،،

کیا آپ جانتی نہی ہیں

پردے کا حکم قرآن پاک میں کتنا زیادہ ہے ۔۔۔

میں آپکو یہ نہی کہہ رہا کے برقع پہن کر نکلیں،،

لیکن لباس ایسا ہونا چاہیے کے آپکا جسم چھپا ہو

سورت احزاب۔۔۔(آیت۵۹) میں

اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صل علی کو ارشاد فرمایا۔۔۔

اے نبی اپنی بیویوں ،،بیٹیوں اور مومن عورتوں ،،سے کہہ دیجئے کے گھروں سے باہر نکلتے ہوے اپنی چادر کے پلوں لٹکایا کریں کے وہ پہچان لی جائے اور اُنہیں ستایا نہ جائے) ۔۔

یہ میں نہی بول رہا یہ اللہ کا فرمان ہے ۔۔۔۔

کیا اب بھی آپ مجھے غلط کہیں گی۔۔۔

وہ تاسف سے اُسے دیکھتا بولا

میں صرف یہ چاہتا ہوں کے اللہ آپ سے ناراض نہ ہو ۔۔۔کچھ دیر کی خاموشی کے بعد وہ بولی ۔۔۔

س،”سوری ،،

میں ایسا نہیں چاہتی تھی ۔۔۔

میں نے پہلے کبھی ایسا ڈریس بھی نہی پہنا

بس میری فرنڈز نے زبردستی کی تو مجھے بھی لینا پرا ۔۔

اسنے آنکھوں میں نمی لیے پشیمانی سے اُس کی طرف دیکھتی بولی

اگر میں نہ لیتی تو وہ لوگ مجھے کہتی میں بہت بیکورڈ ہوں ،،اسلیے مجھے لینا پڑا وہ آنسو بھری آنکھوں سے اُسے دیکھنے لگی

۔۔۔۔(فَاصْبِرْ عَلىَ مَا يَقُولُونَ۔)

یہ جو لوگ باتیں کرتے ہیں تُم اِن پر صبر کرو۔

سورة طہٰ،آیت ١٣٠۔

اللہ پاک نے فرمایا ،،

ہم کیوں لوگوں کی باتوں کو اتنی اہمیت دیں ۔۔۔۔

ہم کیوں انکی وجہ سے گناہ کے مرتکب بنئیں

وہ نرم لہجے میں اُسے دیکھتا گویا ہوا

میں آپکو شرمندہ نہی کرنا چاہتا تھا ۔۔۔۔وہ جانتا تھا کے وہ بہت نرم دل کی ہے،،بس تھوڑی سی نادان ہے

جب وہ اُسے سمجھائے گا تو وہ بات سمجھ جائے گی۔۔

اُسے بس کوئی سنبھالنے والا چاہیے

جو اُسے سیکھا سکے،،

زاویار نے اسکے آنسو صاف کیے ۔۔۔

چلیں شاباش اب اٹھئیں ڈنر کر لیں بہت لیٹ ہو گئے ۔۔۔۔وہ خاموشی سے اٹھ کر صوفے پر آ کر بیٹھ گئی ۔۔۔

آپ آرام سے ڈنر کریں اور سو جائے ۔۔۔

انشاء االلہ صبح ملاقات ہوگی ۔۔۔

اللہ حافظ کہتا وہ مسکراتا ہوا باہر نکل گیا

اور پیچھے وہ کتنی ہی دیر اُسکی باتوں کے سحر میں کھوئی رہی