331.4K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah E Zest Ho Tum (Episode 18)

Raah E Zest Ho Tum By Yumna Writes

دن گزرنے کے ساتھ ساتھ ابرش زاویار کے زیادہ قریب ہوتی جا رہی تھی ۔۔۔،،وہ مکمل طور پر اُسکے رنگ میں رنگتی جا رہی تھی،،پینٹ شرٹ پہننا،،اُسنے بلکل چھوڑ دیا تھا ،،،زاويار نے اُسے کسی چیز سے روکا نہیں تھا لیکن وہ خود ہی اُسکی پسند میں ڈھلنا چاہتی تھی

زاویار کے ساتھ گزارے کچھ دنوں میں اُس میں بہت تبدیلی آئی تھی۔۔اُسکا مزاج اُسکا انداز ،اُسکا رویہ کافی حد تک بدل گیا تھا

زیادہ تر اب وہ کھانا خود بناتی تھی ۔۔۔رضیہ کے ساتھ اُسکی اچھی دوستی ہو گئی تھی ۔۔۔رضیہ سے اسنے بہت سے کام سیکھے تھوڑی بہت روٹی بنانی بھی آ گئی تھی زاویار نے بہت منع کیا کے وہ یہ سب کام نہ کرے

لیکن وہ نہیں مانی ،،

اُسے زاویار اچھا لگتا تھا وہ نہیں جانتی تھی یہ محبت ہے یاں صرف پسند،، لیکن وہ یہ جانتی تھی کے وہ اُسکی عزت کرتی ہے وہ اُسکا شوہر ہے اُسکا محسن ہے اور اس چیز کے لیے خدا کی شکر گزار تھی کے اسنے اُسے اتنا اچھا محبت کرنے والا انسان دیا ۔

اسنے ہمیشہ زاویار کی آنکھوں میں اپنے لیے عزت اور محبت دیکھی تھی۔۔۔۔

وہ اُسکی پسند کے مطابق لباس پہنتی جو اُسے پسند ہوتا اور جب وہ اُسکی تعریف کرتا تو ابرش خوشی سے نہال ہو جاتی اُسے پسند تھا اپنی تعریف اُسکے منہ سے سننا “

اُسکے ساتھ نماز پڑھنا،،اُس کے سینے پر سر رکھ کر اُسے سننا،،قرآن پاک کی آیات کے مطلق اور اچھی باتیں پوچھنا ،،اُسکا اتنی محبت سے جواب دینا ،،سب اُسے بہت پسند تھا

ابرش کو اُسکی عادت ہوتی جا رہی تھی جب وہ پاس نہ ہوتا تو اُسے پولیس اسٹیشن کال کر لیتی اُس سے باتیں کرتی رہتی

اور جب کبھی وہ لیٹ ہو جاتا تو کال کرکے فوراً گھر پہنچنے کا حکم سناتی،،اور وہ دل و جان سے نثار ہوتا اُسکی ایک پُکار پر دورا چلا آتا

ابھی بھی وہ اُسے کال کر رہی تھی جو فوراً اٹھائ گئی ۔۔۔

زاوی کب تک آنا ہے آپ نے وہ اکیلی بور ہوتی تنگ آتی اُس سے گویا ہوئی ۔۔۔۔۔۔

بس تھوڑی دیر میں نکلنے والا ہوں کچھ چاہیے آپکو زاویار نے گاڑی کی چابیاں اٹھاتے پوچھا ۔۔۔۔۔

جی ،،،،،،

آتی دفعہ آپ بےبی لے کر آئیے گا ،،

زاویار کو تو اُسکی بات پر جھٹکا ہی لگا ،،اُسے لگا شاید اسنے غلط سنا ہے ۔۔۔کیا کہا آپ نے ابر؟؟

زاوی کیا ہو گیا ہے میں کہہ رہی ہو بےبی لے کر آنا ۔۔۔۔۔

ابر کسکا بےبی میں کہا سے لاؤں ؟؟؟زاویار نے خیرت کے مارے اُس سے استفسار کیا ۔۔۔۔

کیا پتہ بلی یاں کتے کے بچے کو وہ بےبی کہہ رہی ہو ،،وہ یہی سمجھا”

اوہ ہو زاوی انسان کا بےبی لانا ہے اور كسکا “

کیا ہو گیا ہے آپکو ابرش نے تنگ آ کر کہا

ابر انسان کا بےبی ۔۔۔۔آر یو سیریس؟؟؟

کہا سے لاؤں میں؟؟… ایک منٹ_ ایک_ منٹ ” آپکو یہ کس نے کہا اُس نے ابروں اٹھاتے پوچھا ؟؟؟کیوں کے وہ اتنا تو جانتا تھا کہ وہ خود سے کبھی ایسا نہ بولتی اور نہ ایسا کوئی خیال اُسے آتا

میں گھر آتا ہوں پھر بات کرتے ہیں اوک میرا بچہ کہتے اسنے فون کاٹ دیا

اُف اب کیا کروں کہاں پھنس گیا یار زاویار۔۔۔۔یہ ضرور رضیہ کا ہی کام ہے اسی نے کچھ الٹا سیدھا کہہ دیا ہوگا۔۔ افف رضیہ تمہیں تو اللہ پوچھے کس مشکل میں پھسا دیا مجھے،

اب کہاں سے لا کر دوں میں” بےبی ،،،،

کیسے سمجھاؤ گا اُسے ۔۔۔افف زاویار تو سہی پھسا ہے۔۔وہ تو مختلف سوالات کرے گی

یا اللہ مجھے صبر دے،،زاوی نے آسمان کی جانب سر اٹھاتے متفکر لہجے میں کہا

خیر گھر تو جانا تھا اب ،،

گھر میں داخل ہوتے ہی اُسے ابرش صوفے پر بیٹھی نظر آئی جو فون میں کچھ دیکھنے میں مصروف تھی

زاویار سلام کرتا اُسکے قریب بیٹھ گیا ۔۔۔۔زاوی آپ آ گئے بےبی نہی لائے آپ ابرش نے حفگی سے اُسکی طرف دیکھا ۔۔۔۔

ابر میری طرف دیکھیں میری جان اور مجھے بتائیں یوں بیٹھے بیٹھاے آپ کو بےبی کا شوق کیسے آ گیا زاویار نے محبت سے اُسکے بالوں کی لٹیں پیچھے کرتے ہوے پوچھا ۔۔۔

وہ آج صبح رضیہ آئی تھی نہ تو اسنے کہا مجھے کے میں

اکیلی کیسے رہتی ہوں

آپ بھی گھر نہیں ہوتے تو ،، میں نے بتایا اُسے آپ جلدی آ جاتے ورنہ میں آپ سے بات کرتی رہتی

اس نے کہا پھر بھی بےبی سے گھر میں رونق بھی ہوتی ہے اور وہ بہت پیارے ہوتے ہیں

ابرش نے رضیہ کی رٹی رٹائی بات بولی جیسے اسنے اُسے بتایا تھا کہ جب وہ پوچھے تو یہ جواب دینا

اس نے کہا بےبی لے آئیں،، اُسکے ساتھ میرا وقت بھی گزر جائیگا اور مزا بھی بہت آئے گا ۔۔۔

اور بےبی تو بہت پیارے ہوتے ہیں ناں،، زاوی اسنے

معصومیت سے زاویار کی جانب دیکھتے پوچھا “

میں نے گوگل پر بےبی پکس بھی دیکھی اتنے پیارے اور کیوٹ ہوتے ہیں زاوی پلیز مجھے بھی لا دیں ناں ابرش نے اُسکا ہاتھ پکڑتے لاڈ سے کہا ،،میں اُسکے ساتھ کھیلا کرونگی ،،اُسکی ڈھیر ساری شاپنگ کرونگی ،،بہت مزا آئیگا،،وہ پرجوش سی اُسے اپنے پلان کے بارے میں بتا رہی تھی

وہ جانتا تھا کے اُسے اندازہ نہیں وہ کیا مانگ رہی ہے لیکن زاویار اُسے ابھی کچھ بھی ایسا نہیں بتانا چاہتا تھا جس سے وہ پریشان ہو یاں اُسکا مائنڈ ایکسیپٹ نہ کر پائے اور ایسا کہنا ٹھیک بھی تھا وہ ابھی اس رشتے کی نوعیت نہیں سمجھتی تھی

زاویار اُسے اپنی محبت سے اپنے قریب کرنا چاہتا تھا اسے سمجھنا چاہتا تھا ،،وہ خود پر ضبط کے پہرے بٹھائے اُسکے قریب جاتا تھا،،وہ خواب میں بھی اُسے ذرا سی تکلیف دینے کے بارے میں نہیں سوچ سکتا تھا

ابر دیکھیں میری طرف میری معصوم سی وايفی،، کوئی بھی اپنا بےبی کسی کو نہیں دیتا اور آپ تو مانگ بھی انسان کا بچہ رہی ہیں ۔۔۔

ایک ماں اپنے بچے کو کبھی خود سے دور نہی کرتی تو آپکو کوئی بےبی کیسے دے گا اپنا ۔۔۔بےبی صرف اپنا ہوتا ہے کوئی نہیں دیتا ۔

تو پھر اپنا کہا سے آتا ہے؟؟ زاوی “،،ہم اپنا لے آتے ہیں نا ں ،

اسنے ایک اور سوال کیا ۔۔۔

آ جائیگا انشا اللہ جب اللہ نے چاہا اور ویسے بھی ابھی آپ چھوٹی ہیں ان سب باتوں کے لیے اسلئے ابھی صرف اسٹڈی کو فوکس کریں اور مجھ پر” ،،آخری بات زاویار ہلکے سے بربرایا اور باقی جو آپ نے پوچھنا وہ آپ بی اما سے پوچھنا وہ آپکو بتائے گی

کیوں بی اما سے کیوں پوچھوں آپ بتا دیں ۔۔۔آپ کی سب باتیں مجھے اچھے سے سمجھ آتی ہیں

اس لیے کے کچھ باتیں آپکو بی اما زیادہ اچھے سے سمجھا سکتی ہیں ناں تو اس لیے اب چھوڑیں اس بات کو،،

گھر جاتے ہیں میں آپکو پیاری سی کیٹی لا کر دونگا ،،آپ اُس کو پیار کرنا ،

کیا سچی” زاوی ۔۔۔ہائے کتنا مزا ائے گا مجھے کیٹس بہت پسند ہیں ،،اتنی پیاری ہوتی ،،زوی وائٹ والی لے کر آنی ہے آپ نے،،

ابرش پرجوش سی اچھلتی اُسکے قریب آتی بولی ،،

جی ٹھیک ہے ،،اب چلیں اٹھئیں کچھ کھانے کو دیں بہت بوكھ لگی ہے آج بہت کام تھا ۔۔۔۔

زاویار نے بات بدلنی چاہی،،

اُسنے شکر کیا کے وہ کامیاب ٹھہرا ،،

ابرش اب کیٹ کی تصاویر سرچ کرنے لگی اور دیکھنے لگی

اٹھ بھی جائیں ابر بعد میں دیکھ لینا ،،اُسکا ہاتھ تھامتے وہ بولا

تو پھر رضیہ نے ایسا کیوں کہا اسنے سوالیہ نظروں سے زاویار کو دیکھا ۔۔۔۔

اس نے آپکو بلی کے بچے کا ہی کہا ہوگا اور آپ انسان کا بچہ سمجھ گئی زاویار نے کچن میں جاتے ہوئے کہا

اچھا پھر میں کل رضیہ سے پوچھوں گی ۔۔۔۔

نہیں رہنے دیں کوئی ضرورت نہیں پوچھنے کی ویسے بھی کل صبح ہم گھر کے لیے نکل رہے ہیں۔ ۔۔۔

اسی لیے آج لیٹ ہو گیا میں،، سب کام مکمل کرنے تھے ۔۔۔

کیا زاوی سچ میں کل ہم اپنے گھر واپس جا رہے ہیں مجھے بہت خوشی ہو رہی ہے میں سب کو بہت مس کر رہی تھی

جی اور کل تایا جان کی بھی فلائٹ صبح لینڈ کرے گی اسلئے ہم جلدی نکلیں گے زاویار نے اُسے خوش ہوتے دیکھ بتایا

ابرش نے خوشی سے اُسکے پیچھے آ کر حصار بنایا ۔۔۔

میں بہت خوش ہوں زاوی آپ بہت اچھے ہیں،، اُس نے کہتے اپنا سر اسکے شانے پر رکھا ،،

زاوی مڑتا اُسکے ماتھے پر لب رکھتا اسے مسکراتا دیکھ اپنے اندر سکون اترتا محسوس کر رہا تھا

اور میں رات کے پِچھلے پہر کعبہ میں ہونے والی بارش آپ کے ساتھ دیکھنا چاہتی ہوں،، وہ نم لہجے میں بولی “

انشا اللہ بہت جلد۔۔۔بس خدا توفیق دے،،زاويار خوشی سے نہال ہوتا بولا

میں آپکی یہ خواہش پوری کرونگا میری زندگی ” میری جان،، کہتے اُسکے بالوں پر لب رکھے۔۔۔ابرش پر سکون ہوتی اُسکے ساتھ لگتی آنکھیں موند گئی

ِکبھی کبھی محسوس ہوتا ہے

لفظ بھی لمس رکھتے ہیں

کوئی بات پڑھ کر مسکرا دینا۰۰

کسی بات پے دل کا دھڑکنا

اسی بات کی دلیل ہے

ہے نا ں ۔۔۔۔۔””””

لفظ بھی لمس رکھتے ہیں