Raah E Zest Ho Tum By Yumna Writes Readelle 50365

Raah E Zest Ho Tum By Yumna Writes Readelle 50365 Raah E Zest Ho Tum (Episode 21) 2nd Lst Episode

331.4K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah E Zest Ho Tum (Episode 21) 2nd Lst Episode

Raah E Zest Ho Tum By Yumna Writes

ابرش کی آنکھ کھلی تو ظہر کی اذان ہو رہی تھی ساتھ لیٹے زاویار کی طرف نظر پڑی تو لب مسکرائے

گرے شرٹ میں ماتھے پر بکھرے گھنے بال چہرے پر ہمیشہ کی طرح نرمی لیے ابرش کو وہ بہت پیارا لگا کچھ دیر اُسے ایسے ہی دیکھتی رہی ،

پھر ہاتھ بڑھا کر اُسکی ہلکی بیئرڈ پر پھیرا اٹھ جائیں زاوی ظہر کا وقت ہو گیا ابرش کو اُسکی کہی سب باتین یاد آئی وہ کتنی محبت کرتا تھا اُس سے میرے اللہ میں آپکا جتنا شکر ادا کروں کم ہے۔

مجھے اتنی محبت کرنے والا شخص دیا وہ دل۔میں خدا سے ہمکلام تھی ،،

زاویار نے آنکھیں کھولی تو وہ اُس پر جھکی اُسے اٹھا رہی تھی اُس نے جان بوجھ کے پھر سے آنکھیں بند کرلی لیکن اُسکی یہ حرکت ابرش سے محفی نہ رہ سکی

ابرش اُسکے کان کے پاس جھکی اور چیخ کر اُسکا نام لیا

زاویار ہربرا کر اٹھ بیٹھا اور حیران نگاہؤں سے ابرش کو دیکھا جو ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہو رہی تھی

ایک منٹ رک جائیے بتاتا ہوں میں آپ کو اس سے پہلے کے زاویار ابرش تک پہنچتا وہ تیزی سے واشروم میں بند ہو گئی

وضو کرکے وہ باہر آئی تو زاویار موجود نہی تھا نماز ادا کر نیچے کا رخ کیا

صفدر ملک لاؤنج میں بیٹھے زاویار سے کچھ بات کر رہے تھے جب وہ اُنکی جانب آتے دکھائی دی اُنکے قریب آتے ہی ابرش نے سلام کیا

آ گئی میری بیٹی اب طبیعت کیسی ہے میری جان ابرش کو اپنے حصار میں لیتے انہوں نے نرمی سے استفسار کیا

میں ٹھیک ہوں بابا ابرش نے مسکرا کر جواب دیا اور زاویار کی طرف دیکھا جو اُسے دیکھ منہ پر ہاتھ پھیر بدلہ لینے کا اشارہ کر رہا تھا ابرش کو اُسے دیکھ اپنی ہنسی ضبط کرنا مشکل ہو گیا

صفدر ملک انکو دیکھ گویا ہوے

اچھا میرا بیٹا آپ دونوں لنچ کرلو مجھے آفس کے ایک کلیگ سے ملنے جانا ہے پھر رات میں ڈنر اکٹھے کریں گے

اوک بابا آپ جائیں ابرش نے مسکراتے ہوے اُنہیں دیکھتے کہا

جیسے ہی صفدر ملک نے لاؤنج سے باہر قدم رکھے زاویار ابرش کی طرف تیزی سے بڑھا ابرش نے اُسے دیکھ دور لگائی صوفے کے گرد گھومتی وہ مسلسل ہنس رہی تھی اور زاویار اُسے پکڑنے کی ناکام کوشش میں تھا

زاوی میں تھک گی ہوں بریک لے لیں معصومیت سے کہتی وہ بیٹھ گئی

اچھا بیٹا اپنی باری میں بریک یہاں کوئی ہم گیم نہی کھیل رہے میں اپنا بدلہ لینے کے لیے آپکو پکڑ رہا تھا زاویار نے اُسے اپنے حصار میں لیتے کہا

ابرش اُسکی جانب معصومیت سے دیکھتے گویا ہوئی آپ کیا مجھ سے بدلہ لین گے،،چہرے پر بلا کی معصومیت لیے وہ آنکھیں پٹپٹاتی اُس کے گال پر ہاتھ رکھ کر پوچھ رہی تھی

اور زاویار تو بس اپنی بیوی کی چلا کی پر عش عش کر اٹھا،،

سہی کہتے ہیں بھلائی کا تو کوئی زمانہ ہی نہی ایک تو میں نے آپکو جگایا اور الٹا آپ مجھ سے ہی بدلہ لے رہے ہیں

آپکو تو میرا شکر گزار ہونا چاہیے میں نے وقت پر آپکو اٹھایا ورنہ نماز قضاء ہو جاتی اور پھر آپکو گناہ ملتا قبر میں سانپ کاٹتے ۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن خیر کوئی بات نہی آپ لے لین اپنا بدلہ

ابرش نے مصنوئی آنسو صاف کرتے کہا

زاویار کو اُسکی چلاکی کا اچھے سے علم تھا اسی لیے

مسکراتا اُسکے سرخ رخسار پر لب رکھ گیا اچھا میری جان نہی لیتا آپ سے کوئی بدلہ اور بہت شکریہ میری جان آپ نے مجھے نماز کے لیے اٹھایا

اب باتین بعد میں کر لیں میرے پیٹ میں چوہے ریس لگا رہے ہیں رات سے کچھ نہی کھایا اٹھئیں لنچ کرتے ہیں زاویار نے اُسکا ہاتھ تھام کے اٹھایا زندگی حسین ہے آپ کے ساتھ کہتی اسنے مسکراتے ہوے اُسکی پیشانی پر لب رکھے ۔۔۔۔الحمدُ للہ

آپکا بہترین دوست ساتھی وہی ہے جو آپ کی آخرت کی فِکر کرے، جِس کے ساتھ گُفتگو سے آپ کی معلومات اور ایمان بڑھے،

جو نیکیوں کے میدان میں آپ کے ساتھ سبقت لے جانے کی دوڑ لگائے، جو آپ کو حق اور پریشانیوں میں صبر کی تلقین کرے، اگر آپ کو کوئی ایسا ملے تو اللّٰه تعالٰی کا شکر ادا کریں کیونکہ یہی تو ایمان کے ساتھی ہوتے ہیں۔

وقت بہت تیزی سے گزر رہا تھا چھ ماہ پر لگا کر گزر گئے

زاویار اپنی جوب کے ساتھ ساتھ بزنس میں صفدر ملک کی بھی ہیلپ کرتا

ابرش نے مدرسہ جوائن کیا ہوا تھا جہاں وہ ترجمہ تفسیر پڑھ رہی تھی یونی سے آ کر وہ سیکنڈ ٹائم وہاں جاتی جب تک وہ آتی زاویار اور صفدر ملک بھی گھر آ جاتے رات کو ڈنر سب مل کر کرتے اور ساتھ ساتھ ابرش کی ساری دن کی روداد سنتے

ابرش بیٹا مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ہے میں چاہتا ہوں کے اب ہم آپ کا ایک گرینڈ ریسیپشن رکھیں اور جس میں سب انوائیٹ ہوں پہلے بھی نکاح کے وقت زیادہ لوگو کو نہی بلا سکے ہم

بابا میں نہی چاہتی کے بے پردگی ہو اسلئے آپ اپنے آفس کالیگ کی پارٹی علیحدہ سے کر لیں جس میں بس زاویار شامل ہونگے اور ایک چھوٹی سی تقریب قریبی رشتے داروں کے لیے رکھ لیں تاکہ وہ باتیں نا بنائیں ابرش نے اطمینان سے کہتے اُنکی جانب دیکھا

ماشاء اللہ میری بیٹی تو بہت سمجھدار ہو گئی ہے ٹھیک ہے بیٹا جیسے آپ کو ٹھیک لگے

زاویار سے تو وہ پہلے ہی بات کر چکے تھے اسلئے تقریب کی تاریخ فائنل کر رہے تھے

تو ٹھیک ہے پھر اس ہفتے کو ہم چھوٹی سي تقریب کر لیتے ہیں اور سب رشتے داروں کو انوائیٹ کر لیتے ہیں ابرش اٹھ کر اپنے کمرے کی جانب نماز ادا کرنے چلی گی

جبکے زاویار اور صفدر ملک باتوں میں مصروف ہو گئے

تیاریوں میں وقت کا پتہ ہی نہیں چلا اُنکے گھر کے لون کو سجایا جّا رہا تھا ابرش چاہتی تھی کے گھر میں ہی فنکشن کیا جائے اسلئے لون کو ہی خوبصورتی سے سجایا جا رہا تھا تھا وہ ٹیرس پر کھڑی نیچے دیکھ رہی تھی صبح اُسے زاویار کے کمرے میں شفٹ کر دیا جائے گا

سوچ کے اُسکا دل گھبرا رہا تھا بیشک وہ اُسکے ساتھ بہت اٹیچ تھی لیکن اب وہ اُسکے اور اپنے درمیان رشتہ استوار کی نوعیت سمجھ چکی تھی اسی لیے اس سے تھوڑا ہچکچاہٹ محسوس کرتی اُسکی خمار زدہ آنکھوں سے اُسکا دل تیزی سے دھڑکنے لگتا

لیکن وہ زاویار سے دور رہ کر اسکو اور آزمانا نہی چاہتی تھی اُسکی آنکھوں میں اپنے لیے محبت کو وہ دیکھ سکتی تھی کب تک اُس سے دوری برقرار رکھتی

پہلے تو وہ اتنی جلدی رخصتی چاہتی ہی نہیں تھی لیکن

درس میں اُسے اس کی استاد نے بتایا تھا کے بالغ لڑکی کے نکاح کا حکم اسلام میں ہے ۔

اور ہمارے نبی نے اسکی مثال حضر ت عائشہ عنہ سے نکاح کر کے دی نکاح کے وقت حضرت عائشہ کی عمر نو سال تھی

حضور صلی علیہ وسلم نے فرمایا کے مرد کو عورت کی ضرورت ہوتی ہے اور عورت کو مرد کی دونوں ایک دوسرے کا لباس ہیں

یہ سب باتین سن کر ابرش پریشان ہو گئی کی وہ زاویار سے دور رہ کر خدا کی ناراضگی کا سبب تو نہی بن رہی

اسی لیے خاموشی سے رخصتی کے لیے راضی ہو گئی وہ نہی چاہتی تھی کے اپنی شوہر سے دور رہ کر خدا کی گنہگار بنے

اور ویسے بھی وہ زاویار سے محبت کرتی تھی اُسکے ساتھ رہنا چاہتی تھی تو پھر اعتراض کس چیز کا ۔

لون میں گہما گہمی لگی ہوئی تھی سب مہمان آنا شروع ہو چکے تھے زاویار اور صفدر ملک مہمانوں کا استقبال کر رہے تھے

مہمان آ چکے تھے کچھ باتوں میں تو کچھ کھانا کھانے میں مصروف تھے اور کچھ دلہن کے آنے کا بےصبری سے انتظار کر رہے تھے

زاویار خود ہی اُسے لینے کمرے میں آیا وہ نظریں جھکاے بیٹھی انگلیان چٹخا رہی تھی وہ پنک میکسی میں ہلکا میک اپ کیے اُسے بلکل حسین پری لگی،،کچھ لمحے تو نظریں پلٹنے سے انکاری کر رہی تھی،،لیکن خود پر ضبط کرتے

زاویار نے اُسکا ہاتھ تھام کر اپنے برابر کھڑا کیا

ریلیکس رہیں ابر میں آپکے ساتھ ہوں کہتا وہ اُسے اپنے ساتھ لیے سب کے درمیان سے گزر کر اسٹیج کی جانب آیا

ابرش نے ایک نظر سب کی جانب دیکھا سب اُس سے ملنے آ رہے تھے،،،،

سب نے اُسکی بہت تعریف کی اُن دونوں کو دعائیں دی کچھ ہی دیر میں آہستہ آہستہ سب رخصت ہونے لگے ابرش کی تھکن کا سوچتے زاویار نے اسے بی اماں کے ساتھ روم میں بیج دیا

بی اما کے ہمراہ وہ زاویار کے کمرے میں داخل ہوئی بی اما نے اُسے بیٹھا کر محبت سے ماتھے پربوسا دیا اور باہر آ گئی ابرش کا دل بہت تیزی سے دھڑک رہا تھا آنے والے لمحات کا سوچتے اُسکے ماتھے پر پسینہ آ گیا

کچھ ہی دیر میں زاویار دروازہ کھولتا اندر آیا جیسے ہی زاویار نے دروازہ بند کرتے اُسکی طرف دیکھا جو نظریں جھکائے بیٹھی کنفیوز سی تھی

زاویار چلتا اُسکے قریب بیٹھا اور اُسکا نازک ہاتھ پکڑا

ریلیکس” رہیں ابر میں آپکا زاوی ہوں

جس معصوم کو آپ سوئے ہوے ٹانگیں مارتی تھی ابرش اُسکی بات پر ہنس دی

اُسکے حسین چہرے کو دیکھتے زاویار نے اُسکے ہاتھ پر اپنے لب رکھے

بہت خوبصورت لگ رہی ہیں ماشااللہ “

ابرش کبھی مجھ سےخفا نہی ہونا آپ بہت خاص ہیں میرے لیے بہت محبت کرتا ہوں آپ سے اور ساری زندگی کرتا رہونگا میں چاہتا تھا کے آپ ہمارے رشتے کو دل سے تسلیم کریں اسی لیے میں نے اس وقت کا انتظار کیا کے آپ خود میری طرف آئے ۔۔۔۔۔۔

ہمارے رشتے کو سمجھیں میں بس اتنا جانتا ہوں کہ میں آپ سے بے پناہ عشق کرتا ہوں آپ کے بغیر جینے کا سوچ بھی نہی سکتا کہتے ہی زاویار نے اُسکی پیشانی پر لب رکھے

اور بہت خوبصورت سا گولڈ کا بریسلٹ اُس کو پہنایا

وہ شرارت سے اُسے دیکھتا ہوا بولا،، پھر کیا خیال ہے ابر!! بےبی” نہیں چاہیے اب آپکو “؟؟

ابرش اُسکی بات پر کانوں کی لوں تک سرخ پڑ گئی، زاوی آپ بہت برے ہیں کہتی اپنا چہرہ اس کی سینے میں چھپایا

زاویار نے مسکراتے ہوے دل میں خدا کا شکر ادا کیا اور اُسے سینے میں بینچ لیا