Raah E Zest Ho Tum By Yumna Writes Readelle 50365

Raah E Zest Ho Tum By Yumna Writes Readelle 50365 Raah E Zest Ho Tum (Episode 22) Last Episode

331.4K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah E Zest Ho Tum (Episode 22) Last Episode

Raah E Zest Ho Tum By Yumna Writes

پانچ سال بعد

پڑھو بسملہ ۔۔۔۔۔۔ب ،،ببچھ “”” نہیں بیٹا “بسم اللہ ” ابرش اپنی بیٹی کو دعا پڑھا رہی تھی اور وہ چھوٹی اما اتنی سمجھدار تھی جانتی تھی کے دعا کے بعد ماں کھانا کھلائے گی اسی لیے پہلے ہی بول پڑی

مما مدھے تھانہ نہیں تھانہ بابا آئیں دے نہ اُن تے چھات ،،

بابا نے ابھی نہی آنا اور آپ نے صبح سے کچھ نہیں کھایا تھوڑا سا کھا لو پھر بابا ساتھ بھی کھا لینا زمل میری جان کھانا نہیں کھائیں گی تو بریو گرل کیسے بنئیں گی ابرش نے اُسے پچکارتے ہوئے کہا

میرا بچہ تھوڑا سا کھا لو بس ابرش نے چمچ اُسکے مُںہ کی جانب بڑھائی لیکن وہ نہ میں سر ہلاتے پیچھے ہو گئی ،،بابا چھات “

اُفف میرے اللہ زاوی پتہ نہیں کب آنا ہے آپ نے زمل چپ کرکے یہ کھاو ورنہ تھپر لگاؤنگی اس سے پہلے کے ابرش اُس کو کچھ اور کہتی زمل نے دور لگا دی

نہیں تھانہ میں بابا شات،

ساتھ ہی زاویار اور صفدر ملک اکٹھے داخلی دروازے سے آتے دکھائی دیے زاویار تیزی سے چلتا ہوا زمل کے پاس آیا جو اُسے دیکھ بابا بابا بول ہاتھ اٹھا رہی تھی اُس نے محبت سے اُسے بانہوں میں بھرا اور اُسکے گال چومتے

بولا ،،ابر میری چھوٹی سی جان پر کیوں ظلم کر رہی ہیں آپ

بابا مما مدے تند ٹرتی ہیں زمل پنک فروک پہنے سر پر چھوٹا سا سکارف لیے ماں کی شکایت لگا رہی تھی زاویار کو اُس پر ٹوٹ کر پیار آیا محبت سے اُسکے دونوں گال چوم لیے،، کیوں تنگ کرتی ہیں آپ ابرش میری بیٹی کو صفدر ملک زاویار سے اُسے لیتے بولے

بابا آپ بھی اب اسک طرف داری کر لیں،

میں نہیں یہ دادی اما مجھے تنگ کرتی ہے کب سے کھانا کھلانے کی کوشش کر رہی ہوں لیکن اسنے ایک ہی ضد پکڑی ہوئی ہے۔

نو نانوں مما مدے تند ترتی میں تچھ نہی کیا زمل اب اپنے نانا جان کی گود میں بیٹھی ابرش کی شکایت لگا رہی تھی

ابرش میری بیٹی کو اب آپ نے بلکل بھی تنگ نہی کرنا۔

زمل تو بہت اچھی ہے بلکل بھی تنگ نہیں کرتی سکندر ملک مصنوئی خفگی لیے ابرش کو بولے اور زمل نانا کی شہہ پر مزے سے بیٹھی آنکھوں میں شرارت لیے ماں کو دیکھ رہی تھی

اب آپ دونوں مجھ سے بات نہیں کرنا ابرش منہ پھولاتی صفدر ملک اور زمل کی جانب دیکھ کے بولی

حد ہو گئی ہے میری تو کوئی ويليو ہی نہی رہی اس گھر میں “

زاویار نے مسکراہٹ چھپاتے اُسے ساتھ لگائے بولا آپ کی ہی تو ویليو ہے میری جان آپ بس پریشان نہ ہوا کریں زمل چھوٹی ہیں ابھی اسی لیے ضد کرتی ہیں میں بس آ رہا تھا ٹریفک کی وجہ سے لیٹ ہو گیا ۔

ابرش اپنی اڑھائی سال کی بیٹی زمل کو کھانہ کھلانے کی کوشش کر رہی تھی جو باپ کے ساتھ بہت اٹیچ تھی اور زیادہ تر اپنے بابا کے ساتھ ہی کھانا کھاتی “

زمل بہت پیاری گرے آنکھوں والی سرخ و سفید پھولے گالوں والی بچی تھی

سب گھر والوں کی اُس میں جان تھی

زمل زیادہ اپنے بابا اور نانا کے ساتھ اٹیچ تھی شرارتوں میں سب سے آگے سارے گھر میں اُسکی وجہ سے رونق لگی رہتی۔

آپ لوگ فریش ہو جائیں میں کھانا لگواتی ہوں زمل آپ میرے پاس آ جاؤ ،،

ابرش کہتی زمل کو اٹھانے لگی

نو میں بابا پاش کہتی وہ زاویار کی گود میں بیٹھ گئی

زمل کو باپ کے ساتھ چپکے دیکھ وہ اسے آنکھیں دکھاتی

سرخ چہرے سے اُسے دیکھتی آگے بڑھی

جو باپ کو دیکھ کر اُسے بھول ہی جاتی تھی زاویار اُسے دیکھ گویا ہوا

آپ رہنے دیں اسے میں آتا ہوں فریش ہو کے اور زمل کو لیے کمرے کی جانب چل دیا

فریش سا وہ زمل کو لیے ڈائننگ میں داخل ہوا

بیٹھتے زمل کو اپنی گود میں بیٹھایا

پھر زمل نے اپنے بابا کے ہاتھ سے کھانا کھایا اور ساتھ ساتھ اپنے نانا کو ماں کی دن بھر کی شکايتیں بھی لگائی ایسے ہی ماں بیٹی کی نوک جھوک میں کھانا کھایا گیا

لاؤنج میں بیٹھے سب زمل کی شرارتوں پر مسکرا رہے تھے ،،وہ لوگ خوش اور مطمئن تھے،،جو لوگ دوسروں کے ساتھ کبھی نہیں انصافی نہیں کرتے اور اپنا فیصلہ خدا پر چھورتے ہیں ،،خدا اُن کو کبھی نہ اُمید نہیں کرتا ۔

زمل تھک کر باپ کی گود میں بیٹھتی اُسکے سینے میں منھ دیے سونے لگی،،زمل ابھی نہیں سونا میں آپ کے لیے ملک لا رہی ہوں پہلے اُسے فینیش کرنا ہے ابرش اُسے سوتا دیکھ جلدی سے کیچن کی جانب بڑھ گئی۔

ابرش نے کمرے میں قدم رکھا تو زمل باپ کے سینے سے لگی سو رہی تھی اُسکا روز کا یہی معمول تھا زاویار کے بغیر وہ سوتی نہی تھی

ابرش چلتی ہوئی خاموشی سے اُسکے پاس بیٹھی زاویار سوئی ہوئی زمل کو بیڈ پر لٹا کر ابرش کی طرف متوجہ ہوا اور اُسے اپنے حصار میں لیا کیا بات ہے آج میری جان بہت خاموش ہیں

کچھ نہی بس ویسے ہی یہ آپکی بیٹی مجھے بہت تنگ کرتی ہے میری بلکل نہیں سنتی ابرش دھیمی آواز میں بولی

زاویار محبت سے اُسکی جانب دیکھ گویا ہوا میری جان آپ کیوں پریشان ہوتی ہیں زمل ابھی بہت چھوٹی ہیں اور بچے اسی طرح کرتے ہیں آپ اسے پیار سے ٹریٹ کیا کریں

آپ مجھ سے زیادہ اپنی بیٹی سے محبت کرتے ہیں ” ابرش منہ پھلاتی گویا ہوئی ،

زاویار نے اُسکی بات پر مسکراتے ہوے اُسکا چہرہ ہاتھوں میں لیا وہ اسلئے کیوں کے وہ آپکے وجود کا حصہ ہے مجھے جتنی محبت آپ سے ہے اتنی ہی اپنی بیٹی سے بھی اسلئے ایسا مت سوچا کریں

آپ اور زمل میری زندگی ہیں آپ نے مجھے اتنا پیارا تحفہ دے کے میری زندگی حسین بنا دی اور پلیز آپکی آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھ سکتا میں “

قیامت کے روز خدا کے آگے جواب دہ ہونا ہے مجھے پوچھ ہوگی مجھ سے کیوں اپنی بیوی کو رولایا

اُسکے محبت سے چور انداز پر ابرش کی آنکھیں نم ہوئی

آپ اتنے اچھے کیوں ہیں؟؟ زاوی “

کہتی وہ اُسکے سینے سے لگی زاویار ملک کے اُسکی زنگی میں آنے سے ابرش کی زندگی بہت خوبصورت اور مکمل ہو گئی تھی

زاویار اُسے خاموش دیکھ گویا ہوا ابرش کیا ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔

ابرش اُسکے سینے سے جدا ہوتے نم آنکھوں سے بولی “

شکریہ ” میری زندگی میں آنے کے لیے میری زندگی حسین بنانے کے لئے مجھے میرے خدا سے قریب کرنے کے لئے ،،

ہر مرد کا تو مجھے نہی پتہ کیسا ہوتا ہے لیکن خدا نے جو میری قسمت میں لکھا میں دعا کرتی ہوں آپ جیسا شریک حیات سب کو ملے خدا نے آپکو مجھے تحفے کی صورت میں دیا ہے میں اُس ذات پاک کا جتنا شکر ادا کروں کم ہے جسنے مجھے عزت محبت اور مجھے راہِ راست پر لاے شکریہ میری زندگی میں آنے کے لیے مجھ سے محبت کرنے کے لیے

یہ میرا فرض تھا میری جان میں آپکا ہمسفر ہوں مجھ پر اللہ نے فرض کی ہے آپ کی ذمےداری مرد عورت کا محافظ ہے اُس پر فرض ہے اپنے خاندان کی ذمےداری اُنکی کفالت اور میں تو آپکا شریک حیات ہوں میاں بیوی کو اللہ نے ایک

دوسرے کا لباس بنایا ہے میں چاہتا ہوں کے قیامت کے روز آپ اور میں جنت میں اکٹھے ہوں

میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں آپ بری نہی تھی بس خدا سے دور تھی ایک شوہر ہونے کے ناطے مجھ پر فرض ہے کے میں اپنی بیوی کو صراط مستقیم پر لاؤں اور میں نے وہی کیا زاویار نے مسکراتے ہوئے اُسکے ماتھے پر لب رکھے

ﺳﻨﻮ ﺍﮮ ﻣﺤﺮﻡِ ﮨﺴﺘﯽ ..

ﺳﻨﻮ ﺍﮮ ﺯﯾﺴﺖ کے ﺣﺎﺻﻞ،

ﻣُﺠﮭﮯ ﮐﭽھ ﺩﻥ ﮨﻮﺋﮯ،

ﺷﺪﺕ ﺳﮯ ﯾﮧ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ،

ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺧُﻮﺩ ﮐﻮ ﺟﺲ ﻗﺪﺭﺑﮭﯽ ﮔُﻢ ﮐﺮﻭﮞ

ﻣُجھ ﮐﻮ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺩﮬﯿﺎﻥ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ،

میرﮮ ﻣﻌﻤﻮﻝ ﮐﮯ ﺳﺐ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺗُﻤﮩﺎﺭﯼ ﺳﻮﭺ ﺳﮯ ﮨﻮ ﮐﺮ ﮔﺰﺭﺗﮯ ﮨﯿﮟ،

ﺗُﻤﮩﺎﺭﯼ ﻣُﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮐﺎ ﺍﺳﺘﻌﺎﺭﮦ ﮨﮯ،

ﺗُﻤﮩﺎﺭﮮ ﮨﺠﺮ ﺳﮯ ﺍﺏ ﺗﮏ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﻝ ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺩﯾﻮﺍﺭ ﭘﺮ ﻭﺣﺸﺖ ﺑﺮﺳﺘﯽ ﮨﮯ،

ﻣﯿﺮﮮ ﺍﻧﺪﺭ ﮐﯽ ﻭﯾﺮﺍﻧﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﮨﺮ ﺁﻥ ﮈﺳﺘﯽ ﮨﮯ،

ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮐﮩﮯ ﺟﺬﺑﮯ ﺟﻮ ﮨﻢ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ،

ﻭﮦ مُجھ ﺳﮯ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ،

ﻣﯿﺮﯼ ﺗﻨﮩﺎئیاﮞ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻋﮑﺲ ﮐﯽ ﭘﺮﭼﮭﺎﺋﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﮈﮬﻮﻧﮉ ﻟﯿﺘﯽ ﮨﯿﮟ،

ﺳﻨﻮ ﺍﮮ ﻣﺤﺮﻡِ ﮨﺴﺘﯽ…

ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﺳﮯ ﮐﺐ ﺗﮏ ﻟﮍﻭﮞ،

ﮐﺐ ﺗﮏ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﺳﮯ ﺟﮭﻮﭦ ﺑﻮﻟﻮﮞ،

ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺑﻌﺪ ﺯﻧﺪﮦ ﮨﻮﮞ، ﻣﮑﻤﻞ ﮨﻮﮞ،

ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﮭﻮﮐﮭﻠﮯ ﭘﻦ ﮐﻮ ﭼُﮭﭙﺎﺅﮞ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﺧﻮﺩ ﺳﮯ ؟

ﺍﭨﮭﺎﺋﮯ ﮐﺐ ﺗﻠﮏ ﺭﮐﮭﻮﮞ ﺍﻧﺎ ﮐﺎ ﻣﺎﺗﻤﯽ ﭘﺮﭼﻢ ؟

ﻣﯿﮟ ﮐﺐ ﺗﮏ ﯾﮧ ﮐﮩﻮﮞ ﺳﺐ ﺳﮯ ؟

ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮨﺠﺮ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﮞ،

ﺳﻨﻮ ﺍﮮ ﺯﯾﺴﺖ ﮐﯽ ﺣﺎﺻﻞ۔۔۔

ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻗﺮﺍﺭ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﮯ،

ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﺳﮯ ﻟﮍﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﺏ ﺗﮭﮏ چکیﮨﻮﮞ،

ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻟﮍﺍﺋﯽ ﻣﯿﮟ،

ﮐﺌﯽ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﮐﯽ ﻧﯿﻨﺪﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﺌﯽ ﺧﻮﺷﯿﻮﮞ ﺑﮭﺮﮮ ﻣﻮﺳﻢ،

ﻓﻘﻂ ﺍﮎ ﺟﮭﻮﭦ ﻣﯿﮟ ﺟﯿﻨﮯ ﮐﯽ ﺧﺎطر ﮨﺎﺭ ﺁٸی ﮨﻮﮞ،

ﺳﻨﻮ ﺍﮮ ﻣﺤﺮﻡِ ﮨﺴﺘﯽ ۔۔۔

ﺗُﻤﮩﺎﺭﯼ ﺧﻮﺍﺏ ﺳﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻧﮯ مجھ ﮐﻮ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﺭﮐﮭﺎ ﮨﮯ،

ﻣﯿﮟ ﺍَﻥ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﯾﮧ ﮈﻭﺭﯾﮟ ﺗﻮﮌﻧﮯ ﮐﺎ ﺳﻮچتیﮨﻮﮞ ﺟﺐ،

ﺗﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﺳﺎﻧﺲ ﺭﮐﺘﯽ ﮨﮯ،

ﻣﯿﮟ ﺑﺰﺩﻝ ﮨﻮﮞ،

ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮐﮭﻮﻧﮯ ﺳﮯ مجھ ﮐﻮ ﺧﻮﻑ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ،

ﺗُﻤﮩﺎﺭﮮ ﮨﺠﺮ ﻣﯿﮟ ﺟﯿﻨﺎ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮐﮭﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﺑﮩﺘﺮ ﮨﮯ

ﺳﻨﻮ ﺍﮮ ﻣﺤﺮﻡِ ﮨﺴﺘﯽ ۔۔۔

ﻣﺠﮭﮯ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﮐﺮﻧﮯ ﺩﻭ۔۔

میری ﺍِﺱ ﺯﻧﺪﮔﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﺗُﻤﮩﯽ ﺭﻭﺷﻦ ﺣﻮﺍﻟﮧ ﮨﻮ،

میرﯼ ﺗﮑﻤﯿﻞ ﺗُﻢ ﺳﮯ ﮨﮯ۔۔۔

ﺗُﻤﮩﯿﮟ ﮐﮭﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﺳﻮﭼﻮﮞ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﺳﺎﻧﺲ ﺭُﮐﺘﯽ ﮨﮯ،

ﺳﻨﻮ ﺍﮮ ﻣﺤﺮﻡِ ﮨﺴﺘﯽ ۔۔

ﺳﻨﻮ ﺍﮮ ﺯﯾﺴﺖ ﮐﯽ ﺣﺎﺻﻞ۔

اپنی خوبصورت آواز میں بولتے اُس نے ابرش کی آنکھوں پر لب رکھے،،اُس کے اس قدر خوبصورت اقرار پر ابرش کی آنکھیں بھیگ گئی۔۔۔

شکریہ میری زندگی میں آنے کے لیے مجھے اتنا خوبصورت تحفہ دینے کے لیے،،،،،،،

زندگی حسین ہے آپ دونوں کے سنگ۔۔۔۔۔۔ زاویار نے اُسے محبت سے سینے میں بینچ لیا ساتھ ہی زمل کے رونے کی آواز پر وہ دونوں اُسکی جانب متوجہ ہوئے

اسکو پتہ نہیں کیسے پتہ لگ جاتا ہے کہ میں آپ کے پاس ہوں ابرش زاویار کو دیکھ خفا ہوتی بولی جو جلدی سے اٹھتا زمل کو شانے پر ڈالے تھپک رہا تھا اور وہ بھی اپنے باپ کے پاس آتے ہی پھر سے سو گئی

ابرش اُنکے قریب آتے زاویار کے شانے پر سر رکھتی آنکھیں موند گئی زاویار نے سرشاری سے دونوں کے گرد حصار قائم کیا اور خدا کی ذات پاک کا شکر ادا کرتے آیت پڑھی

فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ.

ترجمہ : تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔

ختم شد……