Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Qirtaas (Episode 24)

Qirtaas by Uzma Mujahid

‏میں خود حیران ہوں ، یہ حادثہ ہوا کیسے

میں اُس کے سامنے اپنی انا کو__بھول گیا

کتنے گھنٹوں سے وہ شہر کی سڑکوں پہ بے مقصد گاڑی دوڑاتے اپنے ذہنی خلفشار اور اضطراب کو کم کرنا چاہ رہا تھا مگر پلکوں کے دریچوں سے جھانکتی اس لڑکی کا عکس اسے بے چین کیے جارہا تھا ۔

کتنی بار خان ہاؤس کے سامنے گاڑی کو بریک لگائے مگر پھر اسکے ریکشن کا سوچتے واپس رخ کرلیتا ۔

وہ تو اس کے معاملے میں بے رحم تھا ہمیشہ اپنی سنانے والا خریم پریشہ کو لے کے اپ سیٹ تھا ۔

ادھر وہ گھر کے کونوں کھدروں میں چھپتی” جو محبت کا بیج بویا تھا” اسکو” دفنانے “کے درپے تھی ۔

بھلا یہ آفاقی جزبہ بھی کسی کی من مرضی کا منتظر رہاہے آپ نفرت کے دعویدار تو آسانی سے بن سکتے ہیں مگر محبت ایک جھجک کی آڑ میں رہتی ہے کیونکہ وہ تو ایک حقیقی امر ہے جو ان دونوں کے دلوں میں اپنی جڑ پکڑ رہی تھی اپنے دل ودماغ کی میں ہوتی جنگ سے اکتائے وہ ٹیرس پہ چلی آئی موسم میں چھائی خنکی نے اسکے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں پہ اچھا اثر ڈالا تھا ۔

اپنی زندگی کی سودزیاں کا حساب کیا تو اسکی ذات کے حصے میں سوائے خسارے کے کچھ نہ آیا تھا خودترسی کا شکار ہوتے اسوقت صرف اپنے نقصان دیکھ رہی تھی خریم کی محبت بھرے احساس کہیں دور جا سوئے۔

“پری آجاؤ آج زرا لالے کی جیب ہلکی کروالیں ” دائم اسے ڈھونڈتے وہاں آن پہنچا تھا۔

“کیوں ؟” طبیعت پہ بیزاری حد سوا تھی اسیلئے روکھا جواب دائم کو بھی چونکا گیا۔

“کیا ہوا پری جان آپ تو ہمیشہ لالہ کی جیب پہ ڈاکا مارنے کا سوچتی ہیں اور اب جب کہ وہ ہاتھ بھی لگ چکے ہیں پھر ؟”

دائم بے چین سا ہوتا اسے اپنے بازو کے حلقے میں لے گیا اگرچہ وہ اس سے چھوٹا تھا مگر قد کاٹھ کے حساب سے پریشہ اسکے سامنے گڑیا سی لگ رہی تھی۔

اپنے ماں جائے کو اپنے لیے فکرمند ہوتا دیکھ آنسو پلکوں کے جھروکے سے جھانکتے دائم کو مزید پریشان کر گئے۔

“کیا ہوا پری بتاؤ طبیعت ٹھیک ہے نا ؟کس نے کچھ کہا ہے خریم لالہ سے لڑائی ہوئی کیا؟”

دائم اب تک کے مفروضے قائم کرنے لگا مگر وہ نفی میں سر ہلاتے اسکے شانے پہ سر ٹکائے دل کا غبار نکالنے لگی۔

“اوکے اگر آپ نہیں بتائیں گی میں حاطب لالہ اور خریم لالہ کو بتا دونگا پھر وہ خود آکے سنبھالیں گے۔”

دائم جانتا تھا کہ خریم ،حاطب کے سامنے آنے سے گریز کرتا ہے اسکے باوجود بھی اسے دھمکانے کو نام استعمال کیا پریشہ کے رونے مزید شدت آگئی تھی دل کا بوجھ کہیں نا کہیں تو ہلکا کرنا ہی تھا یونیورسٹی میں ہوئے اب تک کے واقعات دائم کو کہہ سنائے وہ حیرانی سے اپنے گرد خود سے بنائے مضبوط قلعے میں خود کو بند کیے اپنی بہن کو دیکھا۔

“اتنا سب کچھ ہوگیا پری جان اور آپ نے ہمیں بتانا گوارہ نہیں سمجھا اپنے لالہ کو اتنا بے غیرت سمجھ رکھا ہے آپ نے جو اس شخص سے ڈر کے رہے گا.”

حاطب کی آواز پہ وہ دونوں پلٹے مگر اب تو پانی سر سے گزر چکا تھا اس نے سب سن لیا تھا اسکے پیچھے سہمی سی ٹہری زحلے پھر سے حاطب کا جلال دیکھ پریشانی سے ہونٹ چبانے لگی تھی۔

اس نے ڈرتے ڈرتے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھنا چاہا مگر حاطب نے ایک سرد نگاہ اس پہ ڈالتے ہاتھ جھٹکااور وہاں سے واک آؤٹ کرگیا زحلے ایک بار پھر سے بری طرح ٹوٹی تھی وہ بلکتی ہوئی اپنے کمرے کی جانب دوڑی۔

لان میں آتے ہی وہ گہرے سانس لینے لگا مگر دوسرے ہی لمحے دماغ کے دریچے کھلے تھے اسکا نمبر ملائے کال اٹھانے کا منتظر تھا بغیر کوئی لگی لپٹی رکھے اسے اپنی کہ سنائی۔

“خریم خان ہمیں پری جان کے حوالے سے آپ سے بات کرنی ہے ۔” حاطب کی آواز سنتے اسکے دل کی دھڑکن تیز ہوئی ایک نگاہ موبائل پہ ڈالے پھر سے اسکی جانب متوجہ ہوا۔

“جی بولیں ہم سن رہے ہیں۔” آواز میں شکستگی کا عنصر واضع تھا شاید اسے یقین نہ تھا کہ وہ اپنی دھمکی پہ اتنی جلدی عمل کرلے گی ۔

“ہم ملنا چاپتے ہیں تم سے تاکہ مل بیٹھ کے کوئی مناسب حل نکل آئے اس مسئلے کا ہم نہیں چاہتے جیسی غلطی ہم زحلے کے معاملے میں کرتے رہے ہیں ایسی کسی زیادتی کا شکار پریشہ بھی ہو ۔”

حاطب کا لفظ لفظ اسکی جان نکالنے لگا تھا بھلا وہ کیسے بتاتا کہ وہ تو پہلے دن سے ہی پریشہ کے آکٹوپس کا شکار ہوا تھا مگر اسکی جامد چپ حاطب کو بہت سے نئے مطلب نکالنے پہ مجبور کررہی تھی۔

“ٹھیک ہے ہم کل خان ہاؤس آئیں گے۔” وہ جانتا تھا کہ پریشہ اسے دیکھتے ہتھے سے اکھڑ جائے گی مگر یہ آگ کا دریا عبور تو کرنا ہی تھا ۔

آنکھیں موندے خود کو آنے والے وقت کیلئے تیار کررہا تھا محبت جو انسان کی طاقت بن جائے تو اسکے بل بوتے وہ دنیا کو فتح کرنے کا سوچ لے مگر اسکی محبت اسکے پاؤں کی زنجیر بن رہی تھی کیونکہ اسکا محبوب غافل تھا وجہ اس نے خود کبھی اس چیز کا اعتماد نہیں دیا ایک محرم رشتے میں ہونے کی باوجود اسکا دل خود سے لگائی بدگمانی کی آگ میں دھڑ دھڑ جل رہا تھا۔

سنا ہے خواب بتلاؤ

تو تعبیریں نہیں ملتیں !

چلو، میں چپ ہی رہتا ہوں..

میرا اِک خواب تم بھی ہو

آنکھوں میں جہاں حسرتوں کے دیپ جلے وہیں کانوں میں کچھ زہر خند الفاظ سماعت پہ تیرکش ثابت ہورہے تھے۔

“ایک ہی کام تو کیا ہے پوری زندگی میں انتقام لینا لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنا واؤ اگین سکسفل یو آر ۔”

وہ اسے بتانا چاہتا تھا وہ اسکے انتقام سے پہلے اسکی محبت تھی اسکا جنون اب کے عشق کے مراحل میں داخل تھا مگر مہلت کہاں دی تھی اس نے ۔

“کب انتقام پورا ہوگا تمہارا خریم خان اگر چاہو تو سامنے کھڑی لڑکی کی جان لے لو تم ۔”

بھلا وہ کیسے اس لڑکی کی جان لیتا جو لہو بن کے اسکی رگوں میں دوڑ رہی تھی آوازوں کی بازگشت اور سرگوشیوں نے اسے ہاپاٹئز کردیا ۔

“نہیں پریشہ خریم انتقام پرست نہیں ہے اسکی زندگی کے قرطاس پہ کند ایک سنہری حرف ہے”پریشہ گل” جسکے بنا اسکی زندگی کا قرطاس ادھورا ہے تمہارا بغیر خریم خان ادھورا ہے پریشہ میں تمہیں کیسے یقین دلاؤں ” آنسو کسی جھرنے کی طرح آب شفا بن کے بکھرے تھے مگر اس شخص کا درد اپنے ساتھ نہیں لے گئے ۔

“میں نے تو زحلے کی خاطر ایک “کی پن “ڈھونڈا تھا پریشہ میں نے تو حاطب سے اسکی زحلے چھینی تھی پریشہ مگر اپنے دل کی ملکہ بنانے کو سب کیوں ہوا ؟کیسے ہوا ؟میں نہیں جانتا ” خود کلامی میں اپنے سامنے اسکا تصور لائے ہم کلام تھا مگر اسکی صدا سننے والی پہروں دور بیٹھی تھی۔

“تمہاری بہن ہر روز حاطب کے قہر کا نشانہ بنتی ہے خریم خان پل پل موت کی دعائیں مانگتی زحلے اپنے گھر والوں کیلئے سوائے بددعا کے کچھ بھی تو لبوں پہ نہیں رکھتی۔”

زرتاج گل کی آواز بہت قریب سے سنائی دیتے معدوم ہوئی تھی۔

“مجھے تم پہ کوئی اعتبار نہیں ہے خریم خان۔ “

ایک اور جان سوز آواز ابھری تھی۔

“اعتبار نہیں ہے ؟کیسے نہیں پریشہ مم میں تمہارا محرم ہوں میں بھلا اپنی ذات کو رسوائی دونگا پر……..” درد جب شدت اختیار کرگیا تو وہ آنکھیں موندے اس درد سے آزادی حاصل کر گیا۔

وہ جو اسے ہرپل اذیت دیتے ہر پل اپنے قہر اور برچھی برساتے الفاظ سے چھلنی کرتا اسکے دو لفظ نہیں سہہ پایا تھا جو کہ حقیقت پر ہی تو مبنی تھے۔

فقط ایک نقطے نے محرم سے مجرم بنا دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تھا۔

اب کے اسکے دل ودماغ میں اتنی سکت نہیں تھی کہ وہ سرعام اپنے محبوب سے رسوائی برداشت کرسکے اسیلئے مضبوطی کا خول چڑھائے کھوکھلا وجود بہت جلد شکست پا ہوا تھا۔

★★★★★★

حاطب کمرے میں داخل ہوا تو کمرے سے آتی “سوں سوں” کی آواز نے چونکایا یاداشت نے سیکنڈز میں کچھ دیر پہلے کی کارستانی دہرائی تو شرمندہ ہوتے اسکو ڈھونڈنے کو نگاہ دوڑائی بیڈ کی سائیڈ ڈرا ساتھ ٹیک لگائے چہرہ گھٹنوں میں چھپا رکھا تھا۔

جہاں اسے اسکے معصومیت بھرے احتجاج پہ ہنسی آئی وہیں خود کو اپنے برے روڈ انداز پہ سرزنش کرتے آگے بڑھا

اگر وہ پریشہ اور خریم کی زندگی کے قرطاس کو نیلی روشنائی سے بھرنا چاہتا تھا تو وجہ بھی یہی تھی کہ زحلے اور وہ ایک مطمئن زندگی گزار سکیں مگر انجانے میں اسے ہی دکھی کرچکا تھا جسے وہ دنیا جہاں کی خوشیاں میسر کرنا چاہتا تھا۔

“سوری مسسز ” کتنی دیر سوچنے کے بعد اسے منانے کو کوئی الفاظ نہ ملے تو ایسے ہی مخاطب کرلیا کیونکہ اس لڑکی کو منانا بہت مشکل تھا جسکیلئے پہلے ہی وہ اسکے چھ مہینے ضائع کرچکی تھی۔

پہلے جو رونا سسکیوں تک محدود تھا اب وہ دھواں دھار اننگ سٹارٹ کرچکا تھا ۔

حاطب کے ہاتھ پاؤں پھولے تھے۔

“زحلے میری جان آئی ایم رئیلی سوری یار بینگ روڈ بس تھوڑا سا پریشہ کو لے ڈپریس ہوگیا تھا تو۔۔” سرکھجاتے شرمندہ شرمندہ انداز میں اسے صفائی دی۔

” کیا بینگ آ روڈ آپکو پریشہ سے بڑھ کے کچھ اہم ہے وہ میں دیکھ چکی ہوں پہلے دن سے اپنی اوقات سے آگاہ ہوں آپ جائیں خریم لالہ سے حساب کتاب چکتا کریں پہلے۔” بنا کوئی لحاظ وہ اسے کھری کھری سناتے پھر سے چہرہ چھپائے رونے لگی تھی۔

حاطب کو مطلع آبرآلود دیکھ مزید پریشانی ہوئی اور وہ بھی خالص بیویوں والی خالص خصوصیات۔

“اچھا یار رخ یار کا دیدار تو کرنے دو اوپر سے چھوٹی سی ناک پہ اتنا غصہ دھر دیا ہے بھلا کیسے وزن سہل سکے گی وہ ہم کہہ رہے ہیں بھائی ہمیں اپنی چھوٹی زحلے کی ناک نہیں بگاڑنی اسلیئے احتیاط ضروری ہے۔”

اسکے سامنے دوزانو بیٹھتے چہرہ اوپر کو اٹھایا ساتھ میں اسکی ناک کو چھوتے لطیف سا طنز کرتے اسکا موڈ ٹھیک کرنا چاہا تھا۔

حاطب کو سامنے دیکھ “اسے اپنے غصے پہ غصہ آرہا تھا” جو محبوب شوہر کو سامنے دیکھ رفو چکر ہونے کے چکر میں تھا۔

وہ رونا دھونا بھولے حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔

“کون چھوٹی زحلے؟” اسکی توجہ بٹتا دیکھ حاطب نے سکون کا سانس لیا۔

“ایسے نہیں بتاؤں گا بھائی اسکیلئے پہلے صلح کرنی پڑی گی۔” حاطب نے چالاکی سے پینترا بدلہ تھا زحلے کی بے چین فطرت سے وہ اچھے سے آگاہ تھا بھلا وہ کہاں اتنا صبر کرنے والی تھی۔

“ہنم ہاں صلح ہے بتائیں مجھے” وہ جو اس سے آج زوردار لڑائی اور طعنے تشنوں کے تیر چلانے کا سوچے بیٹھی تھی سب بھلائے اسکی باتوں میں آ گئی ۔

“ایسے کیسے میں ہم مان لیں صلح ہمارے مزہب میں کیا ہے جب صلح کریں تو آپس میں گلے ملتے ہیں ۔” حاطب نے سادہ سے الفاظ کہتے اسکی جانب ہاتھ بڑھائے جبکہ اسکے الفاظ پہ غور کرتی وہ ہونٹ چباتے سر جھکا گئی۔

” اوہ یار اتنا ظلم مت۔۔۔۔” ابھی اسکی بات مکمل بھی نہ ہوئی تھی کہ اپنی جانب بڑھتا اسکا ہاتھ جھٹکتے کھڑی ہوگئی ۔

“آپ بہت برے ہیں ہمیں آپ سے بات ہی نہیں کرنی۔” بے رخی سے کہتے دروازے کی طرف بڑھی مگر سامنے ایستادہ دیوار سے ٹکراتے چیخ پڑی تھی۔

“ایسے کیسے میری جان ابھی تو ہمیں آپکو چھوٹی زحلے کا بتانا ہے بلکہ اسے لانے کی پلینگ کرنی ہے پوری۔” حاطب نے اس چھوئی موئی سی لڑکی کو اپنے حصار میں مقید کیا تو وہ اسکے لفظوں پہ غور کرتی بلش کرنے لگی ۔

“مطلب کے آپ مجھے اتنی دیر سے بے وقوف بنا رہے ہیں۔”

لہجے میں لاڈ اٹھوانے کا عنصر نمایاں تھا جو حاطب سے پوشیدہ نہیں تھا تبھی اسکے موڈ کا بیڑہ غرق کیا۔

“وہ تو آپ ماشاءاللہ سے بنی بنائی ہیں ہم اللہ کی بنائی چیزوں میں ایڈیشن کرنے والے ہوتے کون ہیں۔”

وہ منہ پھاڑے اسکی بات کا مفہوم سمجھنے لگی جیسے ہی بات سمجھ زوردا احتجاجی مکے اسکے سینے پہ برسائے گرفت سے نکلنا چاہا تھا۔

“آپ آپ ہیں ہی برے انسان ہم سے غلطی ہوجاتی جو ہر بار آپکی باتوں میں آجاتے جائیں اپنی بہن کو منائیں اسکے لاڈ اٹھوائیں۔”اسکے کندھے پہ زوردار مکا برساتےاسکے سینے میں سر گھسیڑا گیا۔

” چھپ کیوں رہی ہیں اب کے ہمارے دل و جسم پہ ہوئی وردات کا حساب دینا ہوگا آپکو جانم ۔” مدھم سی سرگوشی زحلے کو سرتاپیر سرخ کرگئی تھی۔

“ہمیں آپ سے بات ہی نہیں کرنی۔ ” جب اسے کچھ سمجھ نہیں آیا تو گویا بائیکاٹ کا اعلان کیا گیا ۔

“اوہ یہ تو اور بھی اچھا ویسے بھی ہم خاموشی چاہ رہے ہیں بہت پکاتی ہیں آپ۔ “اسے چڑاتے اپنے بازو میں اٹھائے ٹیرس پہ لایا جہاں پہ ہلکی سی ہوتی بارش نے اسکے مزاج کی ساری کثافت دور کردی تھی۔

“آپ نے بتایا کیوں نہیں کہ باہر بارش ہورہی ہے۔” دونوں ہتھلیوں کو پھیلاتے بارش کے قطروں کو قید کرنا چاہا تھا۔

“ہمیں لگا اندر ہوتی بارش کا منظر زیادہ حسین ہے ” سرشار انداز میں کہتے اسکی پلکوں پہ ٹہرے شفاف قطرے اپنی پوروں پہ چنے۔

“مت رویا کریں زحلے ہماری جان مشکل میں آجاتی ہے” اسکے کندھے پہ سر رکھتے سرگوشی کرتے اسکی دھڑکنوں کو مرتعش کرگیا۔

“تت تو آپ نا رولایا کریں۔”جواب حاضر تھا وہ لاجواب ہوتے خاموشی اختیار کیے اسکے حسین چہرے کو تکنے لگا۔

ہواؤں پہ لکھے اس کے نام کو چومتے ہیں

نظروں سے اس کے نقشِ_پیام کو چومتے ہیں

اس سے مل کر ملی ہیں رسوائیاں بھی بہت

اُسی کے حوالے سے لفظ بدنام کو چومتے ہیں

تخیل کے #قرطاس پہ بنا کر وہ صورت و نقوش

خوش فہمیوں کے اس #ابہام کو چومتے ہیں

#ٹھٹھرتی شاموں،#تپتی دوپہروں میں ملے تھے جہاں

#بدحواسیوں میں وہاں کے در و بام کو چومتے ہیں

#آنسو آ جائیں جب بہتے بہتے لبوں تک شبنم

محبوب کے #نذرانے انہی غم و آلام کو چومتے ہیں

“اتنی آزمائشوں کے بعد بلاآخر وہ سرخرو ہوا تھا اسکا مقصد خریم اور پری کو لے کے ہمیشہ پازیٹو رہا تھا مگر خریم نے اپنی فضول حرکتوں سے اسکی بنی بازی بگاڑی تھی مگر اب وہ اسے اور پریشہ کو کوئی غلط قدم نہیں اٹھانے دے گا۔”

فیصلہ کن انداز میں سوچتے پرسکون ہوتے اسکے بالوں پہ ہلکا سا لمس چھوڑا ۔

مگر وہ اس بات سے انجان تھا کہ پہلے اگر خریم نے ہمیشہ اسکی کرتی دھرتی پہ پانی پھیرا تھا تو اب فیصلے کا اختیار کوئی اور اپنے ہاتھوں میں لے چکا تھا۔۔۔۔۔

جسے سب “تقدیر” کہتے ہیں قسمت کی وہ دیوی جو چاہے تو محبتیں برسا کے ایک بے مول انسان کو مالا مال کر دے

اور اگر چاہے تو نفرت کی آگ سلگائے سازش بنتے تخت نشین کو تختہ دار کردے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *