Qirtaas by Uzma Mujahid NovelR50593 Qirtaas (Episode 01)
Rate this Novel
Qirtaas (Episode 01)
Qirtaas by Uzma Mujahid
آنکھ کے بدلے آنکھ،خون کے بدلے خون اور عزت کے بدلے عزت دریام خان تمہارے پاس اسوقت جان خلاصی کے دو ہی راستے ہیں اپنی جان دے کے صدیوں سے چلی آئی دشمنی کو مزید بڑھاوا دو یا پھر سوارہ دے کے اس معاملے کو یہی ٹھنڈا کردو تاکہ تمہارے آنے والی نسلیں اس گورکھ سے بچ سکیں فیصلہ تمہارے ہاتھ ہے یہ جرگہ کل سے آخری شنوائی کرے گا امید ہے کہ دونوں خاندان دانشمندانہ فیصلہ کریں گے۔۔۔۔۔۔
کیونکہ نا تو آفریدی قبیلہ سوارہ(ونی) لینا چاہ رہا تھا اور نہ ہی داوڑ قبیلہ اپنا بندہ پیش کررہا تھا اسیلئے معاملے کی سنگینی دیکھتے جرگے مصلحت کی آخری کوشش کی ۔۔۔
اور پھر اس قبیلے کی۔صدیوں سے چلی آئی ریت کی پیروی میں اک بیٹی کو سوارہ کی رسم کے مطابق دوسرے قبیلے کے حوالے کردیا گیا
“مورے زه د تګ لپاره هیڅ ځای نلرم”
(ماں مجھے کہیں نہیں جانا)
روتے ہوئے اسکی چیخیں پوری حویلی کو ہلا رہی تھیں مگر کل تک اس پہ جانسار کرنے والے لوگ آج اسکی آواز پہ ایسے کان بند کرگئے جیسے وہاں کوئی انسانی وجود نہیں کوئی جانور بلبلا رہا ہو۔۔۔۔
بڈھ بیر ضلع پشاور میں واقع ایک گاؤں ہے جو پشاور مرکزی شہر سے دس کلومیٹر کے فاصلے پر کوہاٹ روڈ پر واقع ہے اور یہ گاؤں آپنے پرکھوں کی صدیوں سے چلی آرہی ریت پہ ابھی باپند تھا اگر کسی مسئلے کا حل نہ نکل پا رہا ہو تو بہن بیٹی کو ونی کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا تاکہ مزید خون ریزی سے بچا سکے اور اس امر میں اک جیتے جاگتے وجود کو زندہ انسانوں کے قبرستان میں درگور کردیا جاتا۔۔
“ونی یا سوارہ ایک رسم کے دو نام ہیں۔ پنجاب میں اسے ونی جبکہ سرحد میں سوارہ کہا جاتا ہے۔سندھ اور بلوچستان میں بھی اسی طرح کی رسمیں ہیں جن کے ذریعے دو خاندانوں میں صلح کی خاطر جرگہ یا پنچایت کے ذریعے بطور جرمانہ ہرجانہ لڑکیاں دی جاتی ہیں بعض اوقات تو کم سن لڑکیاں بڑی عمر کے لوگوں سے بیاہی جاتی ہیں اور اسی کو ونی کہا جاتا ہے”
پاکستان میں حکومت اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے آواز اٹھانے کے باوجود کم عمر بچیوں کو ونی کرنے کی صدیوں پرانی رسم آج بھی چلی آرہی ہے۔۔۔۔۔۔
“ما وژغوره دادا زه ستاسو انجلی یم”
(دادا بابا مجھے بچا لو میں آپکی گڑیا ہوں)
اسکے داد کی بوڑھی آنکھوں سے ایک آنسو گرکے اسکی سفید داڑھی میں گم ہوگیا تبھی خان بیبی آگے بڑھتے انکے کندھے پہ۔ہاتھ رکھ گئی۔۔۔۔
سړي نه ژاړي زه هم وینیپیګ ته راغلم “
(مرد روتے نہیں ہیں میں بھی تو ونی ہوکے آئی)
اب وہ اسے کیسے سمجھاتے کے یہی چیز تو انہیں رلانے لگی کیا وہ اس بات سے ناواقف تھے کہ “سوارہ” میں آئی لڑکی کی کیا عزت ہوتی ہے مگر اس دشمنی کا کوئی نا کوئی حل تو نکلنا ہی تھا۔۔۔۔۔۔
اور وہ شاید اپنی گڑیا کیلئے اکیلے رو رہے تھے۔۔۔۔
بازی خیل کے علاقے میں داخل ہوتے ہی تابڑ توڑ فائرنگ کرکے اپنے جشن اور فتح کا اعلان کیا گیا اور ساتھ لائی بدنصیب کو بھی حویلی میں قائم اک زندان میں ڈال دیا گیا تھا ابھی محظ وہ آٹھ سال کی تھی اور جس مرد کے ہاتھ آہنی گرفت میں اسکا ہاتھ موجود تھا خونخوار نظروں سے اسے گھورتا واپس مڑنے لگا تبھی اسکی آواز پہ رکا
“ایا زه باید پاتې شم؟ زه له تیاره ویره لرم “
(کیا مجھے یہی رہنا ہوگا مجھے اندھیرے سے ڈر لگتا ہے)
“ما له خپلې مور سره پرېږده “
(مجھے مورے کے پاس چھوڑ دو)
وہ بنا اسکی آواز پہ کوئی کان دھرے آگے کو بڑھا جبھی اسکی چادر پھر سے اسکے پاؤں میں الجھی۔۔
“مور وویل چې تاسو خپل میړه ته ځئ میړه یې د خپل هلک ساتنه کوی “
(ماں نے کہا تھا تم اپنے شوہر پاس جاررہی ہو شوہر تو گڑیا کا خیال رکھتا ہے)
وہ جو بول رہی تھی یقیناً اسکی ماں نے اسے جھوٹے لہجے میں تسلی دی تھی ان الفاظ کے مطلب تو اسے خود بھی پتا نہیں ہونگے وہ بے حس بنا اسے سنتا رہا ۔۔۔۔
“او یو څه ستاسو مور وویل”
(اور کچھ جو تمہاری ماں نے کہا ہو)
آخر کو اس نے خاموشی توڑ دی اسکی آواز کی سختی دیکھ باقی کے الفاظ اسکے منہ میں رہ گئے۔۔۔۔۔
تبھی اک عورت کمرے میں داخل ہوئی وہ۔مزید کچھ بولے اک نظر آنے والی پہ ڈالتے وہاں سے روانہ ہوگیا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ یہاں اب کیا ہونے والا ہے۔۔۔۔۔
تاسو زما د خاوند قاتل لور یاست”
(تم۔میرے شوہر کے قاتل۔کی بیٹی ہو)
کہتے ساتھ اس سخت مزاج عورت نے اس معصوم۔کو تھپڑ دے مارا جو شاید پہلی بار کسی ہاتھ کی سختی سے واقف ہورہی تھی
“مور مې وژغوره”
(ماں مجھے بچا لو)
تھوڑی دیر بعد اس معصوم کی چیخیں پوری حویلی میں گونج رہی تھیں مگر یہاں بھی اسکی شنوائی کرنے والا کوئی نہ تھا۔۔۔۔۔۔
★★★★★★★
ماں یہ حویلی والے اتنے سخت کیوں ہیں تم کہیں اور چل کے کام کیوں نہیں کرتی سولہ سالہ زحلے، گل بانو کی۔گود میں سررکھے بول رہی تھی اور یہ حاطب لالہ اف اللّٰہ مورے جان تو بیچاری اپنے بیٹے سے بھی سہمی رہتی ہیں۔۔۔۔
اس پوری حویلی میں مجھے دائم لالہ اچھے لگتے پر ان سے بھی جب کھیلنے لگو بھابھی ماں (حاطب کی بیوی) آنکھیں دکھا رہی ہوتیں، پریشہ گل بھی اچھی ہے ماں
اسکی باتیں سنتی گل بانو مسکرا دی ۔۔۔
سب اچھے ہیں زحلے بس نصیبوں کی دعا کیا کرو نصیب بھی سب کے اچھے ہوں کتنے منظر تھے جو ان بند آنکھوں کے پردوں پہ لہرائے تھے۔۔
“یہ نصیب کیا ہوتا ہے ماں”
زحلے اپنی مستی میں مگن گل بانو کی آنکھوں سے نکلتے آنسو نہیں دیکھ پائی
“وہیں جو ہم بیٹیوں کو مانگ کے لینا پڑتا ہے اور بیٹوں کو بنا کہے مل جاتا ہے”
ماں اتنی مشکل باتیں نا کیا کرو مجھے سمجھ نہیں آتیں زحلے اسکی باتیں چٹکیوں میں اڑاتی باہر کو چلی گئی جہاں پریشہ گل اور دائم اسکا حویلی کے پچھواڑے میں انتظار کررہے تھے ۔۔۔۔
تبھی شیرگل اندر داخل ہوا تھا یہ زحلے کدھر ہے اک نظر گل بانو کو دیکھ اسے آوازیں دینے لگا تھا
باہر گئی ہے حویلی کے بچوں سے کھیلنے
“گل بانو کتنی بار منع کیا ہے بھابھی ماں کو اسکا حویلی جانا پسند نہیں ہے پھر کیوں سوئی شیرنی کو جگا رہی ہو زحلے بہت معصوم ہے اسکا رویہ برداشت نہیں کرپائے گی”
آئیندہ سے نہیں جانے دونگی تم اسے پرائیوٹ امتحان دلا دیتے کچھ تو سرٹیفکیٹ کے نام پہ اسکے پاس ہوتا گل بانو آج پھر اسی بحث میں مبتلا ہورہی تھی جس پہ پہلے بھی کئی بار انکا جھگڑا ہوچکا تھا۔۔۔
ہاں پڑھاؤں اسکو تاکہ کل کو تمہاری طرح اسکے بھی پر نکل آئیں اک طنزیہ نگاہ اس پہ ڈالتا باہر چلا گیا۔۔۔
★★★★★★★
اسے اس زندان میں قید دو دن ہوچکے تھے مگر پھر سے اس نے سوائے اک کھانا دینے والی عورت اور اسی عورت کے جو کھانے کے فوراً بعد آکے اسکے زخم ادھیڑتی تھی کسی اور کو نہیں دیکھا نا ہی اس شخص کو جو اسکی ماں کے بقول اسکا شوہر تھا ۔۔۔۔۔۔
آج جب کھانا دینے والی عورت آئی تو سامنے ہی وہ بے جان وجود اسکو لرزا گیا وہ بغیر کسی نتیجے کی پرواہ کیے مردان خانے کو بھاگی تھی کیونکہ اسے زنان خانے میں موجود کسی عورت سے بھی ہمدردی کی امید نہیں تھی یہ بات اس سے بڑھ کے کسے معلوم ہوگی سامنے موجود شخص کو دیکھ وہ اک لحظہ رکی۔۔۔۔
“وہ مر جائے گی خان اس پہ رحم کھاؤ تم بھی تو اک بیٹی کے باپ ہو جو اسکے جتنی ہے آخر کب تک اس معصوم کو اسکے جرموں کی سزا دوگے جو اس سرزد ہی نہی ہوئے بخش دو اسکو معاف کردو اسے “
بے تحاشہ روتے اس نے اپنے سر سے چادر اتارے خان کے پاؤں پہ رکھی تھی وہ جو آج تک اپنے لیے اک لفظ نہیں بولی ان حویلی والوں کے سامنے آج کسی اور کی زندگی کیلئے گِڑگڑا رہی تھی سامنے موجود اسکے شوہر نے اک تلملائی نظر اس پہ ڈالی اور بھاگ کے اسکے قریب آتے اسے بازو سے کھینچنے لگا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ خان کے آگے بولنے کی جرأت پورے علاقے میں کسی کے پاس نہیں ہے پھر وہ عورت بھلا کیوں اسکے قہر کو آواز دے رہی تھی اور پھر وہ بھی ہوش میں آئی وہ دیواروں کے سامنے سر ٹکرا رہی تھی اک نظر حویلی میں مقید لڑکی پہ ڈالی جیسے اسکا حال اسے سات دیواروں کے پار بھی دکھائی دے رہا تھا اور اپنے لاشے کو گھسیٹتی اندر کی طرف بڑھ گئی اسے یقین تھا کہ آج نہیں تو کل وہ مرجائے گی اور اسکے لواحقین کو پتا بھی نہیں چلے گا کے جسے اسکے شوہر کے حوالے کیا تھا وہ زندہ بھی تھی کہ مرگئی کیونکہ وہ خود انہی حالوں میں تھی ۔۔۔۔۔۔
★★★★★★★
پکڑ لیا پکڑ لیا دائم لالہ اب تو پکا حویلی پار والے باغ سے سیب توڑ کے دیں گے نا زحلے نے کہکھلاتے ہوئے آنکھوں سے پٹی اتاری مگر سامنے موجود حاطب لالہ کو دیکھ اسکے پیروں تلے سے زمین نکل گئی تبھی پریشہ اور دائم کو بلانے کیلئے آتی بھابھی ماں نے اسے حاطب کا بازو پکڑے دیکھا قہر برساتی نظروں سے دیکھتی وہ اسکی جانب بڑھی
” کیا کررہی ہو یہ آتے ساتھ ہی اسے تھپڑ جڑ دیا تمہاری جرأت کیسے ہوئی میرے شوہر کو چھونے کی کم ذات لڑکی ایک دھکے سے اسے زمین پہ گرایا “
حاطب جو اسکا نوخیز کلیوں جیسا حسن دیکھ مدہوش ہوا یک دم ہوش میں آیا تھا
” کیا کررہی ہیں آپ زرتاج گل چھوڑیں اسے “
اک نظر اس پہ ڈالتا وہ بھی آگے بڑھا
“تم نے دیکھا حاطب وہ کیسے مجھے دیکھ رہی ہے گل بانو نے اسے سکھا کے بھیجا ہے وہ اسکے زریعے اس گھر والوں سے اپنے بدلے لینا چاہتی ہے”
حاطب اسکی زہنی رو بھٹکتے دیکھ خاموشی سے اسکے کندھے پہ بازو رکھے اپنے ساتھ لے گیا ۔۔۔۔
پریشہ اور دائم نے اسے اٹھایا
“ایم سوری ہماری وجہ سے تمہیں بھابھی ماں سے مار پڑی معاف کردو ہمیں “
ان دونوں نے بیک وقت ہاتھ جوڑے تھے مگر وہ مسکراتے ہوئی کھڑی ہوگئی
” کل کھیلیں گے پریشہ دائم لالہ ابھی ماں نے میرے لیے کھانا بنایا ہوگا “
وہ بغیر انکو دیکھے گھر کی طرف بھاگ گئی ۔۔۔
گل بانو کو دیکھتے وہ اسکے گلے لگی رونے لگی تھی
“ہمارا کیا قصور ہے ماں کیا ہم غریب ہیں اسلیئے حویلی والے ہمیں مارتے ہیں آپ بابا سے کہو ہمیں یہاں سے دور لے چلیں مجھے یہاں نہیں رہنا “
تبھی شیر خان نے اسے بلکتے دیکھ گل بانو کو دیکھا تمہیں پہلے ہی کہا تھا اسے ہر حقیقت سے آگاہ رکھو مگر تم نہیں مانی آخر کو اپنی استانی گری بھی تو دکھانی تھی نا اب بھگتو انجام تمہاری مہارانی حاطب خان آفریدی کے ساتھ مستیاں کرنے لگی تھی تبھی بھابھی ماں نے اسے پکڑ لیا ۔۔۔
گل بانو نے نفی میں سرہلاتے زحلے کو دیکھا جو پہلے ہی اپنے باپ کی بات پہ حیران تھی ۔۔۔
نہیں ماں یہ جھوٹ ہم تو چھپن چھپائی کھیل رہے تھے اور اسکے آنسوؤں نے بات پوری نہیں کرنے دی ۔
