Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Qirtaas by Uzma Mujahid

داور خان آفریدی کے سامنے جب اس سہمی ہوئی چڑیا کو لایا گیا اک لمحے کو انکے دل۔میں عجیب چبھن ہوئی وہ جو پڑھ لکھ کے اس قبیلے کی روایات توڑنا چاہتے تھے پھر سے اپنے بچوں کی سلامتی کیلئے وہ ہار مان گئے مگر وہ آج پہلی بار اس بچی کو دیکھ رہے تھے جسے اپنے بڑے بیٹے کے خون بہا کے بدلے لائے تھے۔۔۔۔۔
"دلته راشه انجلۍ ستا نوم څه دی"
(ادھر آو لڑکی کیا نام ہے تمہارا )
کڑک آواز سن وہ مزید سہمی تھی ۔۔
زز زحلے تھوک نگلتے اپنا تعارف کروایا۔۔۔۔
کیونکہ ان آنکھوں کی سختی اسے مزید سہما رہی تھی۔۔۔
انہوں نے سامنے موجود گل بانو کی طرف اشارہ کیا یہ۔تمہاری ماں اور بابا آج سے تم ان لوگوں کے ساتھ رہو گی مگر اس حویلی کے آس پاس بھی نظر نہ آنا۔۔۔۔۔۔۔
زحلے نے سامنے موجود اپنے ماں باپ کو دیکھا گل بانو نے بھاگ کے اسے اپنے پروں میں سمیٹا تھا جبکہ شیر خان کا چہرہ کسی بھی تاثر سے عاری تھا۔۔۔۔۔
آج سے یہ تمہاری زمداری ہے مگر دھیان رہے وقت آنے پہ اسے لوٹ کے یہی آنا ہے گل بانو کی طرف دیکھتے اسے جتاتے لہجے میں کہا اسکی ممتا کیلئے اتنا ہی کافی تھا کہ اسکی گود ہری ہوگئی تھی۔۔۔۔
داور خان ان لوگوں پہ نظر ڈالتے وہاں سے چلے گئے تھے اور گل بانو زحلے کو اپنے ساتھ سرونٹ کواٹر لے گئی۔۔
بڑھتی عمر کے ساتھ اسکے زہن پہ نقش بہت ساری یاد بھول۔چکی تھیں اگر کچھ یاد تھا تو کسی نے اسکا ہاتھ اک عورت سے چھڑایا تھا اور پھر کسی نے اسکا ہاتھ گل بانو کے ہاتھ دیا تھا اس بیچ کے درمیان کیا تھا وہ بھول۔چکی تھی۔۔۔۔۔۔
گل بانو حویلی کام۔کرنے جاتی تو اسے گھر میں بند کرکے ہی جاتی پھر جب وہ۔کچھ سمجھدار ہوئی اسے اپنے ساتھ لے جاتی مگر اندر کبھی نہیں لے گئی وہیں صحن میں حویلی کے بچوں ساتھ چھوڑ دیتی آہستہ آہستہ وہ ان بچوں سے مانوس ہوگئی جو کہ دائم اور پریشہ تھے۔۔۔۔
اک۔دن حویلی سے اک جنازہ اٹھتے اس نے دیکھا سفید کفن میں ملبوس کون تھا وہ اور کہاں لے جارہے تھے اسے کچھ نہیں پتا تھا مگر دودن بعد دائم۔اور پریشہ جب باہر کھیلنے نہیں آئے بالاآخر اس نے خود ہی گل بانو سے پوچھ لیا
"ماں وہ۔کون تھا جسکو حویلی والے چارپائی پہ لے گئے اور واپس نہیں لائے"
بیٹی وہ داور خان تھا اس علاقے کا حاکم مگر اپنے گھر کی جلائی آگ میں خود ہی جل کے مرگیا گل بانو کے آنسو اسکے چہرے پہ گر رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تبھی شیر خان آیا کس کا سوگ منا رہی تم اپنے پرانے شوہر کے مرنے کا یاپھر بیٹی کے بیوہ ہونے کا
" گل بانو نے صدمے بھری نگاہوں سے اسے دیکھا "
"پرانا شوہر کیا ہوتا ماں"
بارہ سالہ زحلے کی بات پہ وہ خاموشی سے اسے تکتی رہی اسکے پاس کوئی جواب نہیں تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *