Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Qirtaas (Episode 11)

Qirtaas by Uzma Mujahid

محبتيں قرض نہيں ہوتيں

جو بدلا سمجھ کے اتارے جاؤ،

محبتيں فرض نہيں ہوتيں

جو سجده سمجھ کے کيے جاؤ،

محبتيں احساس ہوتى هيں

اپنائيت کا، روحانى بندهن کا،

چاهت نام نہيں باتوں کا

عشق نام نہيں جسموں کے چهونے کا،

محبت، چاهت، عشق، وفا

اگر سچا ہو تو انسان پا ليتا ہے خدا

اگر رتى برابر بهى من ہو ميلا،

نا محبت، نا محبوب، نا ہى ملتا ہے خدا

حویلی کی دہلیز پار کرتی زحلے کا دل اسکے قدموں میں دھڑک رہا تھا .

اسے لگ رہا تھا ہر شخص جیسے اسے ہی تکے جارہا ہو مگر سب روٹین پہ چل رہا تھا وہ سرجھٹکتے آگے کو بڑھی سامنے کا منظر روشن تھا جہاں کھانے کی ٹیبل پہ سب موجود تھے حاطب اور دائم کے درمیان موجود پریشہ مسکرا مسکرا کے کھانا پیش کرتی زرتاج گل اور مورے جان چہرے پہ پرشفقت مسکراہٹ لیے ان سب کو دیکھتی جیسے ان کی بالائیں لے رہی تھیں۔

داوڑ حویلی اور خان حویلی کے مکینوں کے میں شاید اسکی ذات کہیں نہیں تھی ۔

سب سے پہلے پریشہ کی نگاہ ہی اس پہ پڑی تھی جیسے نگاہ ساکت ہوئی ہو دائم اور حاطب کی نگاہوں نے بھی اسکی نظروں کے تعاقب میں دیکھا مگر دوسرے لمحے مکمل اگنور کرتے اپنے کام میں مگن ہوئے ۔

بنا کچھ کہے وہ کمرے کی جانب بڑھ گئی تھوڑی دیر بعد پریشہ اسکے سامنے تھے۔

زحلے ” کیا کہا تمہارے لالہ نے پریشہ کی آواز پہ اس نے سر کو اٹھائے اسے دیکھا اس دن کے بعد سے گھر میں کسی نے بھی پریشہ کی آواز نہیں سنی تھی۔

اپنی جانب تکتی زحلے کو دیکھ وہ ہلکا سا مسکرائی اسکے گھٹنوں پہ ہاتھ رکھتے نیچے فرش پہ بیٹھ گئی

زحلے خالی نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی جیسے وہ پریشہ کی حرکت سمجھ نہیں پا رہی ہو۔

“جانتی ہو زحلے اس معاشرے کا سب کمزور طبقہ عورت کیوں کہلاتی ہے کیونکہ اس میں اپنے اوپر ہوئے ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کی ہمت نہیں ہوتی مگر کیوں کون اسے آواز بلند کرنے سے روکتا ہے ؟

کوئی بھی نہیں اسکا خوف اسکا ڈر اپنے اندر کی جنگیں لڑتی عورت اگر دنیا کے مقابل آجائے تو اس سے بڑھ کے کوئی مضبوط کوئی نہیں رشتوں سے چوٹ کھائی عورت شوہر کی نارسائی کا دکھ سہتی عورت خود کو جتنا مستحکم کرسکتی ہے جتنا کنفیڈہنٹ ہوسکتی اتنی شوہر کی محبت اور لاڈ میں رہنے والی عورت بھی نہیں کیونکہ وہ خود کو اتنا مکمل تصور کرتی ہے بلکل صاف شفاف آئینہ مگر جب اس آئینے پہ دراڑ پڑتی ہے تو باوجود کوشش کے بھی آہستہ آہستہ وہ دراڑ بڑھتی اس شیشے کو توڑ دیتی مگر دھندلائے عکس میں رہنے والی عورت تب تک خود کو قصوروار ٹہراتی ہے جب تک اسے آئینے کے دھندلے عکس کی حقیقت نہ معلوم پڑ جائے”

“زحلے تم کب تک اس دھندلے آئینے کو دیکھو گی آخر اک نا اک دن تو تمہیں اس آئینے پہ پڑے گردوغبار کو صاف کرنا پڑے گا اپنا وجود اپنی ہستی کو واضع دیکھنے کیلئے”

پریشہ کی بات پہ وہ بت بنی بیٹھی تھی بھلا وہ کب سے اسکی ذات کی پرواہ کرنے لگی ۔

“تم۔جانتی ہو دوسری عورت کے عکس پہ دراڑ پڑ چکی ہے ؟

پریشہ کے مبہم انداز میں اس نے نفی میں سر ہلایا۔

“وہ دن دور نہیں جب حاطب لالہ اس عورت کے حصار سے نکل آئیں گے “

اب کے زحلے کو شاک لگا تھا ۔

پریشہ تت تم مم میرا مطلب وہ زرتاج “

زحلے کے ادھورے الفاظ کا مطلب وہ اچھے سے جانتی تھی۔

“اک ادھورا سچ زحلے جس سے مجھے ایک انجان شخص نے روشناس کروا دیا کوئی اتنا اچھا اتنا پرفیکٹ کیسے ہوسکتا زحلے جیسے کہ بھابھی ماں”

زحلے نے پریشہ کاانداز نوٹ کیا تھا جس نے بھابھی ماں کہتے کسی کڑوی گولی کے نگلنے کا انداز اپنایا تھا۔

“پریشہ تت تم مجھ سے ناراض نہیں ہو اپنے لالہ کی طرح ؟”

زحلے کی ذہنی رو دوسری ڈگر پہ چلی تھی

“نہیں زحلے میں کسی سے بھی ناراض نہیں ہوں میرے رب نے بہت سی حقیقتوں سے روشناس کروانے کو مجھے خریم خان کی دسترس میں بھیجا تھا “

اب کے زحلے بری طرح چونکی ۔

“خریم خان حاطب لالہ کی خواہش تو تب پوری کرے گا جب ہمارا نکاح ہوا ہوتا جب نکاح نہیں تو طلاق کیسی “

” یہ کک کیا کہہ رہی ہو تم پپ پریشہ کک کیا سچ میں مگر تمہارے لالہ وہ نکاح نامہ اور”

“سب جھوٹ تھا بلکہ ہے اور رہے گا تب تک جبتک ہم بھابھی ماں کا اصل چہرہ سامنے نہیں لاتے “

پریشہ کا مضبوط لہجہ زحلے کو لگ رہا تھا کے آج اسکی زندگی میں انہونی ہی لکھی گئی تھی۔

جاننا چاہتی ہو اس دن کیا ہوا تھا۔

پریشہ کے سوالیہ انداز میں اس سر ثبات میں ہلایا ۔

★★★★★★★

“خریم پریشہ کو موبائل میں موجود ریکارڈڈ ویڈیو دکھانے لگا تھا جس میں زرتاج گل کو رسیوں میں جکڑا گیا تھا “

پریشہ نے سہمی سی نگاہ اس جلاد شخص پہ ڈالی پھر روتے ہوئے قلم اور اسکے ہاتھ میں موجود کاغذات پہ جو یقیناً نکاح نامہ تھا آنکھیں بند کیے خود اک انجان شخص کے نام لکھتے روانی سے آنسو رواں دواں تھے۔

خریم نے مسکراتی نگاہوں سے اسے دیکھا “جانتی ہو پریشہ جب میں نے پہلی بار آپکو دیکھا تھا تبھی آپکی معصوم نگاہوں کا گھائل ہوا تھا اور خدا کی قدرت اس نے آج آپ کو میرے نام لکھ دیا “

خوشی اسکے لہجے سے ہی عیاں تھی ۔

وہ آنکھیں کھولتی اسے غصے سے دیکھنے لگی تھی۔

خریم نے اسکے ہاتھ سے کاغذ لیتے کئی حصوں میں تقسیم کیا اور اسکے ہاتھ میں پکڑاتے بولا۔

“تم۔جانتی ہو خان حویلی والوں کا مسئلہ کیا ہے اک ایسی عورت کے لیے خود کو وارے جارہے ہو جو ہر طرح سے تم لوگوں کو زک پہنچانے کی کوشش کرتی ہے “

طنز سے بھرپور لہجہ پریشہ کو سلگانے لگا تھا۔

“ترس آتا ہے مجھے تم لوگوں پہ جو ذہنی غلامی کا عادی ہوگئے ہو اور وہ حاطب خان کیا ہی اچھا ہو چوڑیاں پہنے گھر بیٹھ جائے اپنے سر سے خان حویلی کی دستار اتار دے “

اپنی بات مکمل کرتے وہ عین اسکے سامنے بیٹھا اک کہانی سنو گی ؟

اپبی سائیڈ پاکٹ سے چیونگم نکالتے منہ میں ڈالی اور اسکی جانب جھکتے رازدرانہ انداز میں بولا پریشہ کو وہ شخص بہت عجیب لگ رہا تھا۔

وہ جانتا تھا کہ پریشہ اسے سننا نہیں چاہتی مگر اس کے پاس سوائے خریم کی بات سننے کے کوئی اور چارہ نہ تھا

جانتی ہو بہت پہلے سوچ آئی تھی کہ تمہارے زریعے حاطب تک اپنا مدعا پہنچاؤں کچھ ایسا جو حویلی والوں کی زندگیاں بدل کے رکھ دے ۔

پریشہ کو سسپنس کری ایٹ کرتا شخص بہت زہر لگا تھا۔

اور پھر خریم نے زرگل اور گل بانو کے ساتھ ہونے والے تمام واقعات اسکے کہہ سنائے کیونکہ وہ بھی سالوں سے اس بوجھ کو اٹھائے تھک چکا تھا ۔

وہ جو مرتے ہوئے اس شخص یعنی کہ گل بانو سے کیے عہد کا امین تھا اسنے پریشہ کو ہمراز بنا لیا تھا ۔

گلریز سے زرتاج گل کی سازش کا اک اک پرت اسکے سامنے کھول کے رکھ دیا تھا۔

“تت تم جھوٹ بول رہے ہو بھب بھلا بھابھی ماں “

اس انجان کی شخص کی باتیں اسے گہری سازش رچتی نظر آئی تھیں مگر حقیقت وہی تھی جو اسے ماننی تھی۔

کتنی دیر وہ وہ روئی تھی خریم جانتا تھا وہ کانچ سی لڑکی اتنی تلخ حقیقت سہل نہیں کرپارہی مگر وہی اسے حاطب تک رسائی دے سکتی تھی کیونکہ زرتاج گل کبھی بھی اس پہ شک نہیں کرسکتی تھی خریم کا مقصد پورا ہوچکا تھا وہ تابوت میں پہلی کیل ٹھونک چکا تھا ۔

اسکا مقصد پورا ہوچکا تھا اسیلئے پریشہ گل کو روک کے وہ اس معصوم لڑکی کو کسی بدنامی کا شکار نہیں کرسکتا تھا ۔

پریشہ گل کے گھر پینچتے ہی زرتاج کو شاک لگا اسے کیوں لگ رہا تھا کہ بظاہر خریم جو گل۔زمان کے دوست (گلریز) کے جال میں پھنس چکا ہے وہ پلان سے بار بار ہٹ کے انہیں چونکا رہا تھا۔

“زحلے کی آمد خریم کیلئے خوشآئن اب اسکا مقصد صرف زحلے ہی نہیں کچھ اور بھی تھا مگر زحلے کا جزباتی انداز چیخ چیخ کے بتا رہا تھا کہ وہ حاطب خان سے محبت کرتی ہے اسیلئے خریم کو اسے بے آس لوٹانا پڑا مگر اسے یقین تھا جو ذمداری اس نے پریشہ کے سر دی ہے وہ اسے بخوبی نبھائے گی۔

★★★★★★★

حاطب کمرے میں داخل ہوا جہاں مکمل اندھیرا چھایا ہوا تھا لائٹ آئن کرتے ہی نگاہ سامنے لیٹی زحلے پہ پڑی جسکے لال گلال رخساروں پہ زردیاں کھنڈی ہوئی تھیں۔

سست روی سے چلتا وہ اسکے قریب جا ٹہرا سانسوں کا زیروبم کا پیدا ہوتا ارتعاش اسکے گہری نیند میں ہونے کا پتا دے رہا تھا حرمت لالہ کی زبانی اس کے خالی ہاتھ آنے پتا چل چکا تھا ۔

اس معاملے کو اتنی آسانی سے پس پشت نہیں ڈالا جاسکتا تھا مگر وہ کب تک دوسروں کے کیے کی سزا اسے دے سکتا تھا۔۔

اسکے قریب لیٹتے اپنا ہاتھ سے اسکے چہرے کو چھوا جہاں پہ ماتھے سے بال ہٹے ہونے کی وجہ سے اسکا دیاگیا زخم تازہ نظر آرہا تھا آگے بڑھتے اسکی پیشانی پہ بوسہ دیے کچھ ازالہ کرنا چاہا تبھی بند پلکوں کی لرزش سے اسے اندازہ وہ جاگ رہی ہے۔

زحلے ” مدھم سرگوشی آنکھوں کے سامنے پھر سے اسکا ظالم انداز آیا تھا وہ اسکی جانب سے کروٹ بدلنے کو تھی حاطب نے ہاتھ بڑھاتے اسے خود سے قریب کیا اسکے کلون اور سگریٹ کی ملی جلی خوشبو محسوس کرتے اس نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں۔

“جانتی ہو نا تمہارا گریز حاطب خان کو گوارہ نہیں “

شاید اسکی طلب ہوئی تھی تبھی اسکو خود سے قریب کیا تھا۔

“حاطب خان کو زحلے کا ساتھ بھی گوارہ نہیں اسلیئے وہ اسے قربان کرنے کو تیار ہے “

شکوہ لبوں پہ در آیا تھا۔

“کیا کہا خریم خان نے”

انگلیوں کی پور سے اسکے زخم سہلانے لگا۔

” اسکی غیرت گوارہ نہیں کرتی کہ اپنی بیوی کو کسی اور مرد کیلئے چھوڑے چاہے سوالی اسکی بہن ہی کیوں نہ ہو”

زحلے کا لہجہ حددرجہ روکھا تھا وہ بھی چونکا ۔

“کیوں یہ سب تمہارے لیے ہی تو کیا ہے اس نے ؟”

حاطب نے اسکی آنکھوں میں جھانکتے پوچھا تو وہ گڑبڑا گئی بیشک پریشہ کی باتوں سے اک نئی زحلے بیدار ہوگئی تھی جسے اپنے حق کیلئے لڑنا تھا اپنا مقام خود لینا تھا مگر حاطب خان کو فیس کرنے کی ہمت وہ ابھی بھی نہیں پارہی تھی۔

“محب محبت ہوگئی ہے اسے پریشے سے ” تھوک نگلتے بمشکل جھوٹ بولا ۔

“ٹھیک ہے تو اسے کہتے ہیں آکے رخصتی کروا لے مجھے کوئی اعتراض نہیں ۔”

حاطب کی بات پہ اسے جھٹکا لگا تھا۔

کک کیا کہہ رہے آپ مم میرا مطلب کیا سچ میں ؟”

آنکھوں میں بے یقینی لیے وہ اٹھ بیٹھی تھی حاطب نے بات نہیں کی تھی بلکہ کئی سووالٹ کا جھٹکا دیا تھا۔

“کیا میرا تم سے ایسا کوئی مذاق ہے ؟”

ابرو اچکائے بولا تھا.

“نن نہیں میرا مطلب ہے کل تک آپ اسکی جان کے دشمن تھے ایک دن میں یہ معجزہ کیسے؟”

زحلے نے اسے مشکوک نگاہوں سے دیکھا۔

“تم نے خود ہی کہا ہے کے پریشہ اسکی غیرت ہے تو ؟”

زحلے کی جان ہوا ہونے لگی معاملہ اب گھمبیر ہورہا تھا ۔

“مگر پریشہ آپ نے اسکی مرضی پوچھی ؟”

وہ جاننا چاہ رہی تھی آیا یہ اسکا خودساختہ خیال ہے یا پریشہ اسے کچھ بتا چکی ہے۔

“پریشہ کو ہمارے کسی فیصلے پہ کوئی اعتراض نہیں ہوگا “

اسکی شرٹ کا کونہ سرکاتے لب اسکی گردن پہ رکھے زحلے کو اسکا بدلہ بدلہ انداز چبھنے لگا پھر سے نئے زخم کی تیاری کررہا تھا وہ ۔

“مم میں وہاں نہیں جاؤنگی ” اپنے گرد اسکے بازو کا حصار توڑتے بولی ۔

“کیوں زحلے کیا تم نہیں چاہتی کے اپنوں سے ملو ؟”

حاطب نے بنا اسکے گریز کو نوٹس میں لائے اپنی کاروائی جاری رکھی ۔

“میرا کوئی اپنا نہیں ہے میں ایک ایسے گرداب میں پھنسی لڑکی ہوں جس چیز کو چھونے کی خواہش کروں وہ کوسوں دور ہوجاتی”

وہ بہت شدت پسند ہورہی تھی

“کیا میں بھی زحلے “

وہ جو اسے بار بار جھٹک رہی تھی

اب کے اسکی بڑھتی جسارتوں پہ بے بس ہوگئی۔

“آپ تو پہلے ہی کسی اور کی ملکیت ہو حاطب خان “

کچھ غلط فیصلے ہیں کچھ خمیازے ہیں جو بھگت رہا ہوں کچھ ازالے ہیں زحلے کبھی وقت ملا تو ضرور بتاؤنگا “

اسکی بغیر سر پیر کی بات پہ وہ تلملائی ۔

“کبھی زرتاج گل۔کے حصار سے نکلیں گے تو “

شش حاطب نے شہادت کی انگلی اٹھائے اسے خاموش کروادیا ۔

“کیا ہے یہ شخص کیوں اس عورت کے خلاف اک لفظ نہیں سننا چاہتا جو پورا خاندان تباہ کرچکی ہے ؟”

زحلے اپنا غصہ قابو کرنے کی کوشش میں ہونٹوں کے کونے چبانے لگی ۔

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *