Qirtaas by Uzma Mujahid NovelR50593 Qirtaas (Episode 06)
Rate this Novel
Qirtaas (Episode 06)
Qirtaas by Uzma Mujahid
دروازہ کھولتے کوئی اندر داخل ہوا تھا حاطب نے مسکراتے اسکی جانب رخ کیا مگر دوسرے ہی لمحے ہونٹوں پہ موجود مسکراہٹ سمٹی تھی آپنے سامنے زرتاج گل کو دیکھتے وہ۔کھڑا ہوا تھا زرتاج آگے بڑھتے اسکے گھٹنوں پہ ہاتھ رکھے بیٹھ گئی ۔
” کیا خان آپ مجھے ہمیشہ ایسے ہی خالی ہاتھ رکھیں گے دی جان کی خواہش آپ سے چھپی تو نہیں آپ زحلے کو اگر تمام حق دے سکتے تو مجھے کیوں نہیں “
“میں کچھ بھی نہیں مانگتی آپ سے سوائے رفاقت کے چند لمحوں کے جو ہوسکتا ہے اس حویلی کی خوشیاں لوٹا دیں اگر قاتلوں کے خاندان کی لڑکی آپکو وارث دے گی تو کیا آپ تسلیم کرلیں گے اسے نہیں حاطب خان ایسے نا کرو میں جب اسے دیکھتی ہوں مجھے ارباب خان کے لہو میں لپٹی نظر آتی ہے وہ اور۔”
“یہی تو مسئلہ ہے زرتاج گل آپ کو اس لڑکی پہ ارباب لالہ کا خون نظر آتا ہے۔
اور آپکو دیکھ کے ہمیں ارباب لالہ جنکو ہم نے آپکے ہمراہ آپکی رفاقت میں ہنستا بستا اس گھر میں دیکھا ہے نہیں ہم اپنے بھائی کی بیوی سے ہمیں معاف کردیجئے گا زرتاج گل ہم نے صرف بابا جان کی پگڑی کی لاج رکھی”
صاف ٹالنے والا انداز زرتاج کبھی اسکی گہری باتوں اور انداز بیاں خاموشی کو سمجھ نہیں پائی تھی۔
“نن نہیں حاطب خان ہم آپکی بیوی ہیں آپکے نکاح میں ہیں”
زرتاج گل اتنے صاف جواب پہ گڑبڑائی تھی اسکے اور حاطب خان کے درمیان جس رشتے کا پردہ حائل تھا وہ تو ہے نہیں پھر۔
“لیکن آپ نے بھی کبھی ہمیں شوہر کے روپ میں تسلیم نہیں کیا زرتاج گل آپ آج بھی لالہ کہ یادوں میں ہیں۔”
” ورنہ زحلے تو مورے جان اور میری مجرم ہے آپ کیوں اک نامحرم رشتے کیلئے اس سے الجھتی آئی ہیں ۔”
“اسکا تو یہی مطلب بنتا ہے نا کہ آپ آج بھی لالہ کو نہیں بھولیں”
حاطب خان کا جواب سن وہ ہکی بکی رہ گئی وہ تو چکنی مٹی کی طرح ہاتھ سے پھسلتا جارہا تھا ۔
تبھی دی جان ہانپتی کانپتی اسکے کمرے میں داخل ہوئیں حاطب زحلے حویلی میں نہیں پوری حویلی میں اسے ڈھونڈ لیا ہے مگر اسکا کوئی نام ونشان نہیں نہ ہی کسی نے اسے حویلی سے باہر جاتے دیکھا ہے۔
“ایسے کہاں جاسکتی دی جان وہ اب حاطب خان کی بیوی ہے مگر میں بھی گئی تھی اسکے کمرے میں مجھے بھی نہیں ملی میں بھی معزرت کرنا چاہ رہی تھی انجانے میں اسکا دل دکھایا۔”
زرتاج گل نے بھی پینترا بدلہ تھا حاطب کا ہاتھ سائیڈ ڈرار کی طرف بڑھا جہاں سے اس نے اپنا لوڈڈ پسٹل اٹھایا اور باہر کی طرف بھاگا وہ لڑکی اسکی غیرت کو چیلنج کرتی پھررہی تھی ۔
مگر ہر طرف ڈھونڈ لینے کے بعد بھی اسکا کہیں اتا پتا نہیں تھاحاطب کا غصے سے برا حال تھا اسکا رہ رہ کے خیال داوڑ قبیلے کی طرف جارہا تھا مگر جانتا تھا کہ وہ۔لوگ اتنی جرأت نہں کرنے والے ۔
“حاطب میرے خیال سے اک بار اسکے کمرے میں دیکھ لو میرا مطلب کو لیٹر کوئی نشانی کچھ تو مل ہی جائے گا جس سے کچھ پتا چل سکے “
رات کے تین بج رہے تھے اور سبکی رات آنکھوں میں کٹ رہی تھی تبھی زرتاج گل کی بات پہ اس نے سر اثبات میں ہلا دیا ریشمہ اسکے روم کی چابیاں لے آئی تھی مگر سامنے کا منظر حاطب کا ہاتھ بے ساختہ اپنے پسٹل پہ مضبوط ہوا تھا۔
★★★★★★★
زحلے کو لگا تھا کہ لاک کلک ہوا ہے مگر اپنا وہم سمجھ سرجھٹک دیا مگر جب اسے نے ڈور کھولا وہ واقعی لاک تھا اس نے کافی دیر دروازہ مگر کوئی رسپونس نہ تھا۔
اسکا دل دھڑکنے لگا اور کتنی دیر وہ دروازہ کھٹکھٹاکتی رہی مگر کوئی رسپونس نہ دیکھ اسکی پریشانی میں اضافہ ہوا۔
“زحلے تمہیں کس نے کہا تھا اتنے بڑے بول بولنے کو اب بھگتو وہ زرتاج گل اپنا کام دکھا گئی۔”
ہ”ہائے اللّٰہ اگر حاطب خان کو اس نے سب بتا دیا پھر اور ۔”
وہ رونے کا پیریڈ شروع کرچکی تھی مگر وقت گزرتا گیا کوئی بھی نہیں آیا تھا اور کتنے گھنٹے اس نے واشروم میں بند گزار دیے تبھی واشروم کا دروازہ کھلا تھا اور سامنے موجود شخص کو دیکھ اسکا سانس اٹکا ۔
وہ گلریز تھا مگر اسکے کمرے میں کیوں ۔
“ہائے بیوٹیفل بڑی مشکل میں نظر آرہی ہو “
زحلے اسکی آنکھوں سے ٹپکتی خباثت دیکھ جلدی سے کھڑی ہوتی سائیڈ سے نکلی تبھی گلریز نے آگے بڑھتے اسکا بازو تھاما اور اپنے قریب کیا “
چند لمحوں کا کھیل تھا وہ تیحرزدہ اسے دیکھ رہی تھی۔
کلک کی آواز دروازہ کھلا مورے جان ،زرتاج گل سمیت حاطب کھڑا تھا بند دروازے کی جانب تو زحلے کی توجہ ہی نہیں گئی تھی ۔
اسکو گلریز کے قریب دیکھ حاطب کی نگاہوں میں خون اترا اسکا ارادہ جان زرتاج گل آگے بڑھی تھی نہیں حاطب خان کیا کررہے ہو نیچ خاندان کے خون سے اپنا ہاتھ کیوں گندے کرتے اور آگے بڑھتے اس نے گلریز کی گرفت سے زحلے کا ہاتھ پکڑ کے نکالا تھا”
اور اک زور دارد تماشے اسے لگا تھا جسکو سہل نہ کرتے وہ زمین پہ گری تھی تبھی گلریز کی جانب بڑھی
” تمہیں شرم۔نہیں آئی کم از کم اتنا لحاظ کرلیتے یہ تمہاری بہن کا گھر ہے اسے گربیان سے پکڑتے باہر کی جانب دھکیلا تھا مقصد حاطب کی نگاہوں سے بچانا تھا مگر دوسرے ہی لمحے وہ زمین پہ ڈھیر ہوا حاطب کے پسٹل سے نکلنے والی گولی اپنا کام دیکھا گئی۔
بازو پکڑے وہ زمین پہ ڈھیر ہوا زرتاج گل نے بے یقینی سے حاطب کو دیکھا۔
حاطب کسی شیر کی مانند اس پہ جھپٹا تھا تمہاری جرأت کیسے ہوئی کہ تم حاطب خان کے گھر ٹہر کے اسکی عزت پہ۔ہاتھ ڈالو تمہاری گندی نگاہ کو تو میں نے چھت پہ۔ہی پڑھ لیا تھا حاطب اسے زمین پہ گرائے اندھا دھند مارے جارہا تھا وہ ادھ موا زمین پہ پڑا تھا زرتاج پوری کوشش کررہی تھی اسکی جان خلاصی کی مگر حاطب پہ طاری جنون آج اسے بھی پسپا کر گیا۔
“پاگل ہو گئے حاطب مت بھولو کے یہ۔ہمارے بھائی ہیں اور جب وہ کہہ رہے ہیں کے اس لڑکی۔نے خود انہیں بلایا تھا تو پھر ۔”
حاطب نے اک نگاہ زرتاج پہ ڈالی اور دوسرے لمحے زحلے کو ہاں سے کھینچتا ہوا لے گیا وہ بھی کسی بے جان شے کی طرح اسکے ساتھ گھسیٹی جارہی تھی۔
کمرے میں آتے ہی اسے بیڈ پہ پٹخا اور پسٹل اسکی کنپٹی پہ رکھتا اسکے قریب بیٹھا دوسرے ہاتھ سے اسکا بازو پکڑے سیدھا کیا۔
موبائل کان سے لگائے چوکیدار کو کال کی خبردار اگر جو تم نے گلریز کو یہاں سے نکلنے دیا اپنا آخری دن سمجھنا اس دنیا میں چاہے میری ماں ہی کیوں نا ہو دروازہ نہیں کھلے گا ۔
موبائل بند کرتے ہی زحلے کو اپنے سامنے کیا وہ درد کی شدت سے بلبلا اٹھی تھی۔
“جو کچھ وہاں ہورہا تھا اک اک لفظ سچ بولو گی تم ورنہ ساری کی ساری گولیاں تمہارے دماغ میں گھسا دونگا میں
زحلے کو اپنا گلہ خشک ہوتا دکھائی دیا ٹریلر تو وہ دیکھ چکی تھی
” پپ پانی”
آنسو کو اندر اتارتے با مشکل بولی
“تمہارے چونچلے اٹھانے کا وقت نہیں ہے میرے پاس جو بولا ہے وہ کرو “
اک بار پھر سے کنپٹی۔پہ۔پریشر بڑھا تھا ۔
ووہہ زرتاج گل ۔
اب کے بار اس پہ کوئی الزام نہ لگانا بولو ۔
پھر سے شیر کی دھاڑ وہ چپ ہوگئی جب وہ اسے سننا ہی نہیں چاہ رہا پھر ۔
“زحلے گلریز کیا کر رہا تھا تمہارے روم میں اور کب سے چل۔رہا ہے یہ سب”
زحلے کو لگا کسی سلگتے شعلے نے اسے چھوا ہو حاطب نے پسٹل کی پشت اسکے سر میں دے ماری۔
” کچھ پوچھا ہے بولو زحلے تمہاری خاموشی مجھے پاگل کردے گی “
مگر زحلے ڈھیٹ بنی بیٹھی رہی۔
مورے جان کمرے میں داخل ہوئیں جہاں اسکے ماتھے سے نکلتا خون اور پہلے ہی اسکی حالت بری تھی ۔
“کیا کررہے ہو حاطب خان اک عورت پہ ہاتھ اٹھا کے کونسی غیرت کو تسکین پہنچا رہے ہم نے تمہاری ایسی تربیت تو نہیں کی جا کے گلریز خان سے پوچھو وہ کیسے اور کیوں یہاں آیا اگر زحلے نے اسے بلایا تو کیسے وہ اتنا معصوم ہے کہ شیر کے منہ میں ہاتھ دینے آگیا”
مورے جان کی بات سن کھا جانے والی نظروں سے زحلے کو دیکھا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔
سامنے ہی گلریز خان مردان خانے میں موجود تھا جہاں پہلے ہی لالہ حرمت اور دو گارڈ اسے پکڑے بیٹھے تھے
جاؤ تم لوگ مجھے اس سے بات کرنی ہے سب کو وہاں سے
ہٹاتا اسکے مقابل آیا وہ اس کا بچپن کا دوست تھا مگر اب
“میں سچ کہہ رہا ہوں حاطب مجھے زحلے نے خود بلایا تھا اور ۔”
اس کے منہ پہ پڑنے والے گھسن نے بات مکمل نہیں ہونے دی تم جانتے ہو کہ تم جھوٹ بول رہے ہو اسکے ساتھ ہی اک فائر ہوا تھا مگر سامنے پڑے گلاس کی شامت آئی تھی گلریز نے بے یقینی سے اسے دیکھا تھا یقیناً اس جیسے ماہر شکار باز نے صرف اسے ڈرانے کو ہی یہ قدم اٹھایا تھا گلریز پہلے ہی درد کی شدت برداشت نہ کرتے زمین پہ گرا پڑ وہ دروازہ کھولے باہر کو نکلا جہاں حواس باختہ زرتاج گل اس پہ جھپٹی۔
” تت تم ایسے کیسے کر سکتے حاطب خان تم نے مم میرے بھائی کو مار دیا”
زخمی شیرنی بنی اس پہ دھاڑ رہی تھی حاطب نے اک ناگوار نظر اس پہ ڈالی اور اپنا کالر اس سے چھڑایا ۔
“صرف وارن کیا ہے آئیندہ اس حویلی کے آس پاس بھی نظر نہ آئے وہ مجھے”
اسکو پیچھے کو جھٹکتا آگے بڑھا تھا۔
★★★★★★★
“ارباب کتنی بار کہا ہے اپنی بیوی کو اکیلا نوکروں کے سہارے چھوڑ کے نہ آیا کرو۔”
“کیا ہو گیا دارا جان بچے ہوتے ہیں اکیلے کیسے رہیں گے اور سب کے سب وفادار ہیں”
ارباب خان اپنے باپ کے اندیشوں سے انجان لاپرواہ جواب دیتے مورے جان سے ملنے لگا آپ ہی سمجھا لیں کچھ اپنے شوہر صاحب کو ۔
“بیٹا اک کاری وار سہہ چکے ہیں ڈر لگتا ہے اب تو اور اگر کوئی دشمن گھس گیا تو اکیلی عورت کیسے مقابلہ کرے گی”
مورے جان بھی مکمل شوہر کی حامی تھیں ۔
“بچے کہاں ہیں سب حاطب اب تو اچھا خاصا میچور ہے بیس سال کا لڑکا ہر چیز اچھے سے سمجھتا ہے دارا جان پھر سے انہیں مطمئن کرنا چاہا”
اپنے دماغ میں چلتے طوفان کو دبائے وہ ان سے رخصت لیتا زمینوں کی جانب بڑھا جہاں اسکی موت انتظار میں بیٹھی تھی سامنے سے آتے زرگل کو دیکھ اپنی اداسی چھپائے اس کی جانب بڑھا مگر زرگل کے سرد تاثرات اسے چونکا گئے ان کے علاقے میں اسلحہ سرعام لیے گھومنا اتنی بڑی بات نہ تھی ارباب خان اداس تھا تو زرگل شرمندہ جیسے ہی اس نے بغل گیر ہونے کو ہاتھ وا کیے سامنے سے آتی گولی اسکے سینے کو چھلنی کرتی نکل گئی ۔
زرگل کے ہاتھ سے ہتھیار چھوٹ کے زمین پہ گرا تبھی شمیشیر نے موقع غنیمت جانے اس پہ فائر کھولا جسے نیچے کو جھکتے اس نے اپنا بچاؤ کیا تھا زرگل نے بھی زمین سے ویپن اٹھائے جلدی میں اس پہ گولی مگر نشانہ خطا گیا اور شمشیر کے ہاتھ پہ گولی لگی وہ بھی زمین پہ گرا زرگل موقع جانتے اپنی جان بچا کے وہاں سے بھاگ گیا۔
حویلی میں زخمی شمشیر اور ارباب لالہ کی نعش جب پہنچی اک کہرام برپا ہوا تھا اتنی جوان موت پہ ہر اک آنکھ اشک بار تھی داور خان بھائی کے بعد بیٹے کو سامنے دیکھ اک دم ڈھے گئے ۔
وہ صدیوں کے بیمار اور بوڑھے نظر آنے لگے تھے حاطب بھابھی ماں اور بچوں سمیت حویلی پہنچ گیا سامنے ارباب لالہ کی نعش اسے شکوہ کناں نظروں سے دیکھتی نظر آرہی تھی۔
یوں اک سبق مہر و وفا چھوڑ گئے ہم
ہر راہ میں نقش کف پا چھوڑ گئے ہم
دنیا ترے قرطاس پہ کیا چھوڑ گئے ہم
اک حسن بیاں حسن ادا چھوڑ گئے ہم
ماحول کی ظلمات میں جس راہ سے گزرے
قندیل محبت کی ضیا چھوڑ گئے ہم
بیگانہ رہے درد محبت کی دوا سے
یہ درد ہی کچھ اور سوا چھوڑ گئے ہم
تھی سامنے آلائش دنیا کی بھی اک راہ
وہ خوبی قسمت سے ذرا چھوڑ گئے ہم
اک حسن دکن تھا کہ نگاہوں سے نہ چھوٹا
ہر حسن کو ورنہ بخدا چھوڑ گئے ہم
وہ اپنے لالہ کا مجرم تھا مگر کیسے اسے مجرم بنایا گیا تھا اور زرگل وہ تو دوست تھا پھر لالہ کی پیٹھ پہ وار تبھی اپنے کندھے پہ دھرے ہاتھوں کی جانب متوجہ ہوا
” حاطب تمہارے لالہ کو زرگل نے مارا ہے اس کا بدلہ تم۔لے سکتے صرف”
انکا وفادار شمشیر اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھے بولا اس نے خالی خولی نگاہ شمشیر پہ ڈالی وہ بھی جانتا تھا اسکے لالہ کو زرگل نے مارا ہے مگر زرگل ہی کیوں اسکو احکام دینے والے بھی تو اسکے بھائی کے قاتل تھے وہ خاموش اپنے دل میں طوفان دبائے چپ ہوگیا وہ دارا جان کو کچھ بتا کے مزید انہیں صدمہ نہیں دینا چاہتا تھا۔
زرگل کی تلاش میں اس نے دن رات اک کردیے مگر کسی طرح بھی وہ اسے تلاش نہ کرپائے داور خان اپنے بیٹے کو دیکھ گھبرا جاتے وہ اس دشمنی کو مزید طول نہیں دینا چاہتے تھے کیونکہ جب اک بار کی آگ لگی تو پھر سے شعلے اٹھتے ان کی نسلیں تباہ کردیتے۔
زرتاج گل کے بھائی بھی اپنے بہنوئی کے قاتل کیلئے سر توڑ کوشش کرتے رہے مگر زرگل کا کوئی پتا نہیں چلا بات جرگے تک گئی تو انہوں نے زرگل کے باپ دریام خان اور گل زمان خان کو اسے پیش ہونے کا کہا مگر وہ خود بھی انجان تھے اس سے تب ریت کے مطابق گل زمان کی بیٹی کو آفریدی خاندان کو ونی کردیا ۔
گل زمان اور زرگل کے علاوہ انکا کوئی بھائی نہ تھا اور نہ ہی بہن دریام خان کی بیوی مرحبا خاتون اور دی جان اک ہی باپ کی مگر سوتیلی بہنیں تھیں اپنے خاندان کی “ونی” کا سن انکا دل بھی رویا مگر وہ روایات کی پاسداری میں چپ رہ گئیں اور اسی رحم۔میں انہوں نے اسے گل بانو لے حوالے کردیا تاکہ اسے روایتی “ونی” کا خمیازہ نہ بھگتنا پڑے۔
جبکہ زرتاج گل آج تک اس غلط فہمی میں مبتلا تھی کہ یہ “ونی” دارا جان نے خود لی ہے حاطب کے کہنے پہ دی جان اور داور خان نے اسکی غلط فہمی دور کرنا بھی مناسب نہیں سمجھا گل بانو سمیت سب نوکروں کے سامنے وہ اسے دارا جان کے حوالے سے پکارتی ۔
داؤد خان کے دشمنوں سے پریشہ اور دائم کو بچانے کیلئے داور خان نے ارباب خان اور اسکی بیوی کو شہر کے سیف ہاؤس میں رکھا ہوا تھا بچے گاؤں کے ماحول سے ناآشنا تھے۔
اکثر اوقات ارباب خان کو گاؤں جانا پڑ جاتا تو زرتاج گل اور بچے اکیلے ہوتے اور اسی چیز کا فائدہ زرتاج نے بھرپور اٹھایا ۔
ارباب خان کا لیا دیا انداز اسے بہت برا لگتا تھا اسے چاہ تھی کے ارباب خان عام مردوں کی طرح اسکے آگے پیچھے پھریں اور اسکی تعریفوں کے پل باندھے نفس کی ماری عورت کب راستے سے بھٹکی کچھ پتا نہ چلا ۔
زرگل اکثر اوقات ارباب خان سے ملنے شہر بھی آجاتا جہاں زرتاج گل اسکی خوبصورتی اور اخلاق سے متاثر ہوئی وہیں زرگل بھی اسکا بڑھا ہوا ہاتھ جھٹک نہ سکا تھا ۔
اس کھیل میں زرتاج گل نے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کو اور بھی کھلاڑی ساتھ رکھے جو اسکی جسمانی تسکین کا زریعہ بننے لگے نوکروں پہ اندھا اعتماد حویلی والوں کیلئے جان لیوا ثابت ہورہا تھا مگر وہ ہر چیز سے بے پرواہ زندگی کے مزے لوٹنے میں مصروف تھی۔
اک رات حسب معمول جب ارباب خان گاؤں کو روانہ ہوا وہ کسی کام کو لیے حاطب خان کے کمرے کی طرف بڑھی مگر سامنے موجود حاطب کو دیکھ شیطان نے پھر سے اسے بہکایا ۔
“بھابھی ماں آپ”
وہ شرٹ لس ابھی واشروم سے نکلا تھا زرتاج گل کو سامنے دیکھ اک فطری جھجک آڑے آئی تھی تبھی زرتاج آنکھوں میں آنسو لیے اسکے سینے جا لگی ۔
حاطب تمہارے بھائی جان مجھ سے بے وفائی کرنے لگے ہیں گاؤں کے بہانے بول کے کئی کئی راتیں غیر عورتوں میں گزار دیتے ۔
مگرمچھ کے آنسو بہاتی عورت سے انجان حاطب کو اسکیلئے بہت برا لگا اسے ارباب لالہ سے یہ امید نہیں تھی ۔
وہ روتی ہ بھابھی ماں کو تسلی دینے والے انداز میں ہاتھ سے پکڑتا بیڈ پہ بٹھانے لگا تبھی دروازہ کھلا سامنے کا منظر دیکھ ارباب خان کا دل کیا زمین کا سینہ چاک ہو اور وہ اس میں سما جائے جہاں حاطب روتی ہوئی زرتاج کے کندھے پہ ہاتھ رکھے اسکی جانب جھکا کچھ کہہ رہا تھا وہیں زرتاج نفی میں سر ہلا رہی تھی وہ کھڑی ہوئی حاطب نے اسے اپنی جانب کھینچا جبھی وہ دونوں سامنے متوجہ ہوئے زرتاج ارباب کو سامنے دیکھ ہڑبڑا اٹھی۔
ارباب یہ حاطب مم مجھ سے زبردستی کی کوشش کررہا تھا اسکے الفاظ سن حاطب کو لگا چھت اس پہ آگری ہے۔
“بھابھی ماں آپ ۔”
ابھی کچھ دیر پہلے وہ اسے خودکشی کی دھمکیاں اور شوہر کی بے وفائی کے رونے رو رہی تھی ایسا کیا پھر ۔
“لالہ یہ سب جھو ۔۔”
۔۔چٹاخ تبھی ارباب کے تھپڑ نے۔اسکی بات مکمل نہیں ہونے دی اپنے بھائی کی آنکھوں میں نے یقینی دیکھ وہ تڑپ سا گیا
” لالہ میری بات سن لیں پلیز۔”
“بسس حاطب خان آج سے مرگیا تمہارا لالہ تمہیں زرا شرم۔نہیں آئی اپنے سے دوگنا بڑی ماں جیسی عورت کی عزت پہ۔ہاتھ ڈالتے اور “
ارباب لالہ میں”
اسکی سنے بغیر ہی اسے روئی کی طرح دھونک کے رکھ دیا۔
کچھ دیر بعد میں لالہ کی گاڑی سٹارٹ ہونے کی آواز سنی بھاگ کے پورچ کی جانب بڑھا مگر وہ جاچکے تھے غصے میں اسکی رگیں ابھرنے لگیں کچھ سوچ کے زرتاج گل کے کمرے کی طرف بڑھا مگر اندر سے آتی آوازوں نے اسے ساکن کردیا۔
