Qirtaas by Uzma Mujahid NovelR50593 Qirtaas (Episode 12)
Rate this Novel
Qirtaas (Episode 12)
Qirtaas by Uzma Mujahid
تشنگی آنکھوں میں اور دریا خیالوں میں رہے
ہم نوا گر، خوش رہے جیسے بھی حالوں میں رہے
دیکھنا اے رہ نوردِ شوق! کوئے یار تک
کچھ نہ کچھ رنگِ حنا پاؤں کے چھالوں میں رہے
ہم سے کیوں مانگے حسابِ جاں کوئی جب عمر بھر
کون ہیں، کیا ہیں، کہاں ہیں؟ ان سوالوں میں رہے
بدظنی ایسی کہ غیروں کی وفا بھی کھوٹ تھی
سوئے ظن ایسا کہ ہم اپنوں کی چالوں میں رہے
ایک دنیا کو میری دیوانگی خوش آ گئی
یار مکتب کی کتابوں کے حوالوں میں رہے
عشق میں دنیا گنوائی ہے نہ جاں دی ہے فراز
پھر بھی ہم اہلِ محبت کی مثالوں میں رہے
وہ کب سے ٹیرس پہ ٹہری غیر مرئی نقطے پہ نگاہ جمائے کھڑی تھی تبھی اسکے شانے پہ کسی نے ہاتھ رکھا تو چونکتے ہوئے سیدھی ہوئی سامنے پریشہ کھڑی تھی۔
“تم یہاں خیریت۔ “
“زحلے میں بہت پریشان ہوں لالہ کا فیصلہ۔ “
پریشانی اسکی آواز اور چہرے سے عیاں تھی۔
“پریشانی کیسی پریشہ زندگی میں پہلی بار شاید اس نے کوئی صیح قدم اٹھایا ہے۔ “
زحلے کا نارمل انداز دیکھ وہ چونک اٹھی ۔
“تم جانتی ہو زحلے یہ رشتہ سب جھوٹی کہانی پھر میں کیسے رخصتی کروا سکتی ہوں ؟”
آج ہی حاطب نے داجی اور داوڑ فیملی کے معززین کو بلا کے صلح کی پیشکش کی تھی زرتاج گل مردوں کے ان فیصلوں سے آگاہ نہیں تھی نہ ہی مورے جان مگر زحلے اور پریشہ کے سامنے وہ یہ چیز رکھ چکا تھا۔
“کس سے جھوٹ بول رہی ہو پریشہ اور کیوں خود کو گناہ گار کرنا چاہ رہی ہو ؟”
“کک کیا مطلب مم میں کونسا جھوٹ بول رہی ہوں؟”
اپنا چہرہ تھپتاتے زحلے کو حیرانی سے دیکھنے لگی ۔
“بہت اعلٰی کہانی سنائی تھی پریشہ تم نے مجھے مگر میں نے خود اپنی آنکھوں سے وہ نکاح نامہ دیکھا ہے میں کیسے مان لوں کے خریم نے وہ پیپر پھاڑ دیے اور بالفرض پھاڑ بھی دیے کاغذ کے ٹکڑے ثبوت ختم کرسکتے ہیں رشتہ نہیں ۔”
زحلےنے اسکے سر پہ دھمکا کیا تھا۔
“ززحلے مم جھؤٹ نہیں بول رہی میرا واقعی نکاح نہیں ہوا وہ صرف مجھے ڈرانے کو ۔”
پریشہ کی جھکی نظر دیکھ وہ اسکے دونوں ہاتھ پکڑے تسلی دیتے تھپتھپانے لگی۔
“کیوں ایسا کررہی ہو ؟”
پریشہ اسکی آنکھوں میں دیکھتی بولی تھی۔”
” مم میں نہیں زحلے پلیز تت تم لالہ سے کہو یہ جھوٹ تھا مم میرا نکاح نہیں ہوا خریم سے۔ “
اسکا انداز چیخ چیخ کے بتا رہا تھا وہ کچھ چھپا رہی تھی کیا ؟اور کیوں ؟ زحلے نے الجھتے ہوئے اسے دیکھا ۔
وہ بھی اسکی تقلید کرتی اگر جو کچھ دیر پہلے والی روح خانم کے بہانے کی جانے والی خریم کی کال سے اس نکاح کی حقیقت نا پتا چلتی ۔
“کیا ہی اچھا ہو پریشے جو تم مجھے اک دوست سمجھ کے سب سچ بتا دیتی ؟ اس گھر کا ہر فرد اپنا الو سیدھا کرنے میں لگا ہے تو زحلے کیوں نہیں۔ “
لہجے میں یاسیت بھری تھی مگر آنکھوں سے شعلے لپک رہے تھے۔
“وہ بہت برا ہے زحلے ۔”
پریشے روتے ہوئے اسکے شانے سے آلگی ۔
“جانتی ہوں اک عورت کو ہتھیار بنانے والا شخص بھلا کب اچھا ہو سکتا۔ “
دکھ اسکی آواز سے چھلک رہا تھا۔
“ہم زحلے نہیں بننا چاہتے ہم اتنی نفرت نہیں سہہ سکیں گے زحلے اسے نفرت ہے حاطب لالہ سے مجھ سے اس حویلی سے اور۔۔ “
پریشہ کہ آواز رندھ گئی باقی کے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے تھے۔
“اور کیا پریشہ ؟”
زحلے نے اسکا سر اپنے شانے سے ہٹاتے ہوئے اسکا چہرہ ہاتھوں میں لیا ۔
اسوقت وہ پرانی سہلیاں بنے اک دوسرے کے دکھ بانٹنے لگی تھیں۔
“اور وہ کہتا ہے بھابھی ماں کے ساتھ مل کے سب کچھ برباد کردے گا کک کیونکہ “
پریشہ کی آواز رونے کی شدت سے اسکے لفظوں کا ساتھ چھوڑ رہی تھی جبکہ زحلے کو یقین تھا اب کے وہ حرف حرف سچ بولنے لگی تھی۔
“کیونکہ ہم نے اسکی گڑیا کی معصومیت چھینی ہے زرگل کا قتل کیا وہ سب کچھ جان کے بھی بھابھی ماں کا ساتھ دے گا وہ لالہ سے بدلے کیلئے ہمارا استعمال کرے گا ۔”
“اس لیے ہم اس رشتے سے مکر گئے زحلے ہمیں نہیں جانا انکے ساتھ ہم خود کو ختم کرلیں گے ۔ “
زحلے گم صم سی اسکی شکل دیکھنے لگی ۔
جبکہ پریشہ کے سامنے خریم کا سایہ آٹہرا ۔
“تت تم جھوٹ بول رہے ہو بھب بھلا بھابھی ماں؟ “
اس انجان کی شخص کی باتیں اسے گہری سازش رچتی نظر آئی تھیں مگر حقیقت وہی تھی جو اسے ماننی تھی۔
کتنی دیر وہ وہ روئی تھی خریم جانتا تھا وہ کانچ سی لڑکی اتنی تلخ حقیقت سہل نہیں کرپارہی مگر وہی اسے حاطب تک رسائی دے سکتی تھی کیونکہ زرتاج گل کبھی بھی اس پہ شک نہیں کرسکتی تھی خریم کا مقصد پورا ہوچکا تھا وہ تابوت میں پہلی کیل ٹھونک چکا تھا ۔
اس سے نکاح کرکے سامنے موجود لڑکی اسکے نام کا جوڑا اپنے تن پہ سجائے اسکے انتقام کا نشانہ بن چکی تھی ۔
خریم چلتا ہوا بلکل اسکے سامنے آٹہرا ہاتھ اسکے چہرے کی جانب بڑھائے تو جیسے کسی خواب کیسی کیفیت سے جاگتی فوراً پیچھے ہوتے اسکے اور اپنے درمیان فاصلہ پیدا کرگئی ۔
“دد دور رہو ہم سے تت تم جھج جھوٹے ہو ہمیں تمہاری کسی بب بات کا یقین نہیں “
آنکھوں کو بے دردی سے رگڑتے الٹے قدموں واپس ہوئی جبکہ خریم فاتحانہ نگاہوں سے اسے دیکھتا اسکی طرف بڑھا تھا۔
“شاید آپ بھول رہی ہیں مسسز پریشہ خریم خان کے آپ کے تمام جملہ حقوق بقائمی ہوش وحواس ہمارے نام لکھے جاچکے ہیں اور خود آپ نے یہاں پہ سائن کیے ہیں ۔”
نکاح نامہ اسکے سامنے لہرائے اسکے دستخط والی جگہ پہ انگلی رکھی ۔
پریشہ کا دل کررہا تھا وہ اس سے یہ چھین کے پھاڑ دے اور اس شخص کی نظروں سے کہیں دور ہوجائے۔
“ہم نہیں مانتے اس زبردستی کے رشتے کو بلیک میل کیا ہے آپ نے ہمیں ہم لالہ کو سب کچھ بتا دیں گے۔ “
وہ چیختے ہوئے بولی خریم اسکی بات سنتے قہقہ لگاتے ہنس پڑا ۔
“رئیلی تم اپنے لالہ سے خریم خان کی شکایت لگاؤ گی ؟اوکے ڈن لگا دو پھر کیا کرلے گا وہ ؟جو شخص آستین میں سانپ پالے انجان ہے تم مجھے اس مرد کی دھمکی دے رہی ہاؤ انٹرسٹنگ؟ “
اپنی بات کے اختتام پہ سیٹی بجانے کے انداز میں ہونٹ سیکڑے اسکے مزید قریب ہوا۔
پریشہ اسکی پیش قدمی سے بچنے کی کوئی راہ نجات دیکھ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرلیں۔
خریم اسکی معصوم ادا پہ مسکرا کے رہ گیا سرخ تانچوئی کا مدار جوڑا اس پہ جج رہا تھا خریم فرصت سے دیکھنے لگا۔
گلابی پنکھڑیوں جیسے لب لرزنے لگے بند آنکھوں کے گوشوں سے آنسو جوک در جوک موتیوں کی جھڑی لگائے بکھر نے لگے ۔
خریم کو اس پہ ترس آنے لگا مگر دوسرے ہی لمحے زحلے کا خیال اسے جنونی بنا گیا ۔
اپنے بازو پہ کسی آہنی شکنجے کو محسوس کرتے اس نے آنکھیں کھولیں۔
“جانتی ہو میں کبھی اک عورت کو ڈھال نہیں بنانا چاہتا تھا مگر حاطب خان سے انتقام کیلئے اسی کا طریقہ اپنانا پڑ رہا ہے مجھے ۔”
خریم کا سلگتا لمس اسکی سانس بند ہونے لگی تھی۔
“تت تم بزدل ہو میرے لالہ۔ “
نام مت لینا آج کے بعد تمہاری زبان پہ حاطب کا نام بھی نہیں آئے گا سمجھی تم ۔
خریم کا درشت انداز اسے بری طرح سہما گیا تھا وہ نڈھال ہوتے وجود کو سہار نہیں سکی اور زمین پہ کسی لٹے پٹے مسافر کی طرح بیٹھ گئی۔
“اک مقولہ ہے سنا تو ہوگا ہی دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے۔ “
اپنے موبائل پہ چمکتے حویلی کے نمبر کو اسکے سامنے کیا اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ اسے کال کرنے والی زرتاج گل تھی پریشہ نے اپنی آنکھیں میچیں مگر بصارت تو موجود تھی جس میں زرتاج گل کی آواز گونج واضع تھی۔
“کام ہوگیا خریم خان ؟”
نگاہ بھٹکتے سامنے موجود شخص پہ گئی جوابھی بھی چیونگم چبانے کا شغل جاری رکھے ہوئے تھا ۔
“ہم۔انتظار کررہے ہیں خریم اپنی ڈیل یاد ہے نا ؟”
دوسری طرف موجود خاموشی زرتاج گل کو بے چین کرنے لگی ۔
“ڈن ریسپیکٹڈ لیڈی”
خریم نے کہتے ساتھ کال بند کردی پریشہ کا جھکا سر مزید جھک گیا تھا ۔
بس انتہا ہے چھوڑیے بس رہنے دیجیے
خد اپنے اعتبار سے شرما گیا ہوں میں
خشگمیں نظروں سے اسے دیکھتے وہ وہاں سے چلا گیا جبکہ اسے اپنا وجود کئی ٹکڑوں میں بکھرا نظر آرہا تھا
نجانے کتنی دیر گزر گئی اسے اکڑوں بیٹھے جب اک عورت اسکی آزادی کا مژگان لائی اور اک انجان شخص کے سامنے اپنوں کا اعتبار ہارے حویلی لوٹ آئی اک جامد چپ لیے۔
★★★★★★
میں انتقام لوں گا دوستوں میں پھوٹ ڈال کر
سزا تو ہونی چاہیئے منافقین کے لیے
“یہ کیسا فیصلہ ہے حاطب خان تم اتنے کمزور ہوگئے ہو “
زرتاج اور مورے جان اسکی بات سن حیران تھیں ۔
زرتاج گل اسکی منطق سمجھنے سے قاصر تھی بھلا وہ کیوں داوڑ خاندان سے مراسم بڑھانا چاہتا تھا۔
“اب کے بازی میں کھیلوں گا مورے جان خریم خان ہماری کمزوری کو استعمال کرتے زحلے تک رسائی چاہتا تھا اب ہم خود اسکیلئے راستے ہموار کریں گے۔ “
گھنی موچھوں کو بل دیتے داڑھی پہ ہاتھ پھیرا جبکہ نگاہیں زرتاج گل کے چہرے پہ جمی تھیں جہاں پہ چھایا تاریک سایہ اس سے پوشیدہ نہیں تھا۔
“کیوں حاطب بیٹا بھلا اتنی آسانی سے کیا اپنی عزت داؤ لگانے والی بات نہیں ؟”
مورے جان اسکے دماغ میں پنپتے خیالات تک رسائی چاہ رہی تھیں۔
“عزت تو پہلے ہی داؤ پہ لگی ہے مورے جان جب اپنے ہی جڑیں کترنے لگیں تو محتاط راستے اختیار کرنے ہی پڑتے ہیں “
زرتاج اسکی بات پہ چونکی بھلا یہ کیسا مبہم اشارہ تھا۔
“آپ لوگ پریشہ گل کی رخصتی کی تیاری کریں باقی سب ہم پہ چھوڑ دیں مورے جان۔ “
مورے جان کے ہاتھ چومتا وہاں سے رخصت ہوگیا زرتج گل بھی اسکا مقصد نہیں جان سکی تھی۔
“اک خریم خان پہ اعتبار کرکے انہیں لگتا تھا کہ وہ غلطی کرچکی ہیں اب زحلے بھی اسکی قید سے آزاد ہونے والی تھی مطلب کے حاطب ہی اسکے ہاتھ سے نکلنے والا تھا ۔”
زحلے کو دیکھتے اسکی طرف آئی تھی۔
“کیا سازش رچ کے آئی ہو تم اپنے میکے سے اگر یہ سمجھ رہی ہو کے حاطب کو بہلا پھسلا اپنے ہاتھ کر لوگی تمہاری بھول ہے “
زحلے نے بیزار نظروں سے اسے دیکھا ۔
“آپکا مسئلہ پتا ہے کیا ہے ڈھلتی عمر کے ساتھ آپکا دماغ بھی کمزور ہورہا ہے میں کبھی بھی اسے آپ سے چھیننا نہیں چاہونگی کیونکہ آپ دونوں اک مکمل جوڑ ہیں میڈ فار ایچ ادر زحلے کو آپکی یا آپکے حاطب خان کی ذات میں زرا بھی کوئی انٹرسٹ نہیں ہے ڈونٹ وری۔ “
اپنی ہانکتے وہ آگے کو بڑھ گئی زرتاج گل اسکی ہمت پہ ہکا بکا رہ گئی اک ہی دن میں ایسا کیا ہوا تھا جو وہ اتنا بولنے لگی خود سامنے موجود آئینے میں دیکھتے اپنے چہرے پہ ہاتھ پھیرے جہاں پہ اسے اپنا چہرہ جھریاں زدہ نظر آرہا تھا ۔
★★★★★★
سیلن۔زدہ فرش پہ پڑا ادھ موا شخص سامنے موجود اس قہر برساتے آدمی سے کتنی بار موت کی بھیک مانگ چکا تھا مگر وہ ہر روز ایک نئی اذیت لیے اسکے پاس آجاتا ۔
کمرے میں پھیلی بدبو نئے آنے والے چکرا کے رکھ دیتی مگر یہاں کا صیاد اور حاکم دونوں کو شاید اس چیز سے فرق نہیں پڑتا تھا ۔
آج بھی وہ جانے لگا وہ گڑگڑاتا اسکے پاؤں سے لپٹا ہوا تھا اسے اس قید میں چھ مہینے سے زیادہ کا عرصہ ہونے والا تھا سورج کی روشنی کو دیکھنے سے بھی قاصر تھا ۔
جب بھی وہ شخص اس کال کوٹھڑی میں داخل ہوتا ساتھ میں اسکا جرمن شپرڈ ضرور ہوتا تھا وہ جانتا تھا اسکا مقصد کیا ہوتا ہے اس قیدی کو مالک کی موجودگی اتنی تکیلف نہیں دیتی تھی جتنا اس کتے کی کیونکہ جب اسے زدوکوب کیا جاتا اس شخص کے باہر نکلتے وہ کتا اپنا لعاب سے اسکے زخموں پہ مرہم رکھنے کو آجاتا اسکے جسم سے نکلتا خون اپنی زبان سے چاٹنا اسکا مشغلہ تھا جیسے ۔
شروع کے اوائل دن اسے کراہت ہوتی وہ الٹی کردیتا مگر اب وہ بھی عادی ہوگیا تھا اپنی بے۔بسی پہ آسمان پہ نگاہ کی اسکے گناہوں کی فہرست اتنی لمبی تھی شاید دنیا کا یہ عذاب اسکیلئے کم ہی تھا ۔
اسکے جسم میں کئی اک زخم ایسے تھے جو کہ ٹھیک بھی نہیں ہوپاتے تھے اک اور زخم اس پہ لگا دیا جاتا عنقریب وہ شخص ” ریبیز” کا شکار ہونے لگا تھا مگر یہاں پہ کوئی بھی اسکا پرسان حال نہیں تھا بلکہ یہاں موجود ہر شخص اسکے انجام کو دیکھ اپنے احتساب میں لگا ہوا تھا ۔
★★★★★★
“آپ نے اس خاندان کو مزید رسوائیوں میں دھکیلنے میں کوئی قصر نہیں چھوڑی خریم خان۔ “
داجی بے چین انداز میں ٹہل رہے تھے مگر وہ تھا ان کے حکم عدولی کی قسم کھا رکھی تھی۔
“داجی مجھے اس نہج پہ جانے پہ آپ نے مجبور کیا ہے۔ “
خریم نے سارا الزام انکے سر کیا۔
“دیکھ رہی ہیں آپ اپنے پوتے کی زبان درازی۔ “
داجی کے کہنے پہ دادی نے بھی۔
اسے آنکھوں ہی آنکھوں میں تنبہیی کی مگر وہ جانتا تھا اگر وہ ذرا بھی کمزور پڑا تو ہمشیہ کی طرح داجی کے سخت فیصلے اسے سہنے پڑیں گے ۔
کچھ دیر پہلے ہی وہ زحلے کو کال کرکے وہاں کی سچویشن سمجھنا چاہ رہا تھا مگر زحلے کی بات سن کے تو اسکے سر پہ لگی تھی ۔
“خریم خان برائے مہربانی آپ اپنی نفرت اور انتقام کے پلندہ سےاس معصوم لڑکی کو نکال دیں پہلے ہی آپ اسکی ذات پہ کافی ظلم کرچکے ہیں۔ “
زحلے بات پہ وہ جزبز ہوا اک تو وہ اسے پہلے کی طرح لالہ نہیں کہتی تھی ساتھ میں اسکے طنز کے تیر۔
” نکاح کرکے اسکی ذات احسان کیا ہے مانو تو ورنہ حاطب خانہ منہ دکھانے کے قابل ہی نہ رہتا۔ “
خریم کی انداز میں اک تنفر تھا۔
“نکاح کونسا نکاح جھوٹ مت بولو خریم خان نکاح جیسے مقدس رشتے کو مذاق بنا دیا ہے تم نے مجھے پریشہ سب بتا چکی ہے کوئی نکاح نہیں ہوا تمہارا اتنا بغیرت سمجھ رکھا ہے حاطب خان کو جو بغیر نکاح اپنی بہن تمہارے حوالے کرے گا؟”
زحلے کی بات پہ وہ لب بھینچے خود کو کنٹرول کرنے لگا۔
“کیا بتا چکی ہے وہ اک اٹل حقیقت کو حاطب خان کی بیوی مذاق نہیں کہے گی تو کون کہے گا آخر کو نو سال سے اس حویلی کی مکین ہے۔ “
وہ بھی اسی کا بھائی تھا بھلا طنز کے وار کرتے پیچھے کیسے رہتا۔
“جب نکاح ہوا نہیں تو مذاق کیسا خریم خان “
زحلے کی آواز میں ناپختگی واضع تھی۔
“کیوں آپکی نند نے آپ سے اپنے نکاح کا تزکرہ نہیں کیا تھا اگر نکاح نہیں ہوا تو خلع کا پیپر لیے تو تم۔ہی آئی تھی داوڑ حویلی جبکہ ایک کاپی ہم خود بھیج چکے ہیں حاطب خان کی دوسری بیگم کے ہاتھ ۔”
خریم کے لہجے میں کوئی بھی رعایت نہیں تھی دوسرے ہی لمحے ٹھک کی آواز سے فون بند کردیا گیا تھا ۔
خریم کے دل۔میں آگ کے بھبھڑ جل رہے تھے مطلب کے کیسے پریشہ نکاح سے مکر گئی۔
اور اب داجی اور حاطب کا اتنی آسانی سے رخصتی کا فیصلہ اسے پریشان کررہا تھا۔
وہ جو سوچے بیٹھا تھا حاطب خان کو اپنے سامنے جھکائے گا جرگے میں زرگل کی بے گناہی ثابت کرے گا اسکے ساری تدبیروں پہ وہ دونوں “ننواتے ” کا معاہدہ کیے پانی پھیر چکے تھے۔
روح خانم زحلے کے راستے کھلتے دیکھ بہت خوش تھیں ۔
رسم کے مطابق دادی جان اور روح خانم بری کے سازوسامان سمیت خان حویلی جارہی تھیں تمام رسومات کی ادائیگی نارمل انداز میں ہونی تھی کیونکہ” ننواتے” کے مطابق دونوں خاندانوں نے صلح کا پرچم لہراتے ایک دوسرے کی دعوت کا اہتمام کرنا تھا اسیلئے شروعات خان حویلی والوں نے کی تھی۔
اتنے عرصے بعد دی جان بہن کو سامنے دیکھ اپنے جزبات پہ قابو نہیں رکھ پائیں سوتیلے ہونے کے باوجود خون کی گردش نے کتنی دیر انہیں اک دوسرے سے الگ نہیں ہونے دیا۔
زرتاج گل نے ان لوگوں سے ملنا گوارہ نہیں کیا اور کسی نے بھی اسے مجبور کرنا مناسب نہیں سمجھا ارباب خان کی نسبت سے اسکا گریز سب کو چپ کرگیاجبکہ زحلے کا رویہ ایک میزبان کی حد تک محدود تھا تمام مرد حضرات مردان خانے میں تھے۔
روح خانم نے پریشہ کے سر پہ روایتی چنی اوڑھائی جو کہ اس بات کا پتا دے رہی تھی اب اس گھر میں وہ داوڑ خاندان کی امانت تھی زحلے کو یہ سب نارمل ہوتا دیکھ اک خواب لگ رہا تھا زرتاج گل کی حقیقت سے آگاہ ہونے کے بعد وہ۔مختلف اندیشوں میں گھری تھی خریم خان اور اسکا گٹھ جوڑ یقیناً اس گھر میں کوئی طوفان لانے کو تھا مگر کیا وہ جتنا سوچتی اسکا دماغ ساتھ چھوڑنے لگتا سب کچھ حالات کے دھارے پہ چھوڑے وہ پریشہ کی رخصتی کی تیاریوں میں مصروف ہوگئی۔
★★★★★★
واقف ھی نہ تھا رمزِ محبت سے وہ, ورنہ
دل کے لئے تھوڑی سی عنایت ہی بہت تھی
آج پریشہ کا مایوں تھا زرد پھولوں کا زیور پہنے وہ خود بھی ایک مرجھایا ہوا پھول محسوس ہورہی تھی ۔
حاطب کمرے میں آیا تو سامنے ہی زحلے مکمل کیل کانٹوں سے لیس موجود تھی گوٹے اور زردوزی کے کام والا بنارسی لباس اسکی خوبصورتی کا جلابخش رہا تھا وہ چاہ کے بھی اپنے سرکش ہوتے جزبات پہ قابو نہیں پاسکا۔
بالوں میں گجرے لگاتی اپنی تیاری کو مکمل ٹچ دینے میں مصروف تھی آئینے میں ابھرت حاطب کے عکس کو اگنور کرتی اپنا شغل جاری رکھا بھلا وہ اپنا اگنور ہونا کیسے برداشت کرسکتا تھا آگے بڑھتے اسکے ہاتھوں سے گجرے لیے ۔
“بہت پیاری لگ رہی ہو حاطب خان کی بیوی کو ایسا ہی ہونا چاہیئے پرفیکٹ۔”
بالوں میں گجرے لگاتے ہلکی سی سرگوشی کرتے وہ اسکی جان نکالنے کے درپہ تھا مگر وہ خود پہ کنٹرول کرتی اسکا سحر توڑتے دور ہٹی گجرے اسکے ہاتھ سے پھسلتے زمین بوس ہوئے مگر اس نے بغیر کوئی توجہ دیے بیڈ سے اپنا دوبٹہ اٹھایا اور سیٹ کرنے لگی۔
حاطب اسکے انداز پہ حیران ہوتے پھر سے پیش قدمی کرتے اسکے سامنے آٹہرا جہاں ابھی وہ آئینے میں اپنا عکس دیکھ رہی تھی اب کے حاطب کا وجود دیوار بنا حائل تھا۔
“اس گریز کی وجہ جان سکتا ہوں سب کچھ ویسے ہی تو ہورہا جو تم اور تمہارا بھائی چاہ رہے_”
اب کے اسکی کمر میں ہاتھ ڈالے اسے خود قریب کیا وہ اسکی دھڑکنوں کے ارتعاش کو بھی سن سکتا تھا
زحلے اسکے الزام پہ تلملا کے رہ گئی بھلا اس نے کب ایسا چاہ تھا عجیب سنکی آدمی تھا۔
“مجھے نیچے جانا ہے ویٹ کررہے ہونگے سب ” خود کو چھڑانے کی بیکار کوشش میں انرجی ویسٹ نہیں کی کیونکہ اسے پتا تھا اسکا انجام کیا ہونا اور اسوقت وہ اس سے الجھنا نہیں چاہ رہی تھی۔
“کون سب مت بھولو تمہارے اس روپ کو دیکھنے کا حق صرف حاطب خان کا ہے ۔”
میکانکی انداز میں کہتے اسکی چٹیا سائیڈ پہ کرتے گردن پہ اپنے لب رکھے اسے سٹل کرگیا۔
اب کے مزاحمتی انداز میں وہ اس سے دور ہونے لگی تھی حاطب نے اسے کھنچتے پھر سے خود کے لگایا ۔
“تم کہیں نہیں جارہی ؟”حکم صادر کرتے ڈور کی جانب بڑھتے اسے لاک کیا ۔
زحلے کی ساری بہادری ہوا ہوئی وہ تو کب سے بھول چکی تھی کہ حاطب اسکے وجود پہ مکمل حق رکھتا تھا۔
“یہ کیا کررہے حاطب بب باہر مہمان ہیں اور __”
“شش “اسکے ہونٹ پہ شہادت کی انگلی رکھے زحلے کی بولتی بند کروا گیا جبکہ اپنی بےبسی پہ اسے شدید غصہ آرہا تھا وہ اس شخص کی “ضرورت ہی بن کے رہ گئی تھی”۔
دروازے پہ ہونے والی دستک پہ وہ بدمزہ ہوتا اسے چھوڑتا دروازے کی جانب بڑھا سامنے موجود ریشمہ کو دیکھ اسکا پارہ مزید چڑھا مگر اسکی بات سنتے بے اختیار زحلے کی طرف نگاہ کی جو بے یقینی سے اسے دیکھتی بیڈ کا کنارہ پکڑے فرش پہ بیٹھی۔
” تو یہ تھی حاطب کی چال”۔
“خان لالہ خریم خان پہ پہ قاتلانہ حملہ ہوا ہے اور وہ __”
