Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Qirtaas (Episode 07)

Qirtaas by Uzma Mujahid

دل کے قرطاس پہ اک لفظ محبت لکھنا

جو کبھی عشق میں کی تھی وہ ریاضت لکھنا

لکھنے بیٹھو جو کبھی دل کی حکایت کوئی

نام اس میں مرا تم حسب روایت لکھنا

پنکھڑی پھول کی لب آنکھ ہے گہرا ساگر

ابرو ہیں تیغ سے اور چال قیامت لکھنا

بھولنے والے اگر یاد کبھی آ جاؤں

بھیگی پلکوں سے فقط اشک ندامت لکھنا

ویسے اخلاق کی دو چار کتابیں پڑھ کر

ہم کو آتا ہی نہیں حرف سیاست لکھنا

ترے ہاتھوں کو جو مالک نے قلم سونپا ہے

جھوٹ کو جھوٹ صداقت کو صداقت لکھنا

تم جنہیں کہتے ہو کافر انہیں آ کر دیکھو

کیسے کرتے ہیں یہ انسان کی خدمت لکھنا

اے غم عشق مرے پاؤں کے چھالے گن کر

دشت الفت کی یہ مجبور مسافت لکھنا

یاد ہے پہلی محبت کی خماری اب تک

وہ درختوں پہ ترا نام مسرتؔ لکھنا

حاطب کب سے” سگریٹ کا دھواں” اڑاتا اپنے غصے کو دبائے ہوئے تھا ۔

آہٹ پہ اس نے آنکھیں کھولیں زحلے جو اسکی موجودگی سے انجان کمرے میں داخل ہوئی سامنے سرخ آنکھیں لیے حاطب کو دیکھا تو پھر سے پرانے زخم جاگ اٹھے تھے ۔

وہ بنا کچھ کہے بیڈ پہ آکے بیٹھ گئی کمفرٹر خود پہ پھیلایا اور اسکی طرف پیٹھ کرتے سو گئی۔

حاطب نے بغور اسکی حرکتوں کا جائزہ لیا کبھی کبھی اسکی چپ حاطب کو جھنجوڑ دیتی کہ وہ کچھ بولتی کیوں نہیں اپنے حقوق کیلئے زرتاج کی طرح اس سے لڑتی کیوں نہیں اور کچھ نہیں تو اپنے کردار کی گواہی کیلئے زبان کھول دیتی زہنی خلفشار سے گھبراتے وہ کھڑا ہوگیا کمرے میں چکر لگاتے نظر بار بار بھٹک کے اسکے سراپے پہ جا ٹہرتیں جو اس سے انجان بنی سونے کا دکھاوا کررہی تھی ۔

حاطب اسکی جانب بڑھا اسکے ماتھے اور ہونٹوں پہ موجود نشان حاطب کو شرمندہ کرگیا وہ بے ساختہ اس پہ جھکا لب اسکے ہونٹوں پہ رکھتے گویا اپنے دیے گئے زخموں کی

۔مسیحائی کی زحلے کی لزرتی پلیکں اس بات کی گواہ تھیں کہ وہ جاگ رہی ہے سیگریٹ ایش ٹرے میں مسلتا زحلے کے قریب ہی لیٹ گیا ۔

“آنکھیں کھول سکتی ہو تم اگر چاہو تو میں کوئی اتنا بڑا ڈریکولا بھی نہیں جسے تم نہ دیکھنا چاہو “

عنابی ہونٹ سیاہ گھنی موچھوں کے سائے میں مسکرائے مگر زحلے بنا کچھ کہے پڑی رہی۔

“زحلے ” حاطب کی پکار پہ اسکا دل دھڑکا مگر وہ بنا کچھ کہے اٹھ بیٹھی نظریں ہنوز نیچی رکھیں۔

“صلح کی کوئی امید ہے “

نجانے کیوں حاطب چاہتا تھا کہ اس لڑکی کے سامنے خود کو سرینڈر کر دے مگر اس لڑکی کی انا حاطب کی روایتی پٹھانوں والی غیرت بیدار کردیتی اک چیز جس سے حاطب خود بھی عاجز تھا وہ اسکا وقت بے وقت کا غصہ تھا ۔

“ایک کپ چائے مل سکتی ہے “

ابھی رات کے دس بجے تھے اور اس نے کھانے کی ٹیبل پہ بھی اسے نہیں دیکھا تھا وہ چپ چاپ باہر کی جانب بڑھ گئی۔

حاطب کو لگ رہا تھا کہ وہ اس سے کھانے کا ضرور پوچھے گی مگر اس لڑکی نے ہمیشہ اپنے فرائض کے معاملے اسے مایوس ہی کیا تھا۔

تھوڑی دیر بعد وہ ٹرے میں کھانا لیے اسکے سامنے تھی حاطب کے دل نے اک میٹھی سی چٹکی لی ۔

“مورے جان نے کہا تھا آپ نے کھانا نہیں کھایا اسیلئے لے آئی۔”

دوسرے لمحے اسکی تمام خوش فہمیوں پہ پانی پھیرتی سائیڈ پہ ہوگئی ۔

“ماں ہی کو بیٹے کی بھوک کا احساس ہوگا اور کسی کو کیا پرواہ ہوگی بھلا “

ناچاہتے ہوئے بھی شکوہ زبان پہ در آیا۔

زحلے نے حیرت سے اسے دیکھا کہیں حاطب خان پاگل تو نہیں ہوچکا اک اسکا نرم لہجہ دوسرا بیوی ۔

“آہننمم اس گھر میں آپکی اک اور بیوی بھی ہے “

حاطب کو اسکی بات سن کے ہنسی آئی مگر اتنی جلدی سرینڈر نہیں کر سکتا تھا۔

تبھی زرتاج گل کمرے میں آئی ۔

“خان بات کرنی ہے مجھے آپ سے اگر بیوی کی دلداریوں سے فرصت مل جائے تو “

اک واضع کاٹ تھی اسکے لہجے میں۔

“پلیز زرتاج گل میں ابھی اس ٹاپک پہ کوئی بات نہیں کرنا چاہتا”

اسکا انکار زرتاج گل کو بھڑکانے کو کافی تھا ۔

خونخوار نظروں سے دیکھتی وہ زحلے پہ جھپٹتے ہی اسکے چہرے پہ تھپڑوں کی بارش کرنے لگی ۔

“اس بدزات لڑکی کی وجہ سے تم نے میرے اکلوتے بھائی پہ گولی چلائی حاطب اسکا خوبصورت چہرہ تمہیں مجھ سے دور کررہا میں یہی برباد کردونگی”

اپنے نوکیلے پنجے زحلے چہرے پہ مارتے بولی جبکہ زحلے درد کی شدت سے چلا اٹھی حاطب بنا اسے کچھ بولے دونوں ہاتھ سینے پہ باندھے تماشہ دیکھتا رہا “

زحلے کو اسکی بے حسی دیکھ اور رونا آرہا تھا اپنا بچاؤ کرنے کے چکر میں اسکے بازو پہ خراشیں آئیں جن سے خون رسنے لگا تھا مگر زرتاج گل پہ طاری جنونیت ختم۔ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔

دو عورتیں جسکی وجہ سے لڑرہی تھیں اسے پرواہ ہی نہیں تھی ۔

شور سن مورے جان آئیں زحلے کی حالت دیکھ ان کا دل بیٹھا۔

“زرتاج گل دماغ خراب ہوا ہے تمہارا چھوڑو اس معصوم کو کیا بگاڑا ہے اس نے تمہارا ۔”

“دی جان اسکے خاندان نے میرے ارباب کو مجھ سے چھینا اور اب حاطب کو بھی مجھ سے چھین رہی ہے”

دی جان اسکی وحشتوں پہ حیران کھڑی تھیں زحلے اک شکوہ کناہ نگاہ حاطب پہ ڈالتے مورے جان کے کمرے کی طرف بڑھ گئی زرتاج گل پہلے ہی وہاں سے جا چکی تھی۔

“کیا تھا یہ حاطب کم از کم تم سے مجھے اتنی بے حسی کی امید نہیں تھی بیوی ہے تمہاری زحلے اور۔”

“مورے جان میں کس لیے اسکی حمایت کروں اگر وہ لڑکی اپنے حق کیلئے خود نہیں لڑے گی تو زرتاج گل اسے ہمیشہ ایسے ہی ٹارچر کرتی رہی گی اور میری انٹرفئیر کرنے سے وہ۔لڑکی مزید اسکی جنونیت کا شکار ہوگی اسیلئے زحلے کی لڑائی اسے خود لڑنی ہوگی “

دوٹوک انداز میں کہتا پھر سے کھانے میں مشغول ہو گیا جیسے اسے یہاں ہوئے تماشے کی پرواہ ہی نہیں تھی لیکن حقیقت تو یہ تھی اسے پرواہ تھی مگر وہ چاہتا تھا زحلے اپنے حق کیلئے بولے جو چیز زرتاج گل کو شہہ دے رہی تھی حاطب کو اسکا بھی پتا لگانا تھا۔

★★★★★★★

“بس لالہ ہم ابھی آرہے ہیں آپ انتظار کریں ہم اپنی دوست کو کچھ نوٹس۔”

بے دھیانی میں وہ سامنے موجود لڑکے سے ٹکرائی موبائل سلپ ہوتا بند ہوچکا تھا۔

“اوہو سوری ہم معزرت کرتے ہیں ایکچوئلی ہمارے لالہ ہمارا انتظار کررہے ہیں اسیلئے جلدی میں تھے ہم “

تیز تیز بولتی لڑکی نے جب پلکوں کی جھالر اٹھائی سامنے موجود خُریَم

کو لگا اسکے آس پاس کا منظر رک سا گیا ہو حجاب سٹائل میں لیا گیا اسکارف دودھیا رنگت پہ گرین آئیز وہ خدا کا فرصت سے بنایا گیا شاہکار لگ رہا تھا۔

پریشہ نے اسے مدہوش دیکھ چٹکی بجاتے اپنی جانب متوجہ کیا ۔

“ہیلو !ایا ته ماته یو کتاب راکړی؟ “

کیا آپ مجھے کتاب دے سکتے ہیں؟”

وہ جو اسکی خوبصورتی میں مگن تھا اک دم متوجہ ہوا اور اپنی بے خودی پہ خود کو لعن تعن کرتا “سوری “بول گیا۔

وہ اسکے ہاتھ سے اپنی بک لیے وہاں سے چلی گئی وہ بے اختیار ہی اسکے پیچھے دوڑا تھا ۔

اسکے بیگ سے اٹیچ ڈرائیو دوسری طرف گر گئی تھی سامنے ہی پارکنگ میں وہ اسے نظر آئی خُریَم آواز دیتے اسے بلانا چاہتا تھا مگر سامنے موجود گاڑی کے دروازے سے پشت لگائے حاطب اور دائم خان آفریدی کو دیکھتے اس نے اپنے قدم روک لیے دماغ میں چلتے جھکڑ اسے اس منظر سے دور کرنے لگے

“میں راستہ بھٹکا ضرور تھا مگر اس پہ قتل واجب ہوا تھا میں قاتل نہیں ہوں خُریَم “

مرتے ہوئے شخص کی امانت لیے خُریَم نے سامنے موجود ہنستے مسکراتے لوگوں کو دیکھا۔

لوگوں کی مسکراہٹ چھیننے والے اتنے پرسکون کیسے رہ لیتے ہیں حاطب تک رسائی کا اک راستہ نظر آیا گرین آئیز والی لڑکی یقیناً اسکی بہن تھی ہاتھ میں دبی ڈرائیو پہ اسکی گرفت سخت ہوئی تھی وہ امین تھا بہت سے رازوں کا اور اسے یہ امانتیں اسکے حقداروں تک پہنچا کے کسی کو سرخرو کرنا تھا اور کسی کی راہ نجات دہندہ بننا تھا ۔

مگر دوسرے ہی لمحے اپنے سوچوں کو جھٹک دیا “خُریَم خان ” اتنا بزدل نہیں کسی لڑکی کو مہرہ بنائے جو کرنا تھا اسے خود کو ہی کرنا تھا۔

حویلی کے کچن میں اٹھتی خوشبوئیں دیکھ زحلے نے کچن کا رخ کیا ۔

” آج کچھ سپیشل تیاری تھی ۔”

“کوئی مہمان آرہے ہیں مورے جان”

زحلے کی بات پہ وہ مسکرا کے اسے دیکھنے لگیں۔

” ہاں بیٹی بہت ہی اسپیشل “

اسے یاد نہیں تھا جب سے وہ حویلی آئی تھی کچھ سپیشل ہوا ہو ۔

“ارے پریشہ گل اور دائم آرہے ہیں آج حاطب کے ساتھ”

مورے جان کی بات سن وہ بھی خوش ہو اٹھی کچھ تو اچھا ہونے لگا تھا اسے پریشہ کی صورت اک اچھی سامع ملنے والی تھی ۔

اس دن کے بعد سے زحلے نے حاطب کے کمرے میں قدم نہیں رکھا اگلے دن وہ شہر چلا گیا لیکن اس بار زرتاج کو لیے بغیر ہی گیا تھا ۔

باہر گاڑیاں رکنے کی آوازیں آئیں اور کچھ دیر بعد پریشہ اور دائم سامنے تھے تقریباً چھ مہنوں بعد وہ انہیں دیکھ رہی تھی حویلی کے سناٹے اک دم چہکنے لگے ۔

“اف اف زحلے یار میں کیا بتاؤں حاطب لالہ کا بس چلے نا تو مجھے گاؤں آنے ہی نہ دیں اور ی ۔دائم یہ بھی پکا پکا انکا ساتھ دیتا ناؤ میری ٹیم۔ممبر آچکی ہے آپ دونوں زرا مجھ سے بچ کے۔رہنا ۔”

دائم اور حاطب کو وارن کرتے وہ زحلے کے گلے لگی کہیں سے بھی ان دونوں میں عمروں کا فرق نظر نہیں آرہا تھا۔

“بھابھی ماں آپ کیوں نہیں اس بار شہر میں نے آپکے ہاتھ کے کھانے بہت مس کیے ہیں ۔”

زرتاج گل کو سامنے دیکھ وہ اسکی طرف لپکی۔

کھانا انتہائی خوشگوار ماحول میں کھایا گیا زحلے خود پہ۔بار بار پڑتی حاطب کی نگاہوں سے انجان نہیں تھی مگر اسے انجان بننا تھا وہ زرتاج گل کے مزید زودکوب کا شکار نہیں ہونا چاہ رہی تھی۔

“زحلے بیبی آپ کو خان لالہ اپنے روم میں بلا رہے ہیں “

ریشمہ کی بات سن وہ اضطراب کا شکار ہوئی وہ کب سے مورے جان کے کمرے میں ڈیرے ڈالے ہوئے تھی مگر پریشہ گل ماں کی محبت میں وہاں رہنا چاہ رہی تھی اسیلئے زحلے کو اپنا بستر گول۔کرنا پڑا تھا ۔

کمرے میں آتے ہی اسکا چہرہ سرخ پڑا جہاں حاطب بلیک نائٹی میں ملبوس زرتاج گل کے اوپر جھکا ہوا تھا۔

بے دھیانی میں اسے ڈور ناک کرنا یاد نہیں رہا تھا زحلے انکی قربت کے لمحے دیکھتی باہر کی طرف بڑھی۔

” وہ۔کہیں بھی نہیں تھی آج بھی حاطب کیلئے کچھ تھی تو زرتاج گل ۔”

“ٹیسٹ لیس آدمی”

غصہ تھا کے خواہ مخواہ آئے جارہا تھا۔

“زحلے کیوں پاگل ہورہی ہو وہ حاطب کی بیوی ہے”

“وہ بیوی ہے تو زحلے کون ہے ؟””

آنکھوں میں بار بار آتی نمی کو صاف کرتی اسکا د ۔حاطب کیُلئے مزید بدگمان ہورہا تھا۔

” جب اسکی ضرورت پوری کرنے کو چہیتی بیوی تھی تو کس لیے بلایا اسے “

آنکھوں کے سامنے پھر سے اسکی قربت کے پل گھومے۔

“اس شخص نے تمہیں عزت دی کب تھی زحلے جو اتنا اوور ریکٹ کررہی ہو سوتن بن کے تو تم آئی ہو نا کہ وہ۔”

خود کو ڈانٹتے ڈپٹتے اپنے جزبات پہ کنٹرول کرنے لگی

اپنے کمرے کی طرف بڑھتے روم لاک کر لیا۔

“حاطب خان تمہارے لیے میں ہر حد سے گزری ہوں تم مجھے ایسے کیسے اگنور کرسکتے ہو”

زرتاج گل حاطب سے کمبل ہونے کی کوشش میں تھی جبکہ اس اچانک آنے والی آفت پہ وہ جھنجھلایا ۔

“کیسی عورت ہو تم اک شخص بار بار تمہیں ٹھکرا رہا پھر بھی تم ۔”

حاطب نے بات مکمل کرتے پیچھے کی طرف دیکھیلا تھا اور وہ گرتے ہوئے اسکے بازو کا سہارا لیتی بیڈ پہ گری پاؤں بیلنس نہ ہونے پہ وہ بھی اس پہ گرنے کو تھا مگر جلد ہی اپنا بیلنس قائم کیا اسی لمحے زحلے کمرے میں داخل ہوئی زرتاج گل اسکی موجودگی کو اچھے سے محسوس کرچکی تھی حاطب کی پشت ہونے کی وجہ سے اندر آتی زحلے کو دیکھ نہیں پایا۔

وہ کسی بھی طرح زرتاج گل کو کوئی حق دینے کو تیار نہیں تھا بھلا وہ اپنے بھائی کی قاتلہ سے کیسے ازدواجی رشتہ قائم کرسکتا تھا جو اسکے بھائی آخری وقت میں اس سے بدظن کرگئی ۔

★★★★★★★

“زرگل تمہارا شکار یہاں سے روانہ ہوچکا ہے ہم اسے مار کے اک نئی۔زندگی شروع کرسکتے ہیں۔”

حاطب کوکتنی دیر اپنی سماعتوں پہ یقین نہیں آیا تھا

“اسکی بھابھی ماں لالہ ارباب کو قتل۔کی سازش کررہی مگر کیوں ۔”

“لالہ آپ لوگ جب چلے جاتے بھابھی ماں ہمیں کمرے میں بند کرکے اپنے فرینڈز ساتھ باتیں کرتی ہیں “

پریشے اور دائم کی آواز اسکی سماعت می گونجی تھی۔

” تو کیا واقعی زرتاج گل راستے سے بھٹک گئی تھی مگر اسکے لالہ ۔”

ارباب کا خیال آتے ہی وہ۔اسے کال کرنے لگا جبھی اسکی کالیں دیکھ ارباب نے موبائل بند کردیا جتنا کچھ وہ دیکھ آیا تھا اسی آدھے سچ پہ یقین کرلیا حویلی کا فون بند تھا باوجود کوشش کے وہ اس سے رابطہ نہیں کرسکا تھا۔

اور پھر زرگل نے لالہ کو قتل کردیا وہ زرتاج کو بھی مار دینا چاہتا تھا بھائی کا صدمہ اتنا بڑا تھا وہ داور خان کے سامنے اصل قاتل کو لے کے آنا چاہتا تھا مگر داور خان اور مورے جان میں الجھ وہ انہیں اک اور صدمہ نہیں دے سکتا تھا۔

لیکن جب زرتاج گل سے شادی کی بات آئی اس نے بہت کوشش کی زرتاج گل کا مکروہ چہرہ اسکے سامنے تھا “

“جب اس نے حاطب کو کہا کہ وہ چپ چاپ اس شادی کرلے دوسری صورت وہ ارباب لالہ کی موت کا زمدار اسے ٹہرا دے گی اور کوئی بھی اس پہ۔یقین نہیں کرے گا۔”

وہی داور خان نے اسکے سامنے اپنی پگڑی رکھتے اسکے راہیں مسدود کر دیں مگر وہ آج بھی زرتاج گل سے بے انتہا نفرت کرتا تھا کسی وقت کا انتظار تھا شاید۔

“اور پھر داور خان”

مورے جان اور حاطب کے علاوہ کوئی نہیں جانتا تھا کہ انہیں زہر دے کے مارا گیا ہے ابھی داور خان کی زندگی کا قرطاس بھی تو ایک سوالیہ نشان تھا اسکیلئے وہ شکار بنا تھا مگر جال اور دانہ وہ اپنی پسند کا لے کے چل رہا تھا صیاد عنقریب خود اپنے بچھائے جال میں پھنسنے کو تھا۔

پہ در پے والے واقعات حاطب کو کمزور کر گئے وہ اس گھر کا واحد کفیل تھا وہ جانتا زرتاج اسے بھی اپنا جرم۔چھپانے کو مار سکتی ہے اپنے سے جڑے لوگوں کو وہ مزید آزمائش میں نہیں ڈالنا چاہ رہا تھا۔

اور اس سب میں زحلے کی آمد اک ٹھنڈے جھونکے کے جیسی تھی وہ لڑکی پہلے دن ہی اسکے حواسوں پہ چھا گئی تھی کتنی بار وہ دائم اور پریشہ کے دیکھا دیکھی اسے حاطب لالہ کہتی اور وہ مسکرا دیتا مگر اپنے اور اسکے درمیان رشتے کا احساس ہر پل اسے رہتا وہ جانتا تھا کہ اگر وہ اسکے حق کیلئے بولے گا تو زرتاج گل اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گی ابھی وہ مزید کسی امتحان کا متحمل نہیں ہونا چاہتا تھا۔

‏کیسے کہہ دوں کہ تھک گیا ہوں میں

جانے کس کس کا حوصلہ ہوں میں۔۔۔۔

★★★★★★★

اب کے حاطب کو شہر میں زیادہ ٹائم لگ گیا تھا اور اکیلا ہی شہر گیا ہوا تھا دائم کا سارا دن دوستوں کو ملنے ملانے میں گزرتا جبکہ پریشہ اپنے روم میں بند رہتی زحلے نے اک ادھ بار اس سے ملنے بات کرنے کی کوشش کی اسکا روڈ بہیور زحلے کو پیچھے کردیتا۔

پشاور کا موسم آجکل اپنی من مرضی پہ چل رہا تھا باہر برستی بارش زحلے کو اپنی جانب کھینچنے لگی تھی تبھی وہ پریشہ کو لینے گئی دروازہ کھولنے کو اسکے ہاتھ راستے میں ہی رک گئے جب اپنے نام کی پکار سن ٹہر سی گئی۔

“بھابھی ماں زحلے نے اس گھر کا نمک کھایا وہ۔کیسے اتنی احسان فراموش ہوگئی کے آپکے حق پہ ڈاکہ ڈالا آجائیں لالہ میں ان سے خود بات کرونگی اور اس زحلے کو آپ نے اتنی آسانی سے لالہ کو نکاح اجازت دی کیوں۔”

“جانتی ہو دی جان کی ضد پریشہ جانا انکو وارث چاہیئے تھا”

” زحلے نے اپنی چلاک فطرت سے انہیں بھی اپنے قبضے میں کر لیا۔”

زحلے اپنے بارے اتنا مبالغہ آرائی سنتے قدم۔واپس کو بڑھا گئی۔

“اوہو تو بھابھی ماں ہم ایسا کرتے ہیں”

اور پریشہ کا پلان سنتی زرتاج گل کے چہرے پہ بھی مکروہ مسکراہٹ آئی تھی۔

کمرے میں آتے ہی زحلے کی ہمت جواب دے گئی وہ جو گنتی کے چند لوگ اسکا حوصلہ تھے وہ بھی دور ہوگئے تنہائی کا احساس غالب آیا ساتھ میں گل بانو کی یاد مگر وہ بھی تو اپنی نہیں تھی فقط احساس کا رشتہ تھا ۔

کیا میرے ماں بابا نے کبھی کوشش نہیں کی مجھ سے رابطے کی بھلا یہ کیسے ممکن ہے کوئی ماں باپ اتنے عرصے اولاد لاتعلق رہیں مگر وہ جس قبیلے سے تھی وہاں تو انا کی خاطر نسلوں سے بھی لاتعلق ہوجاتے پھر وہ کیا تھی۔

زندگی کا ساز بھی کیا ساز ہے

بج رہا ہے! اور بے آواز ہے۔۔۔۔۔۔۔

★★★★★★★

“خانم آج میں نے اسے دیکھا یہ اونچا لمبا قد گھنی مونچھیں داڑھی بلکل ارباب لالہ کے جیسا”

“خُریَم” ماں کی گود میں سر رکھے اسے حاطب کا حلیہ بتانے لگا۔

“وہ ساتھ تھی کیا ؟”

ایک آس سی چھلکی تھی نجانے کیسی تھی کتنی بڑی ہوگئی ہوگی اسکو ماں باپ کا بتایا بھی ہوگا کے نہیں کتنے سوال تھے روح خانم کے دل دماغ میں۔۔

“کون آپکی بہو وہ بہت پیاری یہ سبز آنکھیں شہد رنگ بال وہ دودھ جیسی رنگت اور ماں”

۔آ روح خانم کے تھپڑ نے اسکی بات ادھوری چھوڑ دی۔

“کیا ماں سے مسخرے کررہا میں زحلے کا پوچھا اور یہ بہو کہاں سے آگئی ۔”

“بہو آئے گی تو زحلے بھی آئی گی نا “

اب کے انداز تھوڑا سریس تھا ۔

“یہ کیا کہہ رہے ہو خُریَم “

روح خانم بھی اسکے سریس انداز پہ چونکیں۔

“پریشہ گل ماں داؤد خان کی بیٹی “

“تت تم۔کہاں سے ملے اسے نہیں خُریم کچھ ایسا مت کرنا جو”

نگاہ سامنے موجود دریام خان پہ گئی تو دونوں کی۔دھڑکن تیز ہوئی۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *