Qirtaas by Uzma Mujahid NovelR50593 Qirtaas (Episode 05)
Rate this Novel
Qirtaas (Episode 05)
Qirtaas by Uzma Mujahid
مردان خانے میں آتے ہی اس نے اپنا غصہ سامنے موجود شیشے پہ اتارا جسکے نتیجے میں اسکا ہاتھ بری طرح زخمی ہوگیا۔
“چھوٹے خان” اسکا گارڈ لہولہو ہوتا ہاتھ دیکھ اسکی جانب بڑھا ۔
“مجھے اکیلا چھوڑ دو حرمت لالہ پلیز ۔”
“پر خان آپکا ہاتھ بہت زخمی ہم مرہم پٹی کردیتے ۔”..
“کن کن زخموں پہ پھائے رکھو گے لالہ جاؤ یہ زخم ان سے بڑے تو نہیں جو میرے وجود کو اندر سے چھلنی کررہے ہیں “
حرمت لالہ اسے ناسمجھی سے دیکھتے باہر نکل گئے۔
آنکھیں بند کرتے ہی زحلے اپنے وجود سیمت اسکے سامنے آٹھری تھی اس نے فوراً آنکھیں کھولیں یہ میں نے کیا کردیا اس نازک کلی کو مسل دیا کیوں تم اتنے وحشی بن گئے حاطب خان اس نے پھر سے اپنا زخمی ہاتھ ٹیبل پہ دے مارا تھا خود ازیتی کا احساس کسی طرح بھی اسکی تکلیف کو کم نہیں کرپارہا تھا۔
حرمت لالہ سے اسکی تکیلف دیکھی نہیں گئی وہ گاؤں کے ڈاکٹر کو لیے اسکے پاس آگئے اور اب کے حاطب نے بنا کچھ کہے پٹی کروا لی ۔
ڈاکٹر اسے سکون آور ادویات دے کے جاچکا تھا تبھی مورے جان کو نوکروں کی زبان اسکا حال پتا چلا تو وہ بھاگتی ہوئی اسکے پاس چلی آئیں مگر اسے آرام کرتا دیکھ خاموشی سے واپس چلی آئیں ریشمہ کو کہہ کے زحلے کو بلوایا۔
“ہم یہ نہیں پوچھیں گے کے ایسا کیا ہوا جو حاطب نے خود کو زخمی کرلیا مگر اتنا ضرور کہیں گے کے وہ ہماری اکلوتی اولاد ہیں زرتاج سے ہمیں کسی طرح کی ہمدردی کی امید نہیں کیا ہی اچھا ہو کے زحلے آپ انکے ساتھ اپنے معمالات سہی کرلیں۔”
مورے جان نے اسے آس بھری نگاہوں سے دیکھا کیونکہ وہ جانتی تھیں زرتاج سے شادی کے باوجود بھی حاطب کے چہرے پہ کبھی وہ مسکراہٹ نہیں آئی جو اک شادی شدہ جوڑے کا خاصہ تھی ۔
زحلے خاموشی سے انکے احکامات سنتی رہی اب ان کو کیا بتاتی کے انکے لاڈ صاحب نے اسے حویلی کے ملازمین والی حثیت دی ہے اسکے ازدواجی حقوق کو کسی بھیک کی طرح اسکی جھولی میں ڈالا ہے ۔
“اب آپ جاسکتی ہیں ہمیں بھی آرام کرنا ہے”
زحلے کی قسمت شاید روٹھ گئی تھی تبھی اس گھر کے مکینوں کے دلوں میں اسکیلئے سختی در آئی مورے جان جو کل تک اسے اپنے پروں میں لپیٹے پھرتی تھیں اپنی اولاد کیلئے انہوں نے زحلے کو بھولا دیا ایسے میں اسے گل بانو کی بہت یاد آ رہی تھی۔
“آہاں تو نئی نویلی دلہن کیا حال بنا رکھا ہے لگتا ہے خان نے زیادہ منہ نہیں لگایا تبھی اجڑا دیار بنی پھر رہی ہو”
زرتاج اسکا راستہ روکے تنقیدی نگاہوں سے جائزہ لے رہی تھی زحلے جزبز ہوتی اک طرف سے نکلنے لگی جبھی اسکی نگاہ زحلے کے زخمی ہونٹوں پہ پڑی۔
لگتا حاطب خان نے ان ہونٹوں کا رس اک ہی دن میں چوس لیا تبھی قیامت خیزیاں ظاہر ہورہیں”
زحلے ہکابکا اسکی بےباک گفتگو اور اتنی گری باتیں سننے لگی مگر وہ نجانے کیوں ہل نہیں پا رہی تھی اور یہی چیز زرتاج کو اور زیادہ بڑھاوا دینے لگی۔
“تم حاطب خان کی رکھیل تو بن سکتی ہو بیوی نہیں کیونکہ بیوی اک ہی ہوتی جو من چاہی ہو اور خاندانی ہو تم اک کھلونے سے زیادہ کچھ نہیں اس کیلئے کچھ دن کا شوق “
اسکا چہرہ تھپتھپاتی وہ آگے کو بڑھ گئی زحلے کے قدم اسکے لفظوں میں جکڑے ہوئے فریز ہوگئے تھے۔
“سہی تو کہہ رہی تھی اسکی اوقات تو وہ اسے اک دن میں یاد کرواچکا تھا پھر وہ کس امید پہ اس سے نوازشوں کی توقع میں تھی “
لڑکھڑاتے قدموں سے وہ اپنے کمرے میں آگئی تھی۔
اور اس دن کے بعد نہ حاطب نے اسے بلاویا اور نہ اس میں اتنی ہمت پڑی کے حاطب کا سامنا کرسکے ۔
موسم نے پھر سے کروٹ لی تھی اور شدید سردیاں لوٹ آئیں تھیں ریشمہ کی زبانی اسے معلوم پڑا کہ وہ زرتاج کو لیے شہر گیا ہے دل میں اک ٹیس سی اٹھی تھی بھلا اس کی کیا حثیت تھیا س حویلی میں شاید حاتم بھول بھی گیا ہو کہ وہ اسکا خطاوار ہے اپنے آنسو کو بےدردی سے صاف کرتی وہ سونے کی تیاری کرنے لگی تھی۔
ابھی اسے سوئے زیادہ دیر نہیں گزری تھی جب اسے لگا کوئی اسکے اوپر جھکا ہے اک خوف کے زیر سائیہ آنکھیں کھولیں اک انجان شخص کو سامنے دیکھ بے اختیار وہ چیخی مگر مقابل نے اسکے منہ پہ سختی سے اپنا ہاتھ جمایا۔
“ہائے سلیپنگ بیوٹی سنا ہے حاطب خان تمہیں اپنی آفیشل بیوی تسلیم کرچکا ہے”
“پر افسوس زیادہ دن اسکی نقلی شادی چلنے والی نہیں وہ مزید اس پہ جھکا تھا تبھی دروازہ ناک ہوا باہر ریشمہ اسے مورے جان کا پیغام دے رہی تھی مگر اپنے منہ پہ جمے ہاتھوں وجہ سے وہ کوئی مزاحمت نہیں کرسکی تھی ۔
شش اگر چیخی تو اس حویلی سے لاشے اٹھیں گے حاطب خان اور اسکی معصوم بیوی کے کٹیلہ انداز وہ اسے چھوڑ کے دروازہ کی طرف بڑھ گیا تھا ۔
وہ۔یقیناً اس گھر سے واقف تھا تبھی اتنی آسانی سے اندر آگیا تھا اور چلا بھی گیا۔
وہ بھاگتی ہوئی مورے جان کے پاس گئی تھی مگر وہاں پہ موجود انجان شخص کو دیکھ زرا پیچھے کو ہوئی تھی۔
“آجاؤ زحلے گلریز کوئی غیر نہیں اپنا ہی بچہ ہے زرتاج گل کا بھائی۔”
سلام وروره”
(سلام بھائی)
زحلے نے جھجکتے ہوئے سلام کیا تھا کیونکہ حوالہ ہی ایسا تھا مگر دوسرے ہی لمحے اسکی آواز اور مسکراہٹ سن زحلے کے پاؤں کی زمین سرکی تھی۔
“سلام خوږې انجلۍ”
“سلام پیاری لڑکی )”
یہ آواز ابھی کچھ دیر پہلے ہی تو وہ سن کے آئی تھی وہ جو سوچ کے آئی تھی مورے جان کو اپنے کمرے میں کسی انجان کی غیر موجودگی کی اطلاع کرے گی اب تو زبان ہی تالو سے چپک گئی تھی۔
“مم مورے ہم پھر آتے ہیں”
وہ بنا اس شخص کو دیکھے وہاں سے بھاگنے کے جیسے انداز میں گئی تھی ۔
یہ کیا ہورہا تھا کوئی نئی سازش پھر سے کچھ پلان تھا کہیں زرتاج گل ہی تو نہیں مگر کیوں وہ کیوں ایسا کچھ کرے گی حاطب تو پہلے ہی اسکا دیوانہ تھا بھلا اسے اسے زحلے سے کیا خطرہ ہوسکتا اپنے دکھتے سر کے ساتھ وہ بے چین سی بستر پہ ڈھے گئی۔
غیروں سے پوچھتی ہے طریقہ نجات کا
اپنوں کی سازشوں سے پریشان زندگی..
★★★★★★★
پلکوں پہ لے کے بوجھ کہاں تک پھرا کروں
اے خوابِ رائیگاں میں بتا تیرا کیا کروں …
“ارباب لالہ کیوں اتنے پریشان رہنے لگے ہیں آپ”
اس نے اپنے سے دس سالہ چھوٹےاپنے اکلوتے بھائی کو دیکھا جو شاید اسکے چہرے پہ لکھے درد کو باآسانی جان گیا تھا۔
“کچھ نہیں حاطب خان تم سناؤ کیسی جارہی تمہاری شہر کی پڑھائی پریشہ گل اور دائم کا کیا بنا ۔”
“لالہ ابھی تو پوری کوشش ہے کہ انکو دشمنوں سے بچا کے رکھیں اگر کسی نے اندر کی مخبری نہ کی تو ویسے لالہ آپ کب ہمیں سنا رہے ہیں کسی بھانجے بھتیجی کی خوشخبری”
اسکی بات سنتے ارباب لالہ کا چہرہ ایک دم فق ہوا تھا۔
“بس دعا کرو حاطب اللّٰہ عنقریب خوشخبری دے گا۔”
اسکا لہجہ اور آنکھیں دونوں ایک دوسرے کا ساتھ دینے سے انکاری تھے ۔
اور پھر کوئی خوشخبری تو نہیں لیکن اگلے دن ارباب لالہ کی لاش ضرور آئی تھی خان حویلی والوں کی زندگی کے قرطاس سے اک اور پنہ الگ ہوا تھا اور شاید اس حویلی کا پلٹتا پنہ ایک اور سیاہ قرطاس بنانے لگا۔
تب شمشیر نے ہی گواہی دی تھی کے داوڑ قیبیلے کے شخص نے ارباب کا قتل کیا ہے وہ بھی زمینوں کے تنازعے کی مد میں زرگل آج بھی لاپتہ تھا۔
اور اسکے کرموں کی سزا سہہ رہی تھی اسکی بھتیجی زحلے جو کے ان کے خاندان کی اکلوتی بچی تھی آج تک یہ معمہ حل نہیں ہوسکا تھا کہ زرگل نے ارباب لالہ کا قتل کیوں اور جب پتا چلا تب تک بہت دیر ہوچکی تھی وہ پہلے ہی زمان پہ الزام دھرے اسکے گھر سے ونی لا چکے تھے ۔
سر میں اٹھتی ٹیسیں اسے بے حال کررہی تھی سامنے ہی ارباب لالہ داور خان اور حاطب کی تصویر انلارج سائز میں نصب تھی اسکے اپنے قریبی اسے چھوڑ کے جاچکے تھے اور شمشیر جس کو وہ اپنا ہمراز سمجھے ہوئے تھا وہ بھی کسی اور کا مہرہ نکلا تھا۔
آج اک ہفتے بعد وہ لوٹ آئے تھے زندگی کی چہل پہل اور رونقیں بھی لوٹ آئیں حویلی میں اب زحلے کو کسی کا انتظار نہ تھا نہ دائم کا نہ پریشہ کا اک ان دیکھی آگ میں وہ سلگ رہی تھی۔
زندگی میں خوشیوں نام کی کوئی چیز نہیں تھی ہاتھوں پہ مہندی لگانے تک کا حق اسے نہیں دیا گیا وہ ان اونچی حویلیوں والوں کی روایات کی بھینٹ چڑھ چکی تھی جہاں باہر ٹہرے لوگ اندر والوں کے نصیب پہ واہ واہ کرتے تھے وہیں اندر والے لوگ اپنے نصیبوں کی اتنی سرد روش پہ زندگی سے بیزار نظر آتے تھے۔
زحلے بھی انہیں لوگوں میں سے تھی جو بارہا نور بانو سے ان اونچی حویلی والوں کی اچھی قسمت پہ رشک کی باتیں کرتی تھی مگر جب اسکی مکین بنی تو اندر کی گھٹن اسے وہیں پرانے والی زحلے مانگ رہی تھی جو آزاد تھی کم از کم اسکی نظر میں۔
دروازہ پہ کھٹکا ہوا تو وہ آنسو صاف کرتے اٹھ بیٹھی سامنے ہی حاطب خان اپنے پوری وجاہت اور جاہ جلال سے کھڑا تھا ۔
دھیمے قدموں سے چلتا اس تک پہنچا کیسی ہو زحلے نرم ۔انداز میں کہتا اسکے سامنے بیڈ پہ بیٹھا جو پاؤں پسارے بیٹھی تھی فوراً اپنے پاؤں سمیٹے دل کی رفتار بہت تیز ہوئی تھی اگر جو اس نے پوچھ لیا کہ وہ اب تک یہاں کیوں موجود ہے ریشمہ ساتھ کیوں نہیں گئی تو ۔
حاطب نے اسے سوچوں میں گم دیکھ آہستہ سے ہاتھ بڑھایا اور دوبٹے سے باہر آتی اسکی لٹوں کو اپنے ہاتھ میں لیا وہ خاموشی سے نظریں جھکائے بیٹھی رہی ۔
کچھ کہوں گی نہیں اتنے دن بعد تمہارا شوہر سامنے بیٹھا ہے اور کسی قسم کی کوئی بیقراری نہیں کوئی استقبال نہیں اسکا رخ اوپر کی طرف اٹھاتے اپنے قریب کیا اک آنسو پلکوں کی باڑ توڑے باہر نکلا ۔
اور وہ جو سوچ کے آیا تھا اپنے اس دن والے رویے کی معزرت کرے گا پھر سے وہیں آنسو جن سے حاطب خان کو نفرت تھی اسکی آنکھوں میں دیکھ کھڑا ہوگیا
“تمہیں کسی نے غلط بتا دیا ہے زحلے بیبی کہ آنسو بہانے سے عورت مرد کو زیر کرلیتی ہے مگر مجھے سخت نفرت ہے ان عورتوں سے جو ٹسوے بہاتی ہیں “
اور پھر سے اسکو بازو سے پکڑ کے اپنے برابر کھڑا کیا۔
“یہ جو دنیا میں قتل و غارت ہو رہا ہے نا ان میں پچاس فیصد عورت کے ان جھوٹے مکار آنسوؤں کا ہاتھ ہے جسکو اپنا ہتھیار بنائے وہ ہمیشہ مرد کو زیر کرنے کی کوشش کرتی ہے مگر حاطب خان ان نامردوں میں سے نہیں جو اس ہتھیار سے زیر ہوجائیں خبردار جو تم مجھے آئیندہ روتی دھوتی نظر آئی جان لے لوں گا میں تمہاری “
اسے دھکیلتے باہر کی جانب بڑھا ۔
“اور ہاں پندرہ منٹ بعد مجھے میرے کمرے میں نظر آؤ نہیں تو انجام بھگتنے کو تیار رہنا”
جاتے جاتے وہی دھمکی آمیز لہجہ۔
“واہ بھائی بڑی گرج چمک ہورہی تھی”
تھوڑی ہی دیر بعد زرتاج گل اسکے سامنے ٹہری تھی وہ بنا کچھ کہے وارڈروب کی طرف بڑھی مگر راستے میں ہی رکنا پڑا زرتاج گل نے اسکا ہاتھ پکڑ رکھا تھا
” اتنا نخرہ کسکو دکھا رہی ہو لڑکی اس گھر میں کسی کی اتنی اوقات نہیں کے زرتاج گل کوئی بات کرے اور کوئی ان سنا کردے شعلے برساتی نگاہیں زحلے کے دماغ پہ لگی ۔”
“کیا چاہتی ہیں آپ اک ہی بار جان کیوں نہیں لے لیتے آپ لوگ ہماری۔”
زحلے کا انداز اس سے بھی زیادہ درشت تھا زرتاج گل نے اک لمحے رک کے اپنے سامنے تنی لڑکی کو دیکھا ۔
“بہت پر نکل آئے ہیں تمہارے حاطب خان سے شادی کرکے مگر یاد رکھو مجھے ان پروں کو کاٹنا بھی آتا ہے اس لیے آخری بار کہہ رہی ہوں بچ کے رہنا میرے وار سے کیونکہ اس گھر میں زیادہ دیر تو میں تمہیں ٹکنے نہیں دونگی یہ وعدہ ہے زرتاج گل کا تم سے لڑکی۔”
“زحلے ، مسسز زحلے حاطب خان آفریدی نام ہے میرا محترمہ
زرتاج گل صاحبہ اب تو بھابھی ماں کہنے کا بھی حق نہیں
بنتا کیونکہ آخر کو آپ میری سوتن جو ٹہریں اور میں جو
اکڑ رہی ہوں اسی بات پہ اکڑ رہی ہوں جس بات پہ آپ
کیونکہ ہم دونوں کی حثیت اس حویلی میں اک ہی ہے آپ
بھی حاطب کا بستر گرم کرتی ہیں اور میں بھی خاندانی
بیوی اور “ونی” والی میں کوئی فرق نہیں رکھا اس نے ہاں
مگر اک فرق ہے مرد کے دل پہ ہمیشہ کمسن بیوی راج کرتی ہے اسکی ماں کے برابر کی نہیں۔”
وہ جو چپ تھی آج بولنے پہ آئی تو گویا قبر میں سے مردے بھی نکل کے بولنے لگ گئے تھے۔
زرتاج گل کو تو گویا کسی نے آسمان سے پٹخا تھا وہ لڑکی اسکی برابری پہ اتر آئی تھی اور اتنی دلیری سے ۔
“کیا آپ مجھے راستہ دیں گی مجھے تیار ہوکے اپنے شوہر کے پاس جانا ہے اسکے کمرے میں کیونکہ اس کمرے کی ملکہ وہ مجھے مانتا ہے”
اسہترائیہ انداز میں کہتی اپنی کلائی چھڑواتے آگے کو بڑھ گئی اگرچہ زرتاج کی گرفت پہلے ہی اسکی باتیں سن کے کمزور پڑ گئی تھی مگر پھر بھی اس نے جان بوجھ کے سنوایا تھا ۔
زرتاج ابھی تک حیرت زدہ واشروم کے بند دروازے کو دیکھ رہی تھی اسکی آنکھیں اسکا لہجہ تو کیا یہ سب حاطب کی شہہ پہ تھا نہیں نہیں وہ اس لڑکی کو کبھی نہیں اپنائے گا میں ایسا کبھی نہیں ہونے دونگی آگے بڑھتی واشروم لاک کردیا اور باہر کی جانب بڑھی۔
سامنے سے ریشمہ آرہی تھی ۔
“زحلے بیبی کو خان لالہ بلا رہے ہیں”
اسکا پیغام سن فوراً اسکے دماغ نے تانے بانے بنے تھے۔
“ریشمہ وہ تو اندر ہے ہی نہیں تم دیکھو کہیں اور ہوگی اور ہاں یہ روم کیوں اوپن ہے دی جان نے منع کیا تھا نا زحلے کا روم لاک کر دینا پھر”
ریشمہ اسکی بات سمجھتی آگے کو بڑھی اور روم لاک کرتی چابیاں دی جان کے حوالے کرتی حویلی میں اسے ڈھونڈنے لگی۔
