Qirtaas by Uzma Mujahid NovelR50593 Qirtaas (Episode 03)
Rate this Novel
Qirtaas (Episode 03)
Qirtaas by Uzma Mujahid
داور خان آفریدی کے سامنے جب اس سہمی ہوئی چڑیا کو لایا گیا اک لمحے کو انکے دل۔میں عجیب چبھن ہوئی وہ جو پڑھ لکھ کے اس قبیلے کی روایات توڑنا چاہتے تھے پھر سے اپنے بچوں کی سلامتی کیلئے وہ ہار مان گئے مگر وہ آج پہلی بار اس بچی کو دیکھ رہے تھے جسے اپنے بڑے بیٹے کے خون بہا کے بدلے لائے تھے۔۔۔۔۔
“دلته راشه انجلۍ ستا نوم څه دی”
(ادھر آو لڑکی کیا نام ہے تمہارا )
کڑک آواز سن وہ مزید سہمی تھی ۔۔
زز زحلے تھوک نگلتے اپنا تعارف کروایا۔۔۔۔
کیونکہ ان آنکھوں کی سختی اسے مزید سہما رہی تھی۔۔۔
انہوں نے سامنے موجود گل بانو کی طرف اشارہ کیا یہ۔تمہاری ماں اور بابا آج سے تم ان لوگوں کے ساتھ رہو گی مگر اس حویلی کے آس پاس بھی نظر نہ آنا۔۔۔۔۔۔۔
زحلے نے سامنے موجود اپنے ماں باپ کو دیکھا گل بانو نے بھاگ کے اسے اپنے پروں میں سمیٹا تھا جبکہ شیر خان کا چہرہ کسی بھی تاثر سے عاری تھا۔۔۔۔۔
آج سے یہ تمہاری زمداری ہے مگر دھیان رہے وقت آنے پہ اسے لوٹ کے یہی آنا ہے گل بانو کی طرف دیکھتے اسے جتاتے لہجے میں کہا اسکی ممتا کیلئے اتنا ہی کافی تھا کہ اسکی گود ہری ہوگئی تھی۔۔۔۔
داور خان ان لوگوں پہ نظر ڈالتے وہاں سے چلے گئے تھے اور گل بانو زحلے کو اپنے ساتھ سرونٹ کواٹر لے گئی۔۔
بڑھتی عمر کے ساتھ اسکے زہن پہ نقش بہت ساری یاد بھول۔چکی تھیں اگر کچھ یاد تھا تو کسی نے اسکا ہاتھ اک عورت سے چھڑایا تھا اور پھر کسی نے اسکا ہاتھ گل بانو کے ہاتھ دیا تھا اس بیچ کے درمیان کیا تھا وہ بھول۔چکی تھی۔۔۔۔۔۔
گل بانو حویلی کام۔کرنے جاتی تو اسے گھر میں بند کرکے ہی جاتی پھر جب وہ۔کچھ سمجھدار ہوئی اسے اپنے ساتھ لے جاتی مگر اندر کبھی نہیں لے گئی وہیں صحن میں حویلی کے بچوں ساتھ چھوڑ دیتی آہستہ آہستہ وہ ان بچوں سے مانوس ہوگئی جو کہ دائم اور پریشہ تھے۔۔۔۔
اک۔دن حویلی سے اک جنازہ اٹھتے اس نے دیکھا سفید کفن میں ملبوس کون تھا وہ اور کہاں لے جارہے تھے اسے کچھ نہیں پتا تھا مگر دودن بعد دائم۔اور پریشہ جب باہر کھیلنے نہیں آئے بالاآخر اس نے خود ہی گل بانو سے پوچھ لیا
“ماں وہ۔کون تھا جسکو حویلی والے چارپائی پہ لے گئے اور واپس نہیں لائے”
بیٹی وہ داور خان تھا اس علاقے کا حاکم مگر اپنے گھر کی جلائی آگ میں خود ہی جل کے مرگیا گل بانو کے آنسو اسکے چہرے پہ گر رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تبھی شیر خان آیا کس کا سوگ منا رہی تم اپنے پرانے شوہر کے مرنے کا یاپھر بیٹی کے بیوہ ہونے کا
” گل بانو نے صدمے بھری نگاہوں سے اسے دیکھا “
“پرانا شوہر کیا ہوتا ماں”
بارہ سالہ زحلے کی بات پہ وہ خاموشی سے اسے تکتی رہی اسکے پاس کوئی جواب نہیں تھا”
★★★★★★★
رات تھی کے کٹنے میں نہیں آرہی تھی حاطب صوفے پہ بیٹھے اونگھ رہا تھا
بہتر تھا اس مصیبت کو اسکے روم میں ہی چھوڑ آتا کچھ سوچ کے اس نے اپنی سوچ پہ عمل کا سوچا اور اسے پھر سے اٹھائے اسکے کمرے میں لے آیا
زحلے کی آنکھ اپنے اوپر جھکے وجود کو محسوس کر کے کھلی بے ساختہ اسکے لبوں سے چیخ نکلی جسے حاطب نے اسکے لبوں پہ ہاتھ رکھ کے درمیان میں ہی روک لیا تھا۔۔۔
وہ اسے اپنے سامنے اتنے قریب دیکھ اسکی سانس اٹکی تھی
جبکہ اسکی آنکھیں حاطب کو مسمرائز کرنے لگیں وہ بے ساختہ اسکے ہونٹوں پہ جھکا ۔۔۔۔۔۔
زحلے کو کچھ بھی سمجھ نہیں مگر جیسے ہی حواس بیدار ہوئے خود کوچھڑواتی اس سے دور ہوئی مگر حاطب شاید ابھی ماحول کی فسوں خیزی کا شکار تھا ۔۔۔
تبھی زحلے کا ہاتھ اٹھا تھا اور کمرے میں پھیلے فسوں کو توڑا حاطب حیرانی سے اس لڑکی کو حیرت دیکھ رہا تھا۔۔۔
“شرم آنی چاہیئے آپ۔کو حاطب لالہ میں پریشہ جیسی ہوں اس گھر میں اگر مورے جان نے مجھے رکھا ہے تو کسی اعتماد کے تحت اور آپ انہیں ہی دھوکا دے رہے میں سب کو آپکا مکروہ چہرہ دکھاؤں گی میں مورے جان کو آپکی اصلیت بتا دونگی کے کیسے آپ نے میری عزت پہ “۔۔۔۔
وہ کہتے کہتے پھر سے رونے لگی جبکہ حاطب ابھی تک اپنے گال پہ اسکے ہاتھوں کی سختی محسوس کررہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
تمہاری جرأت کیسے ہوئی حاطب خان آفریدی پہ ہاتھ اٹھانے کی تم دو کوڑی کی لڑکی اس پہ جھپٹتے اپنے سامنے کھڑا کیا جبکہ زحلے کو بھی اب احساس ہوا کہ وہ کیا کرچکی تھی۔۔۔
مم مجھے معاف کردیں حاطب لالہ میں کسی کوکچھ نہیں کہوں گی حاطب اسے بیڈ پہ گراتے اسکی جانب جھکا تھا دوپٹہ سے تو وہ پہلے ہی آزاد ٹہری تھی ۔۔۔۔
اپنی دونوں آنکھیں ہاتھوں پہ رکھے شاید وہ اپنی عزت کی پامالی ہوتے نہیں دیکھ سکتی ۔۔۔۔۔۔
حاطب نے اس سہمی چڑیا جیسی لڑکی کو دیکھا اور پیچھے ہٹتے لمبے لمبے ڈگ بھرتا اسکے کمرے سے نکل گیا۔۔۔
اگے دن وہ۔پھر سے بخار میں پھنک رہی تھی ریشمہ نے مورے جان کو کال کرکے اسکی طبیعت سے آگاہ کیا تو زرتاج کو چھوڑے فوراً حویلی پہنچی تھیں۔۔۔۔
اور کب سے بیٹھیں اس پہ سورتیں پڑھ پڑھ پھونکے جارہی تھیں شمشیر انکا خاص ملازم ڈاکٹر کو لے آیا جسکے مطابق بارش میں بھیگنے کی وجہ۔سے اس کی یہ حالت تھی۔۔۔
اور پھر مورے جان نے سب نوکروں کو لائن میں کھڑا کرکے اس سے اتنی لاپروائی برتنے پہ سخت سست سنائی۔۔۔
اسکا کملایا ہوا رنگ انہیں ابہام میں ڈالنے لگا۔۔
کوئی بھوت پریت نا عاشق ہوگیا ہو مورے جان کی بات سنتی ریشمہ منہ پہ دوپٹہ ہنسنے لگی ۔کیا ہوا کس لیے ہنس رہی اتنی نازک حالت میں مورے جان کو اسکا ہنسنا اچھا نہیں لگا۔
کچھ نہیں دی جان بس ۔۔۔۔۔
“دیکھو ریشمہ اگر کچھ ایسا ہے جو ہم۔سے نہیں چھپا ہونا چاہیئے پھر بھی تم چھپا رہی ہو تو یاد رکھنا ہم تمہیں زندہ زندان میں ڈال دیں گے”
ریشمہ کے تاثرات اک دم پھیکے پڑے دی جان وہ۔اور رات والا۔واقع انکے گوش گزار کیا۔۔
ہنم ٹھیک ہے بس یہ بات ادھر ہی ختم کردیں اب آپ لوگ جائیں ہم بھی اپنے کمرے میں آرام کریں گے حاطب آئیں انہیں ہمارے کمرے میں بھیجئے گا اک نظر پرسکون سوئی زحلے پہ ڈالی تھی اور اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئیں۔۔۔
جی مورے جان بلایا آپ نے کمرے میں داخل ہوتے اس نے جائے نماز پہ بیٹھی اپنی ماں پہ ڈالی
“حاطب تو پھر کیا سوچا تم نے ہماری بات کے متعلق “
اپنی بات مکمل کرتے وہ حاطب کے چہرے کے زاویے دیکھنے لگیں جو بلکل سپاٹ تھے ۔۔۔
جو آپ کا فیصلہ ہوگا ہمیں منظور ہوگا مورے وہ نظریں جھکائے ان کے پاس بیٹھا۔۔۔۔۔۔۔۔
“ٹھیک ہے تو پھر ہمارا یہیں فیصلہ ہے کے ہم زحلے کو باقاعدہ تمہارے ساتھ رخصت کروالیں”
۔انکی بات اندر داخل ہوتی زرتاج کے قدم جکڑ گئی ۔
“یہ کیا کہہ رہیں ہیں دی جان آپ بھلا کیسے آپ اپنے بیٹے کے قاتلوں کو اتنی آسانی سے معاف کرسکتی ہیں اور وہ لڑکی جسے آپ نے اس گھر کی نوکرانی بنانا ہے اسے ہمارے سروں پہ بیٹھا رہی ہیں اور تم حاطب خان اسکی خوبصورتی پہ مرمٹے نا اسیلئے آپنے باپ کی دائشہ کے ساتھ نکاح پڑھوانے پہ راضی ہوگئے تف ہے تم پہ”
اپنی بات مکمل کر کے اس نے جونہی حاطب کی جانب نگاہ کی اک تھپڑ پڑا تھا دی جان کی طرف سے ۔ڈوب مرو زرتاج گل تم اپنے مرحوم ماموں کی زات پہ اتنا بڑا کیچڑ اچھال رہی ہو
جانتی کیا ہو تم اس رشتے کے بارے میں جو اتنا بول رہی ۔۔۔۔
حاطب نے بھی اک کرلاتی نظر اس پہ ڈالی اور کمرے سے نکل گیا باہر زحلے فق ہوتے چہرے کے ساتھ رکی تھی اس لگ رہا تھا جیسے کسی نے اسکی آنکھوں میں مرچیں بھر دی ہو۔۔۔
۔دائشہ حاطب کے باپ کی دائشہ مطلب داور خان اس سے آگے کچھ نہیں سوچ سکی اور گم۔ہوتے حواسوں میں اس نے جو آخری چہرہ دیکھا وہ حاطب کا تھا جو اس پہ جھکا اسکے گال تھپتھپا رہا تھا۔۔۔۔۔۔
★★★★★★★
دائم پریشہ جب کھیلتے اس نے اکثر انکے لالہ کو ان سے لاڈ پیار کرتے دیکھا تھا اسکا بھی دل چاہتا کہ حاطب اس سے بھی انہی کی طرح پیار کرے مگر وہ جب سامنے آتی حاطب عجیب نظروں سے دیکھتا جیسے اسے پریشہ اور دائم کے ساتھ اسکا کھیلنا پسند نہ ہو۔۔۔۔۔۔
اس گھر میں اک اور ہستی کی بھی وہ ناپسندیدہ تھی اور وہ تھی حاطب کی بیوی زرتاج گل ان دونوں کی اسقدر وجہ نفرت وہ سولہ سال۔تک کی عمر میں پہنچ کے بھی نہیں سمجھ پائی تھی۔۔۔۔۔۔۔
“ماں یہ بھابھی ماں کیا واقعی حاطب لالہ کی بیوی ہیں”
جوانی کی دہلیز پہ قدم رکھتے ہی اسے شعور کی منزل طے کروائی
“ہاں گڑیا مگر تم کیوں پوچھ رہی”
“بس ایسے ہی کبھی کبھی مجھے ایسے لگتا وہ انکے بیٹے ہوں”
اپنی بات کر کے وہ خود ہی ہنس پڑی تھی۔۔۔۔۔
عمروں کا فرق صاف نظر آتا تھا پچیس سال کا حاطب اور سینتیس کا ہندسہ عبور کرتی زرتاج گل کہیں سے بھی حاطب لالہ کے جوڑ میں نہ تھی مگر جانے کیا مجبوری تھی جو انہوں نے اپنے سے دوگنا بڑی عورت سے شادی کرلی دیکھنے والے سوچ سکتے تھے کسی میں اتنی جرأت نہ تھی وہ حویلی والوں اس بےجوڑ رشتے کا پوچھتے ۔۔۔۔۔۔۔۔
اکثر گل۔بانو اور شیر خان کو اس بات پہ جھگڑتے دیکھتی جو اسے کہتا زحلے کو ہر راز سے آگاہ کردو مگر وہ صیح وقت کا انتظار کرنے کا کہتی اور آج وقت نے انتظار ہی نہیں کیا اور اسکے سامنے کڑوی حقیقتں لارکھی نجانے ابھی اور کونسے راز تھے جن سے وہ آگاہ نہیں تھی۔۔۔
≡★≡★≡★
ادھورے قصے اور ادھورے خواب سوائے ازیت کے کچھ نہیں دیتے زحلے ان ادھوری حقیقتوں سے آگاہ ہوتے پل پل بے چینی میں گزار رہی تھی اس دن کے بعد اس نے بنا کسی سے کوئی بات کیے خود کو اپنے کمرے میں مقید کرلیا وہ نہیں جانتی تھی کہ وہ کسکو اپنا غصہ ناراضگی دکھا رہی تھی ان لوگوں کو جو اسکے اپنے بھی نہ تھے۔۔۔
دی جان بڑی مشکلوں سے دروازہ کھلواتی اسکے پاس آبیٹھی تھیں ۔۔۔
زحلے بیٹی ہم تمہیں خود بہت کچھ بتانا چاہ رہے تھے مگر زحلے نے اک نگاہ مورے جان پہ کی جو شرمندہ دکھائی دینے لگی تھیں۔۔۔۔۔۔۔ ۔
“مورے جان ہمیں ایسی ظالم حقیقتوں سے آشنا نہ کروائیں جو ہمارے لیے جان لیوا ثابت ہوں ہمیں اپنے طلسمی خوابوں کے محل میں رہنے دیں “
وہ روتے ہوئے انکے گلے لگ گئی مورے جان نے پیار سے اسکی کمر سہلائی
“ہم آپ سے وعدہ کرتے ہیں زحلے اس گھر میں کوئی آپ سے زبردستی نہیں کرے گا کسی معاملے میں بھی جب تک آپ اٹھارہ سال کی نہیں ہوجاتیں پہلے بھی داور خان اور ہم۔نے گل بانو اور شیرخان سے اس چیز کا وعدہ۔لیا تھا کے وہ آپکو اٹھارہ سال۔تک اس حویلی کی امانت سمجھ کے اپنے پاس رکھیں گے مگر برا ہو اسوقت کا جو ان دو خوبصورت لوگوں کو اپنے چکر میں بہا کے لے گیا”
” مگر ہم اپنی ممتا سے مجبور ہوگئے زحلے ہمیں اس حویلی کا وارث چاہئے ہم چاہتے ہیں حاطب کے ساتھ آپکو رخصت کردیں”
۔زحلے کے دماغ میں جھماکا ہوا پہلے داور خان اور اب حاطب لالہ
“نہیں دی جان ہم حاطب لالہ سے شادی نہیں کرسکتے وہ بھابھی ماں ہمیں مار دیں گی وہ پہلے ہم۔سے بہت نفرت کرتی ہیں ہم دائم لالہ سے شادی کرلیں گے”
مورے جان نے اسکے ناسمجھ انداز کو دیکھا اور چپ رہ۔گئیں۔۔۔۔
حاطب ہمیں لگتا شاید ہمارا فیصلہ کچھ زیادہ جلد بازی میں ہوا اور اسکے بعد زحلے کی تمام باتیں اسکے گوش گزار کیں اسکےماتھے پہ واضع سلوٹیں نمودار ہوئی تھیں
” مورے جان آپ اک بار پھر سے اس حویلی میں شادیانے بجانے کی تیاری کریں اور زحلے کو منانے کی زمداری ہم پہ چھوڑ دیں”۔۔
“دیکھو حاطب وہ معصوم ہے اور تمہارا دارا جان ہمیشہ اسکے معمالے میں خدا سے ڈرتے رہ کچھ ایسا ویسا کرکے انکی روح کو دکھی مت کرنا”
مورے جان کی بات سن ہلکا سا مسکرایا تھا۔۔۔
★★★★★★★
تم کیا سمجھتی حاطب خان کو اپنی اداؤں میں پھنسا کے اسے لبھا کے تم اسے مجھ سے چھین لوگی تمہاری سب سے بڑی غلطی ہے زحلے میں خاندانی بیوی ہوں اور رہونگی تم کیا ہو جسکو اپنے اصل ماں باپ تک کا نہیں پتا اک “ونی” کی گئی لڑکی زرتاج گل کا مقابلہ کرے گی کبھی اس بھول میں مت رہنا لڑکی اس گھر اور حاطب کیلئے میں نے بڑے بڑے سورماؤں کو اپنے آگے پچھاڑا ہے تو تم کیا چیز ہو پھر۔۔۔۔۔۔
زلحے خوفزدہ سی بھابھی ماں کو دیکھے جارہی تھی انکا آج کا روپ پچھلے برسوں سے بھی زیادہ برا تھا۔۔۔
“آپ غلط سمجھ رہی ہیں بھابھی ماں”
وہ ہلکا سا ممنائی جب زرتاج نے اسکا چہرہ اپنے کرخت ہاتھوں میں لیا تھا
” آخری بار کہہ رہی ہوں اگر چاہو تو اس حویلی سے بھاگ جاؤ میں مدد کرونگی دوسری صورت میرے ہاتھوں مرنے کیلئے تیار رہنا”۔۔۔۔
زرتاج نے زلحے کے منہ پہ تھوکا تھا اپنی اتنی بے عزتی پہ وہ دونوں ہاتھوں میں منہ چھپا کے روپڑی تھی ۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔
