Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Qirtaas (Episode 04)

Qirtaas by Uzma Mujahid

میز قلم قرطاس دریچہ سناٹا

کمرا کھڑکی زرد اجالا سناٹا

میری آنکھوں میں دھندلائی گہری چپ

اور چہرے پر اترا پیلا سناٹا

میری آنکھوں میں لکھی تحریر پڑھو

ہجر تمنا وحشت صحرا سناٹا

گونج اٹھی ہے میرے اندر خاموشی

نس نس میں گھٹ گھٹ کر بہتا سناٹا

اس کے ساتھ چلی آتی تھیں قلقاریں

اس کے بعد ہوا ہے کتنا سناٹا

پہلے میری ذات میں تھا موجود کوئی

اب ہے میری ذات کا حصہ سناٹا

جھاگ اڑاتے دریا کے ہنگامے پر ۔۔۔۔۔

نقش ہوا دل پر افسردہ سناٹا

میں نے گھنٹوں اس امید پہ چپ سادھی

شاید کہ وہ توڑ ہی دے گا سناٹا

مل کر بین کریں سب میری ہجرت پر

چاند اداسی جھیل کنارا سناٹا ۔۔۔۔۔

کتنی دیر وہ زرتاج گل کی باتیں سوچتی رہی اسکے جملوں کی بازگشت اسے کسی طرح چین نہیں لینے دے رہی تھی

بلا آخر وہ نتیجے پہ پہچتی اپنا سامان سمیٹے وہاں سے رخصت ہوگئی حویلی کے پچھواڑے میں ہی زرتاج گل ہاتھوں میں اک بیگ لیے اسکا انتظار کررہی تھی ۔۔۔۔

“بہت اچھا فیصلہ کیا ہے تم نے لڑکی امید ہے تمہارا سفر آخرت اچھا گزرے “

ذومعنی انداز میں کہتی وہ اندھیرے میں گم گئی اک ہیولہ سا اسکے سامنے گیٹ سے پار کرگیا تھا۔۔۔۔

اک اور بازی زرتاج گل نے اپنے نام کر لی لڑکی دل میں مسکراتے وہ حاطب کے کمرے کی طرف بڑھی تھی کیونکہ اب جو وہ کرنے والی تھی وہ زحلے کا سفر آخرت ہی بننے والا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔

“خدای دې زما دښمنانو ته خیر ورکړي”

“خدا میرے دشمنوں کو سلامت رکھے

حاطب کے کمرے کی طرف بڑھتے بند ہوتے گیٹ دیکھتی بڑبڑائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“اٹھ جاؤ حاطب خان جسکو تم عزت بنانے کا سوچ رہے وہ گھر کے ملازم کے ساتھ منہ کالا کرکے بھاگ رہی ہے “

حاطب کو اٹھاتی وہ دی جان کے کمرے کی طرف بڑھی تھی جبکہ وہ سرخ آنکھیں لیے دھاڑتے ہوئے شیر کی طرح ملازموں کو اکھٹا کرنے لگا مورے جان بھی ہانپتی کانپتی اس تک پہنچی تھیں۔

“سب آپکی ڈھیل کا نتیجہ ہے مورے جان “

اور وہ بھی اپنے بیٹے کے سامنے مجرم بن ٹہر گئیں ۔۔۔۔۔

کچھ دیر بعد زحلے کو بھی پکڑ کے اسکے سامبے لایا گیا تھا

بنا نوکروں کے لحاظ حاطب خان آفریدی نے اسکے سر سے چادر کھینچی تھی ۔۔۔

مگر دوسرے ہی لمحے سب کی آنکھیں حیرت سے پھٹنے کو تیار تھیں جہاں وہ زحلے کی جگہ ریشمہ کو دیکھ رہے تھے سب سے بری حالت تو زرتاج گل کی تھی۔ ۔۔۔

ریشمہ تم زحلے کہاں ہے مورے جان نے آگے بڑھتے اسے بالوں سے پکڑا تھا جبکہ وہ ان سے معافی مانگتی رونے لگی تھی ۔۔۔۔۔

“زحلے بیبی تو اپنے کمرے میں ہیں دی جان “۔۔

زرتاج کو لگا گلے میں اسکی سانس اٹک گئی تھی اس نے خود زحلے کو رقم کا بیگ پکڑوا کے حویلی سے باہر کیا تھا پھر کیسے اسکا دماغ اس ہوئی گڑبڑ کے تانے بانے سلجھانے لگا۔۔۔۔۔

اور کچھ دیر بعد زحلے بھی انکے سامنے تھی۔۔۔

اس نے سب کو جانے کا کہا اور اسے بازو سے پکڑے مورے جان کے کمرے میں لایا تھا جبکہ مورے جان بھی اسکے پیچھے تھیں۔۔۔۔۔

۔

کیا کھیل کھیلا جارہا ہے کوئی بتائے گا مجھے اسکی دھاڑ پہ ریشمہ اور زحلے دونوں کی جان نکلنے لگی اور پھر زحلے نے بھی ریشمہ والا بیان دیا کے کیسے زرتاج نے اسے ڈرایا دھمکایا اور پھر کہیں امان نہ پا کے اس نے ریشمہ سے مدد مانگی تھی زرتاج گل سے پیسے زحلے نے لیے تھے اور کچھ دیر کو وہ باہر بھی گئی مگر پھر اپنے پلان کے مطابق وہ واپس آگئی اور اپنی جگہ ریشمہ کو شمشیر کے ساتھ بھیج دیا تھا ۔۔۔

اس سب میں حاطب کو شمشیر کی غداری کھولائے جارہی تھی مورے نے آگے بڑھ کے اسے اپنے حصار میں لیا وہ بھی اسی پہ نگاہ جمائے بیٹھا تھا۔۔۔۔۔۔

مورے جان آج سے زحلے ہمارے کمرے میں رہے گی اسکی بات سن وہ ساکت ہوگئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

★★★★★★★

داور خان آفریدی کو پاکستان واپس آئے ابھی چند دن ہی ہوئے تھے انکے بھائی داؤد خان کو ساتھ کے قبیلے والوں اپنی لڑکی بھگانے کے جرم میں قتل کردیا کیونکہ زرمینہ کو وہ لیے ملک سے فرار ہوگیا تھا انکا خیال تھا واپس آتے ہی وہ اس قبیلے والوں سے صلح کرلیں گے مگر موت انکو یہاں کھینچ لائی انکے دو بچے پریشہ گل اور دائم خان آفریدی کو داور خان نے اپنی پناہ میں لے لیا ان کی ماں زرمینہ شوہر کی جدائمی جدائی برداشت نہ کرسکیں دائم کی پیدائش کے کچھ عرصہ بعد اس دار فانی سے کوچ کرگئی۔۔۔۔۔۔

داؤد کی زندگی کا دائرہ قرطاس سیاہ پڑا تو کسی اور کی زندگی کا باب کھل گیا۔۔۔۔۔

اسکے ازالے کیلئے جرگہ نے دوسرے قبیلے کی لڑکی کو ونی کرنے کا اعلان کیا مگر داور خان نے اس چیز کو منع کردیا وہ خون کے بدلے خون ہی چاہ رہے تھے مگر اپنے بچوں کا واسطہ دی دیتی دی جان نے جرگہ کی بات ماننے کیلئے انہیں تیار کیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ان کے دو بیٹے ارباب اور۔حاطب میں سے کسی ایک کے ساتھ وہ اس لڑکی کو نکاح میں دینا چاہتے تھے داور خان اپنے معصوم بچوں کو دیکھتے اور جن میں ارباب تو پہلے سے شادی شدہ تھا اور دائم حاطب ابھی بہت چھوٹے تھے۔۔۔۔۔۔

وہ نہیں چاہ رہے تھے کہ ان کے بچے ان رسموں کے منجدھار میں پھنسیں اسلئے انہیں گل بانو سے خود نکاح کرنا پڑنا دی جان نے اس معاملے میں مکمل چپ سادہ۔لی داور خان کو اپنی من چاہی بیوی کا دل دکھانا بہت بے چیں کررہا تھا۔۔۔۔۔

اسلیئے انہوں نے گل بانو کو آزاد کردیا اور عدت کے بعد اسکا ناکح اپنے خاندانی ملازم شیر خان سے کروا دیا تھا۔۔۔

زندگی پرسکون ڈگر پہ رواں دواں تھی جب اچانک ارباب خان کے قتل نے حویلی میں پھر سے کہرام مچا دیا اس بار کا فیصلہ بھی ان کی من مرضی کا نہ تھا قبائل اور بزرگوں کی پگڑیاں انہیں ناچاہتے ہوئے بھی رسم ورواج کا پابند کرگئیں۔۔۔۔۔

تھیں اک اور گل بانو اس حویلی کی کنیز بننے آرہی تھی مگر اس بار کا معاملہ کچھ الگ تھا آنے والی لڑکی دی جان کی بہن کی پوتی تھی اسیلئے دی جان نے حاطب کو قربانی کیلئے پیش کیا ۔۔۔۔۔۔

وہ بھلا اپنے بھائی کے قاتلوں کی لڑکی کو کیسے برداشت کرتا مگر داور خان کی حکم عدولی اسکے بس میں نہیں تھی اور اسے لا کے حویلی کے زندان میں ڈال دیا گیا وہ مکمل زرتاج کے رحم وہ کرم پہ تھی اپنے سے بارہ سال چھوٹی دلہن بیس سالہ حاطب کو کوئی مزاق ہی لگا تھا مگر اسے شدید جھٹکا تب لگا جب داور خان نے زرتاج کو اپنے ارباب کی محبت میں اسی گھر میں رکھنے کا فیصلہ کیا اسکا نکاح دوسری بار پڑھوایا گیا اور وہ بھی اس سے جسے وہ بھابھی ماں کہتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔

★★★★★★★

“ہم حاطب لالہ کے کمرے میں نہیں جائیں گے مورے جان”

وہ کب سے مورے جان کی منتیں کیے جارہی تھی مگر وہ جیسے سن ہی نہیں رہی تھیں۔۔۔

“زحلے بیوی اپنے شوہر کے کمرے میں ہی اچھی لگتی ہے”

مورے کی بات سنتی زحلے کرنٹ کھا کے پیچھے ہوئی تھی یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ ہم حاطب لالہ کی بیوی کیسے ہو سکتے ہیں وہ تو زرتاج گل ۔۔۔۔۔

“حلے آپ حاطب خان کی بیوی بن کے اس گھر میں آئی تھیں جب آپ صرف آٹھ سال کی تھیں سوارہ لیا تھا ہم نے اپنے بڑے بیٹے کے قتل پہ “

مورے جان کے چہرے پہ اس وقت پتھروں کے جیسی سختی تھی ۔۔

نن نہیں یہ جھوٹ ہے یہ ممورے۔۔۔

“زحلے سوارہ(ونی) سے اچھے سے آگاہ تھی وہ جب بھی گل۔بانو سے انکے رشتداروں کا پوچھتی وہ کہتی بیٹی جو لڑکیاں ونی ہوکے آتیں انکا کوئی میکہ کوئی سسرال نہیں ہوتا وہ تو شاید لڑکیاں ہی نہیں ہوتیں مالک کی مرضی جس کھونٹے سے باندھ دے مالک کی مرضی چارہ ڈالے نا ڈالے “

تو کیا اس نے بھی اپنی ماں جیسی قسمت پائی تھی پر کیوں شیر خان نے بڑے خان کے بیٹے کو قتل کیوں کیا اور زرتاج گل کا اسے داور خان کی دائشہ کہنا اسکے دماغ میں ان گنت خیال ابھرے جنکا جواب گل بانو دے سکتی تھی یا پھر اس گھر کا کوئی فرد ۔۔۔

مورے آپ کے بڑے بیٹے کا قتل کس نے کیا تھا وہ تو آج تک اس چیز سے بھی انجان تھی کہ مورے کا بھی کوئی دائم اور حاطب کے علاوہ کوئی بیٹا تھا۔۔۔۔۔

تمہارے باپ گل زمان خان نے قتل کیا تھا ارباب خان کو اک اور دھچکا اسکی زات کو تو کیا وہ گل بانو اور شیر خان کی بیٹی نہیں مورے جان نے شاید اسکے چہرے پہ تحریر سوال پڑھ لیا تھا۔۔۔۔۔

“گل بانو داؤد خان کے قتل پہ ونی ہوکے داور خان کے نکاح میں آئی تھی مگر وہ جو روایات سے سرکش رہے اپنی زات سے کسی اور کو جوڑ کے خدا کے آگے شرمندہ نہیں ہونا چاہتے تھے اسیلئے انہوں نے اسے طلاق دے کے شیرگل سے شادی کروا دی تاکہ وہ خوشحال زندگی گزار سکے اور کچھ سالوں بعد تم آگئی حاطب کے نکاح میں زرتاج گل کے رویے سے تنگ آکے بڑے خان نے تمہیں گل بانو کی گود میں ڈال دیا تاکہ اک گھر والے ماحول میں رہ سکو ورنہ زرتاج اور باقی حویلی کے لوگوں کی نفرت دیکھ ہم کسی مظلوم کی آہ نہیں لینا چاہتے تھے”۔۔۔۔۔۔۔

اک نظر بے آواز روتی زحلے پہ ڈالی اور بنا کچھ بولے الماری کی طرف بڑھ گئیں واپس آئیں انکے ہاتھ میں اک عروسی جوڑا تھا جو یقیناً مورے جان کا اپنا سوٹ تھا۔۔

“ہماری خواہش ہے کہ تم یہ جوڑا زیب تن کرو ہمیں اس حویلی کا وارث چاہیئے زحلے ہماری تمام امیدیں آپ سے جڑی ہیں یقیناً آپ ہماری بات سمجھ رہی ہونگی جائے ہم آپکو کچھ دیر تک حاطب کے کمرے میں چھوڑ آئیں گے”۔۔

مورے جان اپنا فیصلہ سنا کے جائے نماز اٹھائے اپنی عبادات میں مشغول ہوگئیں جو کہ واضع اشارہ تھا وہ۔اب اس کمرے سے جاسکتی ہے ۔۔۔

اپنے مردہ وجود کو اٹھائے زحلے کمرے سے باہر آئی اک نظر اس جوڑے پہ ڈالی اور مورے جان کی بات پہ عمل کرنے لگی اس کے پاس اس چیز کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا تیس چالیس سال پرانا غرارہ آج بھی اک نئی شان لیے ہوئے تھا۔۔۔

آئینے میں نظر آتے اپنے عکس پہ نگاہ کی تو کچھ بھی روایتی دلہنوں والا احساس بیدار نہیں ہوا تبھی دروازہ کھول کے ریشمہ اندر آئی زحلے بیبی یہ دی جان نے بھیجوائے ہیں کہا ہے کہ آپکو پہنا دوں ہاتھوں میں زیور لیے وہ اسکے سامنے کھڑی تھی وہ ریشمہ کو دیکھتی ڈریسنگ کے۔سامنے بیٹھ گئی ۔۔

وہ آگے بڑھ کے اسکا ہار سنگھار کرنے لگی ۔یہ دی جان کے خاندانی زیور ہیں پہلے تو زرتاج بیبی کے پاس ہوتے تھے شاید اپنی باتوں میں مگن ریشمہ اسکے تاثرات نہیں دیکھ سکی تھی ۔۔۔۔۔۔۔

کچھ دیر میں مورے جان اسے اپنے ہمراہ لیے حاطب کے کمرے کے سامنے کھڑی تھیں وہ بنا دستک دیے اندر داخل ہوئیں جہاں اندر کا منظر دیکھ انکو بنا دستک اندر داخل ہونے پہ افسوس ہوا وہیں زحلے کو زرتاج گل کی اترن سے گھن آئی ۔۔۔۔۔۔

سامنے ہی وہ حاطب کے گلے لگے بھیگی پلکیں لیے کھڑی تھی زحلے کا سجا سنورا روپ دیکھ اک قہر برساتی نگاہ اس پہ ڈالے وہ تیزی سے باہر کو نکلی زحلے اپنے شاندار استقبال پہ نم آنکھوں سے سامنے ٹہرے اپنے ما لک کو دیکھنے لگی تھی۔۔۔۔۔۔

مورے جان نے اسے بیڈ پہ بٹھا دیا اور حاطب کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کرتی کمرے سے نکل گئیں زحلے کو تو جیسا موقع چاہیئے تھا وہ تکیے پہ سر رکھے پھوٹ پھوٹ کے رو دی آج اسکے پاس رونے کی وجوہات زیادہ تھیں اسکے آنسو کم پڑ جانے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔

حاطب کمرے میں آیا تو وہ بیڈ پہ تکیے پہ سر رکھے سورہی تھی اس نے گھڑی پہ نگاہ دوڑائی جہاں رات کے چار بج رہے تھے اس سب ہنگامے میں کوئی بھی نہیں سو پایا تھا اک مطمئن نگاہ اس پہ ڈالے وہ واشروم کی جانب بڑھ گیا ۔۔۔۔

★★★★★★★

دھڑدھڑاتے دروازے کی آواز پہ وہ اٹھ بیٹھی کچھ دیر تو سچویشن کو سمجھنے میں لگی

“کیا مصیبت آگئی ہے جو اتنا اندھا دھند دروازے پہ دستک دی جارہی ہے “

حاطب کی آواز پہ وہ بری طرح چونکی رات کا واقع تو وہ بھول گئی_

“مم میں دیکھتی ہوں “

وہ جلدی سے بستر سے کھڑی ہوتی دروازے کی طرف بھاگی سامنے ہی زرتاج چہرے پہ شدید غصہ لیے کھڑی نظرآئی اک نظر سامنے موجود بے ترتیب انداز میں کھڑی دوبٹے سے لاپرواہ زحلے پہ ڈالی آگے کو بڑھی۔۔۔۔۔۔

” خان مجھے آپ سے بات کرنی ہے “

زحلے کو دھکا دینے والے انداز میں ہٹاتی وہ حاطب کے سامنے آٹہری۔۔۔۔۔

” یہ کیا طریقہ ہے زرتاج گل کسی کے کمرے میں آنے کا”

حاطب کے لہجے کی سختی کی پرواہ کیے بغیر وہ آگے بڑھتی اسکے سینے سے لگی

” یہ کسی کا کمرہ نہیں حاطب خان میرے شوہر کا کمرہ ہے اب اگر فالتو کے لوگ اس میں گھس آئیں تو کیا کہہ سکتے مجھے ضروری بات کرنی ہے حاطب سے کیا تم۔کچھ دیر ہمیں اکیلا چھوڑ سکتی ہو”

استہرائیہ انداز میں زحلے کو مخاطب کیا جو ابھی تک دروازے کے نزدیک ٹہری تھی جج جی وہ ہکلاتی باہر کی جانب کو بھاگی۔۔۔۔

تبھی حاطب نے اسے آگے بڑھ کے روکا تھا” یہ کہیں نہی جائے گی آپ کو جو بات کرنی ہے اس کے سامنے کریں گی “

زحلے کو گھورتے اک جگہ رکنے پہ مجبور کیا زرتاج گل حاطب کی بات سن تلملائی تھی ۔۔۔۔

“کیوں بھول رہے ہو کہ یہ کس خاندان کی ہے”

۔۔

“زرتاج گل آپ نے جو بات کرنی ہیں کریں اور جائیں”

حاطب کا بے زار انداز دیکھ وہ کرلاتی باہر کو گئی ۔۔۔

“زحلے”

حاطب نے مجرموں کی طرح سر جھکائے زحلے کو اپنی جانب آنے کا اشارہ کیا وہ جی حضوری کرتی اسکے سامنے آ ٹہری تھی۔۔۔۔

حاطب نے کلائی سے پکڑتے اپنی جانب کھینچا تھا وہ کٹی ہوئی شاخ کی طرح اسکے ساتھ آلگی۔۔۔

“رات اپنے حسن کا خراج وصول کیے بغیر ہی سوگئیں آپ دونوں بازو اسکی کمر میں ڈالتے خود میں بھینچا ہاں تو کیا کہہ رہی تھی تم مورے جان کو اور سب کو میری اصلیت بتا دوگی “

اسکا چہرہ اوپر کرتے اسکی لزرتی پلکوں کو دیکھا۔۔

“مم معاف کردیں لالہ میں انجان تھی”

۔۔

اسکی بات سنتا حاطب سخت بدمزہ ہواتھا ۔۔

“لڑکی شوہر ہوں تمہارا یہ لالہ کی پخ لگا کے رشتوں کا تقدس نا پامال کرو”

خود سے الگ کرتا واشروم کی جانب بڑھ گیا۔۔۔

زحلے نے اپنی رکی سانسیں بحال کیں اور کمرے سے نکلتی اپنے کمرے میں آگئی جہاں پہ لگا تالہ اسکا منہ چڑا رہا تھا

ناچار اسے حاطب خان کے کمرے میں آنا پڑا تھا۔۔۔۔۔

سامنے ہی وہ موجود اسے دیکھنے لگا “

“کہاں گئی تھی زحلے خان آفریدی “

وہ دھیمے قدموں سے اسکے سامنے آیا ۔۔

“جانتی ہو حاطب خان کے چنگل سے نکلنا اتنا آسان نہیں پھر بھی کوشش کررہی ہو کوئی فائدہ نہیں بہتر یہی ہوگا کے اس حقیقت کو جتنی جلدی تسلیم کر لو اچھا ہوگا۔”

“مجھے آپکے ساتھ نہیں رہنا حاطب خان مجھے گھن آتی ہے آپ سے آپ اور بھابھی ماں۔”

۔ چٹاخ ۔۔زحلے کی بات درمیان میں پڑنے والے تھپڑ نے ادھوری چھوڑوا دی۔۔۔

انجانے میں آبیل مجھے مار والی بات کرگئی حاطب خان غضبناک ہوتا اسے بستر پہ گرائے خود بھی اس پہ جھکا تھا

جانتی ہو نا کون ہوتم ۔۔۔

” اک قاتل کی بیٹی اسکے باوجود مورے جان کے کہنے پہ تمہیں عزت دی گئی پریشہ اور زرتاج گل کے برابر عزت دی گئی مگر تم۔اس عزت کے قابل نہیں” ۔۔۔۔۔

زحلے کی آنکھوں میں ٹپ ٹپ شروع ہوتا دیکھ بھی وہ نہیں رکا تھا۔۔۔۔۔۔۔

“دو کوڑی کے لوگوں میں پلی بڑھی ہو نا اسیلئے ان جیسا ریکٹ تو کروگی پہلے دن ہی تمہاری اوقات دکھا دی جاتی تو تمہاری اتنی جرأت نہ ہوتی حاطب خان کے آگے زبان چلا سکو۔۔۔۔”

“تمہیں جب جب دیکھوں میری آنکھوں کے سامنے اپنے بھائی کی خون میں لت پت لاش سامنے آتی ہے اور تم حاطب خان سے گھن کروگی ۔۔۔”

وہ اسے کہیں سے بھی وہ حاطب نہیں لگا جسے وہ شعور کی دہلیز پہ قدم رکھتے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔

“صیح کہتی ہے زرتاج گل نیچ خاندان کو سر پہ بٹھائیں گے تو خود اپنی حثیت پست کریں گے آج کے بعد تم مجھے اس کمرے میں نظر نہیں آؤ گی بلکہ ریشمہ کے ساتھ اسکے کواٹر میں رہو گی تاکہ تمہیں بھی اپنی اوقات کا اندازہ ہو”

وہ جو کچھ بولنے کو پھڑ پھڑائی حاطب خان نے اس پہ اپنی گرفت سخت کرتے اسکی زبان پہ تالے لگا دیے ۔۔۔

اک سسکی اسکے لبوں سے خارج ہوئی مگر حاطب کی جنون خیزیوں میں ہی کہیں دب گئی تھی۔۔۔۔

“مورے جان کو اس گھر کیلئے وارث چاہیئے اور جس دن مجھے مل گیا اسکے بعد تم بھی میرے لیے گل بانو جیسی

اسکی سماعتوں میں سیسہ انڈیلتا وہاں سے چلا گیا تھا “

اپنے وجود اور ذات کی پامالی زحلے کو بری طرح گھائل کر گئی تھی اسکی وحشتوں کے نشان چھپانے کو ریزہ ریزہ وجود لیے واشروم کی طرف بڑھ گئی۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *