Qirtaas by Uzma Mujahid NovelR50593 Qirtaas (Episode 02)
Rate this Novel
Qirtaas (Episode 02)
Qirtaas by Uzma Mujahid
حویلی میں قدم رکھتے ہی اسے اپنا گھر کی یاد آئی تھی اسکا گھر بھی تو ایسا ہی ہے ۔۔۔
وہ بھی تو محلوں کی شہزادی تھی سامنے ہی شیشے کے خوبصورت شوکیس میں بچوں کے کچھ کھلونے اور گڑیاں پڑی تھیں اپنا ہر زخم بھولائے وہ اسطرف بڑھی مگر درمیان میں ہی وہیں عورت آگئی جو اسے ہر دو روز بعد زدوکوب کرنے آتی تھی۔۔
“زه غواړم د هلکانو سره لوبه وکړم”
(مجھے گڑیا سے کھیلنا ہے)
اپنے سامنے موجود عورت کو دیکھ اس نے اک معصوم خواہش کی تھی جبکہ وہ عورت آگے بڑھتے پھر سے اسے دبوچنے کو تیار تھی
” زرتاج گل”
تبھی اک آواز پہ وہ ٹہری اس بچی نے بھی سراٹھا کے آنے والی شخصیت کو دیکھا۔۔
“دادا ، راځه”
(دادو آگئیں)
وہ اسے دیکھتے ہی انکی طرف بھاگی پر اسے دو قدم۔پیچھے رکنا پڑا تھا کیونکہ وہ اسکی دادی بلکل نہیں تھیں یقیناً انکی شکل شباہت اس سے بہت ملتی تھی …
“بخښنه ګرانه ما فکر کاوه چې تاسو زما انا یاست”
( معاف کیجئے گا محترمہ میں نے سوچا کہ آپ میری انا ہیں)
وہ سہمے قدموں سے پیچھے ہوئی جبکہ دی جان بھی اتنی پیاری لڑکی دیکھ نم آنکھوں سے دیکھنے لگیں۔۔۔۔
“دی جان آپ کیسے اس پہ رحم کھا سکتی ہیں یہ ہمارے دشمنوں کی بیٹی ہے آپکے بیٹے اور میرے شوہر کے قاتل کی بیٹی اور دا جان اسے”
بس زرتاج ہم کب سے تمہاری بک بک برداشت کررہے اسکا یہ مطلب نہیں کے تم۔اپنی من مانی کیے جاؤ بہتر یہی ہے کہ تم اس معمالے سے دور رہو……
دوٹوک انداز میں کہتی وہاں سے چلی گئیں۔۔۔
اسکے دماغ میں اتنا ضرور آرہا۔تھا کہ دادی جان کی شکلوں والی عورت نے اس بری والی آنٹی کو ڈانٹا ہے کیونکہ اس نے گڑیا کو ڈانٹا اس کے اندر اک خوشی کی لہر دوڑی کے اسکے ساتھ بھی کوئی ہے تبھی اندر ہوتی ملازمہ اسے پکڑ کے لے گئی
“خان بلا رہے ہیں اور چپ چاپ انکے سامنے ٹہری رہنا”
وہ اسے ساتھ ساتھ ہدایات بھی دیتی جارہی تھی ناسمجھی کے عالم میں بھی وہ۔اسکی باتوں پہ سر ہلاتی رہی۔۔۔۔۔
★★★★★★★
زحلے بہت خوش تھی کیونکہ آج شیرگل اور گل بانو اس سے وعدہ کرکے گئے تھے نئے کپڑوں اور کتابوں کا بہت ساری مٹھائی بھی وہ بے چینی سے انکا انتظر کررہی تھی تبھی حویلی میں ایمبولینس کی گونج ہوئی وہ بھاگتے ہوئے گئی مگر سامنے کے منظر نے اسے بے جان کردیا۔۔۔۔۔۔۔۔
سامنے موجود بےجان وجود دیکھ اسکی چیخوں سے شاید آسمان بھی ہل گیا تھا۔۔۔
گل بانو اور شیر خان جو جاتے وقت اس سے وعدہ کرکے گئے تھے واپسی پہ اسکیلئے کتابیں اور اسکے من پسند مٹھائیاں لیتے آئیں گے وہ واپس تو آئے مگر خون میں لت پت لاشے بن کے کوئی بھی نہیں سمجھ پا رہا تھا کہ انکا قتل کسنے کیا تھا
کچھ کا شک تھا شاید گل بانو کے خاندان والوں نے اسے اک نوکر کے ساتھ دیکھ قتل کردیا ہوگا اور کچھ کو۔لگ رہا تھا شیر خان کے خاندان نے اسے دشمنوں کی بیٹی ساتھ قتل۔کیا مگر جو بھی تھا ان دونوں غلاموں کو آزادی مل گئی تھی ۔۔۔۔
زحلے کے سامنے دھندلے عکس لہرا رہے تھے جب اک عورت اسکے سر پہ چادر اوڑھائے اسے گھر سے بھگا رہی تھی رہی تھی اک آدمی اسکا بازو کھینچتے اپنے ساتھ لیے جارہا تھا اور پھر گل بانو ہاں وہ گل بانو ہی تو تھی جس کے ہاتھ میں زحلے کا ہاتھ دے دیا گیا “ماں ” وہ اک بار پھر گل بانو کو پکارتے ہوئے چیخی اور بے توازن ہو کے گر پڑی ۔۔۔۔
جب اسکی آنکھ آنکھ کھولی تو اسکی دنیا اجڑ چکی تھی وہ بے رونق آنکھوں سے اپنے اردگرد موجود لوگوں کو دیکھنے لگی تبھی مورے نے آگے بڑھ کے اسے اپنے سینے سے لگایا اسکے ساتھ کسی کو کچھ ہدایات دیتیں وہ اسے اپنے ساتھ لے گئیں خان حویلی ۔۔۔۔۔
وہ پہلی بار یہاں آرہی تھی کیونکہ گل بانو اسے کبھی اندر نہیں آنے دیتی پریشہ اسے دیکھتے اسکی جانب لپکی
” پریشہ گل آپ اسے اپنے ساتھ لے جائیں جب تک انکا روم سیٹ نہیں ہوگا”
زحلے نے انکی بات سمجھتے بھابھی بیگم کی طرف نگاہ اٹھائی جو یقیناً مورے کی بات سن کے چیخنے والی تھی مگر اسکی حیرت کی انتہا نہ رہی جب وہ بغیر کچھ کہے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی
“مم مجھے میرے گھر رہنے دیں مورے جان”
پریشہ اور دائم کی دیکھا دیکھی وہ بھی انہیں مورے جان کہنے لگ گئی
اسے بھی اپنا گھر سمجھو بیٹی بلکہ آج سے یہ تمہارا ہی گھر ہے اسکے سر پہ ہاتھ پھیرتے اسے پریشہ کے ساتھ بھیجا
“پریشہ بھابھی ماں مجھے پسند نہیں کرتیں وہ مورے سے لڑیں گی تو نہیں مجھے یہاں دیکھ”
اسکی بات سن کے پریشہ نے نفی میں سر ہلایا وہ اس سے کچھ بڑی تھی مگر دونوں میں بہت گہری دوستی تھی اور کب سے یہ خود بھی انہیں یاد نہیں تھا دائم بھی انکے ساتھ آبیٹھا۔۔۔
زحلے تم اور پری اب میری دو بہنیں ہوگئیں اسکے چہرے پہ بھی خوشی تھی وہ پریشہ اور زحلے دونوں سے ہی چھوٹا تھا مگر قد کاٹھ خوب نکالا تھا تبھی ان سے بڑا لگتا تھا وہ دونوں ہی اسے لالہ کہتی تھیں۔۔۔۔۔۔
اسکے شب وروز پریشہ کے ساتھ ہی گزرتے جب وہ سکول چلی جاتی تو سارا دن اسکی کتابیں پڑھتی مورے جان نے اسے اک دن پڑھتے دیکھ پوچھا اسے سکول جانے کا شوق ہے تب اس نے سر ہاں میں ہلا دیا اور وہ بھی پریشہ اور دائم کے ساتھ سکول جانے لگی اسکا ایڈمیشن دائم کے ساتھ ہوا تھا پھر حاطب لالہ ان دونوں کو ساتھ لے گئے شہر جبکہ وہ میٹرک کے بعد حویلی رہ گئی ان دونوں کو بہت یاد کرتی تھی ۔۔۔۔۔
مورے جان پریشہ اور حاطب گاؤں سے کب آئیں گے انکی ٹانگیں دباتی ان سے پوچھ رہی تھی دیکھو بیٹا حاطب کی من مرضی جب لے آئے۔۔۔۔
تو آپ حاطب لالہ سے کہیں وہ انہیں لے آئیں اسکی بات سنتی مورے جان چونکی تھیں ۔۔۔
زحلے آئیندہ حاطب کو لالہ نہ کہنا خان سائیں کہا کرو
انکے لہجے کی سختی دیکھ اس نے بے اختیار سر ہلادیا۔۔۔
“چلو جاؤ میرے لیے اک کپ چائے بنا آؤ “
جی مورے جان ابھی وہ جلدی سے کہتے کچن کی جانب دوڑ گئی۔۔۔
ریشمہ اک کپ چائے میرے کمرے لیے بھی مورے جان کے کمرے میں لے کے آؤ ۔۔۔
کچن میں چائے بناتی زحلے کی پشت کو دیکھ وہ اسے ریشمہ سمجھتے آرڈر دے کے جاچکا تھا جبکہ حاطب کی آواز سن اسے خوشی ہوئی کیونکہ شاید دائم اور پریشہ بھی اسکے ساتھ آئے ہوں وہ جلدی سے چائے بناتی مورے جان کے کمرے میں آئی جہاں وہ کسی بچے کی مانند بی جان کی گود میں سر رکھے اپنی تھکن اتار رہا تھا ۔۔۔۔۔
ارے زحلے آؤ میں کہلوانے ہی والی تھی کے دوکپ چائے بنا لاؤ حاطب بھی آگیا ہے اور اسکے کپڑوں سے وہ اندازہ لگا چکا تھا کہ وہ جسے ریشمہ سمجھ رہا تھا وہ زحلے تھی۔۔۔
اپنے سامنے موجود حاطب خان آفریدی کو دیکھ اسے دائم اور پریشہ یاد آئے مورے جان دائم لالہ اور پریشہ نہیں آئے افسردہ سی نگاہ ان پہ ڈالی تھی ۔۔۔۔
نہیں زحلے ابھی انکے پیپر ہورہے ہیں اسیلئے نہیں آئے۔۔۔
وہ چپ چاپ وہاں سے چلی گئی حاطب کی پرسوچ نظروں نے دور تک اسکا پیچھا کیا تھا جبھی مورے جان کی آواز پہ چونکا۔۔۔
تو تم۔نے کیا سوچا حاطب کیا میں تمہارے بچوں کی خواہش لیے ہی دنیا سے رخصت ہوجاؤں “
اللّٰہ نا کرے مورے جان آپکو کبھی کچھ ہو مگر مجھے سوچنے کیلئے وقت چاہئے ۔۔۔۔
اور کتنا وقت حاطب زرتاج کی طرف سے بھی میں ناامید ہوچکی ہوں بڑے سے بڑا ڈاکٹر بھی نہیں چھوڑا اور تمہیں بھی اس معاملے میں دلچسپی نہیں ہے مجھے وارث چاہیئے اس حویلی کا حاطب انکا حتمی لہجہ اسے بھی بہت کچھ سوچنے پہ مجبور کررہا تھا۔۔۔۔۔
مورے جان دائم ہے تو اس حویلی کا وارث اسکی شادی ہوگی بچے ہونگے پھر ۔۔
بس بس میں تمہاری بات کررہی ہوں مجھے آگے کی نہ دکھاؤ ۔۔۔
پر مورے زرتاج اک اور اندیشہ زبان پہ آیا۔۔۔۔
کیا زرتاج اسکی کیا مجال جو ہمارے فیصلے سے روگردانی کرے اور یہ تو اول روز سے طے تھا نہیں تو اپنے بابا جان کی طرح اسے آزاد کردو جیسے انہوں نے گل بانو کو کردیا اور شیر خان سے نکاح کروا دیا تم بھی کوئی فیصلہ کرلو ہم اسکی شادی کروا دیں گے کہیں بھی آخر خدا کے سامنے بھی جواب دہ ہونا ہے ہمیں بہرحال تمہاری دوسری شادی تو میں نے کروانی ہی ہے۔۔۔۔۔
وہ خاموشی سے انکی بات پہ سرجھکا گیا مجھے کچھ وقت دے دیں بی جان میں آپکو بتا دونگا ۔۔۔۔۔۔
★★★★★★★
مورے جان بھابھی ماں کو حاطب کے ساتھ پھر سے شہر لے کے گئی ہوئی تھیں اور وہ لوگ جب بھی جاتے شہر والے گھر میں دو تین ضرور رکتے کیونکی اک ساتھ ہی شاپنگ کرنی ہوتی مگر زحلے کے یہاں آنے کے بعد پہلی دفع دونوں خواتین چلی گئیں گھر میں نوکروں کی اک فوج تھی پغر بھی زحلے کا دل۔گھبرا رہا تھا ۔۔۔۔
باہر برستی بارش کو دیکھ اسکا من چلا دل بے تاب ہوا تھا باہر نکلنے کو وہ حویلی کی چھت پہ آگئی رات کے اس پہر ہر خطرے سے بے خوف وفکر وہ وہاں پہ بھیگنے لگی ۔۔۔۔
“زحلے بیمار پڑ جاؤگی میں کہہ رہی ہوں تمہیں کوئی دوائی نہیں لے کے دونگی اور دو دن کھانا بھی نہیں ملے گا”
وہ بارش میں بھیگتی ساتھ میں گل بانو کی دھمکیاں اسے قہقے لگانے پہ مجبور کردیتی تھیں جن پہ گل بانو نے خود بھی کبھی عمل نہیں کرنا ہوتا۔۔۔۔
بارش کی ساتھ گل بانو کی یاد پہ اسکی آنکھیں بھی بھیگیں مگر وہ جلد ہی خود پہ۔قابو پا گئی ۔۔۔۔۔
بارش میں آنکھیں موندے اردگرد سے بے خبر وہ اپنی دنیا میں مگن کھڑی تھی۔۔۔۔
گلریز خان اپنے سامنے اتنا حسین منظر دیکھ مبہوت سا رہ گیا واقعی وہ کوئی اپسراء ہی اتری تھی حویلی میں بارش میں بھیگنے سے اسکے کپڑے مکمل طور پہ جسم۔سے چپک گئے تھے ۔۔۔۔۔
وہ جو موسم کو دیکھتے ہی چھت پہ آیا تھا اب اپنے آنے پہ اتنا حیسن منظر دیکھ خوش ہوا تھا۔
وہ نہیں جانتا تھا کہ یہ لڑکی کون ہے مگر جو بھی تھی اسے بری طرح اپنے آکٹوپس کا شکار کرچکی تھی۔۔۔۔
تبھی حاطب اسے ڈھونڈتے چھت پہ آیا “
“میں کب سے ڈھونڈ رہا ہوں تجھے آتے ہی بارش میں نہانے کا شوق پورا کرنا تھا وہ جو اسے دیکھتے شروع ہوچکا تھا اسے مدہوش کھڑا دیکھ اسکی نظروں کے تعاقب میں دیکھا اسکا دماغ میں سوئیاں سی چبھی تھیں جبکہ زحلے ان دونوں سے بے پرواہ آنکھیں بند کیے ماحول میں چھائے سکوت اور بارش کی کن من میں مگن تھی حاطب گلریز کے سامنے آیا تو وہ گڑبڑا کے سیدھا ہوا۔۔
وہ۔میں میں اسے سمجھ نہیں آیا کہ کیا بولے یقیناً اس لڑکی کا حویلی سےکوئی تعلق تھا تبھی وہ بے تکلفی سے یہاں پہ گھوم رہی تھی حاطب کے تیور دیکھ وہ فوراً نیچے کی طرف بھاگا کیونکہ وہ جانتا تھا وہ حویلی کی عورتوں کے معاملے کتنا شخت تھا۔۔۔۔۔۔
اپنے بازو میں ہونے والی تکلیف کے باعث زحلے نے فوراً آنکھیں کھولیں اپنے سامنے حاطب کو دیکھ وہ سراسیمہ انداز میں پیچھے کو ہوئی اسے اپنی حالت کی بھی پرواہ نہیں تھی۔۔۔۔۔
اگر یہ جسم سنبھالا نہیں جارہا تو اسکو آگ لگا دو ورنہ غیر مردوں کو لجھاتی نظر آئی تو میں خود آگ لگا دوں گا تمہیں سرخ آنکھوں سے گھورتے اک جھٹکے سے اسے چھوڑتا وہاں سے چلا گیا جبکہ وہ بیلنس نا کرسکی اور اوندھے منہ گری اسکے دماغ میں جھماکے سے ہوئے اپنا گرتا وجو وہ خونخوار نظریں اسے ایسا لگا جیسے حاطب اسے پہلے بھی ایسے جھٹک چکا تھا مگر کب ۔۔۔۔۔
اسکی باتوں پہ غور کرنےنلگی بھلا وہ کب مردوں کو لبھانے لگی تھی بے آواز روتے روتے وہ وہیں بیٹھے بیٹھے سوگئی تھی جب کب عصر مغرب میں ڈھلی اور رات اپنے پر پھیلا چکی اسے کچھ نہیں پتا تھا۔۔۔۔
ریشمہ زحلے کہاں ہے حاطب گلریز کو روانہ کرتے حویلی میں واپس آیا تھا مگر وہ اسے کہیں نظر نہیں آئی۔۔۔
وہ چھوٹے خان وہ تو کب کی چھت پہ گئی پھر واپس ہی نہیں آئی۔۔۔
ریشمہ کی بات سنکے اسکا ماتھا پرشکن ہوا وہ اوپر آیا جہاں وہ بےسدہ پڑی سورہی تھی فرش ابھی بھی گیلا تھا اور سردی بھی بہت تھی مگر وہ لڑکی ایسے بے پرواہ انداز دیکھ کھولتا ہوا اسکے سر پہ۔پہنچا
” اے لڑکی اٹھو یہ کوئی سونے کی جگہ ہے جہاں تم استراحت فرما رہی لہجہ تلخی سے بھرپور تھا مگر اس پہ کوئی اثر ہوتا نہ دیکھ وہ اسکے بازو کو پکڑے ہلانے لگا مگر وہ اتنی سردی میں دیک رہی تھی یقیناً سردی میں بھیگنا اپنا اثر دکھا چکا تھا۔۔۔۔۔
وہ۔اسے بازو میں اٹھائے اپنے کمرے میں لے آیا تھا کیونکہ اسکے کمرے تک اگر لے کے جاتا یقیناً ملازموں کی اس پہ نگاہ پڑتی مگر فلحال وہ ایسا کچھ نہیں چاہ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔
اسکے کپڑے ابھی بھی بھیگے ہوئے تھے کچھ لمحے سوچنے کے بعد وہ ناچار اسے ریشمہ کی مدد لینی پڑی تھی جو اسکے کپڑے اٹھائے اسکو چینج کروانے میں مدد دینے لگی وہ نیم بے ہوشی کی حالت میں مشکل سے چینج کرتی بستر پہ بے سدہ پڑی تھی ریشمہ اب حاطب کے اگلے حکم۔کی۔منتظر تھی ۔۔۔
ٹھیک ہے تم جاؤ ۔۔
رکو زحلے سے متعلق کوئی بھی بات تم مورے جان اور زرتاج سے نہیں کروگی آئی سمجھ ۔۔۔
جج جی خان بہتر اسکے لہجے کا درشت پن کہاں وہ بھلا زبان کھول سکتی تھی۔۔۔۔۔
اک نظر پرسکون نظر آتی زحلے پہ ڈالتی وہ کمرے سے نکل گئی ۔۔۔
حاطب دروازہ بند کرتا اسکے برابر آلیٹا تھا اور اب بڑی فرصت سے اسے دیکھنے لگا بےنتحاشا سفید رنگت پہ کشمیری سیبوں جیسے لال گلال گال اور گلابی ہونٹ ،
آنکھوں پہ سایہ فگن پلکیں بند آنکھوں سے بھی اپنے اندر کی خوبصورری کو بیان کررہی تھیں وہ کہیں سے بھی سولہ سترہ سال کی لڑکی نہیں لگ رہی تھی اسکے وجود کے بل خم اسے ایک الہڑ دوشیزہ دکھا رہے تھے لمبے بالوں کی چوٹی ویسے ہی گیلی سائیڈ پہ پڑی تھی۔۔۔۔۔۔۔
وہ واقعی بے تحاشا خوبصورت تھی حاطب کو لگا اگر وہ مزید وہاں رہا تو یقیناً کسی گناہ کا ارتکاب کربیٹھے گا پھر اپنی سوچ پہ خود ہی مسکرا دیا وہ کہیں سے بھی حاطب سے چھوٹی نہیں لگ رہی جو یقیناً اس سے دس سال۔چھوٹی تھی اسے سوچتے اسکی سوچوں کا محور زرتاج بنی ناجانے کس کے انتظار میں آج تک وہ زرتاج کو نہیں اپنا سکا تھا وہ جانتا تھا کہ اپنا جھوٹا بھرم رکھنے کو وہ مورے جان کے سامنے چپ تھی جو اسے لیے کبھی کسی درگاہ جاتیں تو کبھی کسی ڈاکٹر پاس ، جس عورت کو شوہر کا بستر ہی مہیا نہیں تھا بھلا وہ کیا اس حویلی کو وارث دیتی اک تلخ مسکراہٹ اسکے چہرے پہ آئی مگر شرمندگی نام کی کوئی چیز اسکے چہرے پہ نہ تھی۔۔۔۔۔
وہ شاید اسے بیوی کا درجہ دے بھی لیتا کیونکہ مورے جان اور دا سائیں کے کہنے پہ جب زرتاج سے نکاح کرسکتا تھا انکی سرفروشی کیلئے کچھ بھی کرسکتا تھا مگر وہ چپ تھا تو کسی مصلحت کے تحت ورنہ اسکے دل میں کئی طوفان چھپے بیٹھے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔
