Qirtaas by Uzma Mujahid NovelR50593 Qirtaas (Episode 14)
Rate this Novel
Qirtaas (Episode 14)
Qirtaas by Uzma Mujahid
خان حویلی میں پھیلے گہرے سناٹے شہر خاموشاں کا منظر پیش کررہے تھے ۔زحلے بوکھلائی سی گھر میں گھوم رہی تھی مورے جان پریشہ کو رخصت کرنے کے بعد کمرہ نشین ہوچکی تھیں زرتاج گل شکست در شکست ہونے پہ زخمی شیرنی بنی ہوئی تھی حاطب حویلی لوٹ کے ہی نہیں آیا تھا۔
داجی کے ساتھ واپس لوٹتے وہ حاطب کے سلوک کی منتظر تھی مگر وہ لوٹ کے ہی نہیں آیا تھا ۔
اسکے انتظار میں لاؤنچ میں ہی سوگئی ۔آدھی رات کو گھر آیا تو نظر سامنے موجود اس ماہ وش پہ پڑی یقیناً اسی کے انتظار میں وہ یہاں سوچکی تھی پنجوں کے بل صوفے کے سامنے بیٹھتا انتہائی انہماک سے اسے دیکھنے لگا کتنی معصوم تھی یہ لڑکی جو اتنے پیارے دل کی مالک تھی اسکے اتنے ظلم سہنے کے باوجود بھی حاطب کیلئے نرم گوشہ رکھے ہوئی تھی اپنے ہاتھ اسکے رخسار پہ رکھے کسی بچے کی طرح سہلانے لگا زحلے نیند میں انجانے احساس پہ تھوڑا سا کسمسائی پھر بے سدھ پڑ کے سو گئی۔
حاطب نے اسکی اتنی گہری نیند پہ لب بھینچے اسکی یہی لاپروائیاں تو ہمیشہ حاطب کیلئے امتحان کھڑے کرتی آئی تھیں وہ اس شخص کی کمزوری بنتی جارہی تھی اسیلئے وہ اک بزدل انسان بنتا جارہا تھا وہ اس چیز کا تصور بھی نہیں کرنا چاہتا تھا کہ دشمنوں کی یہ بیٹی جو اسے اپنی زندگی سے بڑھ کے عزیز ہوچکی تھی کوئی ہلکی سی بھی کھروچ سہے مگر وہ خود ہی اسکی تمام تکالیف کو مؤجب بنا ہوا تھا ۔
“اب نہیں میری جان اب کے تمہارے تمام دکھ میرے حوالے بہت سہہ لیا زحلے مگر اب یہ وعدہ ہے حاطب خان کا ہر قدم پہ پھول نچھاور ہونگے تمہارے لیے ” اپنی سوچ پہ خود مسکراتے اسکی پیشانی پہ اپنی محبت کا لمس چھوڑتا اٹھ کھڑا ہوا زحلے کو اپنے مضبوط بازوں میں اٹھائے روم میں لایا اور کسی مقدس چیز کی طرح سنبھالتے پستر پہ لٹائے خود فریش ہونے چل دیا ۔
زحلے کیلئے زندگی کی راہ اتنی بھی آسانی نہیں تھی جتنا وہ سوچ رہا تھا وہ اسی دن سے پرخار راہوں کی مسافر بن گئی تھی جس دن سے خان حویلی میں قدم رکھے تھے۔
★★★★★★
وہ کب سے سن ہوتے دماغ سے اس پہ نظریں جمائے بیٹھی تھی جو فریش چہرے سے مسکرائے جارہا تھا ۔
پریشہ نے اس سے اپنا ہاتھ چھڑایا اور دروازے کی جانب بڑھی مگر دوسرے ہی لمحے اسے رکنا پڑا کیونکہ روح خانم کمرے میں داخل ہورہی تھیں۔
“کیا ہوا بیٹی تم کہیں جارہی تھی “اک نظر اسکے سجے سجائے روپ پہ ڈالتے دوسری نگاہ خریم پہ ڈالی جس نے شانے اچکاتے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا۔
“خریم میں پریشہ کو اپنے ساتھ لے کے جارہی ہوں اسکا اس حلیے میں ہاسپٹل میں رہنا مناسب نہیں لگتا ۔”
روح خانم کی بات پہ اس نے پریشہ تنقیدی جائزہ لیا پھر سرہلاتے گویا انکو بھی اجازت دی تھی۔
پریشہ کو بھی بھاگنے کو موقع ملا تھا وہ انکے ساتھ داوڑ حویلی آگئی تھی جہاں پہ اسے “خریم خان” کے کمرے میں پہنچا دیا گیا دیشہ نے اسکے آنے کی خبر سن گھر کے حصے میں جڑے باغ سے پھول توڑ کے اسکے کمرے میں سجائے نئی نویلی دلہن کا استقبال کیا تھا ۔
روخ خانم اسے آرام کی تلقین کرتیں رخصت ہوگئیں ۔
اس شخص سے لاکھ اختلاف سہی مگر رات بھر سو تو وہ بھی نہیں پائی تھی ہیوی ڈریس سے جان چھڑائے جلد ہی وہ بستر پہ آگئی اسکے بیڈ پہ لیٹتے ہی آنکھوں میں پھر سے وہ سرپھرا شخص آیا تھا ۔
“آئی ہیٹ یو خریم خان میری پرسکون زندگی کو زندان بنانے والے” اپنی بے بسی کو دیکھتے آنکھوں سے آنسو نکلے اسکے دوست بننے آئے تھے مگر اس نے بے دردی سے انہیں صاف کیا ۔
“مجھے زحلے نہیں بننا میں کبھی روؤں گی نہیں کبھی اس شخص سے دب کے نہیں رہونگی اس بڑھ کے بھلا وہ میرا کیا نقصان کر سکتا” کئی زہریلی سوچیں اسے بے چین کرنے لگیں ایک دم جیسے بستر پہ کانٹے اگ آئے تھے بے چینی سے اٹھتے سامنے موجود صوفہ پہ آنکھیں موندے سو گئی وہ اس سائیکو کی خوشبو سے بھی دور رہنا چاہتی تھی ۔
قسمت کی پری اسکی معصوم سی ادا پہ مسکرا اٹھی فضا میں محبت کی خوشبو بکھرتے وہ وہاں سے روانہ ہوگئی۔
★★★★★★
اس شخص کو جدا ہونے کے بھی ڈھنگ نہیں آتے
بچھڑ کے مجھ سے، میرے رابطوں میں رہتا ہے..،
آج پھر سے وہ سائل دربار پہ حاضر تھا ۔
“کیوں آجاتے ہیں آپ یہاں اب تو میرا آپ سے آپکی زندگی آپکے گھر سے کوئی تعلق نہیں پھر ؟”
سامنے موجود شخص گردن جھکائے اسکو گرجتے برستے سن رہا تھا ۔
“قاتل” یہی کہا تھا نا قاتل ہوں میں ؟”
پھر سے اس انسان نے اپنے سامنے والے کی خاموشی پہ زچ ہوتے ہوئے کہا مگر وہ یہ سب الفاظ اتنی بار سن چکا تھا اسکے اردگرد اکثر ان الفاظ کی بازگشت ہوتی رہتی تھی مگر جن الفاظ کو سننے کا وہ ترس رہا تھا ایک تھا “معافی.”
مگر وہ خوبصورت دل کا مالک انسان بدل چکا تھا ساتھ بےرحم بھی شاید آج بھی اسکیلئے اس در پہ کچھ نہیں تھا کیونکہ پھر سے وہ اس مجمع میں اکیلا ٹہرا تھا۔
درگاہ سے باہر آیا جہاں اسکے آدمی اس کے کتے سمیت موجود تھے ۔
جیل میں پڑا آدمی مرچکا تھا یقیناً اب اسکی ضرورت نہ تھی کے وہ اسے اپنے ساتھ لیے پھرتا مگر نہیں آنکھوں میں خون سا اترا تھا اب پھر سے کوئی اسکے غیث وغضب کا شکار ہونے کو تھا۔
ڈیرے پہ پہنچتے ہی رخ نیچے بنے تہہ خانے کی طرف کیا جہاں اک اور خبر اسکی منتظر تھی وہ اس عورت کو دیکھنا بھی گوارہ نہیں کرتا تھا مگر آج کچھ پرانے زخموں کا حساب لینا ضروری ہوگیا تھا ۔
مگر اک نیا چہرہ دیکھ وہ ٹھٹک گیا چہرے پہ اک دم کرختگی آئی تھی گارڈ سے گن لیے بنا کچھ سوچے اس پہ فائر کھول دیا وہ جو سوچتا تھا کہ جب اس شخص سے سامنا ہوگا اک اذیت ناک موت دے گا جس کی سازش نے اسکے خاندان کا شیرازہ بکھیر دیا مگر اب کے آسان موت دیے اسکو ابدی نیند سلا دیا ۔
آگے کو بڑھتے اس عورت کے سیل کے قریب پہنچا اسکے قریب سر کچلا سانپ پڑا تھا تو وہ عورت اس زہریلے سانپ کو بھی کچل گئی تھی ۔
“کیا ہی اچھا ہوتا اگر وقت پڑے پہ میں بھی اسی طرح اسکا سر کچل دیتا اتنی اذیتیں مقدر نہ ٹہرتیں ؟”
اپنی سوچوں سے نبرد آزما ہوتے شخص کی نگاہ اس سانپ پہ پڑی ۔
اگر وہ چاہتا تو باقیوں کی طرح اسکو بھی کیفرکردار تک پہنچا دیتا مگر اتنی آسانی سے نہیں ۔
اس عورت نے ایک بار غلطی سے بھی اسے مخاطب کرنے کی کوشش نہیں کیونکہ اسکی آنکھوں میں اترا خون وہ دیکھ رہی تھی ۔
“نور خان اسے ہمارے خاص مہمان خانے میں ٹہرا دو”
(نورخان هغه ته اجازه راکړه چې زموږ په ځانګړي مېلمستون کې پاتې شي)
★★★★★★
آج خریم کو ڈسچارج کردیا گیا تھا گھر میں اسکی آمد پہ خوشی کا سماں تھا روح خانم کچن میں دیشہ اور باقی نوکروں کے ساتھ مل کے اسکیلئے پرہیزی کھانا بنا رہی تھیں پریشہ کو بھی ساتھ لگایا ہوا تھا کئی اک بار اسکا دل کیا کچھ زہریلا اٹھا کے اسکے کھانے میں شامل کردے پھر اپنی سوچوں کو خود ہی جھٹک دیتی بہرحال وہ اتنی بہادر نہیں تھی ۔
داجی اور دادی ماں کی نسبت روح خانم کا رویہ اس سے بہتر تھا وجہ شاید زحلے کا حاطب کے معاملے پہ اعتماد سے اسکا دفاع کرنا تھا ۔
باہر گاڑیاں رکنے کی آواز آئی تو روح خانم سمیت سب نوکر اسکے استقبال کو بھاگے اسکے ہاتھ لگوا کے کئی بکرے صدقے میں دیے گئے اور اک شاہانہ انداز سے وہ گھر میں داخل ہوا تھا پریشہ اسے دیکھتے سلگنے لگی تھی اسکو سب سے زیادہ دکھ اب کمرہ بدر ہونے کا تھا کیونکہ اس شخص سے اسے کوئی اچھی امید نہیں تھی پورا دن کسی نا کسی بہانے کونے کھدروں میں چھپتی رہی تھی جبھی روح خانم کا حکم آیا کے اپنے کمرے میں جائے خریم کو کچھ ہیلپ چاہئیے ہوگی تو وہ مجبوراً کمرے کی طرف بڑھی۔
بیڈ پہ دراز شاید وہ دواؤں کے زیر اثر غنودگی میں تھا وہ پھر ست صوفے پہ دراز ہوگئی۔
ابھی اسے سوئے کچھ دیر ہی گزری تھی جب کچھ گرنے سے اسکی آنکھ کھل گئی آواز کی سمت کا تعین کرنا چاہا نگاہ بیڈ پہ بیٹھے خریم سے ہوتی فرش پہ گرے گلاس پہ گئی۔
“کیا ہوا کچھ چاہیئے تھا تمہیں ؟”
مخاطب ہونے کو دل تو نہیں تھا مگر پوچھ ہی بیٹھی ۔
“ہاں “اک مختصر جواب آیا۔
“جی کیا ؟”اب کے وہ کہتے ساتھ کھڑی بھی ہوئی تھی ۔
“تم” معنی خیزی سے کہتے آنکھ دبائی۔
جبکہ وہ اسکی بات بھونچکی رہ گئی۔
“توبہ ہے یہ شخص اس حالت میں بھی اسکی مستیاں ختم نہیں ہورہیں “مگر پھر اپنی سوچ کو جھٹک کے رہ گئی کیونکہ اس کارنامہ یاد آیا۔
“سوری میں اویلبل نہیں ہوں اور کچھ ؟” ابرو اچکاتے سوال دہرایا۔
“مجھے اس سے جان چھڑوا لینے دو پھر دیکھنا کیسے پر کاٹتا ہوں تمہارے ” خریم کے لہجے کی پھنکار اسکے دل پہ اک ٹھنڈی پھنوار بن کے برس رہی تھی انجانے میں وہ اسی اپنی کمزوری پکڑوا چکا تھا۔
اس نے اپنے بندے کو کہا بھی تھا گولی صرف بازو کو چھو کے گزرے مگر وہ کچا کھلاڑی پوری بازو میں گولی گھسا گیا تھا بروقت ٹریٹمنٹ سے ہڈی کریک ہونے سے بچ گئی ورنہ عمر بھری کی معذوری ضرور حصے میں آجاتی یہاں سے اٹھتے پہلے تو اسکو اپنے ہاتھوں سے مارے گا اپنا ایڈونچر اسے خود بھی مہنگا پڑچکا تھا۔
“پانی چاہیئے تھا “اب کے یاسیت بھرا لہجہ پریشہ کو بھی ہمدردی پہ مجبور کرگیا ۔
گلاس وہ توڑ چکا تھا دوبارہ کچن سے گلاس لائی اور پھر پانی دیا جسے اس نے شرافت سے تھام لیا مگر خالی گلاس پکڑواتے اسکا ہاتھ اپنی گرفت میں لے گیا ہہلکا سا جھٹکا دیے اپنے قریب گرایا وہ اس اچانک وار کیلئے بلکل تیار نہیں تھی۔
سبز آنکھیں خریم کو پھر سے پاگل کرنے لگی تھیں ۔
“خریم خان سے ٹکر لینے کی گستاخی نہ کرنا پری جان ابھی اک بازو میں بھی اتنا دم خم ہے کہ تمہاری ساری اکڑ ہوا کرسکے ” تنبہہ انداز میں کہتا اسکی بالوں کو چہرہ سے ہٹایا۔
زرا کی زرا دیر لگی اسکو سچویشن سمجھنے میں وہ اک دم پیچھے کو سرکتی فاصلہ پیدا کرگئی پھر کھڑے ہوتے دور ہوگئی ۔
خریم کے چہرے پہ غصے سے سرخی دوڑی ۔
“یہاں کوئی ٹام اینڈ جیری شو چل رہا ہے کیا؟” خریم کی آواز میں سختی کی کوشش اور اسکی قابل رحم حالت پریشہ کو مسکرانے پہ مجبور کرگئی۔
“یہی سمجھ لیں مسٹر ٹام ” شہادت کی انگلی سے اپنے ناک کو ٹچ کرتی اسے اور بھڑکا گئی تھی۔
“واپس آؤ ادھر ” خریم چاہے جتنا بھڑک رہا تھا مگر اس پہ کوئی اثر نہ تھا ۔
“گڈنائٹ مسٹر ٹام ” اب کے بائیں ہاتھ کی پہلی تین انگلیاں ہلاتے اک ادا سے بائے کہتی اپنی مخصوص نشست پہ لیٹ گئی وہ اپنی بے بسی پہ کلس کے رہ گیا۔
“اک بار میں اس مصیبت سے چھٹکارا حاصل کرلوں “اپنی سوچوں سے الجھتے وہ پھر سے غنودگی میں چلا گیا پریشہ نے اک نظر اس زخمی شیر پہ ڈالی لب خود بخود مسکرا اٹھے پھر اپنی حرکت پہ حیران ہوتے لب بھینچ گئی
“اتنی آسانی سے تو تمہاری دسترس میں نہیں آئیں گے ہم مسٹ ٹام “.
★★★★★★
صبح موؤذن کی آواز پہ اسکی آنکھ کھلی نظر سامنے لیٹے حاطب پہ پڑی جو گہری نیند میں تھا رات وہ اسکے انتظار میں لاؤنچ میں سوگئی یقیناً وہی اسے یہاں تک لایا تھا
اس شخص کے اتنے ظلم وستم کے باوجود وہ کبھی اس سے نفرت نہیں کرپائی تھی نجانے کیوں ؟شاید اسیلئے کہ اسکی سوچوں کی پسند وناپسند کا محور اک ہی شخص کی ذات تھی ہاتھ آگے بڑھاتے اسکے ماتھے پہ آئے بالوں کو ترتیب دیا پھر اپنی حرکت پہ جھجکتے خود ہی ہاتھ واپس کھینچ لیا۔
وہ اسکی نیند خراب ہونے کے ڈر سے آہستگی سے اسکے پہلو سے اٹھتی وضو کرنے چل دی فارغ ہوتے وہ پھر سے بیڈ پہ لیٹی مگر تکیے کے اوپر آتے اسکے بازو پہ حیران ہوئی پلکوں کی لرزش بتا رہی تھی کہ وہ جاگ گیا تھا۔
بنا کچھ کہے وہ اسکے بازو پہ سررکھ گئی جس نے آہستگی سے اپنے بازو کے حلقے میں لیتے خود سے قریب کرلیا ۔
“آپ کیوں جاگ گئے؟” چہرہ اسکے سینے سے ہٹائے اوپر کی جانب رخ کرتے سوال کیا گیا ۔
“آپ جو میرے وجود کو خالی کرگئیں ” اسکے ماتھے پہ بوسہ دیتے خود میں بھینچ لیا وہ اسکی اتنی شدتوں پہ گھبرا سی گئی۔
“کیا یار میں اتنی کچی نیند نہیں سوتا کہ آہٹ پہ جاگ نہ ہو ” اسکے بالوں میں چہرہ چھپاتے اسکی خوشبو اپنے اندر اتارنے لگا زحلے کو سب کچھ اک خواب لگ رہا تھا مگر اسے پتا تھا یہ دھوپ چھاؤں جیسا شخص کبھی بھی اسے زمین پہ پٹخ سکتا ہے ۔
“کیا سوچنے لگی “اسکی غائب دماغی نوٹ کرتے اسکا چہرہ اپنے سامنے کیا ۔
“ہمنہم کچھ خاص نہیں “زحلے نے اسے ٹالا۔
“جو عام ہے وہی بتا دیں “وہ حیران ہورہی تھی اس نے کب زحلے اتنی باتیں کی تھیں
“اے کہاں کھوگئی یار اتنا ہینڈسم بندہ تمہارے ساتھ پھر بھی تمہاری سوچیں بہک رہی ہیں “اسکے سامنے چٹکی بجاتے پھر سے مخاطب کیا ۔
“کچھ خاص نہیں بس اتنا سوچ رہی کہ اپنی چہیتی بیوی کے معاملے میں تو آپ کو کوئی آہٹ محسوس نہیں ہوتی نہ آنکھ کھلتی ” وہ لفظوں میں زہر ڈوبو ڈبو کے اسے مار رہی تھی۔
“کیا اسوقت اسکا ذکر ضروری ہے؟” استہفامی نگاہوں سے اسے دیکھا ۔
“اسوقت تو کیا کس وقت وہ ہمارے درمیان موجود نہیں ” نروٹھے پن سے سے کہتی اسکا حصار توڑے دوسری طرف منہ کرگئی۔
حاطب کو اسکی یہ دلکش ادا مسکرانے پہ مجبور کرگئی ۔
مگر لہجے میں رعب پیدا کیے پھر سے اسکا رخ اپنی جانب کیا ” کیا پھر سے ہمیں اپنی بات رپیٹ کرنی پڑے گی “
“پلیز حاطب مجھے سونا ہے “کمفرٹ کو کھنچتے چہرہ چھپایا وہ جانتا تھا پھر سے زرتاج گل انکے درمیان آسمائی تھی ۔
“اوکے تو بتائیں آپ کیا چاہتی ہیں ؟جو آپ کہتیں ویسے کرلیتے ” اب کے صلح کا جھنڈا لہراتے اسکے چھپے ہوئے وجود سے مخاطب تھا ۔
“آپ اسے طلاق دے دیں ” وہ نہیں جانتی تھی کہ حاطب کے سامنے اسے اتنی بڑی بات کہنے کی جرأت ہے بھی کے نہیں پھر بھی وہ بول گئی ۔
“اوکے دے دیتا پھر؟” زحلے کو حیرت کا جھٹکا لگا تھا کمفرٹر دور ہٹاتی وہ اٹھ بیٹھی
“کیا آپ سچ کہہ رہے آپ اسے طلاق دے دیں گے؟” لہجے میں بے یقینی تھی حاطب کا سر نفی میں ہلا زحلے اسکا اتنا جلدی پینترا بدلنے پہ چیخ اٹھی ۔
“پتا تھا مجھے میری کیا ووقت کے میں کچھ کہہ سکوں اوکے پھر مجھے طلاق دے دیں “
“زحلے” حاطب کی دھاڑ کے ساتھ ہاتھ بھی اٹھا مگر خود پہ ضبط کرتے وہ درمیان میں ہی رہ گیا ۔
“آج کے بعد اگر ایسی بات کی زبان کاٹ دونگا میں آپکی “
شعلہ بار نظریں برساتے اسے دیکھنے لگا ۔
“بنا کسی وجہ کے میں اتنا بڑا سٹیپ کیسے لے سکتا ہوں؟”
آواز میں رچی بےبسی زحلے مزید سیخ پا کرگئی ۔
“تو ایسے کہیں حاطب خان کہ اک ونی کیلئے آپ اپنی من پسند خاندانی بیوی کیسے چھوڑ سکتے ” زحلے کی آواز کانپنے لگی تھی۔
“ونی نہیں آپ عزت ہیں میری ،زندگی آپ ہیں تو میں ہوں ورنہ تو کب سے جینے کی آس چھوڑ چکا ہوں میں “لفظ لفظ سچائی میں ڈوبا تھا مگر زحلے کو تو جیسے ضد ہوچلی تھی۔
“مجھے بٹوارہ گوارہ نہیں “وہ زحلے کی دیدہ دلیری پہ حیران تھا کہاں تو وہ لڑکی آواز نہیں نکالتی تھی اور اب صبح سویرے اتنا ہنگامہ پھر سے زحلے کو اپنی جانب کھنچتے بولا ۔
“تو بٹوارہ ہے کہاں حاطب خان مکمل طور پہ آپکا ہے وہ محظ نام کی اور کاغذی بیوی ہے ” زحلے کو اک جھٹکا لگا تھا۔
“کیا آپ انتظار نہیں کرسکتیں ؟”میکانکی انداز میں کہتے التجا کی ۔
“کیوں کس بات کا انتظار اور وہ آپکی کاغذی بیوی ، کئی بار آپ دونوں کے محبتوں کے سین ملاحظہ کرچکی ہوں میں “خفگی سے کہتے منہ موڑ گئی حاطب جانتا تھا کہ زرتاج گل۔کئی بار ایسی سچویشن کریٹ کرچکی تھی جس سے زحلے اس سے بدگمان ہورہی تھی۔
“میں جو بھی کہونگا آپ یقین نہیں کریں گی ” جتاتی نظروں سے شکوہ کیا زحلے کو وہ اک دم کسی معصوم بچے کی طرح لگا مگر وہ اسکی اصلیت سے واقف تھی۔
“جب تک آپ اس عورت سے منسلک ہیں زحلے کے بارے سوچیے گا بھی نہیں” وارن کرنے والے انداز میں کہتی کھڑی ہوئی تبھی چکراتے دوبارہ بیڈ کا کونا تھامے بیٹھ گئی ۔
“کیا ہوا زحلے آر یو اوکے؟ ” وہ۔پرہشانی سے اسکی جانب لپکا ۔
“کچھ نہیں بس ہلکا سا چکر آگیا تھا “اسکا ہاتھ اپنے کندھے سے ہٹائے بے مروتی کی انتہا کردی۔
“کیا آپ مجھے معاف نہیں کرسکتیں زحلے آئی پرامس یو کے نیکسٹ کبھی کچھ ایسا نہیں ہوگا جس سے آپکی ذات آپکے مقام کو تکلیف پہنچے۔ “
اسکی بے اعتنائی حاطب کو ہرٹ کررہی تھی رات ہی وہ خود سے اسے تمام خوشیاں دینے کا وعدہ کرچکا تھا جن پہ اسکا حق تھا ۔
اسکا شرمندہ انداز زحلے کو بے چین کرگیا ۔
★★★★★★
دروازے پہہوتی دستک پہ خریم نے اسے آواز دی جو اب تک سوئی ہوئی تھی ۔
“پریشہ “اب کے اسکی پکار میں جھنجلاہٹ تھی مگر اسے اثر کہاں اپنی حالت پہ غور کرتے تکیہ اس پہ اچھالا اپنے اوپر اچھلتی چیز محسوس کر وہ ہڑبڑاتے اٹھ بیٹھی۔
“کیا مصیبت بندہ اس گھر میں اپنی مرضی سے سو بھی نہیں سکتا “خریم کو اسکی رونی شکل دیکھ ہنسی آئی مگر وہ خود پہ کنٹرول کرگیا ۔
“کب سے دروازہ بج رہا ہے محترمہ تو جیسے سالوں کی نیند آج ہی پوری کرلینا چاہتی ہیں ” خریم اسے بھگو بھگو کے مار رہا تھا ۔
“ہننہ ویسے تو بڑے پھنے خان بنے پھرتے اٹھ کے کھول لینا تھا ” پریشہ کی جانب سے کسی قسم کی کوئی گنجائش نہ تھی ترکی بہ ترکی جواب حاضر تھے۔
“اوہوں مینڈکی کو بھی زکام ہوگیا ” خریم کی بڑبڑاہٹ واضع تھی پریشہ جزبز ہوتی اس گھور کے رہ گئی ۔
“لڑکی کمال دیکھی آنکھیوں سے گولی مارے “پھر سے ٹینکلنک آئیز پریشہ کا دل کیا اس شخص کا منہ نوچ ڈالے ہر بات پہ اسے مقولے اب وہیات گانے انڈین سونگز سے تو اسے ویسے الرجی تھی۔
“تم نا کوئی انتہائی ۔۔۔۔”
پریشہ کو اسکی تعریف میں الفاظ نہیں مل رہے تھے ۔
“جی میں انتہائی “شریر نظریں اس پہ گاڑیں ۔
“انتہائی کوئی لچڑ ،گھٹیا اور لوفر انسان ہو ” وہی تکیہ اسکی طرف اچھالتے دروازہ کھولنے کو لپکی ۔
روح خانم کا چہرہ دیکھتے ہی وہ کراہ اٹھا وہ تو گویا تڑپ اٹھیں “کیا ہوا میرے بچے درد ہورہا ہے ؟” انکی آواز میں عیاں پریشانی ایک لمحے اسے شرمندہ کرگئی جبکہ پریشہ اسکی ڈرامے بازی پہ حیران تھی ۔
“نہیں مورے جان بس وہ ہلکا سا بازو ہل گیا تھا ” انکا پریشان چہرہ اسے مزید ڈرامے بازی سے روک گیا ورنہ وہ اسکی کلاس لگوانے کا پورا موڈ بنائے بیٹھا تھا۔
“یہ گلاس کیسے ٹوٹا ؟” مورے جان کی نظر اب فرش پہ موجود کانچ کے ٹکڑوں پہ پڑی ۔
خریم کے چہرے پہ سازشی مسکراہٹ ابھری ۔
“آپکی بہو رانی رات میں گھوڑے گدھے بیچ کے سو گئیں جیسے مجھ سے زیادہ سلیپنگ پلز کی انکو ضرورت ہو اور پانی پینے کی کوشش میں یہ حال ہوگیا اب تک پیاسا ہوں ” آخری جملہ اسے دیکھتے ایک آنکھ دبائی پریشہ تو اسکی اتنی غلط بیانی اور آخر کی بے ہودگی پہ ہکا بکا تھی ۔
“انتائی کوئی چیپ انسان ہے ” مزید اس پہ پھولوں کی بارش نچھاور کی
۔
“پریشہ ہم آپکی زمداری پہ خریم کو چھوڑے سکون سے سوئے اگر آپ نے ہمارے بیٹے سے یہی رویہ رکھنا ہے تو بہتر ہے ہم خود انکا خیال رکھ لیں ” روح خانم کی بات اسے شرمندہ کرگئی ۔
“سس سوری آنٹی آئیندہ ہم خیال رکھیں گے ” اب کے شرمندگی واضع تھی ۔
روح خانم اور خریم اب اسکو اگنور کیے اپنی باتوں میں مصروف ہوگئے ۔
“بچ کے رہنا مسٹر ٹام اب پریشہ گل کے وار سے ” وہ جانتی تھی کہ روح خانم کی باتوں پہ کم اس پہ زیادہ توجہ دیے ہوئے اسیلئے چیلنجنگ آئیز اس پہ فوکس کیں ۔
خریم کے ہونٹوں پہ مدھم مسکراہٹ ظاہر ہوئی جیسے اسکی آنکھوں سے دیے گئے چیلنج کو ایکسپٹ کرلیا گیا ہو۔
★★★★★★
وہ ریشمہ کے ساتھ مل کے دوپہر کے کھانے کا انتظام دیکھ رہی تھی مگر مصالحوں کی خوشبو سے اسے متلی شروع ہوگئی کام ادھورا چھوڑے وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی شاید اتنے دن کی ٹینشن اور بے آرامی نے اسے تھکا دیا تھا کمرے میں پہنچنے تک وہ مزید نڈھال ہوچکی تھی ۔
کتنی دیر وہ ساکت پڑی چھت کو دیکھتی رہی پھر اسی حالت میں ہی سوگئ۔
حاطب کمرے میں آیا تو سامنے ہی وہ بے ترتیب سی بستر پہ سورہی تھی اسوقت وہ سوتی نہیں تھی حاطب نے آگے بڑھتے اسکی پیشانی پہ ہاتھ رکھا جو بخار کی شدت سے دہک رہی تھی وہ پریشان ہوتے مورے جان کو بلاتا خود ڈاکٹر کو لینے چل دیا ۔
ڈاکٹر نے تفصیلی چیک اپ کرتے اسے انجکشن لگایا “شاید تھکن کی وجہ سے ویکنس ہوگئی ہے خان لالہ آپ انکی کنڈیشن بہتر ہونے پہ میرے کلینک لے آئیے گا ” ڈاکٹر کی بات پہ اس نے اثبات میں سرہلایا ۔
شام اپنے پر پھیلا چکی تھی وہ جو اسکو زخم دینے کا عادی تھا اب اسکی ذرا سی تکلیف پہ بے چین بیٹھا تھا ساری رات پریشانی میں گزاری ۔
کھٹکے کی آواز پہ وہ فوراً سیدھا ہو بیٹھا “کچھ چاہیئے تھا “بیڈ کے سہارے اسے بٹھاتے پوچھنے لگا ۔
“واش روم جانا ہے “آواز میں نکاہت تھی حاطب دونوں بازو اسکے گرد پھیلائے اپنا سہارا دیتے واش روم کے دروازے تک لایا ۔
اسکا ٹمپریچر ابھی بھی نہیں اترا تھا وہ ریشمہ کے سہارے اسے ڈاکٹر کے کلینک لایا ڈاکٹر کی بات سنتے وہ کتنی دیر بے یقینی سے انہیں دیکھتی رہی
“یس مسسز خان یو آر ایکسپکٹنگ ” زحلے کا دل۔اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبنے لگا۔
حاطب کا حال اس سے الگ نہ تھا بنا کسی کا کحاظ کیے وہ خوشی سے اسے بھینچے کتنی دیر اپنے ساتھ لگائے ٹہرا رہا۔
“میں بہت زیادہ خوش ہوں زحلے آپ نے دونوں جہاں کی خوشیاں میرے قدموں میں رکھ دی ہیں ” اسکے انداز اور آواز زحلے کو اندر تک شانت کرگئے اب وہ اس سے باتیں منوا سکتی تھی وہ ڈاکٹر کو خوش کرتے کلینک سے باہر نکل گئے۔
“مجھے بچہ نہیں چاہیئے حاطب ” زحلے کی بات سن اسے لگا کسی نے تیز دھار چھری سے اسکی شہہ رگ کاٹ دی ہو۔
★★★★★★
وہ خوش تھی کہ اس شخص نے اسے کوئی سخت سزا نہیں سنائی مگر اسکی خوشی عارضی ثابت ہوئی جب خرگوش نما جنگلی چوہوں نے اسکا استقبال کیا وہ تعداد میں اتنے زیادہ تھے کہ اسے سانپ کا سر کچلنا آسان لگا تھا ان سے محفوظ ہونے سے مگر وہ اپنے وقت کی ذہین عورت تھی ہر مشکل سے نبٹنا اسے آتا تھا۔
مگر یہ اسکی غلط فہمی تھی کیونکہ اب اسے چوہوں کی موت مرنا تھا ۔
